آگ - عظمیٰ ظفر

"اف امی! آج تو بہت گرمی لگ رہی تھی اسکارف میں، دل تو چاہ رہا تھا کہ اسی وقت اتار کر پھینک دوں۔" کنزا نے اسکول سے واپسی پر راستے ہی میں اپنی روداد سنانا شروع کردی اور مجھے پتہ تھا جب تک وہ پوری بات کہہ نہ دے اسے سکون نہیں ملنا تھا۔

"اچھا؟ پھر کیا کیا میری بیٹی نے؟" میں نے اس کا اشتیاق دیکھتے ہوئے پوچھا۔

"امی! پھر میں نے تھوڑا صبر کیا۔ آپ نے کہا تھا صبر کرنے والوں کو اللہ پسند فرماتا ہے، اور اس کا پھل میٹھا اور ٹھنڈا بھی ہوتا ہے۔" اس نے سوالیہ انداز میں آنکھیں آئس کریم والے کی طرف گھماتے ہوئے پوچھا۔ میں اس کی چالاکی سمجھ کر ہنس پڑی اور اسے آئس کریم دلائی۔ "مگر اسکارف اتارا بھی تھا کچھ دیر کے لیے۔" آئس کریم ختم کرتے ہوئے اس نے شرارت سے کہا۔پھر ہم ہنستے مسکراتے گھر کو لوٹ آئے۔

"امی! آج عروا کے گھر پارٹی ہے، میں چلی جاؤں شام میں؟کنزا نے اصرار کرتے ہوئے اجازت مانگی۔

"رات ہوجائے گی وہاں، اچھے بچے رات کو گھر سے باہر نہیں رہتے۔" میں نے اسے بہلانا چاہا۔

"امی پلیز!" اس نے ہوم ورک کرتے کرتے کہا۔

"اچھا اپنے ابو سے اجازت مل جائے تو ان کے ساتھ چلی جانا۔ ویسے کس خوشی میں پارٹی ہے؟" میں نے ایک نگاہ اس پر ڈالتے ہوئے پوچھا۔

"امی! عروہ نے سنگنگ کمپی ٹیشن میں فرسٹ پرائز جیتا تھا، اس لیے باقی دوستوں نے ٹریٹ مانگی ہے۔عروہ نے مجھے بھی بلایا ہے مزہ آئے گا۔" میں اس کی بات سن کر حیران رہ گئی۔

"مگر کنزا! آپ کے اسکول میں تو ایسی کوئی ایکٹوٹی نہیں ہوتی پھر یہ مقابلہ؟" میں نے پوچھا۔

"نہیں امی! اسکول میں نہیں ہوا، ہم نے اپنی کلاس میں کیا تھا۔ جس دن عروہ کی برتھ ڈے تھی اس دن ہم نے ٹیچر سے پرمیشن لی تھی، سیمی اور فائزہ نے تھوڑا سا ڈانس بھی کیا تھا، سب نے بہت انجوائے کیا تھا۔" کنزا ساری داستان مزے لے کر بتاتی جا رہی تھی اور میرے دماغ میں آندھیاں سی چلنے لگیں۔ کیونکہ اس کے اسکول میں ایسی خرافات نہیں ہوا کرتی تھیں تو اب یہ سب کیسے ہونے لگا؟ میں یہی سوچنے لگی۔ کنزا کی کلاس ٹیچر کو دیکھ کر تو مجھے ویسے بھی بہت مایوسی ہوئی تھی۔ وہ ٹیچر کم ماڈل زیادہ لگ رہی تھی۔ مگر میں اسے تو کچھ کہہ نہیں سکتی تھی اپنا دل ہی جلا کر رہ گئی تھی۔

"امی! بتائیں نا میں چلی جاؤں؟ آپ تو مجھے کہیں جانے بھی نہیں دیتیں۔ کیا سوچ رہی ہیں آپ؟" کنزا نے میرے ہاتھ کو تھام کر کہا۔

"بیٹا! تم ابو سے کہہ دینا وہ چھوڑ آئیں گے، میں تمہارے کپڑے نکال دوں جب تک۔" کنزا کو اس وقت منع کرنا تو فضول تھا، اس کی ضد کے آگے تو ریحان ہار مان لیتے تھے تو پھر میرے منع کرنے سے اس پر کیا اثر ہوتا؟ مگر میرا ذہن ایک سوچ میں پڑ گیا تھا۔ شام کو کنزا تیاری کرتے ہوئے بہت خوش نظر آرہی تھی۔ امی میرے بال باندھ دیں مگر چٹیا مت بنائیے، اونچی پونی ٹیل بنادیں۔

"کنزا بیٹا! آپ کو تو معلوم ہے کہ اونچی پونی ٹیل اور اونچے جوڑے میں نماز ہی نہیں ہوتی، تو پھر کیا بار بار بال کھولو گی؟" میں نے بہت پیار سے اسے سمجھاتے ہوئے اس کی چٹیا بنادی۔

"امی! آپ بھی نا، اپنی ہی کرتی ہیں۔کچھ بھی فیشن کے حساب سے کرنے نہیں دیتیں۔ ساری فرینڈز میرا مذاق اڑاتی ہیں، آپ کو پتہ ہے آج جب گرمی کی وجہ سے میں نے اسکارف اتارا تو عروہ نے حیرت سے میرے بالوں کو دیکھ کر کہا کنزا! کتنے پیارے بال ہیں تمہارے اور تم ہر وقت انہیں باندھے رکھتی ہو؟ باقی فرینڈز نے بھی اتنی تعریف کی اور جو ہماری ٹیچر ہیں انہوں نے میرے ساتھ ایک سیلفی بھی بنائی اور امی! عروہ کی ایک کزن نے تو مس ویٹ پاکستان میں بھی حصہ لیا ہے اور اسے اتنی حیرت ہوئی جب میں نے اسے بتایا کہ مجھے اس پروگرام کا پتہ ہی نہیں ہے۔ آپ تو مجھے ٹی وی بھی اپنی مرضی سے دیکھنے نہیں دیتیں اور نہ ہی گانے سننے دیتی ہیں۔ میری دوستیں تو اتنا انجوائے کرتی ہیں ایک دوسرے کے گھر جاکر۔" وہ خوشی خوشی بتا رہی تھی اور میرا دل بیٹھا جارہا تھا۔ ستائش کی چاہ، تعریف کی خواہش، خوبصورت نظر آنے کی تمنّا، یہ سب لڑکیوں کی خواہش ہوتی ہے تو میری بیٹی دیگر لڑکیوں سے الگ کیسے ہوسکتی تھی؟

لیکن میں سوچ رہی تھی کہ میری تربیت میں کمی رہ گئی ہے، میں نے بہت محتاط ہوکر اسے فضولیات سے دور رکھا تھا، اچھے برے کی تمیز بھی سکھاتی رہی تھی۔ مگر اب وہ بڑی ہورہی تھی، ماحول کی آزاد فضا میں سانس لینا چاہتی تھی۔ میں کہاں کہاں سے اسے روکتی؟ کس کس جگہ پہرے بٹھاتی؟ سب بے سود ہوتا۔ اس کی باتیں میرے لیے خطرے کا الارم تھیں۔ ریحان جب آفس سے آئے تو کنزا نے سب سے پہلے اپنی فرمائش پوری کروائی اور وہ اسے چھوڑ کر آگئے۔ مگر میرا اطمینان ختم ہوچکا تھا۔ دل میں بے چینی کا طوفان بپا تھا۔

"چائے ملی گی بیگم یا آج مراقبے میں ہی رہو گی؟" ریحان نے میری سوچوں کو چٹکی میں اڑادیا۔ "کیا سوچ رہی تھیں ویسے؟" چائے کی پیالی تھامتے ہوئے انہوں نےاستفسار کیا۔

"کچھ خاص نہیں، بس کنزا کی طرف سے فکر مند ہوں، دوستوں میں آج کل اس کا زیادہ دل لگنے لگا ہے، بات بات پر ضد کرنے لگی ہے۔"

"تو کیا ہوا؟ ابھی بچی ہے کھیل کود کرنے دو، تم کو تو عادت ہے بلا وجہ سوچنےاور پریشان ہونے کی ابھی سے اتنا سوچو گی تو بوڑھی ہوجاؤ گی۔" وہ میرے فکر و اندیشے کو مزاح میں اڑا کر گھر سے باہر نکل گئے۔ جوان ہوتے بچوں کی مائیں خود کو آئینے میں کس نظر سے دیکھتی ہیں شاید ریحان کو پتہ نہیں تھا۔ ماؤں کو اپنی ڈھلتی عمر سے اتنا ڈر نہیں لگتا جتنا بیٹی کے بڑھتے قد کاٹھ اور رنگ روپ سے لگتا ہے۔دل کے وسوسوں کی اصل وجہ تو گرد ونواح میں ہونے والے جنسی تشدد کے واقعات، بے راہ روی، فحاشی، ٹی وی، میڈیا کی چکا چوند عورتوں کی آزادی وغیرہ تھے اور یہ سب وہ گناہ تھے جنہیں شیطان آراستہ کرکے ہمیں دکھا رہا تھا۔

ایک طرف دل و دماغ نے سارا ملبہ معاشرے اور دوسروں کے کردار پر ڈالا تو مجھے اپنی تربیت کا جھول معمولی سا لگنے لگا۔ مگر دوسری طرف سورہ تحریم کی اس آیت نے مجھے سوچنے پر مجبور کردیا۔

"اے ایمان والو! اپنے گھر والوں کو جہنم کی آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن آگ اور پتھر ہیں۔"

اگلے دن میں نے یہ سوچ رکھا تھا کہ آج کنزا کو اچھی طرح سمجھاؤں گی کہ بری باتوں، خود نمائش، ناچ گانوں اور گناہوں کی لذت سے کیسے دور رہنا ہے۔ پھر میرے رب نے مجھے ایک اور حکمت عملی سجھا دی۔

کنزا کو اسکول سے لے کر آنے کے بعد میں کچن میں آگئی۔ روٹیاں بنا کر ہاٹ پاٹ میں رکھیں اور توے کو صاف کرنے کی نیت سے تیز آنچ پر چولہے پر رکھ دیا تاکہ جب وہ اچھی طرح گرم ہوجائے تو اس کی چکنائی پھول جائے اور پھر اسے آسانی سے صاف کرلوں۔ پھر کچن سے باہر نکل آئی کیونکہ توے کے اوپر چکنائی کی کافی موٹی تہہ جمع ہوچکی تھی اس لیے مجھے اطمینان تھا کہ اس میں ٹائم لگے گا اس لیے چولہا جلتا چھوڑ آئی۔

"امی کھانا دے دیں، ویسے آج پکا کیا ہے؟" اس نے میرے پاس آکر پوچھا۔ میں فون پر بات کر رہی تھی۔

"تم کھانا نکالو میں آ رہی ہوں۔ " میں نے اس سے کہا۔ کنزا ابھی کچن میں گئی ہی تھی کہ اس نے وہیں سے آواز لگائی "امی می۔۔۔! آگ، آگ لگ گئی ہے۔" میں فون پر ہی بات کر رہی تھی کہ وہ بھاگتی ہوئی میرے پاس آئی۔ "امی! وہ چولہے میں آگ لگ گئی ہے تیز شعلے نکل رہے ہیں۔" گھبراہٹ سے کنزا کے چہرے کی ہوائیاں اڑی ہوئی تھیں۔

"کیا کہہ رہی ہو؟ آگ کیسے لگ گئی؟" میں نے فون جلدی سے بند کردیا۔ کچن کے دروازے تک پہنچ کر میں رک گئی۔ پورا توا اچھی خاصی آگ پکڑ چکا تھا۔ فون پر بات کرتے ہوئے مجھے وقت کا اندازہ نہیں ہوا۔"کہاں آگ لگی ہے کنزا؟ تم نے تو مجھے ڈرا ہی دیا۔"

"امی! وہ دیکھیں وہاں آگ لگی ہوئی ہے چولہے میں، شاید توے میں لگی ہے۔" دھویں سے کچن بھرنے والا تھا مگر میں نے آنکھوں دیکھی آگ کا انکار کرتے ہوئے کہا "نہیں بیٹے! آگ تو نظر نہیں آرہی۔کہاں ہے آگ؟"

"آپ کو جلتی ہوئی آگ نہیں نظر آرہی؟" کنزا نے حیرت اور خوف سے پوچھا۔ "کچن میں دھواں پھیل رہا ہے اور آپ کہہ رہی ہیں کہ آپ کو آگ نظر نہیں آرہی؟ "

"اچھا! تو آپ کو آگ نظر آرہی ہے؟" میں نے کنزا سے پوچھا۔

"جی ہاں امی! اسے بجھا دیں، چولہا بند کردیں، ورنہ پورے کچن میں آگ لگ جائے گی۔" اس سے قبل کہ اسے میری دماغی حالت پہ شبہ ہوتا اور وہ پڑوس میں سے کسی کو بلا لیتی۔ میں نے آگے بڑھ کر چولہا بند کیا اور توے کی آگ بجھائی۔

"چلو! اب ہم کھانا کھاتے ہیں، پھر میں آپ سے کچھ باتیں کروں گی۔" کنزا نے جواباً سر ہلایا۔ کھانے سے فارغ ہوکر میں نے اسے اپنے ساتھ بٹھایا۔

"اچھا! اب یہ بتاؤ جب میں نے یہ کہا کہ مجھے آگ نظر نہیں آرہی تو تم نے کیا سوچا تھا؟"

مجھے ڈر بھی لگ رہا تھا اور حیران بھی ہو رہی تھی کہ آخر آگ آپ کو کیوں نظر نہیں آرہی؟"

"کنزا بیٹا! یہ ایک اتفاق تھا کہ اس میں آگ زیادہ بھڑک گئی، اور پھر میں نے جان بوجھ کر اس بات سے انکار کیا۔ مگر بیٹا تمہیں یہ ڈر تھا نا کہ اس آگ سے ہم جل نہ جائیں، ہمارا گھر نہ جل جائے۔"

"جی بالکل!" کنزا نے گھبرا کر میرا ہاتھ تھام لیا۔

"دیکھو! اب تم جان لو کہ گناہوں کی سزا اور اس سے ملنے والی آگ بھی ایسی ہی ہوگی جو آج ہمیں دنیا میں نظر نہیں آرہی مگر اس کے شعلے ایسے ہی بھڑکیں گے جو سب کچھ جلا دیں گے۔آج اگر ہم آپ کو کسی بات سے روکتے ہیں، منع کرتے ہیں تو در حقیقت اس کے نقصانات کی وجہ سے منع کرتے ہیں۔ کیونکہ اللہ نے قرآن میں جہنم کی خوفناک آگ کا ذکر کیا ہے، جس کا عذاب بہت سخت ہے۔ اور میری جان! بالکل اسی طرح میں تم کو اور اپنے گھر والوں کو اس آگ سے بچانا چاہتی ہوں۔ جس طرح تم اپنے گھر کو آگ سے بچانا چاہتی تھیں۔جو آگ ہمیں نظر نہیں آتی وہ ہمیں جلا ضرور دے گی اگر ہم نےاس سے بچنے کی کوشش نہ کی۔دنیا کی ہر بری سوچ، خواہش، بے حیائی و بے ہودگی، ماں باپ کی نافرمانی، دین سے دوری، میوزک، فیشن، دوسرے تمام گناہ ہمیں اس آگ میں ڈال دیں گے بیٹا، جو ابھی ہماری آنکھ کو نظر نہیں آرہی۔تم سمجھ رہی ہو نا میری بات؟" کنزا کی انکھوں سے آنسو رواں تھے اور میری آواز میں بھی کپکپاہٹ شامل ہوگئی تھی۔ وہ اٹھ کر روتے روتے میرے گلے لگ گئی۔

"امی!مجھے اس آگ سے بچالیں۔اس آگ سے بچالیں" اور مجھے اپنی کنزا کو بچانا تھا، اپنی نسل کو بچانا تھا۔ میں نے اسے اپنے سینے میں چھپالیا۔آپ بھی اپنے گھر والوں کو جہنم کی آگ سے بچانے کے لیے کچھ کیجیے۔

Comments

عظمیٰ ظفر

عظمیٰ ظفر روشنیوں کے شہر کراچی سے تعلق رکھتی ہیں۔ اپلائیڈ زولوجی میں ماسٹرز ہیں ، گھر داری سے وابستہ ہیں اور ادب سے گہری وابستگی رکھتی ہیں۔ لفظوں کی گہرائی پر تاثیر ہوتی ہے، جو زندگی بدل دیتی ہے، اسی لیے صفحۂ قرطاس پر اپنی مرضی کے رنگ بھرتی ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں