جمہوریت کی منڈی میں‌خریدوفروخت-ڈاکٹر شفق حرا

بلوچستان کی منڈی ان دنوں توجہ کا مرکز ہے کیونکہ وہاں ایک جنرل نشست کے لیے نو ارکان کی ضرورت ہے۔ چند روز قبل ہی بلوچستان میں مسلم لیگ ن کا تخت ہتھیا کر ق لیگ کے عبدالقدوس بزنجو کو سونپا گیا اور اس کا سہرا پیپلز پارٹی کی قیادت نے آصف زرداری کے سر باندھا۔ افواہ یہ بھی سنی گئی کہ بلوچستان میں اس تبدیلی کے لیے ایک معروف پراپرٹی ڈیلر کی خدمات حاصل کی گئیں جنہوں نے اربوں روپے فراہم کرکے اس مہم کو سرانجام پہنچایا۔ اس مہم میں ارکان کی خرید و فروخت کا وہ ریکارڈ قائم کیا گیا کہ چھانگا مانگا بھی شرما گیا۔ اب مہم کی کامیابی کے بعد یہ پراپرٹی ڈیلر کتنا حصہ وصول کریں یہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔

اسلام آباد میں چونکہ تین سو بہتر ارکان نے دو سینیٹرز کا انتخاب کرنا ہے اس لیے اس منڈی کا کوئی رخ نہیں کررہا تاہم فاٹا کے گیارہ ارکان ان دنوں چار سینیٹرز کے انتخاب کی گنگا میں خوب ہاتھ پائوں دھو رہے ہیں۔ فاٹا کی اگرچہ بارہ نشستیں ہیں لیکن ایک نشست دو ہزار تیرہ سے خالی ہے جس کا فائدہ فاٹا کے چھ ارکان اسمبلی کا ایک گروپ دل کھول کر اٹھا رہا ہے۔ یہ چھ ارکان دو ہزار پندرہ کے سینیٹ الیکشن کی طرح ایک بار پھر ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے بھاری رقوم اینٹھنے میں مشغول ہیں۔ لگ یہی رہا ہے کہ تین مارچ کو یہی چھ ارکان کڑی محنت اور تپسیا سے چار ارب پتی افراد کا قرعہ فال نکالیں گے۔

یہ بھی تاثر ہے کہ منڈی کے نرخ اس لئے بھی زیادہ ہیں کیونکہ پیپلزپارٹی زیادہ سے زیادہ خریداری کرکے چیئرمین سینیٹ کا عہدہ ایک بار پھر ہتھیانا چاہ رہی ہے تاکہ ایک زرداری سب پر بھاری کا مقولہ سچ کیا جاسکے۔ کچھ لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ آصف زرداری آج بھی اینٹ سے اینٹ بجانے والی تقریر کے بعد نوازشریف کی ان سے ملاقات کے منسوخ ہونے کا غم نہیں بھولے۔ آصف زرداری نوازشریف کا سینیٹ میں اکثریت کا خواب چکنا چور کرکے نہ صرف ان سے بدلہ لینا چاہ رہے ہیں بلکہ وہ اسی تیر کے ذریعے نوازشریف کی مستقبل میں نااہلی کے خاتمے کیلئے متوقع آئینی ترمیم کا راستہ بھی روکنا چاہتے ہیں۔

سینیٹ کی منڈی میں ان دنوں اگرچہ خوب رونق ہے لیکن اسی منڈی میں تحریک انصاف کا جے یو آئی (س) کے سربراہ مولانا سمیع الحق کو ٹکٹ نہ دینے اور پیپلزپارٹی کا تھر کے ضلع نگرپارکر کے ایک غریب محنت کش کی بیٹی کرشنا کماری کو ٹکٹ دینا ایک قابل تحسین فیصلہ ہے۔ کاش اگر سیاسی جماعتیں منڈی لگا کر خرید و فروخت کی روایت ترک کردیں تو ہمیں کرشنا کماری جیسے کئی چہرے سینیٹ میں نظر آئیں گے جس سے نہ صرف جمہوریت مضبوط ہوگی بلکہ سینیٹ کو عوامی امنگوں کا صحیح ترجمان ادارہ بنانے میں بھی مدد ملے گی۔

Comments

ڈاکٹر شفق حرا

ڈاکٹر شفق حرا

ڈاکٹر شفق حرا دس سال سے شعبہ صحافت سے منسلک ہیں۔ پی ٹی وی نیوز پر نشر ہونے والے پروگرام کیپیٹل ویو کی میزبانی کے فرائض سرانجام دیتی ہیں، اور اپنے منفرد انداز کی وجہ سے پہچانی جاتی ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.