نبی کریم ﷺ کا جذبۂ محبت – محمد فیصل

کہنے والے نے خوب کہا ہے کہ

محبت ہی جو سچ پوچھو بنائے بزمِ عالم ہے

محبت ہی نہ ہوگی تو کسی کو کون پوچھے گا

بات تو سچ ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ کون سی محبت کا تذکرہ ہے۔ کیا وہی جس میں مبتلا ہو کر ہمارا ہر دوسرا نوجوان مجنوں بنا پھرتا ہے۔ عہد حاضر میں تو اس جنون نے ایک جدید شکل اختیار کرلی ہے اور وہ وہ یہ کہ اسمارٹ فون ہاتھ میں لے کر محبوب کے دیدار وگفتار دونوں کے مزے اڑاتے ہوئے دنیا و مافیہا سے بے خبر ہیں۔ گردوپیش میں ہونے والی کسی تبدیلی کا احساس تک نہیں ہوتا۔ سود وزیاں کے اندیشہ سے بے نیاز اپنے حال میں مست ایسی بے ڈھنگی زندگی ہمارا نوجوان طبقہ گزار رہا ہے کہ الامان و الحفیظ۔ عشق و محبت کی پاکیزگی سے اس دیوانگی کا دوردور تک کوئی تعلق نہیں۔ حالانکہ یہ تووہ مقدس جذبہ ہے جو درحقیقت انسان کو اشرف المخلوقات کے عظیم درجہ پر فائز کرتاہے۔ نفسانیت و انانیت سے ماورا یہ لفظ محبت انسانیت کی تکمیل کرتا ہے۔ لیکن کیسے؟ آئیے کچھ مثالوں سے اپنی بات کو مکمل کرتے ہیں۔ بحیثیت مسلمان ہماری زندگی کی ہر بات کا تعلق ہمارے دین سے ہے۔ قرآنِ کریم اور احادیثِ مبارکہ ہمارے سفرِ حیات میں سنگِ میل کا تعین کرتے ہیں۔ خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ذاتِ گرامی میں ہی ہمارے ہر حرکت و سکون میں نمونۂ عمل ہے۔ اس لیے اسی آئینے میں ہم دیکھتے ہیں کہ محبت کیسے کی جاتی ہے؟

نبوت عطا ہونے سے پہلے غارِ حرا کی تنہائیوں میں نبی کریم ﷺ کے خدائے پاک عزوجل سے والہانہ اشتیاق کو دیکھیں یا منصبِ نبوت پر فائز ہونے کے بعد راتوں کے اندھیروں میں رسولِ کریم ﷺ کی بیتابانہ مناجاتوں کی طرف نگاہ کریں، ہر سمت اللہ رب العزت کے ساتھ عشق و محبت کاوہ عظیم الشان جذبہ سرگرم دکھائی دیتا ہے جس کی مثال ملنی ناممکن ہے۔ آپ ﷺ حبیبِ خدا کے لقب سے یونہی نہیں مشرف ہوئے بلکہ آپ کی پوری حیات طیبہ میں اپنے مالکِ حقیقی کی اطاعت، عبادت، ریاضت، انابت اور محبت ہر قدم پر جلوہ گر دکھائی دیتی ہے۔

پھر کارِ نبوت کی انجام دہی میں آپ نے جس انہماک کے ساتھ اپنے ایامِ زندگی صرف کیے وہ اپنی جگہ بذاتِ خود اللہ پاک کے ساتھ آپ کے شدید قلبی تعلق کا مظہر ہے۔ طائف کے بازاروں میں پتھر کھانا ہو یا بدر و ا اُحد کے میدانوں میں سرفروشی کی داستانیں رقم کرنا، کسی بھی مقام پر آپ کے پائے ثبات پر ذرا بھی جنبش نہیں آئی۔ جن لوگوں نے زندگی بھر ستایاان کے لیے بھی آپ کی دعاؤں کا دامن ہمیشہ پھیلا ہی رہا۔ ذاتِ الٰہی سے محبت ہی ان سارے امتحانوں میں کامیابی کی کلید دکھائی دیتی ہے۔ اپنی امت کے ساتھ ایسی خیر خواہی کہ دن کے اجالے ہو ں یا رات کے سناٹے، ہر وقت ایک ہی دھن کہ کسی طرح میری امت جہنم سے بچ کر جنت میں جانے والی بن جائے۔ اپنے شب وروز اسی محنت میں نبی کریم ﷺ نے گزار دیے کہ ایک ایک امتی اپنے آپ کو اسی نبوی رنگ میں رنگ لے جو اللہ تعالیٰ کو پسند ہے۔

آگے بڑھیں اوردیکھیں کہ ہر طبقۂ زندگی سے آپ ﷺ کے تعلق و محبت کا کیا عالم تھا۔ خانگی زندگی کو دیکھیں توازواجِ مطہرات رضی اللہ تعالیٰ عنہن کے ساتھ آپ کا طرزِ حیات مثالی تھا۔ گھر کے ہر کام میں اہلِ خانہ کے ساتھ شمولیت بھی تھی اور ان سے دلجوئی کی باتیں بھی۔ ان کی دینی تربیت پر بھی نگاہ تھی تو ان کی دنیاوی ضروریات کا خیال بھی۔ اولاد کے ساتھ محبت ایسی کہ نہ کہیں دیکھی نہ کہیں سنی۔ لاڈلی بیٹی حضرت فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا جب ملاقات کو تشریف لاتیں تو اٹھ کر کھڑے ہوجاتے، محبت کے ساتھ اپنے سینے سے لگاتے۔ اگر دورانِ خطبہ بھی پیارے نواسے حضراتِ حسن و حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہم سامنے آجاتے تو بڑھ کر گود میں اٹھا لیتے۔ ان سے شفقت ومحبت کا معاملہ فرماتے۔

رات دن دینِ مبین کی تعلیمی و تبلیغی سرگرمیوں میں مشغولی کے باوجود امت کی فلاح کا درد آپ ﷺ کو چین سے بیٹھنے نہ دیتا اور آپ اپنے آرام کے وقت کو بھی دو حصوں میں تقسیم فرما کر اس میں اپنے خاص اصحابِ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کو حاضری کی اجازت مرحمت فرماتے اور ان سے اہم امور پر تبادلہ خیال فرماتے۔ مدینہ شریف کے بازاروں میں پھرنے والی اگر کوئی غریب باندی بھی اگر آپ کو مخاطب کرتی تو آپ راستے کے کنارے پر ہو کر اس کی پوری بات سنتے اور اس کی حاجت روائی فرماتے۔ انتقال کے وقت بھی آپ ﷺ کی زبانِ اقدس پرمیری امت، میری امت کا لفظ تھا۔ یہی وہ محبت کا لازوال جذبہ تھا جس نے نہ صرف صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین بلکہ قیامت تک آنے والی پوری امت محمدیہ کو اپنا بے دام غلام بنالیا۔ اسی محبت کی وجہ سے سرکارِ دوعالم ﷺ کے عزت و حرمت پر اپنی جان قربان کرنے کو ہر مسلمان ہر وقت تیار رہتا ہے۔

آخر میں نبی کریم ﷺ کی ایک حدیثِ مبارکہ کے مفہوم پر بات کا اختتام کرتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ نہیں ہے اس میں کوئی خیرکہ جس نے نہ محبت کی اور نہ اس سے محبت کی گئی۔ محدثینِ کرام اس حدیث کی شرح میں ارشاد فرماتے ہیں کہ الفاظِ نبوت کی ترتیب بتا رہی ہے کہ پہلے کسی کے ساتھ خیر خواہی کے جذبہ سے محبت کی جائے تو اس کا نتیجہ لازمی طور پر مخلوق کی جانب سے محبت و ہر دلعزیزی کی صورت میں بر آمد ہوتاہے۔ یہ سب کے دل جیتنے کا سو فیصدی کامیاب نبوی نسخہ ہے۔