جدید اسکولنگ سسٹم - جہانزیب راضی

ہم اس وقت 29 قسم کے تعلیمی نظاموں کا شکار ہیں۔ ان سب تعلیمی نظاموں میں جو چیز مشترک ہے وہ ہے "کرپشن "۔ اگر آپ کو یقین نہ آئے تو آپ اسکولوں اور آفسوں کے چپڑاسیوں سے لے کر پرائیوٹ اور گورنمنٹ وائٹ کالر جاب کرنے والے لوگوں سے مل لیں۔ آپ بیورو کریسی، فوج اور سیاستدانوں کو دیکھ لیں آپ کو اوپر سے لے کر نیچے تک سب میں جو چیز قدر مشترک نظر آئے گی وہ سامنے والے کی کھال اتارنے کا طریقہ ہے۔ سگنل پر کھڑے سپاہی کی اوقات پچاس روپے ہے تو وہ پچاس روپے لے لیتا ہے۔ ایس – ایس – پی صاحب کی حیثیت 440 لوگوں کا قتل کر کے ڈنکے کی چوٹ پر ریاست کی دھجیاں اڑانا ہے تو وہ اسی حساب سے کام کر رہے ہیں۔ "صاحب" کے کمرے کے باہر بیٹھے چپڑاسی کی اوقات 100 روپے لے کر اندر بھیجنا ہے تو اندر بیٹھے "صاحب" اندر آنے والے کے کپڑے تک اتروا کر باہر بھیجنے کو ہر دم تیار ہیں۔

اصل میں ہم ابھی تک منافقت اور دو رنگی سے بھی باہر نہیں آسکے ہیں ہم اپنے عمل اور قول سے اپنے بچوں کو ہی دھوکہ دے رہے ہیں۔ ہم بچپن میں اپنے بچوں کو بتاتے ہیں کہ "تعلیم شعور حاصل کرنے کا ذریعہ ہے" اور یہ اس بچے کی زندگی کا سب سے بڑا جھوٹ ہوتا ہے۔ بچہ جیسے جیسے بڑا ہونے لگتا ہے ہم اس کو اچھی طرح یہ بات سمجھا دیتے ہیں کہ تمہارے تعلیم حاصل کرنے کا واحد مقصد پیسہ کمانا ہے۔ اس کو سمجھ آجاتی ہے کہ مجھے بچپن میں ہی مجھ سے میری ماں کی گود چھیننے، میری میٹھی میٹھی نیندوں کو صبح ہی صبح دھکے کھاتی وینوں اور بسوں میں قربان کرنے کا واحد مقصد پیسہ تھا۔ میرا کھیل کود بند کر کے میری معصوم خوشیوں کو ذبح کرنے کی پہلی اور آخری وجہ یہی تو تھی۔ پھر وہ اس پیسے کے لیے کسی بھی ماں کی گود اجاڑنا، کسی کی بھی خوشیاں چھین لینا اور دم توڑتے مریض سے بھی پیسہ لیے بغیر علاج کرنے کو تیار نہیں ہوتا ہے۔ اس کو جعلی مٹیریل لگا کر پل بنانے اور لاکھوں لوگوں کی زندگیاں داؤ پر لگانے میں بھی تامل نہیں ہوتا، اور بھلا ہو بھی کیوں پڑھائی کا مقصد جو یہی تھا۔ آپ یقین کریں جب تک ہماری سوچ تبدیل نہیں ہوگی تب تک ہم، ہمارے حالات اور ہمارا ملک کبھی تبدیل نہیں ہوسکتا۔

اپنے بچوں کو پیسے کے لیے نہ پڑھائیں، سکھانے کے لیے پڑھائیں۔ پیسہ کمانا وہ خود سیکھ جائیں گے۔ اسکول پڑھانے کی نہیں سکھانے کی جگہ ہے۔ ہم کو اپنا تعلیمی نظام اور طریقہ تعلیم سب کچھ بدلنا پڑے گا۔ اپنے لیے نہیں دوسروں کے لیے جینا سکھانا ہوگا۔ کمانے کا نہیں خدمت کا جذبہ فراہم کرنا ہوگا۔ پیسہ ان کو تب بھی ملے گا اور ان کی سوچ سے زیادہ ملے گا۔ فرق اتنا ہوگا کہ ان کو پیسے سے نہیں مخلوق سے محبت ہوگی۔ تھوڑے پر شکر کرنا آتا ہوگا۔ آپ یقین کریں اللہ تعالی نے قرآن میں نوّے جگہ پر انسان سے رزق کا وعدہ کیا ہے۔ نہ آپ کو وقت سے پہلے ملے گا نہ نصیب سے کم یا زیادہ ملے گا۔ آپ کو رزق وہیں سے آئے گا جہاں سے آپ کو موت آنی ہے۔ آپ بچوں کو ان کی زندگی کا مقصد دے دیں۔ ان کو اس دنیا میں آنے کا مقصد فراہم کردیں یہ ان کی زندگی کا حاصل ہوگا۔ بچوں کو سمجھانا ہوگا کہ تم بے مقصد اس دنیا میں نہیں آگئے ہو۔ تم اس دنیا میں کمانے نہیں آئے ہو، اس دنیا میں آگئے ہو اس لیے کمانا ضروری ہے۔ مہذب معاشروں میں پیسہ زیادہ ہوتا ہے اور اشیاء کی قیمتیں کم ہوتی ہیں۔ لوگ پیسے کے خوف اور لالچ میں مبتلا ہوئے بغیر اپنے اطراف میں موجود لوگوں کی خدمت پر توجہ دیتے ہیں۔

آپ خلافت راشدہ کا مطالعہ کرلیں جہاں لوگ زکٰوۃ دینے کے لیے مستحقین کو ڈھونڈتے تھے۔ جہاں ایک صحابی اپنی دوکان بند کر کے برابر والے کی دوکان پر گاہک کو بھیج دیا کرتا تھا کیونکہ اس کا "کوٹہ" پورا ہو چکا ہوتا تھا۔ جس کی خواہشات کم ہوتی ہیں اس کی ضروریات کم ہوتی ہیں اور جس کی ضرورتیں کم ہوتی ہیں وہ تھوڑے پر قناعت کرنا جانتا ہے اور اسی کو شکر کہتے ہیں اور جب انسان "عملی شکر" ادا کرنے لگتا ہے تو رزق آسمان سے برستا ہے اور زمین سے ابلتا ہے، یہ اللہ کا وعدہ ہے۔

اگلے 10،12 سالوں تک دنیا میں ہر کام "روبوٹس" اور "مشینیں" بخوبی سر انجام دے رہی ہوں گی لیکن جو چیز دنیا میں نا پید ہوجائے گی وہ "انسانیت" ہوگی۔ اس لیے بچوں کو مشین نہ بنائیں، انسانیت سکھائیں۔ اسکولوں میں روزانہ لائبریری کا پیریڈ ہو جو کم از کم 50 منٹ کا ہو، بچہ اپنی پسند کی کوئی بھی کتاب ایشو کروائے 15 دن میں اپنے گھر والوں اور اساتذہ کی مدد سے اسے مکمل کرے اور اس کا ایک "انفارمل" سا امتحان ہوجائے 15 دن بعد دوسری کتاب ایشو کروائے اپنی مرضی اور اپنے شوق سے، اس طرح امتحان بھی اس کی مرضی کا ہوگا اور ہر قسم کے مطالعے کا شوق بھی پروان چڑھے گا اس کے لیے شرط ہے کہ اسکول میں لائبر یری بھی لازمی ہو اور "شو شا" کے لیے نہ ہو عملی استعمال ہو۔ انگریزی اور اردو کی کوئی خاص کتاب پڑھانے کے بجائے کسی بھی اخبار یا رسائل و جرائد کے ذریعے سے انگریزی اور اردو سکھائی جائے، گرامر بھی اسی سے درست کروائی جائے۔ اس سے تین فائدے ہوں گے۔ ایک تو بچہ ہر قسم کے مواد کا مطالعہ کرنا سیکھ جائے گا، دوسرا اس کو "کرنٹ افئیرز" معلوم رہیں گے کہ ملک اور دنیا میں کیا چل رہا ہے اور تیسرا یہ کہ اس کو نصاب کی کتاب سے "نفرت" نہیں ہوگی۔ ریاضی میں جمع، حساب، تقسیم اور ضرب کے سیدھے سیدھے سوالات کروانے کے بجائے "پرابلم سولوِنگ" اور "ورڈ پرابلمز" کے ذریعے سے سوالات حل کروائے جائیں۔ بچہ ریاضی تو سیکھ ہی جائے گا اس کی سوچنے، سمجھنے کی صلاحیت کئی گنا بڑھ جائے گی۔ اسلامیات کو نصاب میں سے نکال کر ہر مضمون میں اسلام "سکھایا" جائے۔ بچپن سے اسلامیات کی ایک "نازک" سی کتاب بچوں کو یہ سکھا رہی ہوتی ہے کہ تمہارا اسلام سے رشتہ بھی بس "اتنا" ہی ہے۔ بچے بستہ نیچے پھینکنے یا رکھنے میں بس اسی کا خیال رکھتے ہیں کہ "اسلامیات" نکال لو باقی میں کون سا اسلام ہے؟ ان کے عمل میں اسلام لائیں محض نعروں اور کتابوں میں نہ لائیں۔

معاشرت بھی "سکھانے" کی چیز ہے۔ اسکول ختم ہونے سے پہلے روز آدھا گھنٹہ "اسکول کی صفائی" کے لیے مختص کروائیں۔ کبھی بچوں سے ان کی "پاکٹ منی" جمع کروا کر کسی یتیم خانے، الخدمت یا ایدھی سینٹر میں دلوادیں۔ گرمیوں میں پانی کی "سبیل" لگوادیں۔ سردیوں میں بچوں سے ایک سوئٹر منگوا کر صدقہ ان کے ہاتھ سے کروادیں۔ مہینے میں ایک دن کبھی اسکول کے باہر کی بھی صفائی کروالیں۔ پھر نہ سیکھیں وہ "معاشرتی علوم" تو آپ مجھے ذمہ دار ٹھہرائیں لیکن … یاد رہے یہ کام مہم کی صورت میں نہ ہوں، روز مرہ کی بنیاد پر ہوں اور نصاب کا حصہ ہوں۔

سائنس خود "سیکھنے" کی چیز ہے۔ انھیں "سائنسی کھیلوں" کے ذریعے مختلف تجربات کروائیں۔ کبھی کوئی "پراجیکٹ" بھی دیں جو تحقیقی ہو "اسپون فیڈنگ" والا نہ ہو۔ کوئی ایسا پروجیکٹ جس میں بچوں کو سوچنا، سمجھنا اور تحقیق کرنا پڑے وہ خود سائنس کے اساتذہ کے لیے بھی سیکھنے کا ایک ذریعہ ہو، ایسا نہ ہو کہ ہر سال وہی پچھلے سال والا "پروجیکٹ" چل رہا ہو۔ بچوں کا قرآن سے " تعلق " مضبوط کروائیں۔ ان کو اتنی عربی اور قرآن ضرور سکھا دیں کہ وہ اسکول سے فارغ ہونے کے بعد کسی "ترجمے" کے محتاج نہ رہیں۔ قرآن کے بنیادی احکامات اور انبیاء کے واقعات ان کو "ازبر" کروادیں تاکہ ان کو مردوں کے فرائض، عورتوں کے حقوق اور اپنی حدود سب معلوم ہوجائیں۔ ان کو ہر قسم کی "ایجوکیشن" بھی صحیح جگہ سے معلوم ہوجائے اور اپنی زندگی کا ہر کام کرنے سے پہلے یہ ضرور دیکھ لیں کہ میرے لیے میرے رب نے کون سا راستہ تجویز کیا ہے۔ یہ سب اس وقت ہوگا جب آپ اپنے آپ کو اپنے اسکولوں اور اپنے بچوں کو "سلیبس" کے عذاب سے نجات دلوائیں گے۔ یاد رکھیں پہلے بھی مسلمان اسی لیے کامیاب تھے اور آج بھی کامیابی کے دو ہی نسخے ہیں۔ ایک تو یہ کہ وہ "خدا پرست" ہوجائیں۔ ان کی خوشی، غم، خوف اور امید سب کچھ اللہ سے جڑ جائے۔ اس کی رضا ہر چیز پر مقدم ہو، آخرت کی کامیابی اور جنت کا حصول سب سے بڑھ کر ہو۔ دوسرا یہ کو وہ "علم پرست" ہوں۔ جہاں سے ملے لے لیں۔ کتابوں سے اور علم سے اپنے تعلق کو جوڑیں۔ زندگی بھر سیکھتے رہنے کو اپنا ہدف بنائیں۔ دنیا ایک دفعہ پھر آپ کے لیے ہی مسخر ہوگی ان شاء اللہ!

Comments

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • بہت خوب۔ تمام پوائنٹس بہت اچھے اور قابلِ عمل ہیں۔ اب ضرورت صرف ان کا عملی اطلاق کرنے کی ہے۔ عموما والدین کا رجحان چونکہ کہ رسمی تعلیم کی طرف ہیی زیادہ ہوتا ہے اس لئے جو بھی تھوڑا سا ہٹ کر کام کرنا چاہے اس کے لئے آزمائش والی صورت حال پیدا ہو جاتی ہے۔ بہر حال آپ کی تجاویز بہت زبردست ہیں۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */