دل خوش کن خبروں کی رم جھم - محمد عامر خاکوانی

پچھلے چند دن خوشگوار، امید افزا خبروں اور واقعات میں گزرے۔ ہم پاکستانی خاصے عرصے سے مایوسی اور آفات وبلیات کے دلدلی جزیرے میں زندگی گزار رہے ہیں۔ ایک کے بعد دوسری پریشان کن، تکلیف دہ خبریں وارد ہوتی اوران سے پھوٹتی دکھ کی دبیز چادرقوم کو لپیٹ میں لے لیتی ہے۔ ایسے میں جب کوئی دل خوش کن خبر یا واقعہ ہو تو بھلا لگتا ہے۔ لاہور میں ہر سال فروری میں ایک بڑا کتاب میلہ منعقد ہوتا ہے۔ اس بار بھی فروری کے پہلے ہفتے میں یہ شاندار فیسٹول ہوا اور سچ تو یہ ہے کہ روح سرشار ہوگئی۔ والدہ محترمہ انھی دنوں علیل ہوگئیں، اسی وجہ سے شروع کے تین دن نہ جا سکا۔ چوتھے دن کچھ دیر کے لیے بڑے بھائی طاہر ہاشم خاکوانی کے ساتھ ایکسپو سنٹر گیا تو پارکنگ میں کھڑی سینکڑوں، ہزاروں گاڑیاں دیکھ کر بھائی صاحب حیران رہ گئے۔ یقین نہ کرنے کی کیفیت میں انہوں نے پوچھا کہ کیا واقعی اتنے لوگ کتاب خریدنے آئے ہوں گے؟ جب ہال کے اندر پہنچے توبے پناہ رش نے انہیں مزید حیرت زدہ کیا۔ اس کے باوجود کچھ دیر تک وہ اپنے اس خیال پر قائم رہے کہ ان میں سے خاصی تعداد ونڈو شاپنگ یعنی صرف دیکھنے آئی ہے۔ وہ تو سنگ میل، ریڈنگز، فکشن ہاؤس، الفیصل، جہلم بک کارنر جیسے سٹالز پر دھڑا دھڑ فروخت ہوتی کتابوں کو دیکھ کر یقین آیا۔ ہمارے ہاں منفی اور مایوس نظریات جلد مقبولیت اختیار کر لیتے ہیں۔کچھ کلیشے نما فقرے ہیں جو فوری گردش کرنے لگتے ہیں۔ کوئی انہیں چیلنج کرنے کی زحمت نہیں کرتا اور یوں کچھ عرصے بعد وہ مستند حقائق کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اب کتاب نہیں پڑھی جاتی۔ یہ بات غلط ہے۔ کتاب آج بھی پڑھی جاتی ہے اور اچھی خاصی تعداد ایسی ہے جو کتابوں سے محبت کرتی ہے۔ یہ بات بھی ٹھیک نہیں کہ کتابیں بہت مہنگی ہوگئی ہیں۔ اسی کتاب میلے میں بہت سے اچھے پبلشر ایسے تھے، جہاں متعدد نہایت عمدہ اور اعلیٰ درجے کی کتابیں پچاس فیصد ڈسکاﺅنٹ سے لی جا سکتی ہیں۔ ہزار بارہ سو کی کتابیں پانچ چھ سو میں مل جائیں اور ان کی ضخامت بھی کئی سو صفحات پرمشتمل ہو تو یہ گھاٹے کا سودا ہرگز نہیں۔ یاد رہے کہ کسی بھی اچھے برانڈ کا برگر پانچ چھ سو سے کم میں نہیں ملتا۔ کتاب کی خاطر ایک برگر تو قربان کیا جا سکتا ہے، کرنا بھی چاہیے۔ ایسی بہت سی کتابیں تھیں جو ڈھائی تین سو میں بھی دستیاب تھیں۔ خاص کر سرکاری اور نیم سرکاری اداروں جیسے نیشنل بک فاﺅنڈیشن، اقبال اکیڈمی، اردو سائنس بورڈ، مجلس ترقی اردو، دارالثقافت اسلامیہ وغیرہ میں کئی عمدہ کتابیں نہایت سستی مل جاتی ہیں۔ نیشنل بک فاﺅنڈیشن کا خاص طور سے نام لینا چاہوں گا، ڈاکٹر انعام الحق جاوید اس کے سربراہ ہیں، یہ ماننا چاہیے کہ انہوں نے اس ادارے کو نہایت فعال اور متحرک بنا دیاہے۔ کمال قسم کی کتابیں یہ ادارہ شائع کر چکا ہے اور بہت ہی مناسب داموں پر وہ مل جاتی ہیں۔ بعض لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ یہ ادارہ کتابوں کی خرید وفروخت میں لگ گیا ہے، مگر میرے جیسے قارئین کے لئے ایسے ادارے غنیمت ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   کتابوں کی صحبت میں - محمد عامر خاکوانی

ایک معروف کلیشے یہ بھی ہے کہ اردو تراجم ناقص ہیں۔ بعض تراجم دیکھ کر اگرچہ مایوسی ہوئی، خاص کر پروف ریڈنگ کا معیاربعض ناشرین کے ہاں ناقص ہے۔ اردو میں عمدہ تراجم کی مگر کمی نہیں۔عالمی ادب کے حوالے سے تو اب بہت کچھ دستیاب ہے۔ روسی کلاسیک ادب تو برسوں پہلے ترجمہ ہوچکا ہے، امریکی اور دیگر یورپی مصنفین کی کتابیں بھی ترجمہ ہو رہی ہیں ۔ فرخ سہیل گوئندی نے جمہوری پبلی کیشنز سے ترک ادیبوں کی متعدد شاندار کتابیں ترجمہ کر کے شائع کی ہیں۔ نوبیل انعام یافتہ ترک ادیب اوحان پاموک کا مشہور ناول مائی نیم از ریڈ(سرخ میرا نام)جمہوری سے شائع ہوا، جس کا دیباچہ مستنصر حسین تارڑ نے لکھا۔ کمال کا ناول ہے، دو سال پہلے پڑھا، ابھی تک اس کے سحر میں ہوں۔ ہماانور نے اسے اردو کے قالب میں ڈھالا۔ تارڑ صاحب کے دیگر قارئین اور مداحین کی طرح ہم بھی ان کے پسندیدہ کرد ادیب یشار کمال کو پڑھنے کے خواہش مند تھے۔ جمہوری سے پچھلے سال اس کے دو ناولوں ”بوئے گل“، ”اناطولیہ کہانی“ کے تراجم پڑھے۔ یشار کمال کی اپنی ہی ایک دنیا ہے، قاری کو وہ اس طرح اپنی گرفت میں لیتا ہے کہ وہ تازندگی کبھی رہائی نہیں پا سکتا۔ ایلف شفق کا ناول ناموس بھی یہیں سے پڑھا، اب تو ایلف کے زیادہ مشہور ناول فورٹی رولز آف لوکا ترجمہ ”چالیس چراغ عشق کے“ بھی آ چکا ہے۔ اس بار کئی نئے ناول دیکھے۔ اویا بیدر کا ناول ”جلا وطن بلیاں“ خریدا ہے، منفرد انداز کی تخلیق لگ رہی ہے، پڑھنے سے درست اندازہ ہوگا۔ اسی ناول نگار کا کرد تنازع پر بھی ناول دیکھا، مگر لے نہیں سکا۔ عدالت اعولو اور بعض دیگر ترک اور لاطینی امریکی لکھاریوں کی کتابوں کے تراجم دیکھے، کسی کو للچا کر دیکھا اور ورق گردانی کے بعد رکھ دیا، کوئی خریدنے پر مجبور ہوگیا۔ جہلم بک کارنر کی کتابوں نے بھی اس بار متاثر کیا۔ بجٹ کا خاصا حصہ یہاں اور فکشن ہاؤس کی کتابوں پر صرف کیا۔ پڑھنے والے بھی کم نہیں تھے۔ کتابیں وہ دیوانہ وار خریدتے اور پھر اپنا پرس خالی ہونے پر ٹھنڈی سانس بھرتے ہوئے واپس گھروں کو لوٹتے۔ خوش آئند بات یہ تھی کہ بہت سے لوگ اپنے بچوں کو ساتھ لائے تھے۔ یہ وہ کام ہے جو ہمیں زیادہ بھرپور اور منظم انداز میں کرنا چاہیے۔ اپنی نئی نسل کو کتابوں کے قریب لایا جائے۔ ایک اور کام جو ہمارے پڑھے لکھے لوگوں، دانشوروں، میڈیا کے جغادری اینکرز، لکھاریوں کو کرنا چاہیے، وہ ہے کتاب کا فیشن ڈالنا۔ کتاب کا ذکر ہو، نئی کتابوں پر ریویو ہوں، ٹی وی پروگرام کئے جائیں اور یہ فضا بن جائے کہ نئی کتابیں نہ پڑھنے والے خود کو جاہل اور پسماندہ سمجھیں۔ تب کتاب دلوں میں گھر کرتی ہے۔ کتاب میلہ کو مزید بہتر کیا جا سکتا ہے۔ ایک تو سٹالز کے کرایے کم کئے جائیں ، دوسرا اسلام آباد، کراچی جیسے شہروں کے ناشروں کے لئے سٹال کا کرایہ نصف کر دیا جائے تو توقع ہے کہ وہ لوگ لاہور کا رخ کریں گے۔

کتاب میلہ کی کامیابی اور پزیرائی پر دلی مسرت ہوئی۔ اسی دوران خبر آئی کہ مردان کی معصوم بچی عاصمہ کے قاتل پکڑے گئے۔ ڈی این اے ٹیسٹ سے ان کی شناخت ممکن ہوئی۔ لاہور کی فرانزک لیب نے اس حوالے سے معاونت کی۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ پشاور کی فرانزک لیب فعال ہونے کی خبر بھی آ گئی ہے۔ صوبائی حکومتوں کے مابین اس طرح کے عوامی بہبود کے کاموں میں مسابقت ہونی چاہیے۔ خیبر پختون خوا کے پولیس کلچر میں مثبت تبدیلی آئی ہے۔ دیکھ کر اچھا لگا کہ قاتل کی شناخت کے حوالے سے پریس کانفرنس پولیس کے سربراہ نے کی، وزیراعلیٰ کریڈٹ لینے کے چکر میں وہاں نہیں پہنچ گیا۔ آئی جی پولیس نے بات کی، بلکہ تفصیل بتانے کے لیے انہوں نے پیچھے ہٹ کر اپنے ماتحت افسر کو بات کرنے کا موقعہ دیا۔ یہ پروفیشنل ازم ہے ۔ پنجاب میں اس کی شدید کمی ہے۔ وہاں ہر کام میں شہباز شریف خود کریڈٹ لینے کے لئے موجود ہوتے ہیں، کہیں پر پبلک ٹوائلٹس بنے ہیں تب بھی خادم اعلیٰ کی موجودگی یقینی ہوگی۔ انہیں کے پی کے سے کچھ سیکھنے کی ضرورت ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   خاکوانی صاحب کے آج کے کالم " کتابوں کی صحبت میں " پر تبصرہ - ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

مشال خان کیس کا چند ماہ میں فیصلہ آگیا اور قاتلوں کو سخت سزا سنائی گئی۔ یہ بھی اچھا لگا۔ مشال خان کو جس سفاکی سے مذہب کے نام پر قتل کیا گیا، وہ صریحاً غلط تھا۔ قتل کرنے والے ہجوم کو کیفرکردار تک پہنچانا چاہیے تھا۔ عدالتی فیصلہ خوش آئند ہے، کچھ ملزموں کو بری کیا گیا، اس پر سنا ہے کہ صوبائی حکومت اپیل میں جا رہی ہے۔ یہ بھی درست امر ہے۔ ایک خبر یہ بھی آئی کہ جماعت اسلامی مردان کے مقامی امیر اور جے یوآئی کی مقامی قیادت نے بری ہونے والے ملزموں کا استقبال کیا، سوشل میڈیا پر ایک پوسٹر شیئر ہوا، جس میں غازیوں کے بھرپور استقبال کی اپیل کی۔ کون سے غازی؟جو ملزم بری ہوئے، وہ اگر بےگناہ ہیں تو غازی کہاں سے بن گئے؟ اگر وہ مجرم ہیں اور قانونی کمزوری سے بچ نکلے تو یہ قومی جماعتیں اور ان کے رہنما قاتلوں کے ساتھیوں کا استقبال کیوں کر رہی ہیں؟ جماعت اسلامی کا سوشل میڈیا سیل بڑا متحرک ہے، انہوں نے جلد ہی مرکزی قیادت کی جانب سے وضاحت چلا دی کہ جماعت اسلامی کا یہ مؤقف نہیں اور امیر جماعت سراج الحق نے ہمیشہ مشال خان کے قتل کی نہ صرف مذمت کی بلکہ سینیٹ میں اس موضوع پر تقریر بھی کی تھی۔ اے این پی کے سابق وزیراعلیٰ کی ایک تصویر بھی گردش کر رہی ہے، جس میں وہ ایک بری ہونے والے ملزم کو جپھی مارے مسکر ارہے ہیں۔ کسی بھی کیس میں بنائے جانے والا ہر ملزم گناہ گار نہیں ہوتا، عدالت ہی اس کا فیصلہ کرتی ہے۔ اس لئے عین ممکن ہے کہ بری کئے جانے والے بے قصور ہوں، مگر ہماری قومی جماعتوں کے مقامی رہنماؤں کا رویہ اور ردعمل عجیب وغریب ہے۔ صاف نظر آ رہا ہے کہ انتخابی سیاست کی وجہ سے یہ سیاستدان مشال قتل کیس میں غلط جگہ اور غلط لوگوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ ان میں اسلامسٹ اور لیفٹ کی جانب جھکاﺅ رکھنے والے قوم پرست دونوں شامل ہیں۔ان جماعتوں کے مرکزی قائدین کو اس کا سختی سے نوٹس لینا چاہیے۔

Comments

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر ہاشم خاکوانی کالم نگار اور سینئر صحافی ہیں۔ روزنامہ 92 نیوز میں میگزین ایڈیٹر ہیں۔ دلیل کے بانی مدیر ہیں۔ پولیٹیکلی رائٹ آف سنٹر، سوشلی کنزرویٹو، داخلی طور پر صوفی ازم سے متاثر ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.