چیف جسٹس آف پاکستان کے نام کھلا خط - فضل ہادی حسن

محترم المقام چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار صاحب

السلام علیکم ورحمۃ اللہ و بركاتہ
امید ہے مزاج گرامی خیر و عافیت سے ہوں گے۔

مملکت پاکستان ایک نظریہ اور عقیدہ کی مرہون منت ہے۔ ایک ایسی آزاد ریاست جہاں مسلمان اپنی تہذیب و ثقافت پر عمل پیرا ہوں، اپنی جداگانہ اقدار و روایات اور تشخص کو برقرار رکھ سکیں، معاشرے میں عدل و انصاف ہو، اور تمام شہریوں کو مساوات اور برابر کے حقوق حاصل ہو۔ لیکن یہ پریشان کن امر ہے کہ قیام پاکستان کے ان مقاصد اور نظریہ کو فراموش کردیا ہے۔

جناب چیف جسٹس!
عبدالولی خان یونیورسٹی مردان میں گزشتہ برس رونما ہونے والا واقعہ انتہائی افسوسناک، اندوہناک اور کسی بھی مہذب معاشرہ کے شایان شان نہیں تھا۔ جس انداز سے طلبہ کے ایک ہجوم نے مشعال خان کو انتہائی بےدردی کے ساتھ قتل کیا، یہ نہ اسلامی تعلیمات اور قانون کا حصہ ہے اور نہ انسانی فطرت اسے قبول کرنے کے لیے تیار ہوسکتی ہے۔ اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے، نیز پاکستان کے مختلف طبقات ، سیاسی و مذہبی پارٹیوں نے اس طرز عمل کی کھل کر مذمت کی تھی۔

جناب چیف جسٹس!
آپ نے اس کیس پر سوموٹو لیکر اس کیس کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لیے جو ایکشن لیا تھا، وہ لائق تحسین تھا، لیکن انصاف کی بنیاد پر فیصلہ اور حقیقت حال پوری قوم کے سامنے لانے میں لیت و لعل سے کام لے کر اس معاملے کو مشکوک بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ نیز فیصلہ آنے کے بعد بھی فریقین انصاف نہ ملنے کی صورت میں اس فیصلہ کو چیلنج کرسکتے ہیں۔

آپ کا منصب انصاف پر مبنی فیصلوں کا متقاضی ہے جہاں پاکستان کی نظریاتی اقدار اور بنیادی اسلامی عقائد کے تحفظ کا پہلو بھی نمایاں ہونا ضروری ہے۔ جہاں توہین کرنے والوں کی بھی سرکوبی ہو اور توہین رسالت کی آڑ میں غلط الزامات لگانے والوں کی بھی حوصلہ شکنی ہو۔ توہین رسالت کے الزام کی بنیاد پر اس واقعہ کا رونما ہونا ایک طرف مملکت پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کو ہلانے کا باعث بن رہا ہے تو دوسری قانون توہین رسالت کا غلط استعمال بھی پاکستانی معاشرہ اور بالخصوص دینی جماعتوں اور دینی طبقہ کے لیے ایک چیلنج سے کم نہیں ہے۔ دینی وسیاسی جماعتوں کویہ کیس منطقی انجام تک پہنچانے کےلیے عدالت میں رضاکارانہ طور پیش ہو کر اس کا فریق بننا چاہیے تھا لیکن شاید وہ اس میں ناکام یا دباؤ کا شکار رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   جج ارشد ملک مبینہ ویڈیو کیس کا فیصلہ سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر جاری

جناب چیف جسٹس!
مشعال قتل کیس فیصلہ کے بعد مختلف طبقات کی طرف سے مختلف قسم کا ردعمل سامنے آیا ہے، اور معاشرہ دو نمایاں فریقوں میں تقسیم ہوتا ہوا نظر آ رہا ہے۔ اس لیے آپ کے سامنے یہ سوالات رکھ کر اس حساس معاملہ کو ایک منطقی انجام تک پہنچانے کی درخواست کرتا ہوں۔
1۔ کیا آغاز میں بنائی گئی جے آئی ٹی رپورٹ میں قانونی تقاضے پورے کیے گئے تھے؟ آیا جے آئی ٹی کا کام یہ تھا کہ وہ مشال کے بارے میں معلوم کرے کہ اس نے توہین کی یا نہیں؟

2۔ اس قدر حساس معاملہ کے لیے بننے والی جے آئی ٹی میں کسی دینی سکالر، سیشن جج یا قانونی ماہر کی شمولیت لازمی نہیں تھی؟

3۔ جس الزام کی بنیاد پر یہ افسوسناک واقعہ رونما ہوا تھا، آیا فاضل عدالت کی طرف سے توہین رسالت کے الزام کی حقیقت معلوم کرنے کے لیے یونیورسٹی انتظامیہ، طلبہ اور یونیورسٹی میٹس، سوشل میڈیا پر سامنے آنے والے توہین آمیز الفاظ، ملزمان (جومشعال کو قریب سے جانتے تھے) کے مجسٹریٹ کے سامنے اعترافی بیانات کی روشنی میں اس کیس کو توہین رسالت ایکٹ کے تحت جانچنے کی کوشش کی گئی ہے؟

4۔ کیا جے آئی ٹی اور مقامی پولیس کی طرف سے جاری کی گئی رپورٹس حتمی تھی ؟ جن کی بنیاد پر کیس کی نوعیت تبدیل کر دی گئی ہے۔ ان رپورٹس کا قانونی جائزہ لیا گیاتھا؟

5۔ ایف آئی اے، پی ٹی اے سمیت دیگر اداروں کی تفتیش مکمل ہونے سے پہلے ہی کیس کی نوعیت تبدیل کرنے، یا قتل کی بنیاد پر فیصلہ سنانے میں دانستہ طور پر عجلت نہیں دکھائی گئی ؟

جناب چیف جسٹس!
میں کسی بھی فریق کی حمایت یا مخالفت نہیں کرتا، بلکہ انصاف اور قانون کی بنیاد پر اس کیس کو دیکھنا چاہتا ہوں۔ اگر توہین رسالت کا ارتکاب ہوا بھی ہے تب بھی، میں ہجوم کے ہاتھوں قانون کو ہاتھ میں لے کر کسی کو جان سے مارنے کی حمایت نہیں کر سکتا اور نہ بنیادی اسلامی عقیدہ، آئین پاکستان اور قانون کی رو سے کسی فرد یا سوچ کو اجازت ہونی چاہیے کہ وہ اظہار آزادی رائے کے نام پر آقائے دو جہاں محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کریں۔ میں یہ بھی چاہتا ہوں کہ مشعال معصوم اور بےگناہ ہے، تو مجرمان کو کڑی سزائیں دی جائیں تاکہ آئندہ کوئی بھی فرد از خود کسی پر الزام لگا کر سزا دینے کا سوچ بھی نہ سکے۔

یہ بھی پڑھیں:   ’جج کا فیصلہ تاریخ اور عوام کرتے ہیں‘ - جسٹس جواد ایس خواجہ

جناب چیف جسٹس!
فیصلہ کے بعد ملک بھر اور بالخصوص مردان میں لوگوں کی بےچینی کو مدنظر رکھتے ہوئے آپ سے درخواست گزار ہوں کہ اس مقدمہ کو سپریم کورٹ یا فیڈرل شریعت کورٹ میں منتقل کر کے ایک ٹیسٹ کیس بنائیں۔

امید ہے آئین پاکستان اور قوانین کی پاسداری کے لیے میری اس دردمندانہ اپیل پر ضرور ایکشن لیں گے۔

Comments

فضل ہادی حسن

فضل ہادی حسن

فضل ہادی حسن اسلامک سنٹر ناروے سے وابستہ ہیں۔ جامعہ اشرفیہ لاہور اور بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد سے فارغ التحصیل ہیں۔ ائی آر میں ماسٹر اور اسلامک اسٹڈیز میں ایم فل کیا ہے۔ مذہب، سیاست اور سماجی موضوعات پر لکھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.