نوجوانی کی مستی اور پاگل پن - عظیم الرحمٰن عثمانی

زمانہ طالب علمی میں ہمارا اولین شوق فن خطابت ہوا کرتا تھا۔ اس کے لیے ملک بھر میں منعقد مقابلوں میں شرکت ہوتی تھی۔ پشاور یونیورسٹی میں ایسے ہی ایک مقابلے میں شرکت کے بعد این ای ڈی یونیورسٹی کراچی اور سرسید انجینئرنگ یونیورسٹی کراچی کے مقررین نے کچھ اور دوستوں کے ساتھ مل کر مری جانے کا فیصلہ کیا۔ یہ نوجوانی کے دن تھے اور ہم سب کی عمریں انیس سے بائیس برس کے لگ بھگ تھیں۔ دل و دماغ پر صرف تفریح اور مستی سوار تھی۔ چند روز کے اس تفریحی سفر میں جی بھر کر تفریح کی۔ ایک بس کے ذریعے مری کی جانب نکلے تو پوری بس پٹھان بھائیوں سے کھچا کھچ بھری ہوئی تھی۔ سب کو الگ الگ نشست ملی۔ پھر جگہ اس قدر تنگ تھی کہ بیٹھنا دوبھر ہو رہا تھا۔ اچانک ایک دوست نے کچھ بولے بنا دیگر دوستوں کو آنکھ ماری اور نفسیاتی مریض کی سے ایکٹنگ کرنے لگا۔ وہ کبھی جھرجھری لیتا تو کبھی امیتابھ بچن کی آواز میں ہندی فلم کا کوئی غصیلا ڈائیلاگ دہرانے لگتا۔ باقی دوست اسے سہارا دینے کی ایکٹنگ کرنے لگے۔ سادہ مزاج پٹھان بھائی فوری ادھر ادھر ہوگئے اور دیکھتے ہی دیکھتے پیچھے کی تمام نشستیں خالی ہوگئیں۔ اب سب دوست آرام سے ایک ساتھ براجمان ہوئے اور اسی ایکٹنگ کو برقرار رکھتے ہوئے پورا سفر مزے سے کیا۔

مری پہنچے تو منفی دس ڈگری میں پورا علاقہ برف سے ڈھکا ہوا تھا۔ ایک چھوٹا سا سستا ترین کمرہ لے کر سب کے سب اس میں ٹھنس گئے۔ اندر ہیٹر تک نہ تھا لہٰذا سب نے جیکٹ مفلر لپیٹ رکھا تھا۔ باہر دکانوں میں جھانکنے نکلے تو کچھ دوستوں کو پھر مستی سوجھی۔ ایک اور دوست نے گونگے کا سوانگ بھرا اور مختلف گاہکوں سے جان بوجھ کر ٹکرا جاتا۔ جب وہ گاہک غصے سے کوئی جملہ بولتا تو وہ گونگے کی سی آوازیں نکال کر شکایت کرنے لگتا، رونے لگتا۔ باقی دوست اجنبی بن کر اسے دلاسہ دیتے تو دیکھتے ہی دیکھتے تمام گاہک اور دکان والے اس نقلی گونگے کے حق میں ہوجاتے۔ ایسا کر کے فری گفٹ بھی اس گونگے کو ملے اور زبردست ڈسکاؤنٹ بھی۔ دوست یار ایک اور تفریح یہ بھی کرتے کہ باہر کسی بھی اجنبی کو دیکھتے ہوئے اس کے سامنے آکر ٹھٹھک کر رک جاتے، پھر خوشی سے زور کا نعرہ مارتے ہوئے اس اجنبی شخص کے گلے لگ جاتے۔ 'ارے بھائی! آپ یہاں !!' باقی دوست بھی اس سے ایسے ملنے لگتے جیسے شناسائی ہو۔ یہ بہت سے افراد کے ساتھ کیا تو معلوم ہوا کہ اکثر افراد انتہائی کنفیوز ہو کر پہچان لینے کی ایکٹنگ کرنے لگتے ہیں۔ لوگوں کی حرکتیں اور 'کنفیوز ری ایکشن' خوب لطف دیتا۔ ہمارا ہی ایک اور دوست جس نے ہمیں لیٹ جوائن کیا تھا، کہنے لگا کہ اب وہ سامنے والے اجنبی کے ساتھ یہی حرکت کرنے لگا ہے، لہٰذا ہم سب اس کا ساتھ دیں۔ ہم سب نے سامنے سامنے حامی بھر لی، مگر اسے سبق سکھانے کے لیے اس کا ساتھ نہ دیا بلکہ اس اجنبی کو اپنے ساتھ ملا لیا۔ دوست اس اجنبی کے سامنے پورے اعتماد سے گیا، ٹھٹھک کر رکا اور خوشی سے چلایا ۔ 'ارے بھائی آپ یہاں!' یہ کہہ کر اس نے ہماری جانب دیکھا تو ہم سب لاتعلق ہوگئے۔ وہ اجنبی شخص بھی کوئی تفریح انسان تھا اور ہم سے ملا ہوا تھا، بات سمجھ گیا لہٰذا جیسے ہی دوست نے کہا 'ارے بھائی آپ یہاں'، تو وہ اجنبی جواب میں اور زیادہ زور سے خوش ہوکر چلایا، 'ارے میرا دوست فتو بواسیر!' اور یہ کہہ کر دوست کو گلے لگا لیا۔ اب اس دوست کی شکل دیکھنے والی تھی اور ہم سب کا ہنس ہنس کر برا حال۔ آج تک اسے دوست یار 'فتو بواسیر' ہی کہہ کر چھیڑتے ہیں۔

مری کی مال روڈ ایک نہایت مصروف جگہ ہے، جہاں لوگوں کا اژدھام ہوتا ہے۔ ہم اس کے سب سے مصروف مقام پر پہنچے تو اب کوئی بڑی مستی کرنے کی ٹھانی۔ دوستوں کے اس گروپ میں دو بہترین اردو مقرر شامل تھے۔ ایک خود راقم یعنی میں اور دوسرا ایک دوست دانش۔ سر جوڑ کر پلان کیا گیا اور سب دوست چاروں طرف پھیل کر مختلف چیزوں میں مصروف نظر آنے کی ایکٹنگ کرنے لگے۔ میں اور دانش اس مصروف مقام کے عین وسط میں پہنچے اور ڈرامہ شروع کر دیا۔ دانش نے میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ایک شعلہ بیاں تقریر شروع کردی۔ جسے میں اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر سنجیدگی سے سننے لگا۔ جیسے ہی اس نے بات ختم کی تو میں نے اس کا جواب ایک اور شعلہ بیاں تقریر سے دیا۔ اب میں سنجیدگی سے بول رہا تھا اور وہ سنجیدگی سے سن رہا تھا۔ مثال کے طور پر دانش نے ابتداء کی کہ
"عظیم! اس ملک کی تباہی کا ذمہ دار ایک کھیل ہے جو ہم سب کھیل رہے ہیں اور وہ کھیل کچھ یوں ہے کہ آؤ کھیلیں دشمن دشمن، آؤ کھیلیں دشمن دشمن، آنکھ پر پٹی سامنے دشمن، صوبہ صوبہ دشمن دشمن، فرقہ فرقہ دشمن دشمن، بھائی بھائی دشمن دشمن، آؤ کھیلیں دشمن دشمن، آؤ کھیلیں دشمن دشمن"۔
میں نے سنجیدگی سے یہ سن کر تائید میں سر ہلایا اور جواب دیا،
"دانش تم ٹھیک کہتے ہو، مگر اگر ہم دین کو تھام لیں، اگر ہم برداشت کو فروغ دیں، تو پھر یہی دشمن دوست بھی بن سکتے ہیں، کھیل پھر کچھ یوں ہوگا کہ آؤ کھیلیں دوست دوست، آؤ کھیلیں دوست دوست، آنکھ کھلی تو سامنے دوست، صوبہ صوبہ دوست دوست، فرقہ فرقہ دوست دوست، بھائی بھائی دوست دوست، آؤ کھیلیں دوست دوست، آؤ کھیلیں دوست دوست ۔"
ہم دونوں یہ جملے بازی پوری خطیبانہ مہارت سے اونچی آواز میں کر رہے تھے اور دونوں کے چہروں پر پہاڑ جیسی سنجیدگی تھی۔ لوگ ہماری جانب تیزی سے متوجہ ہونے لگے۔ ابتداء میں اکثر ہنس رہے تھے، کوئی پاگل کہہ رہا تھا، کوئی جملے کس رہا تھا۔ پھر آہستہ آہستہ لوگ متاثر ہونے لگے۔ تعداد بڑھنے لگی۔ ہمارے دوست اس ہجوم میں ہر طرف موجود تھے، دائیں جانب ایک دوست بولا "کیا زبردست انداز ہے"۔ بائیں جانب ایک دوست بولا "باتیں تو سچ کہہ رہے ہیں"۔ سامنے سے ایک دوست نے واہ واہ کی صدا بلند کی۔ پیچھے سے ایک دوست نے تالی بجائی۔ لوگ ہاں میں ہاں ملانے لگے۔ زیادہ وقت نہ لگا کہ پورا مجمع انہماک سے ہمیں سننے لگا اور ہر طرف تالیاں بجنے لگیں۔ لوگ دکانوں اور چھتوں پر آگئے۔ ہم سب خوب لطف لے رہے تھے مگر اب وہ ہوا جو ہمارے پلان میں شامل نہ تھا۔ پولیس آگئی! ایک انسپکٹر میری جانب آیا اور درشتگی سے بولا ''اوئے! یہ کیا لگا رکھا ہے تم لوگوں نے، پورا ٹریفک جام کردیا، چلو تھانے!'۔ یہ سن کر ہم سب کے ہوش اڑے۔ میں سوچ ہی رہا تھا کہ انسپکٹر کو کیا جواب دوں؟ کہ ہمارا ایک دوست ہنستا ہوا مجمع سے نکل کر آیا اور انسپکٹر کے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر نہایت کانفیڈینس سے بولا 'سر غصہ نہ ہوں، یہ مشہور رئیلیٹی پروگرام "کیسا" کی لائیو شوٹنگ ہے اور ہم اس کی اجازت بھی حکام سے لے چکے ہیں۔ وہ دیکھیے اوپر ہمارا کیمرہ مین موجود ہے، پلیز ہاتھ ہلا دیں'۔ جس طرف اشارہ کیا گیا وہاں ہمارا ایک اور دوست ذرا اونچائی پر کچھ گرم شالوں کا گولا تھامے کھڑا تھا۔ اس نے وہاں سے انسپکٹر اور مجمع کو ہاتھ ہلادیا۔ یہ دیکھ کر سب میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور سینکڑوں افراد کا یہ مجمع ہمارے فرضی کیمرہ مین کی جانب ہاتھ ہلانے لگا۔ باقی جتنے دن ہم مری میں رہے، مقامی لوگ ہماری آؤ بھگت کرتے رہے اور پوچھتے رہے کہ پروگرام کب آن ائیر ہوگا؟ ایسے ہی معلوم نہیں کتنی کارروائیاں اس ٹرپ میں ہم سے سرزد ہوئیں۔

آج جب ان واقعات کو زمانہ بیت چکا ہے تو سوچ کر حیرت ہوتی ہے۔ بے اختیار مسکرانے بھی لگتا ہوں۔ ہماری بہت سی حرکتیں اخلاقی طور پر یقیناً ٹھیک نہیں تھیں۔ جھوٹ بولنا، دھوکہ دینا، بیوقوف بنانا۔ انھیں دینی یا اخلاقی لحاظ سے کون درست کہے گا؟ آپ احباب بھی مجھ سے یا میرے دوستوں پر ان واقعات کے حوالے سے خفاء ہوسکتے ہیں۔ مگر نوجوانی کی اس مستی میں ہم دوست وہ وہ چیزیں کرگئے جس کی جرات آج ہم دوستوں میں سے کسی ایک کے پاس بھی نہیں۔ اس پاگل پن سے یادوں کا ایک ایسا ذخیرہ بنا ہے جو عمر بھر ہمیں مسکراہٹیں دیتا رہے گا۔

Comments

عظیم الرحمن عثمانی

عظیم الرحمن عثمانی

کے خیال میں وہ عالم ہیں نہ فاضل اور نہ ہی کوئی مستند تحقیق نگار. زبان اردو میں اگر کوئی لفظ ان کا تعارف فراہم کرسکتا ہے تو وہ ہے مرکب لفظ ’طالب علم‘. خود کو کتاب اللہ قرآن کا اور دین اللہ اسلام کا معمولی طالب علم سمجھتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.