پریشا ن ہونا چھوڑیے، جینا شروع کیجیے (1) - ڈاکٹر محمد عقیل

 اصول نمبر ۱۔ آج کے لیے زندہ رہیں

کیس اسٹڈی:

" احمد چھٹی کی وجہ سے صبح دیر سے سوکر اٹھا۔ باہر نکلا تو موسم بہت سہانا تھا۔ ہلکی ہلکی بارش درخت کے پتوں کو غسل دے رہی تھی۔ مٹی سے اٹھنے والی مہک نے فضا کو مسحور کردیا تھا، بادلو ں کی گھن گرج ایک موسیقی بکھیرے دے رہی تھی۔ احمد کو یوں محسوس ہوا کہ گویا وہ جنت میں ہو۔ اسے بہت اطمینان محسوس ہونے لگا۔ وہ مناظر میں اتنا گم ہوا کہ اپنے سارے غم بھلا بیٹھا۔ وہ اسی شو ق و مستی جذ ب و شوق کے عالم میں ایک گھنٹے تک بیٹھا رہا۔ اچانک اسے یاد آیا کہ کل اس کی دفتر میں ایک اہم میٹنگ ہے اگر اس میٹنگ میں بات بن گئی تو ایک بہت بڑا کانٹریکٹ مل جائے گا۔ وہ میٹنگ کی تیاری مکمل کرچکا تھا۔ لیکن اس کا خیال آتے ہی موسم کا مزا کرکرا ہوگیا اور وہ آنے والے کل کے اندیشوں میں گرفتار ہوگیا۔ ابھی وہ یہ سوچ ہی رہا تھا کہ رو بہک گئی اور اسے یہ بھی یاد آیا کہ کل اس کے باس نے کس طرح اس کی بے عزتی کی تھی۔ یہ سوچ کر اس کا خون کھولنے لگا۔ موسم اتنا ہی خوبصورت تھا، مناظر اتنے ہی حسین تھے لیکن احمد ماضی کے پچھتاوے اور مستقبل کے اندیشے میں اتنا گرفتار ہوا کہ آج کو بھول گیا"۔

وضاحت:

پریشانیوں سے نجات کا پہلا اصول یہ ہے کہ آج میں زندہ رہیں کیونکہ یہ ایک حقیقت ہے۔ آنے والا کل ایک سراب ہے اور گذرا ہوا کل ماضی کی داستان۔ خود کو ایک ایسے کمرے میں بند محسوس کریں جس کا کوئی دروازہ، کوئی کھڑکی نہیں۔ یہ کمرہ آج کا کمرہ ہے۔ اس کمرے کے آگے مستقبل کے اندیشے ہیں اور پیچھے ماضی کے پچھتاوے۔ دونوں طرح کے کل کو نظر انداز کرکے محض آج میں زندہ رہیں۔ اس سے یہ غلط فہمی نہیں ہونا چاہیے کہ ہم ماضی کی غلطیوں سے سبق نہ سیکھیں یا مستقبل کے مسائل سے نبٹنے کی تیاری نہ کریں۔ یہ دونوں کام ضروری ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   وہی محرومیاں، وہی مسائل - ایم سرورصدیقی

آج میں زندہ رہنے کا مطلب یہ ہے کہ آنے والے کل یا گذرے ہوئے کل کے لیے کسی قسم کا کوئی تردد، فکر، تشویش، پریشانی، بے چینی اور اضطراب کا مظاہرہ نہ کریں۔ ایک فلسفی کا قول ہے "آپ آنے والے کل کے لیے غیر ضروری طور پر پریشان نہ ہوں۔ آنے والا کل اپنا خود بندوبست کرے گا۔ آپ محض اپنے آج کی فکر کریں اور اسی جانب توجہ مبذول رکھیں"۔ اگرمسقبل کا جائزہ لیا جائے عام طور پر دو طرح کی فکریں اور اندیشے ہوتے ہیں۔ ایک قسم تو ان مسائل کی ہے جن کے بارے میں ہم آج تیاری کرسکتے اور ان کا تدارک کرسکتے ہیں۔ مثال کے طور پر روزگار کا حصول، بہتر مستقبل، اچھا معیار زندگی، اچھی صحت کا حصول وغیرہ۔ دوسری قسم ان فکروں کی ہے جن کے لیے ہم آج کچھ بھی نہیں کرسکتے اور ان کا حل یا تو اس وقت ممکن ہوگا جب یہ مسئلے درپیش آئیں گے یا پھر ان کا تدارک تقدیر کے ہاتھ میں ہے۔ مثال کے طور پر ایک شخص کی بیٹیاں ہیں لیکن وہ ابھی کم عمر ہیں۔ چنانچہ بیٹیوں کے لیے اچھے رشتوں کے لیے آج تشویش میں مبتلا ہونا بے وقوفی ہے۔ مستقبل کے غیر ضروری اندیشوں سے نجات کا ایک بہترین راستہ توکل ہے۔ توکل کا مطلب ہے کہ اپنے کرنے کا کام مکمل کرکے باقی کام اور نتائج اللہ کے سپرد کردینا۔ اسی طرح ماضی کے غم بھی دو اقسام کے ہوتے ہیں۔ ایک وہ جن سے ہم سبق سیکھ کر کچھ بہتری لاسکتے ہیں۔

مثال کے طور پر ایک طالب علم امتحان میں محنت نہ کرنے کے سبب فیل ہوگیا۔ اب اسے چاہیے کہ ماضی سے سبق سیکھ کر آئندہ محنت کرے۔ دوسرے وہ رنج و الم ہوتے ہیں جن سے ہم کوئی سبق حاصل نہیں کرسکتے اور یہ ہماری یادوں میں کانٹوں کی مانند موجود رہتے اور وقتاً فوقتاً کچوکے لگاتے رہتے ہیں۔ مثال کے طور پر ایک شخص کا بچہ فوت ہوگیا۔ اب یہ خیال اسے بار بار تنگ کرتا رہتا ہے۔ اس خیال سے چھٹکارا ہی خوشحال زندگی کا ضامن ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   وہی محرومیاں، وہی مسائل - ایم سرورصدیقی
اسائنمنٹ

۱۔ کیس کو دوبارہ پڑھیے اور تحریر کریں کہ احمد کے آنے والے کل اور گذرے ہوئے کل کی پریشانیوں کی کیا نوعیت تھی۔

۲۔ آپ کو مستقبل کے بارے میں جو پریشانیاں لاحق ہیں ان کی ایک لسٹ بنائیں اور ہر ایک کے سامنے یہ لکھیں کہ یہ قابل حل ہے یا نہیں۔ اگر وہ قابل حل ہے تو حل تجویز کرکے اسے بھلادیں اور ناقابل حل ہے تو ابھی سے بھلادیں۔

۳۔ ماضی کے پچھتاووں کی ایک فہرست بنائیں اور دیکھیں کہ ان میں سے ہر ایک سے کیا سبق سیکھا جاسکتا ہے۔ اس کے بعد سب پچھتاووں کو بھلادیں۔

۴۔ آج پر غور کریں اور ان نعمتوں کی فہرست بنائیں جو آپ کو آج حاصل ہیں جیسے صحت، دولت، عزت، تعلیم وغیرہ۔ پھر ان نعمتوں سے محظوظ ہوں اور اللہ کا شکر ادا کریں۔

Comments

ڈاکٹر محمد عقیل

ڈاکٹر محمد عقیل

ڈاکٹر محمد عقیل سوشل سائنسز میں پی ایچ ڈی ہیں۔ آپ گذشتہ 21 سالوں سے درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔ پچھلے 14 سال سے کالم نگاری اور تحقیقی مقالات بھی لکھ رہے ہیں۔ تزکیہ نفس آپ کی اسپشلائزیشن ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.