فقہ کی تاریخی بنیادیں تلاشنے کا پراجیکٹ - محمد زاہد صدیق مغل

"جدید" دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ تعبیرات اسلام کو قابل قبول بنانے والے احباب فقہ (ابتدائے تاریخ اسلام سے معتبر سمجھے جانا والے فہم اسلام) کو غیر متعلق ثابت کرنے کے لیے متعدد باتیں کہتے ہیں۔ ان میں سے ایک مفروضہ یہ پیش کیا جاتا ہے کہ فقہاء نے اپنے دور کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اسلام کو سمجھا تھا اور یہ ضروری نہیں کہ وہ فہم اسلام آج کے تقاضوں کو پورا کرنے والا ہو۔ اب تک اس مفروضے کو عمومی طور پر پیش کیا جاتا رہا ہے، مگر پچھلے ایک عرصے سے کچھ اہل علم حضرات کی طرف سے فقہ اسلامی کے ذخیرے سے اس مفروضے کے حق میں تاریخی نظائر تلاشنے کا سلسلہ جاری ہے۔ ان احباب کے زاویہ نگاہ کے مطابق:
• یہ جسے "دینی روایت" کہا جاتا ہے، اس کا کوئی تاریخی و علمی وجود نہیں۔ تاریخ محض حال میں موجود تناظر کو معنی دینے کا نام ہے۔
• فہم دین کا کوئی مخصوص و معین طریقہ کار موجود نہیں۔
• فقہاء نے اپنے دور میں جو دین سمجھا وہ ان کے اپنے دور کے مخصوص حالات و تاثرات کی بنیاد پر تھا۔
• چونکہ فہم دین میں اصل حیثیت معاشرتی حالات و تاثرات کی ہوتی ہے لہذا جو دین فقہاء نے سمجھا، وہ ان کے لحاظ سے درست ہوسکتا ہے، اور آج جو ہم سمجھتے ہیں وہ بھی درست ہوسکتا ہے۔ اس میں صحیح غلط کی بحث عبث ہے۔

یہ ہے وہ مخصوص علمی پراجیکٹ جس کا اثبات کرنا ان حضرات کے پیش نظر ہے اور وہ اسی مقصد کے تحت علوم اسلامیہ کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور اس کی سپورٹ میں نظائر تلاش کرتے ہیں (جبکہ اس کے خلاف نظائر سے کلیتا سہو نظر کرتے ہیں، ہماری رائے میں اس طریقہ استدلال سے تعمیر ہونے والی اپروچ selectivity bias کا شاہکار ہوگی)۔ تجدد پسندانہ افکار کے فروغ کے ضمن میں درج بالا دعووں کا اثبات بوجوہ اہمیت کا حامل ہے جن سے فی الحال سہو نظر کیا جاتا ہے۔

اسی مخصوص علمی پراجیکٹ کے تحت یہ احباب مخصوص فقہی جزیات کو لے کر ان سے اپنے ذہن میں پہلے سے پیوست اصول اخذ کرکے پھر ان سے اس قبیل کے نتایج اخذ کرتے ہیں: " آج کے اہل علم کے فقہی اجتہادات کو اسی طرح shape کر رہے ہیں جیسے ماضی کی سماجی حساسیتیں ماضی کے فقہاء کے زاویہ نظر کو تشکیل دے رہی تھیں۔ ایسی بحثوں میں قیاسی اصولوں کی روشنی میں یہ طے کرنا کہ کس دور کے لوگوں کا زاویہ نظر زیادہ درست ہے، ہمارے خیال میں غیر ضروری ہے۔ ایسی چیزوں کا مطالعہ تاریخی نقطہ نظر سے کرنا چاہیے، نہ کہ احقاق حق اور ابطال باطل کے نقطہ نظر سے"۔

اس مقدمے پر چند اصولی سوالات
کسی معاملے سے متعلق معاشرتی ماحول میں پیوست حالات کی سنگینی کے سبب بننے والے "انسانی تاثر" (perception) اور "حکم کے فہم" میں جس تعلق کی طرف وہ اشارہ کررہے ہیں، فہم دین کے معاملے میں اسے "بشریاتی زاویہ نگاہ" (anthropological approach) اختیار کرنا کہا جاتا ہے، یعنی یہ کہ "منزل حکم اللہ" اور "شریعت" (فقہاء کا فہم) دو یکسر الگ چیزیں ہیں۔ موخر الذکر مخصوص انسانی کاوش ہے جو مخصوص دور کے حالات سے متاثر شدہ ہوتی ہے اور اسے کسی طور اول الذکر کے درجے پر کھڑا نہیں کیا جاسکتا۔ اس اپروچ پر کچھ سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ مثلا: یہ کہ
• "حالات کے تحت قائم شدہ تاثر اور حکم" کے تعلق کی نوعیت کیا ہر ہر حکم کے لئے قاضی کی حیثیت رکھتی ہے یا یہ محض چند مخصوص قسم کے معاملات تک محدود ہے؟ اگر محدود ہے تو اس حد بندی کو ڈیفائن کرنے والی چیز کیا ہے؟
• کیا کوئی ایسی چیز موجود ہے جسے "منزل من اللہ" کہا جاسکے؟ اگر "ہاں"، تو کیسے؟
• کیا حالات کو shape کرنا دین کے پیش نظر ہے یا نہیں؟ اس اپروچ کو اختیار کرنے کے بعد اس کا جواب "ھاں" میں کیوں کر و کس بنیاد پر دیا جاسکتا ہے؟
• اگر مسائل کا حل حالات ہی کے تحت کرنا ہے، تو خدا نے شرع نازل ہی کیوں کی؟
حقیقت یہ ہے کہ یہ اپروچ دھیرے دھیرے دین کو معطل کردینے کا نظریہ ہے۔
• فقہی احکامات کی بنیادیں موافق معاشرتی احوال میں تلاش کرنے والی فکر کا یہ مقدمہ اگر مان لیا جائے کہ فقہاء کی آراء حالات کے تحت متعین و تبدیل ہو رہی تھیں تو ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہر دور کے علمی ماحول میں شرکت کرنے والے فقہاء و علماء کا یہ رویہ شعوری تھا یا غیر شعوری، یعنی اس فکر کے مطابق فقہاء شعوری طور پر ایسا کررہے تھے یا غیر شعوری طور پر؟

اگر وہ سب لوگ بھی اس فکر کے حاملین کی طرح شعوری طور پر ہی ایسا کررہے تھے تو پھر بتایا جانا چاہئے کہ انکے یہاں اس اپروچ کے تحت دین کو سمجھنے کے اصول کہاں بیان ہوئے ہیں؟ اصول فقہ کی وہ کون کون سی ابحاث ہیں جو نصوص کی "تاریخیت" کے اصول کے تحت تشریح کرنے کی نمائندگی کرتی ہیں؟ ایسا تو نہیں ہوسکتا کہ ایک انسان علمی ظروف کے پس پشت جس اصول کو شعورا برت رہا ہو، ظروف کے بیان میں اس اصول کا بیان کلیتا ہی مفقود ہو۔ دیکھ لیجئے کہ جب آپ اس اصول کو برتتے ہیں تو کس قدر وضاحت و شرح و بسط کے ساتھ اس پر لکھتے ہیں کہ نصوص کی تشریح میں یہ کلیدی اصول ہے۔ تو اسی طرح کی وضاحتیں فقہاء کے یہاں بھی دکھائی جانی چاہئیں۔
دوسری صورت یہ ماننا ہے کہ اگرچہ وہ جانتے نہیں تھے مگر کر عملا یہی رہے تھے۔ یہی وہ چیز ہے جسے presentism کہتے ہیں، یعنی اپنے حال و خیالات کو ماضی پر مسلط کرنا اور یہ بات خود آپ کے اپنے مقدمے ہی کے خلاف ہے۔

امام طحاوی کے ایک قول سے استدلال کی عمارت اور اس پر سوال
برادر عمار خان ناصر صاحب نے مرتد خاتون کے نکاح کی قانونی حیثیت پر امام طحاوی کی ایک عبارت کو لے کر سوال کیا ہے کہ آیا اس حکم کی درست نوعیت کیا ہے؟ اس درست نوعیت میں سے ایک امکان خود انہوں نے سوالیہ طرز پر یوں پش کیا ہے کہ "کیا اس کی وجہ یہ عملی پیچیدگی ہے کہ خاتون اگر جبر واکراہ کے باوجود اسلام قبول نہ کرے تو اسے آخر ساری زندگی کے لیے محبوس کیسے رکھا جائے؟"

اگرچہ یہ امکان انہوں نے سوالیہ انداز میں پیش کیا ہے مگر یہ سوال بذات خود ان کے مخصوص علمی پراجیکٹ و رجحان کے پیش نظر ہی ان کے ذھن میں پیدا ہوا ہے جس کے تحت وہ یہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ ایک خاتون کو تمام عمر جیل میں رکھنے کے عملی مسائل کے پیش نظر بعد کے حنفی فقہاء نے اس قسم کا "سہولتی حکم" جاری فرمایا ہو، یعنی حالات بدلنے سے تعبیر بدل لی گئی ہو؟ چنانچہ اس استدلال کے ذریعے دراصل وہ اپنے اس مقدمے کے لئے نظیر لانا چاہتے ہیں کہ ہر دور کے علماء و فقہاء نے اپنے دور کے تقاضوں (مشکلات و حساسیتوں وغیرہ) کو مد نظر رکھتے ہوئے نصوص کی تعبیر کی ہے، لہذا آج ایسا کرنے والوں پر نالاں ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ تعبیر دین کے معاملے میں یہ طرز عمل ہمیشہ سے چلا آرہا ہے۔

برادر محمد مشتاق احمد صاحب نے امام طحاوی کے اس بیان کی فقہی حیثیت واضح فرما دی ہے۔ ایک لمحے کے لیے اس فقہی حیثیت کو اگنور کرکے اسی امکانی نوعیت کو سنجیدگی سے لیتے ہیں جو عمار خان ناصر صاحب نے اٹھائی۔ اس صورت میں اس "مفروضاتی توجیہہ" پر سوال یہ ہے کہ کیا امام طحاوی کے دور تک پہنچتے پہنچتے واقعی یہ صورت حال پیدا ہوچکی تھی کہ عورتیں بڑی تعداد میں مرتد ہونے لگی تھیں اور اس لیے اس قسم کا اجتہاد ضروری ہوگیا تھا؟ (ویسے یہ بھی دلچسپ بات ہوگی کہ ہاں عورتیں ہوتی تھیں البتہ مرد نہ ہوتے تھے کہ مردوں کے قتل کے مسئلے کا حل درپیش نہ تھا، اور چونکہ عورتوں کو جیل میں رکھنا ممکن نہیں رہا تھا لہذا یہ حل نکال لیا گیا)۔ اور یا پھر امام طحاوی کے دور تک یہ صورت حال پیدا ہوگئی تھی کہ کسی فکری چیلنج کی وجہ سے مسلمان مفکرین نے کفر و ارتداد کو مسئلہ سمجھنا ترک کردیا ہو یا انہیں اسے مسئلہ سمجھنے میں مسائل درپیش ہوں (جیسے مثلا آج کی صورت حال ہے)؟ اگر ہاں، تو اس فکری چیلنج کا وجود افکار میں کہاں ملتا ہے؟ کہنے کا مطلب یہ کہ محض قیاس آرائی (تھاٹ ایکسپیریمنٹ) کی بنیاد پر تو کسی حکم کی توجیہہ اخذ نہیں کی جاسکتی، تھاٹ ایکسپیریمنٹ میں جس "عملی" وجہ کو فرض کیا جارہا ہے اس کا تاریخی و علمی قرائن کے ساتھ کوئی ثبوت بھی تو دکھایا جانا چاہیے، محض تھاٹ ایکسپیریمنٹ کے زور پر تو علمی ڈسکورس کھڑے نہیں کیے جاسکتے۔ اگر ایسا کیا جانے لگا تو کوئی بھی شخص کچھ بھی تھاٹ ایکسپیریمنٹ کرکے کچھ مسائل کی توجیہہ کر لے گا۔

Comments

محمد زاہد صدیق مغل

محمد زاہد صدیق مغل

محمد زاہد صدیق مغل نسٹ یونیورسٹی کے شعبہ اکنامکس میں تدریس کے فرائض سر انجام دیتے ہیں۔ قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد سے معاشیات میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ ملکی و غیر ملکی جرائد و رسائل میں تسلسل کے ساتھ تحقیقی آراء پیش کرتے رہتے ہیں۔ ان کی تحقیق کے خصوصی موضوعات میں معاشیات، اسلامی فنانس وبینکنگ اور جدیدیت سے برآمد ہونے والے فکری مباحث شامل ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

  • ڈاکٹر صاحب اگر فقہ کی عمارت تاریخی بنیادوں ایک تھاٹ ایکسپیریمنٹ بھی برداشت نہیں کرسکتی تو کافی کمزور عمارت ہے، اسے لوگوں پر تھوپنے سے قبل بھی اتنی شرائط سے گزارنا لازمی ہے جتنی شرائط اس "پراجیکٹ " پر آپ عائد کر رہے ہیں.. شکریہ