عدلیہ اور احتسابی اداروں کی ترجیحات، ٹھوس نتائج – وقاص احمد

اگر ملک کی گزشتہ چھ ماہ کی سیاسی صورتحال پر غور کیا جائے اور خبروں کی سطح پر تیرنے کے بجائے ان میں غوطہ زن ہوا جائے تو نتیجہ یہ سامنے آ تا ہے کہ حقیقی احتسابی معاملات میں، چوری و غبن اور اقربا پروری کے کیسز میں ہر طرف غلغلہ زیادہ مچ رہا ہے جبکہ ٹھوس کام، مثبت سمت میں بہت زیادہ سست روی کا شکار ہے۔ البتہ اس شور شرابے میں پرنٹ میڈیا کو اپنے صفحات کالے کرنے اور الیکٹرانک میڈیا کو ا پنا ائر ٹائم اچھے داموں مُکانے کا نادر موقع مل رہا ہے۔ اور اب تو عوام کی حالت یہ ہے کہ وہ اپنے بے وقوف بننے کا بھی بے حسی سے مزا لیتے ہیں۔

اٹھائیس جولائی 2017 ء کو نواز شریف کی نا اہلی کے بعد یہ توقع کی جارہی تھی کہ جب ملک کے سب سے بڑے صوبے سے تعلق رکھنے والی سب سے بھاری سیاسی شخصیت پر اعلیٰ عدلیہ اُس سے بھی زیادہ بھاری ہاتھ رکھ سکتی ہے اور بے باکی اور آزاد ی کے ساتھ کرپشن کے خلاف جنگ کا آغاز کر سکتی ہے تو پھر اگلے چھ مہینوں میں معاملات تو کافی آگے جا ئیں گے۔ دیگر صوبوں، خاص طور پر سندھ کی لوٹ مار اور لوگوں کی حالت زار پر عدلیہ خاص نظرِ کرم کرے گی۔ امید تھی کہ احتساب کا معرکہ کثیر الجہت ہوگا۔ گوکہ اس دوران سندھ میں عدلیہ کی طرف سے صرف بُری نہیں بلکہ مجرمانہ گورننس کے معاملے میں از خود نوٹسز کے بعد کاروائی کا آغاز ہوا، سماعتیں شروع ہوئیں جس سے میڈیا میں سنسنی پھیلی لیکن مجھے بتائیں کیا ابتر حکمرانی کا کسی کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا؟ کوئی ایک شخص بھی بتایا جائے جو بدعنوانی اور کرپشن میں مجرم قرار پایا ہو؟ عزیر بلوچ، ڈاکٹر عاصم، شرجیل میمن، بلدیہ ٹاؤن جے آئی ٹیز کا کیا بنا؟ حالانکہ ان کیسز کو مکمل کرنا اور انجام تک پہنچانا عدالتوں اور نیب کا پہلا قدم ہونا چاہیے تھا۔ یہ ضرور ہے کہ فوری نوٹسز اور عبوری اقدامات کے ذریعے کچھ فوائد حاصل ہو جاتے ہیں جیسے عوام کی ایک بڑی تعداد کو سسٹم سے امیدیں لگیں رہتی ہیں اور وہ خطرناک حد تک مایوس ہونے سے رک جاتے ہیں اس کے علاوہ اداروں کی ساکھ کو وقتی سہارا بھی مل جاتا ہے۔

حالانکہ غور کریں تو سندھ میں عدلیہ کےبہت سارے سوموٹو اقدامات کے باوجود وزیر اعلیٰ سندھ یا وزراء زیادہ احتجاج نہیں کر رہے بلکہ بالکل بھی نہیں کر رہے۔ جبکہ اگر خلوص سے ٹھوس کام کیے گئے ہوں تو حکومت فوراً اس کا حوالہ دیتی ہے، اپنے کام کا دفاع کرتی ہے اور بے جا تنقید اور انتظامی معاملات میں عدلیہ کی مداخلت کی مزاحمت کرتی ہے لیکن ہم سندھ میں دیکھتے ہیں کہ سب معصوم بن کر روبوٹ کی طرح عدلیہ سے تعاون کر رہے ہیں اور ڈھٹائی سے اسی پر خوش ہیں کہ کم از کم کسی کے خلاف شخصی کاروائی نہیں ہورہی۔ سب صادق اور امین ہیں اور اگلا الیکشن زندہ باد۔ عدالتوں کی اپنی قانونی مجبوریاں ہوسکتی ہیں لیکن جو تاثر عوام میں جا رہا ہے اس کا انہیں احساس ہونا چاہیے۔

بقول ایک مشہور صحافی کے ’’ سٹیبلشمنٹ ان سب رپورٹوں کو، کیسز کو خاص وقتوں کے لیے سنبھال کر رکھتی ہے تاکہ سند رہے اور اور بوقت ضرورت کام آوے‘‘۔ یہ طریقہ کار ریاست ِپاکستان کے لیے قطعاً سودمند نہیں ہے۔ نظریہ ضرورت اور ’’ مفاہمت ‘‘ کے ڈاکٹرائن سے پہلے ہی بہت نقصان اٹھایا جا چکا ہے۔ ان چیزوں سے پھر اُس بیانیے کو تقویت ملتی ہے جو کہتا ہے کہ شیخ مجیب غدار نہیں تھا اسے غدار بنایا گیا۔

آخر کیا ضرورت پڑتی ہے اداروں کو مفاہمت کی؟ پاکستان سے محبت کرنے والوں، اس کی نظریاتی اور جغرافیائی سرحدو ں کی حفاظت کرنے والوں کے لیے یہ بات بہت پریشان کن ہوتی ہے۔ یہ سلسلہ بند ہونا چاہیے۔ کیسے ہوسکتا ہے کہ پانچ سو ارب کی کرپشن کے کیس میں دس لاکھ کی کرپشن بھی برآمد نہ ہو۔ جس پر الزام ہو اسے HEC سندھ کا چیئر مین لگا دیا گیا ہو۔ عوام کے ساتھ مذاق کب تک چلے گا؟ حدیبیہ پیپرز، آشیانہ اسکیم، ملتان میٹرو کے کیسز کی صورتحال سے بھی یہی لگتا ہے یہ برسات میں نکلنے والے پتنگوں کی طرح اپنی طبعی عمر پوری کرنے کے بعدفنا ہوگئے ہیں۔

ملک میں رہنما ہونے والے دیگر واقعات بھی کسی طویل دورانئے کے ڈرامہ کا منظر ہی پیش کر رہے ہیں۔ طاہر القادری صاحب کی تحریک کا بلبلہ ہو یا پیر حمیدالدین سیالوی کی تحریک کا ماچسی شعلہ، قدم قدم پر آپ کو ہنسی اور رونا آئے گا۔ جو ’’مفاہمت ‘‘ کی خبریں سیالوی خاندان کے متعلق آرہی ہیں وہ بھی چشم کشا ہیں۔ زینب کیس بھی اچانک منظر سے غائب ہے اور اس کی جامع تحقیقات کی کوئی خبر نہیں آرہی۔ عابد باکسر نے شاید سب کو ناک آؤٹ کردیا ہے۔ حتّٰی کہ نواز شریف صاحب اور ان کے خاندان کی نیب پیشیوں کی کوئی سلسلہ وار رپورٹنگ نہیں ہورہی کہ نیب کے وکیل کیا شواہد اور وکیلِ صفائی کیا صفائی پیش کر رہے ہیں۔

چیف جسٹس اور نیب چیئرمین سے میری گزارش ہے کہ بڑے، کھلے، عریاں کیسز کو منطقی انجام تک پہنچانے کی پوری کوشش کریں۔ جن میں صرف جرم نہیں بلکہ مجرم کا بھی تعین ہو۔ عوام نے آئین و قانون کے ذریعے آپ کو جو اختیارات دیئے ہیں اسے بھرپور طریقے سے استعمال کرنے کا اس سے اچھا موقع شاید پھر نہ ملے۔ واضح رہے کہ اس نازک موقع پر ریاستی، آئینی اداروں کی طرف سے سست روی، غیر ذمہ داری، مفاہمت پسندی یا بھائی بندی کا تأثر اگلے الیکشن کے لیے بہت نقصاندہ ثابت ہوگا۔ استحکامِ پاکستان کے لیے منفی ہوگا۔ کیا پاکستانی عوام یہ سمجھے کہ ضیاء دور کے بعد پاکستان میں ایک دہ ہی شخصیات ایسی ہیں جنہوں نے پاکستان کو اس معاشی بدحالی اور عوام کو انتہائی ابتر صورتحال تک پہنچایا؟ پچھلے بیس پچیس سالوں میں ہونے والی کرپشن اور لوٹ مار کی ذمہ دار ایک دو شخصیات ہی ہیں جو نااہلی کی حقدار ہیں اور باقی سب پارسا اور پارلیمنٹ میں جا کر عوام پر حکمرانی کے لیے اہل ہیں؟

Comments

وقاص احمد

وقاص احمد

کراچی یونیورسٹی سے کمپیوٹر سائنس میں ماسٹرز اور سنہ2000 سے انفارمیشن ٹیکنالوجی میں خدمات سرانجام دینے والے وقاص احمد ایک دنیا دیکھ چکے ہیں۔ مشرق وسطیٰ ، مشرقِ بعید اورآسٹریلیا کے سفر کر چکے ہیں ۔مطالعہ کا شوق تو بچپن سے تھا لیکن گزشتہ کئی برسوں سے باقاعدہ فلسفۂ دین،احیائے دین کی تحاریک، فلسفہِ اخلاق ، سیاست، احتساب اور تاریخ کے موضوعات ان کی تحقیقات اور فکر کا حصہ ہیں۔ اس حوالے سے علمائے کرام اور دینی اسکالرز کے بے شمار دروس اور لیکچرز میں شرکت کر چکے ہیں۔ ان سے ٹوئٹر پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com