اپنے ہی قتل کا کرتے ہیں تماشا کیسے؟ - عبدالباسط ذوالفقار

وطن عزیز آجکل عجیب ہذیانی کیفیت سے گزر رہا ہے۔ ہر صبح مظلوم عوام ایک نئی کہانی سنتے ہیں۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ جیسے اب درندے جنگلوں میں نہیں رہتے، بلکہ انسانی روپ دھار کر ہمارے ہی بیچ موجود ہیں۔ کوئی دن ایسا نہیں کہ جس دن یہ خبر نہ سننے کو ملے کہ آج انسان نما درندے نے کسی کو نہ نوچا ہو، کسی کو نہ بھنبھوڑا ہو، کسی کی جان نہ لی ہو۔ آئے روز حوا کی بیٹی درندوں کے ہاتھوں تشدد، استحصال اور ظلم و ستم کا شکار ہو کر مار دی جاتی ہے۔ انسان جو خود کو پڑھا لکھا کہتا اور تہذیب یافتہ سمجھتا ہے، اب بھی فرسودہ روایات میں جکڑا دکھائی دیتا ہے۔

ہمارے معاشرے میں تشدد کا رجحان تشویشناک حد تک بڑھ رہا ہے۔ غیرت کے نام پر قتل معمول بن چکا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ پانچ سالوں میں تقریباً پانچ ہزار خواتین، نام نہاد غیرت کی بھینٹ چڑھ گئیں۔ رشتے سے انکار، پسند کی شادی، زن، زر، زمین کے لیے، شک و شبہ کی بنیاد پر قتل ہونے والوں کی تعداد بھی بڑھتی ہی جارہی ہے۔ ہر سال تقریباً 1400 خواتین غیرت کے نام پر قتل کر دی جاتی ہیں۔ غیر سرکاری تنظیم عورت فاؤنڈیشن کے مطابق 2015 میں ملکِ پاکستان میں 1096 خواتین کو قتل کیا گیا۔ جبکہ 2014 میں 1005 اور 2013 میں غیرت کے نام پر قتل ہونے والوں کی تعداد 869 تھی۔

یہ سب اس وقت ہو رہا ہے جب پارلیمنٹ نے غیرت کے نام پر قتل سے متعلق بل بھی موجود ہے اور اس قانون کے مطابق غیرت کے نام پر قتل کرنے والے مجرم کے لیے سخت سزا تجویز کی گئی ہے۔ اگر جرم کا نشانہ بننے والے خاندان کی طرف سے معاف کر دیا گیا پھر بھی مجرم قید کی سزا ضرور بھگتے گا۔ اس کے باوجود تاحال ایسے واقعات کا رونما ہونا قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔

ابھی گزشتہ دنوں کوہاٹ میں میڈیکل کی طالبہ عاصمہ کا بیہمانہ قتل کیا گیا۔ ملزم تو تاحال گرفتار نہ ہوسکا لیکن ارباب اختیار و اقتدار بیان بازی میں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے میں مصروف ہیں۔ ایک وزیر کا کہنا تھا کہ اگر یہ قتل پنجاب میں ہوا ہوتا تو ہم مجرم کو کب کا پکڑ کر سخت ترین سزا دے چکے ہوتے۔ ذرا ان سے پوچھا جائے کہ پنجاب میں ز ینب کیس سمیت دیگر کیسوں میں کتنے مجرموں کو سخت سزا دلائی؟ غیرت کے نام پر زیادہ تر قتل پنجاب ہی میں رونما ہوتے ہیں۔ دوسری طرف کے وزرا دیگر واقعات پر لمبے اور بلند بانگ دعوے تو کرتے ہیں مگر انصاف کی فراہمی میں سستی ہی برتتے دکھائی دیتے ہیں۔ اس قانون کے بننے کے بعد یہ عالم ہے کہ اکتوبر 2016 سے جون 2017 تک صرف 9 ماہ کی مدت میں280 خواتین قتل ہوئیں، اور یہ بھی وہ تعداد ہے جن کے کیسز رپورٹ ہوئے۔ معاشرتی روایات، بدنامی کے خوف، پنچائیت، جرگے کے ڈر، وڈیروں کے ظلم و ستم کی وجہ سے کئی والدین ایسے قتل کسی نہ کسی طرح چھپا لیتے ہیں۔ عام تاثر کے برعکس خواتین کے خلاف جرائم کا تناسب دیہی علاقوں سے زیادہ شہروں میں ہے۔

معلوم نہیں یہ کیسی غیرت ہے؟ اللہ تعالیٰ نے ایک شخص کا قتل پوری انسانیت کا قتل قرار دیا ہے اور جسے حرمت اللہ نے عطا کی ہو، اسے کیوں کر قتل کردیا جاتا ہے؟ کیسی درندگی ہے اور کیسی بے حسی کا عالم ہے؟ وہ جو اپنے والدین کے لیے رحمت ہے اسے، اس کااپنا باپ قتل کر دیتا ہے تو کہیں وہ بھائی، جو بہنوں کا محافظ کہلاتا ہے، ہمیشہ کی نیند سلا دیتا ہے۔ کہیں کوئی کسی کو رشتہ نہ ملنے پر پستول کی گولی کی نذر کردیتا ہے کہ میری نہیں تو کسی کی نہیں اور کہیں ذاتی عناد، شک و شبہ، ناجائز تعلقات پر بغیر تصدیق کیے غیرت کی بھینٹ چڑھا دیتے ہیں۔

روز ایسے واقعات کا رونما ہونا ثابت کرتا ہے کہ یہاں بھیڑیے کھلے گھوم رہے ہیں اور ان کو بچانے کے لیے پولیس بھی اپنا کردار ادا کرتی ہے۔ مجرم عدالتی نظام میں کمزوری کی بنا رہا ہوجاتے ہیں۔ پیچیدہ نظام سے انصاف کا حصول مشکل ہو جاتا ہے۔ جہاں تحفظ نہ ملے وہاں لولے لنگڑے قانون کا کیا فائدہ۔ ۔ ۔ ؟ اس سے مجرم تو فائدہ اٹھا لیتا ہے جب کہ مظلوم کو انصاف نہیں مل پاتا۔ قتل کے بڑھتے واقعات میں اداروں کی کمزوری، معاشرے میں بڑھتی ہوئی بے راہ روی، عدم برداشت، اقدار کی تنزلی کی ایک وجہ اساتذہ، والدین، علماءاور دیگر لوگوں کا اپنی ذمہ داریوں سے چشم پوشی کا بھی کردار ہے۔

ایک وجہ مجرموں کو عبرتناک سزائیں نہ ملنا بھی ہے۔ جب ایک مجرم کو سزا نہیں ملتی تو دوسرے مجرموں کو شہہ مل جاتی ہے وہ منہ زور ہوجاتے ہیں۔ جب تک سخت ترین سزاؤں کا نفاذ نہیں ہوگا، مجرم حوا کی بیٹی کو نوچتے، بے حرمتی کرتے رہیں گے اور اگر ہم آنکھیں موندے بیٹھے رہے گے۔ مظلوم کے حق میں آواز بلند نہ کی تو یاد رکھیں جرم پر خاموش رہنا بھی ایک طرح سے جرم کا ساتھ دینا ہے۔