چوروں کو مور - امجد طفیل بھٹی

پچھلے دنوں سابق صدر آصف زرداری صاحب نے لاہور میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ میاں نواز شریف دھرتی پر بوجھ تھے اس لیے اُنہیں نکالا گیا ہے۔ اس کے علاوہ بھی جناب سابق صدر صاحب کئی مواقع پر فرماچکے ہیں کہ ان کی پارٹی کو پاکستان کی مرکزی حکومت دوبارہ ملی تو شریف خاندان کے بیرون ملک غیر قانونی اثاثہ جات کو وہ بذات خود واپس لے کر آئیں گے۔ یہ بات جس بندے نے بھی سُنی ہوگی اسے کسی لطیفے سے کم نہیں لگی ہوگی۔ لیکن پاکستان کے عوام کی بدقسمتی ہے کہ وہ ایسے ہی لطیفوں کے جال میں پھنس کر بار بار پرانے لوگوں پہ اعتبار کر لیتے ہیں۔ یہ بات تو ہو گئی زرداری صاحب کی جو کہ میاں صاحب کو اس ملک کی تباہی کا ذمہ دار سمجھتے ہیں اور آج کل ان پر خوب لفظی گولہ باری کر رہیں ہیں۔

جبکہ دوسری جانب چھوٹے میاں صاحب یعنی شہباز شریف بھی کھل کر زرداری صاحب کی کرپشن، سرے محل، کمیشن اور جائیدادوں کا تذکرہ کر رہے ہیں اور تقریباً ہر پرانی فلم repeat telecast ہو رہی ہے جس میں وہ زرداری صاحب کو گلیوں میں گھسیٹنے اور ان کا پیٹ پھاڑ کر لُوٹی ہوئی قومی دولت کی واپسی کی باتیں کرتے تھے۔ یہ الگ بات ہے کہ بعد میں معافیاں تلافیاں، کھانے، ناشتے اور اکھٹی حکمت عملیاں بنتی رہیں کہ اپنے ملک کے غریب عوام کو کیسے نچوڑنا ہے اور ان پر کیسے حکومت کرنی ہے؟

خواجہ آصف کا بیان کہ زرداری صاحب کو پچھلی حکومت میاں صاحب نے تحفے میں دی تھی بذات خود کافی مضحکہ خیز ہے۔ کیونکہ اُدھر زرداری صاحب یہ کہتے پھر رہے ہیں کہ بلوچستان میں ن لیگ کی حکومت کا خاتمہ اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ جب چاہیں جہاں چاہیں ن لیگ کی حکومتوں کا خاتمہ کر سکتے ہیں، ان باتوں کا مطلب یہ ہے کہ یہ سب "نُورا کشتی" چل رہی ہے بنیادی طور پر متاثر عوام نے ہی ہونا ہے۔ چاہے حکومت ن لیگ کی ہو یا پاکستان پیپلز پارٹی کی ہو۔ کیونکہ دونوں پارٹیاں تین، تین باریاں مرکز میں اور پانچ پانچ باریاں صوبوں میں لے چکی ہیں۔ اگر کسی نے واقعی عوام کی قسمت بدلنا ہوتی تو ایک یا دو باریاں ہی کافی تھیں لیکن نہ تو ایسا ہوا ہے اور نہ ہی مستقبل میں ایسا ہونا ہے۔ عوام کو ان سیاسی بیان بازیوں اور سیاسی چالوں کو اب جان لینا چاہیے۔ ایک دوسرے کی کرپشن کی کہانیاں عوام کو سُنا کر اور ایک دوسرے کا احتساب کرنے کے نعرے لگا کر اپنا اُلوّ سیدھا کیا جا رہا ہے، عوام کی فکر، عوام کا درد اور عوام کا مفاد کوئی نہیں سوچتا سب اپنے ذاتی مفادات کے تحفظ کے لیے حکومت میں آتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   سیاسی پوائنٹ اسکورنگ مایوس کن رویہ - قادر خان یوسف زئی

پاکستانی عوام کے لیے ایک اور تشویش ناک بات یہ ہے کہ متحدہ عرب امارات میں پچھلے کچھ عرصے میں پراپرٹی خریدنے والے باشندوں میں پاکستانی لوگوں کا تیسرا نمبر ہے، جو کہ اس بات کی گواہی ہے کہ ہمارے "بڑے" کس قدر ملک کے عوام کا خون نچوڑ کر دیار غیر میں اپنی جائیدادیں بنانے میں مصروف ہیں۔ یہ تو ایک ملک کی رپورٹ ہے اس کے علاوہ انگلینڈ، امریکہ، کینیڈا، سوئٹزر لینڈ، اسپین، جرمنی اور نہ جانے کون کون سے ایسے ممالک ہیں جہاں پہ ہمارے حکمرانوں اور سیاستدانوں نے اپنے مستقل ٹھکانے بنائے ہوئے ہیں کہ جب بھی خدانخواستہ پاکستان پر کوئی مشکل وقت آئے تو وہ اپنا بوریا بستر گول کر کے وہاں تشریف لے جائیں اور باقی ملک کا اللہ حافظ ہوگا۔

ہمارے تمام تر سیاستدان یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ عوام کن باتوں سے ان کی طرف کھنچتی ہے؟ اور کون سی صورتحال کو اپنے حق میں کیسے استعمال کرنا ہے؟ کون سا نعرہ کیسے لگانا ہے کہ عوام کے دلوں پر اثر کرے؟ کس سیاستدان کا کون سا اسکینڈل عوام کو اس کے حق میں زیادہ متاثر کرے لگا؟ ہمارے سامنے ایسی ہزار ہا مثالیں موجود ہیں جب دوسروں کی کمزوریوں کو سیاستدانوں نے اپنے حق میں کیش کرایا۔ مثلاً جب 2008 میں الیکشن ہوئے تو تمام جماعتوں نے لال مسجد اور بگٹی کیس کو پرویز مشرف اور ق لیگ کے خلاف استعمال کیا۔ اس کے بعد 2013 کے الیکشن میں لوڈشیڈنگ ختم کرنے اور زرداری دور کی کرپشن پکڑنے کے نام پہ ووٹ لیے گئے۔

اب ایک بار پھر ایک دوسرے کی خامیوں اور کوتاہیوں کا ڈھنڈورا پیٹ کر عوام کو رام کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ کبھی پیپلز پارٹی ن لیگ کی حکومت کے "کارنامے" عوام کو بتانے کی کوشش کررہی ہے تو کبھی ن لیگ والے تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومتوں کو بے نقاب کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ کہیں کسی سیاستدان کو چور، ڈاکو، مافیا، کرپٹ اور بے ایمان ثابت کیا جا رہا ہے تو کہیں کسی سیاستدان کو تمام تر برائیوں کی جڑ قرار دیا جارہا ہے۔کہیں کسی کی ذاتی زندگی پر حملے ہو رہے ہیں تو کہیں کسی سیاستدان کی خفیہ شادیوں کا کھوج لگایا جارہا ہے۔ کہیں کسی سیاستدان کی بیرون ملک جائیداد کا انکشاف کیا جارہا ہے تو کہیں کسی کو پاکستان میں قبضہ مافیا کا سربراہ بنا کر پیش کیا جارہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   یہ مذاق ہے کیا - مسزجمشیدخاکوانی

ایک بات تو طے ہے کہ پاکستانی سیاست کے حمام میں سب ہی ننگے ہیں، کیا ن لیگ، کیا پیپلز پارٹی، کیا ایم کیو ایم، کیا جے یو آئی اور کیا اے این پی، الغرض سب لوگوں کی ہی کمزوریاں اور خامیاں دوسروں کے ہاتھ میں ہیں۔ پھر بھی سب ایک دوسرے کو چور چور کہہ کر پکارتے ہیں۔طرفہ تماشہ ہے کہ یہاں ہر سیاستدان ہی دوسرے کو چور تصور کہتا ہے لیکن ہر کوئی خود کو بیگناہ ثابت کرنے کے بجائے چور کہنے والے کو ہی چور کہنا شروع کردیتا ہے۔ یعنی مطلب یہ ہے کہ یہاں ہر ایک ہی چور ہے اس لیے کوئی بھی اپنے آپ کو ایماندار ثابت نہیں کرسکتا۔

Comments

Avatar

امجد طفیل بھٹی

امجد طفیل بھٹی پیشے کے لحاظ سے انجینئر ہیں اور نیشنل انجینیئرنگ سروسز (نیس پاک) میں سینئر انجینیئر کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ آپ مختلف اردو روزناموں اور ویب سائٹس کے لیے سماجی و سیاسی موضوعات پر لکھتے رہتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.