فرسودہ تصورات یا شرم و حیا - ربیعہ فاطمہ بخاری

آپ سب کو یاد ہی ہو گا، کوئی دو سال پہلے بیکن ہاؤس کی طالبات نے یونیورسٹی کی حدود میں بے حیائی کا ایک مظاہرہ کیا تھا۔ انہوں نے خواتین کے استعمال کے آلودہ سینیٹری پیڈ یونیورسٹی کی دیواروں پر چسپاں کیے اور آلودہ کپڑے پہن کر یونیورسٹی میں گھومتی پھرتی رہیں اور یہ سب خواتین کو معاشرے میں empower کرنے کے نام پر ہوا۔ اس وقت بہت سے لوگوں نے اس عمل پر کڑی تنقید کی جس کے نتیجہ میں یہ سلسلہ کچھ تھم گیا۔

اب ہوا یوں کہ گزشتہ مہینے ایک بھارتی اداکارہ ٹوئنکل کھنہ نے ایک فلم بنانے کا اعلان کیا، جس کا نام " پیڈ مین" ہے۔ یہ فلم بقول فلم میکر کے ایامِ حیض کے متعلق آگہی کے موضوع پر ہے۔ اس فلم کی پروموشن انتہائی گھٹیا انداز میں کی گئی، جس میں ملالہ یوسفزئی نے بھی بھرپور حصہ لیا۔ اس دن کے بعد ہمارے سوشل میڈیا پر بھی دوبارہ بڑی شدومد کے ساتھ وہی بھاشن سنائی دینے لگا ہے کہ ایامِ حیض کے بارے میں گفتگو کرنا ایک ممنوع موضوع کیوں ہے؟ اس کے بارے میں بات نہیں کریں گے تو آگہی کیسے پھیلے گی؟ اس کے ساتھ ایک شرم وحیا کا تصور کیوں منسوب کیا جاتا ہے؟ جب ایک لڑکی ان ایّام سے گزر رہی ہوتی ہے تو اسے گھر والوں سے کیوں مخفی رکھا جاتا ہے؟ کیوں لڑکیاں اس حوالے سے کھل کر گفتگو نہیں کر سکتیں؟ لڑکیوں کو اس حوالے سے حفضانِ صحت کے اصول نہیں سکھائے جاتے وغیرہ، وغیرہ، وغیرہ۔۔۔

ابھی آج ایک تحریر نظر سے گزری جس میں مختلف لڑکوں کے پیڈز کے حوالے سے ان کی پہلی سوچ بتائی گئی کہ یہ اصل میں کیا ہو سکتا ہے؟ جس کی دو، چار مضحکہ خیز قسم کی مثالیں پیش کر کے آخر میں صاحبِ تحریر نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ دیکھیں ہمارا معاشرہ اس حوالے سے کتنا لاعلم ہے اور ہم نے کیوں اسے اتنی باعثِ شرم چیز قرار دیا ہے کہ پیڈ کے اشتہارات میں ہم سرخ کی بجائے نیلی روشنائی استعمال کرتے ہیں۔

میرے لیے تو اس مکتبۂ فکر کی سوچ ہی ناقابلِ فہم ہے۔ کوئی مجھے سمجھائے کہ اس مہم کا مقصد لڑکیوں کو پیریڈز کے حوالے سے آگہی دینا ہے یا لڑکوں کو شعور بخشنا مقصود ہے؟ اگر تو لڑکیوں کو آگہی دینا مقصود ہے تو یہ عمل تو صدیوں سے چلتا چلا آ رہا ہے اور اس طرح کی بیہودگیوں سے پہلے بھی لڑکیاں نہ صرف ان ایام کے بارے میں سب کچھ جانتی تھیں، انہیں بتایا اور سمجھایا جاتا تھا بلکہ مائیں ان ایام میں صحت و صفائی اور حفظانِ صحت کا بھی انتہائی اعلیٰ درجے کا شعور بخشتی تھیں۔ خود ربِ کائنات نے قرآنِ کریم میں اور احادیثِ مبارکہ میں ان ایام کا خاص ذکر کر کے اس مسئلے کے شرعی اور سماجی پہلوؤں کی بہت ہی اعلیٰ انداز میں تعلیم دی ہے۔ ابھی گزشتہ دنوں اسی مکتبۂ فکر کا ایک بلاگ نظر سے گزرا جس میں مختلف ممالک اور مذاہب سے متعلقہ معاشروں میں حائضہ عورت کو درپیش مسائل بیان کیے گئے تھے، باقی اقوام کی خواتین کے مسائل تو الامان والحفیظ۔۔۔! ان کے مقابلے میں پاکستان کی عورت کی مسئلہ یہ تھا کہ یہاں اس حوالے سے بات کرنا ایک ممنوع موضوع ہے اور اس مسئلہ کو اتنے دلگرفتہ انداز میں بیان کیا گیا تھا کہ محسوس یہ ہوتا تھا کہ دنیا کی سب خواتین سے مظلوم پاکستانی عورت ہے۔

باقی ممالک اور مذاہب میں حائضہ عورت کو درپیش مسائل سے اگر پاکستانی عورت کے مسائل کا موازنہ کیا جائے تو زمین آسمان کا فرق ہے۔ وہ لوگ اگر اس حوالے سے آواز اٹھائیں تو زیب بھی دیتا ہے۔ جبکہ ہمارا دین اس حوالے سے بہت واضح تعلیمات دیتا ہے۔ ہمارے گھروں میں بھی ہر گز ہرگز ایسا کوئی منظر دیکھنے کو نہیں ملتا کوئی لڑکی حائضہ ہے تو اس کا بستر، برتن یارہائش الگ کردی جائے۔ ایک پاکستانی اور مسلمان گھرانے کی حائضہ عورت ہر لحاظ سے ایک بالکل نارمل زندگی گزارتی ہے۔ وہ اپنے باقی افرادِ خانہ کے ساتھ اٹھتی بیٹھتی، کھاتی پیتی ہے، ان کے لیے کھانا بناتی ہے، اپنے شوہر کے ساتھ ایک بستر پر سوتی ہے۔ غرضیکہ سب کچھ بالکل نارمل ہوتا ہے۔ اس حالت میں صرف چند ایک ایسے چیزوں کی ممانعت ہے جیسے کہ نماز اور روزہ نہیں رکھ سکتے، قرآنِ پاک کو چھو نہیں سکتےہاں زبانی آپ جتنے مرضی چاہیں اوراد و وظائف کر سکتی ہیں اور میاں میاں بیوی آپس میں جماع نہیں کر سکتے بس!

اس حوالے سے معاشرے کی ایک روایت کہہں یا عورت ہونے کے ناطے شرم و حیا کا تقاضا سمجھیں کہ اس موضوع ہر کھل کر اظہارِ خیال نہیں کیا جاتا۔ خاص طور پر مرد حضرات کے سامنے اس موضوع پر گفتگو سے اجتناب برتا جاتا ہے۔ ورنہ مائیں اپنی بیٹیوں اور بڑی بہنیں چھوٹی بہنوں کو ہر طرح کی تفصیل سے خود آگاہی دیتی ہیں۔ میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ مردوں کے ہاتھوں میں پیڈ پکڑا پکڑا کر، آلودہ پیڈز دیواروں پر آویزاں کر کے، خون آلود لباس پہن کر عوامی مقامات پر جانے سے یا گھروں میں باپ اور بھائیوں کے سامنے بآوازِ بلند اپنے پیریڈز کا اعلان کرنے سے مزید کون سے آگہی کے در وا ہوں گے؟

ان حرکتوں کا مقصد سوائے نسلِ نو میں سے شرم و حیا کے تصور کے خاتمے کے اور کچھ بھی نہیں۔ ان لوگوں اگر بس چلے تو یہ بے لباسی کے حق میں بھی دلائل لے آئیں۔ ایک انتہائی مختصر مگر مفاہیم کا دریا خود میں سموئے انتہائی جامع حدیث شریف ہے کہ "جب تم میں حیا نہ رہے تو جو جی چاہے کرو" اور ان جیسے لوگوں کا بنیادی مقصد نسلِ نو میں سے یہی شرم و حیا ختم کرنا ہے تاکہ انہیں بڑے سے بڑا گناہ بھی گناہ نہ لگے بلکہ اسے کہا جائے کہ ‘’He/ She is breaking stereotypes’’

اللہ پاک ہمارے معاشرے کو اور نسلِ نو کو اس بے حیائی کے طوفان سے بچائے!

Comments

ربیعہ فاطمہ بخاری

ربیعہ فاطمہ بخاری

لاہور کی رہائشی ربیعہ فاطمہ بخاری پنجاب یونیورسٹی سے کمیونی کیشن سٹڈیز میں ماسٹرز ہیں۔ تدریس کے شعبے سے وابستہ رہی ہیں لیکن اب ایک خاتونِ خانہ کے طور پر زندگی گزار رہی ہوں۔ لکھنے کی صلاحیت پرانی ہے لیکن قلم آزمانے کا وقت اب آیا ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.