کچھ ٹپس، کچھ باتیں بُک لوَرز سے - حنا نرجس

ہفتہ کتاب اختتام کو پہنچا. ماحول کا اثر ضرور ہوتا ہے. میں نے بھی کتابوں کی خریداری سے لطف اٹھایا. ان میں سے دو کا مطالعہ ایک ساتھ شروع کر دیا ہے. مزا آ رہا ہے.

ایک بات جو مجھے اچھی نہیں لگی، وہ یہ کہ بہت سے ساتھی کتابیں مفت میں لینے کے لیے مچلتے نظر آئے. مذاق مذاق میں یا بہانے بہانے سے ایسے مطالبات جاری رہے. دوست خود سے دیں تو الگ بات، تحفے کے انتظار میں بیٹھے رہنا اچھا نہیں لگتا. ہاں کتاب سے محبت کرنے والے دوست اپنی خریدی گئی کتابوں کا آپس میں تبادلہ کر کے پڑھتے رہیں تو فائدہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے. لیکن پڑھ کر واپس کرنا نہ بھولیں.

حقیقی کتاب دوست کتاب خرید کر پڑھنے میں زیادہ خوشی محسوس کرتے ہیں. اگر ہر کتاب خریدنا ممکن نہیں تو لائبریری جوائن کریں. آن لائن لائبریری کا آپشن بھی موجود ہے. بہت سی کتابوں کی دکانیں ڈسکاؤنٹ پر کتب دیتی ہیں. پھر اچھی حالت میں واپس کر دیں تو پچاس فیصد قیمت واپس مل جاتی ہے، جس سے مزید کتابیں خریدی جا سکتی ہیں. یوں سلسلہ چلتا رہتا ہے. کتابیں الماریوں میں بند کر کے رکھنے سے کہیں بہتر ہے کہ یہ سرکولیشن میں رہیں.

الماریوں اور کارٹنز میں بند کتابوں کو خراب ہوتے، دیمک لگتے، نمی کا شکار ہوتے یا ورثا کا ان سے جان چھڑانے کے لیے ردی میں دیتے دیکھنا بہت تکلیف دہ بات ہے.

میں بھی اپنی کتابیں اور رسائل سنبھال سنبھال کر رکھتی رہی ہوں. کوَر چڑھا کر ترتیب سے. بہت سی چیزیں انڈر لائن یا ہائی لائٹ کی ہوتی ہیں. مجھ سے برداشت نہیں ہوتا کہ میری کتاب پر کوئی دوسرا یونہی کچھ لکھ دے یا صفحات موڑ دے یا کھانا کھاتے وقت پڑھے اور چکنے ہاتھ لگا دے یا میز پر رکھ دے، دیکھے بنا کہ میز صاف ہے یا نہیں لیکن گذشتہ سال میں نے دل بڑا کر کے اپنے ذخیرے سے تقریباً ستر فیصد کتب اور رسائل نکالے ہیں. عمر، ذوق اور قدر دانی کو مدنظر رکھتے ہوئے مختلف جگہوں پر مختلف لوگوں کو دیے ہیں. کچھ ڈاک کے ذریعے بھی بھیجے. اب صرف وہی باقی ہیں جو فی الحال دینے کا حوصلہ نہیں کر پا رہی. انہیں دو نئے بک ریکس بنوا کر ان میں سیٹ کیا ہے، لیکن ان میں سے بھی نکالتی رہتی ہوں. (ڈی کلٹرنگ ویسے بھی میرا مشغلہ ہے، مجھے اس سے ریلیکسیشن ملتی ہے. آپ جلد ہی اس پر میرا ایک آرٹیکل پڑھیں گے. ان شاء اللہ)

کتاب سے محبت کرنے والوں کے لیے ایک ٹپ ہے کہ اپنے ماہانہ بجٹ میں سے اپنی گنجائش کے مطابق تین سو، پانچ سو، آٹھ سو، ایک ہزار، پندرہ سو یا جتنی سہولت سے ممکن ہو، رقم الگ والٹ میں رکھ لیا کریں. یوں الگ رکھنے سے ایک طرح سے طے ہو جاتا ہے کہ ان پیسوں سے کتابیں ہی خریدنی ہیں تو انسان پھر اچھی کتب کی تلاش میں رہتا ہے. خریدتے وقت دل تنگ نہیں ہوتا کہ "ہائے اتنی مہنگی کتاب ہے!" یا "اف اس میگزین کی سالانہ سبسکرپشن فیس اتنی زیادہ ہے!"

اور یہ تو بتانے کی ضرورت نہیں کہ کتب صرف اپنے لیے نہیں خریدنی ہیں بلکہ بچوں کے لیے بھی ان کی دلچسپی کے مطابق لینی ہیں اور بچے خواہ کتنے بڑے ہو جائیں ماں کے ساتھ مل کر کچھ اچھا سا پڑھنے یا سننے کی خواہش قائم رہتی ہے بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتی چلی جاتی ہے.

چند ماہ پہلے میری مما کہہ رہی تھیں جب کچھ اچھا پڑھوں، دل چاہتا ہے سب بچے میرے پاس ہوں اور میں ان کو بھی سناؤں. اب بچے تو پورے گلوب پر "بکھرے" ہوئے ہیں،
میں نے کہا آپ ایک واٹس ایپ گروپ بنا لیں سب بچوں کا، پھر جو بھی سنانا ہو، وائس میسج کر دیا کریں. بس جھینپی سی مسکراہٹ کے ساتھ میری تجویز پر غور کرنے لگیں. دیکھیں کب عمل کرتی ہیں.

Comments

حنا نرجس

حنا نرجس

اللّٰہ رب العزت سے شدید محبت کرتی ہیں. ہر ایک کے ساتھ مخلص ہیں. مسلسل پڑھنے پڑھانے اور سیکھنے سکھانے پر یقین رکھتی ہیں. سائنس، ٹیکنالوجی، ادب، طب اور گھر داری میں دلچسپی ہے. ذہین اور با حیا لوگوں سے بہت جلد متاثر ہوتی ہیں.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.