کیا مرتد عورت کو کسی غیرمسلم سے نکاح کی اجازت ہے؟ ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

برادر محترم جناب مولانا عمار خان ناصر صاحب نے اس مسئلے پر امام جصاص کی مختصر اختلاف العلماء سے ایک عبارت نقل کی ہے جس سے بظاہر یہ تاثر ملتا ہے کہ امام طحاوی مرتد عورت کو غیرمسلم سے نکاح کی اجازت دے رہے ہیں۔ نہ صرف یہ ، بلکہ عمار بھائی نے اس سے یہ تاثر بھی لیا کہ گویا مرتد عورت کے 'حق ارتداد' کی توثیق کی جارہی ہے۔ فرماتے ہیں:
"عملاً‌ اس کا نتیجہ عورت کو صرف قتل کی سزا سے مستثنیٰ قرار دینے تک محدود نہیں رہتا، بلکہ تبدیلئ مذہب کو ایک حق کے طور پر قبول کر لینا بنتا ہے جس کے بعد خاتون اپنے اختیار کردہ مذہب کے پیروکار سے شادی بھی کر سکتی ہے۔"

گزارش ہے کہ یہ تاثر صحیح نہیں۔
اس مسئلے پر تفصیلی بحث سے قبل ایک اصولی نکتے کی طرف اشارہ ضروری ہے۔ علامہ محمد ابن طولون کہتے ہیں:
ان اطلاقات الفقھاء فی الغالب مقیدۃ بقیود یعرفھا صاحب الفھم المستقیم الممارس للفن۔ و انما یسکتون اعتماداً علی صحۃ فھم الطالب
(فقہاء کی اطلاقات اکثر اوقات ایسی قیود سے مقید ہوتی ہیں جنھیں صاحب فہم مستقیم، جو اس فن کا ماہر ہو، اچھی طرح جانتا ہے۔ ان قیود کا ذکر وہ اس لیے نہیں کرتے کہ انھیں طالب کی فہم پر اعتماد ہوتا ہے۔)

جس کتاب سے عمار بھائی نے انتہائی مختصر عبارت نقل کی ہے وہ اختصار اور ایجاز کی وجہ سے تمام پہلووں پر مشتمل نہیں۔ بالخصوص اس وجہ سے بھی کہ یہ کتاب امام طحاوی کی اصل کتاب کا اختصار ہے جو امام جصاص نے تیار کیا ہے۔ اصل مسئلے اور اس کی قانونی بنیادوں اور قیود کی تفہیم کےلیے دوسری کتب کی طرف رجوع اس صورت میں ناگزیر ہے۔ ہمیں امید تھی کہ اس مسئلے کی یہ قیود کم ازکم عمار بھائی کےلیے تو واضح ہوں گی کیونکہ وہ یقیناً ممارس للفن ہیں لیکن معلوم نہیں کیوں وہ انھیں نظرانداز کرگئے ۔

پہلی بات یہ ہے کہ علامہ طحاوی دیگر حنفی فقہاے کرام کی طرح ارتداد کو جرم سمجھتے ہیں اور اس کے قائل ہیں کہ مرتد عورت کو اس جرم کی سزا دی جائے گی۔ اسی طرح وہ دیگر حنفی فقہاے کرام کی طرح یہ مانتے ہیں کہ عورت کےلیے اس جرم کی سزا موت نہیں بلکہ یہ ہے کہ اسے قید میں رکھا جائے گا اور اسے مجبور کیا جائے گا کہ وہ واپس اسلام قبول کرلے۔

اب یہاں دو امور قابلِ غور ہیں:
ایک یہ کہ کسی بھی فعل کو جرم ماننے کے بعد کسی شخص کےلیے یہ بات نہیں مانی جاسکتی کہ وہ اس کا ارتکاب بطور 'حق' کرے۔ یہ تناقض ہوجاتا ہے۔
دوسری یہ کہ جب عورت یہ جرم کرے تو اسے یہ سزا قاضی ہی دیتا ہے۔ تاہم یہ امکان بھی ہوتا ہے کہ وہ سزا سے بچنے کےلیے ملک ہی چھوڑ کر بھاگ جائے۔

چنانچہ فقہاے کرام ارتداد کی بحث میں بالعموم یہ امکان ذکر کرتے ہیں کہ اگر ارتداد کے بعد مرتد /مرتد دار الاسلام چھوڑ کر دارالحرب چلا/چلی جائے تو پھر کیا ہوگا؟ اس سوال کا جواب وہ یہ دیتے ہیں کہ اس صورت میں قانون اسے مردہ قرار دے گا (جسے حکمی /قانونی موت کہتے ہیں) ۔ اس قانونی موت کے متعلق قاضی کے فیصلے کے بعد وہی کچھ ہوگا جو کسی شخص کی موت کے بعد ہوتا ہے۔ چنانچہ اگر اس کی جائیداد ہو تو وہ ورثا میں تقسیم ہوجائے گی (اس ضمن میں یہ بحث بھی کی جاتی ہے کہ اگر کچھ مال اس نے ارتداد کے بعد حاصل کیا ہو تو کیا ہوگا؟)۔ اسی طرح مرتد کی بیوی کی عدت کا مسئلہ ہوتا ہے، یا مرتدہ کے شوہر کے متعلق یہ سوال اٹھایا جاتا ہے کہ کیا وہ اب اس قانونی طور پر مردہ قرار دی گئی عورت کی بہن کے ساتھ شادی کرسکتا ہے، خواہ یہ عورت طبعی طور پر زندہ ہو؟ یا زیادہ دلچسپ سوال یہ بھی ہوتا ہے کہ ارتداد کے بعد جب اس عورت کا نکاح ٹوٹ گیا اور یہ اب عدت میں تو اگر یہ مرتدہ عورت دار الحرب چلی گئی اور اس کے جانے کے بعد دار الاسلام کی عدالت نے اسے قانوناً مردہ قرار دیا ، تو اگر اس فیصلے کے بعد اور عدت کی قانونی مدت پوری ہونے سے قبل یہ عورت واپس دار الاسلام آجائے تو کیا یہ اپنی عدت پوری کرے گی ؟

اس آخری سوال کے جواب میں امام محمد نے تصریح کی ہے :
وان ماتت في العدة ، أو لحقت بدار الحرب مرتدة ، حل له ان يتزوج أختها
(اگر وہ عدت کے دوران میں مر جائے ، یا دار الحرب میں مستقل اقامت اختیار کرلے، تو اس کے سابقہ شوہر کےلیے جائز ہے کہ وہ اس عورت کی بہن سے شادی کرلے۔)

یہ بھی پڑھیں:   آسان نکاح - ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی

امام سرخسی اس جزئیے کے پیچھے کارفرما قانونی اصول کی وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں:
لان لحوقها كموتها ، فلا تبقى معتدة بعد موتها
(کیونکہ دار الحرب میں اس کی مستقل اقامت کی حیثیت قانون کی نظر میں اس کی موت کی طرح ہے ، اور وہ اپنی موت کے بعد معتدہ نہیں رہتی۔)

یہاں یہ بھی نوٹ کرلیں کہ اس مسئلے میں امام محمد یا امام سرخسی کوئی اختلاف نقل نہیں کرتے۔

امام محمد آگے مزید کہتے ہیں:
فان رجعت مسلمة قبل ان يتزوج أختها ، فله ان يتزوج أختها عند أبى حنيفة رحمه الله تعالى
(اگر اس کی بہن سے شادی سے قبل یہ عورت مسلمان ہوکر دار الاسلام لوٹ آئے ، تب بھی ابو حنیفہ رحمہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس شخص کےلیے جائز ہے کہ وہ اس کی بہن سے شادی کرلے۔)

امام سرخسی قانونی اصول کی وضاحت کس خوبی سے کرتے ہیں!
لان العدة بعد ما سقطت لا تعود ، الا بتجدد سببها
(کیونکہ عدت جب ایک دفعہ قانونی موت کی وجہ سے ختم ہوچکی تو دوبارہ شروع نہیں ہوسکتی جب تک دوبارہ شروع کرنے کےلیے قانونی سبب وجود میں نہ آئے۔)

البتہ صاحبین کی راے یہ ہے کہ اس کی عدت جاری رہے گی اور یہ فرض کیا جائے گا کہ وہ عارضی طور پر گئی تھی۔ پس اس صورت میں جیسے اس کا مال اسے واپس مل جاتا ہے ، ایسے ہی اس پر عدت بھی واپس واجب ہوجاتی ہے ۔

اس قانونی پوزیشن میں ایک اور اصول کا بھی اضافہ کیجیے۔

مرتد مرد اور مرتد عورت کی سزا میں فرق کی وجہ سے ان کے تصرفات میں بھی قانوناً فرق ہے ۔ مرد کی سزا چونکہ موت ہے، اس لیے اس کے تصرفات میں بہت کچھ ایسا ہوتا ہے جس کے قانونی اثرات کو فقہاے کرام قبول نہیں کرتے۔ مثال کے طور پر صاحب ہدایہ نے تصریح کی ہے کہ مرتد کے تصرفات تین طرح کے ہیں:
ایک وہ جن کے قانوناً نافذ ہونے پر اتفاق ہے، جیسے طلاق(کیونکہ اس کےلیے ولایہ تامہ کی ضرورت نہیں ہوتی)؛
دوسرے وہ جن کے قانوناً باطل ہونے پر اتفاق ہے ، جیسے نکاح (کیونکہ ان تصرفات کےلیے 'ملت'کا ہونا ضروری ہے اور مرتد کی ملت کو اسلامی قانون تسلیم نہیں کرتا) ؛ اور
تیسرے وہ جن کے موقوف ہونے پر اتفاق ہے (کہ اگر وہ توبہ کرکے مسلمان ہوا تو نافذ ہوں گے، ورنہ باطل قرار پائیں گے) ، جیسے نابالغ بچے کے متعلق تصرف (کیونکہ مرتد کو دوسروں کے متعلق فیصلے کا اختیار نہیں ہوتا)۔

مرتد عورت کے تصرفات کا حکم کئی صورتوں میں مرتد مرد کے تصرفات سے مختلف ہوتا ہے کیونکہ مرتد عورت کی سزا موت نہیں ، یعنی اس کی زندگی کا حق تسلیم کیا گیا ہے۔ چنانچہ علامہ تمرتاشی نے تصریح کی ہے کہ اس کے وہ تصرفات بھی صحیح ہیں جو مرتد مرد کےلیے موقوف ہوتے ہیں۔ وہ یہ بھی تصریح کرتے ہیں کہ ارتداد کی حالت میں کی گئی کمائی پر بھی اس کی ملکیت تسلیم کی جائے گی اور یہ ساری کمائی اس کی موت کے بعد اس کے وارثوں کو ملے گی(جبکہ مرتد مرد کی صرف وہ کمائی اس کے مسلمان وارثوں کو ملتی ہے جو اس نے مسلمان ہونے کی حالت میں کی ہو)۔ علامہ حصکفی اس کی وضاحت میں کہتے ہیں: لانھا لا تقتل۔ (کیونکہ اسے موت کی سزا نہیں دی جاتی۔) علامہ شامی مزید وضاحت میں کہتے ہیں : فلم تکن ردتھا سببا لزوال ملکھا ، فجاز تصرفھا فی مالھا۔ (پس اس کا ارتداد اس کی ملکیت کے زائل ہونے کا سبب نہیں اور اس وجہ سے اس کے مال میں اس کا تصرف جائز ہے۔ )

اب آئیے اس مسئلے کی طرف کہ اگر وہ تصرفات جو مرتد مرد کےلیے موقوف ہوتے ہیں ، وہ مرتد عورت کےلیے قانوناً صحیح ہوتے ہیں ، تو کیا یہ حکم ان تصرفات کےلیے بھی ہیں جو مرتد مرد کےلیے قانون نے باطل قرار دیے ہیں( جیسے نکاح)؟ علامہ شامی نے صراحتاً اس کی نفی کی ہے اور تصریح کی ہے کہ جو تصرفات مرتد کےلیے باطل ہیں وہ مرتدہ کےلیے بھی باطل ہی ہیں ( یبطل منھا ما یبطل من تصرفاتہ المارۃ) ۔

یہاں یہ جزئیہ بھی یاد کیجیے کہ اگر یہ عورت شادی شدہ ہو تو ارتداد کی وجہ سے اس کا نکاح ٹوٹ جاتا ہے لیکن اس کےلیے قاضی کے فیصلے کی ضرورت ہوتی ہے ۔ چنانچہ کسی غیرمسلم سے نکاح کے جواز یا عدم جواز پر بحث سے قبل تو اصولی بات یہ ہوگی کہ جیسے قاضی اس کے ارتداد کے جرم کے نتیجے میں اسے قید کرنے کا حکم دے گا اور کوشش کرے گا کہ اسے واپس اسلام قبول کرنے پر قائل کیا جائے، ایسے ہی وہ یہ کوشش بھی کرے گا کہ وہ سابقہ شوہر سے ہی شادی کرے۔ علامہ حصکفی نے تصریح کی ہے:
ولیس للمرتدۃ التزوج بغیر زوجھا۔ (مرتدہ کو یہ حق نہیں ہوگا کہ وہ اپنے سابقہ شوہر کے سوا کسی اور سے نکاح کرے۔)

یہ بھی پڑھیں:   نفع بخش سودا - آسیہ پری وش

یہاں حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی کے اس فتوے کا حوالہ دینا ضروری ہے جس میں انھوں نے قرار دیا تھا کہ جن لوگوں نے مسلمان عورتوں کو یہ راستہ سجھایا تھا کہ وہ مرتد ہوکر اپنے شوہروں سے نجات حاصل کرلیں تو وہ بھول گئے ہیں کہ ایک تو ارتداد کے بعد بھی فسخ نکاح کےلیے قاضی کے فیصلے کی ضرورت ہے اور دوسرے یہ کہ قاضی اس عورت کو اسی شوہر سے نکاح پر مجبور کرے گا۔ اس کے علاوہ انھوں نے یہ بات بھی واضح فرمائی کہ دوسروں کو ارتداد کا مشورہ دینا بھی ارتداد ہی ہے؛ اس لیے ان مردوں کے ارتداد کی وجہ سے ان کی عورتیں آزاد ہوگئی ہیں اور مرد کے ارتداد کی صورت میں عورت کو مجبور نہیں کیا جاسکتا کہ وہ واپس اسی بدبخت سے شادی کرے! (تفصیل کےلیے الحیلۃ الناجزۃ دیکھ لیجیے۔)

پس قانوناً پوزیشن یہ ہے کہ مرتد عورت مجرمہ ہے، قیدی ہے اور اس قید سے تبھی اسے خلاصی مل سکتی ہے جب وہ مسلمان ہوجائے ورنہ تمام عمر قید میں ہی رہے گی (الی ان تموت او تسلم) اور قانوناً اسے واپس مسلمان کرنا ہی مقصود ہے تو سوال یہ ہے کہ مسلمان ہوچکنے کے بعد کیا وہ کسی غیرمسلم سے نکاح کرسکتی ہے؟ اس سوال کا جواب تو واضح طور پر نفی میں ہے۔ پھر قانوناً اس کی اجازت کیسے دی جاسکتی ہے کہ وہ کسی غیرمسلم سے شادی کرلے؟ کیا اس صورت میں یہ بھی لازم نہیں ہوگا کہ اسے واپس مسلمان کرنے کی کوشش کے ساتھ ساتھ اس کے شوہر پر بھی دباؤ ڈالا جائے کہ وہ مسلمان ہوجائے ؟ اور کیا اسے غیرمسلم کے ساتھ شادی کی اجازت دے چکنے کےبعد اس کی اسلام کی طرف واپسی مزید مشکل نہیں ہوجائے گی؟

پھر اگر 'الولد یتبع خیر الابوین' کے اصول کا اطلاق کیا جائے اور کہا جائے کہ بچے کو مرتد ماں کے بجاے نصرانی باپ کی طرف منسوب کرتے ہوئے نصرانی مانا جائے ، تو معاملہ اور گمبھیر ہوجاتا ہےکہ اب تو اس عورت کا شوہر بھی نصرانی ہے اور بچہ بھی نصرانی تو اب اس کی اسلام کی طرف واپسی کے امکانات تو تقریباً معدوم ہی ہوگئے ۔ کیا قانون خود اپنے آپ کو شکست دینا چاہتا ہے؟

یہ اصول بھی یاد کیجیے کہ مرتد کی پہلی نسل کو بھی قانوناً مرتد سمجھا جاتا ہے (البتہ دوسری نسل بھی کفر پر باقی رہے تو اسے عام غیرمسلموں کی طرح سمجھا جاتا ہے) ۔ اگر مرتد کو شادی کی قانوناً اجازت دی جائے تو گویا قانون ارتداد کی اجازت دے گا حالانکہ ارتداد قانون کی نظر میں سنگین جرم ہے! یہ تو عجیب ہی تناقض کی صورت پیدا ہوجائے گی۔

ان اصولوں کی روشنی میں امام طحاوی کے ذکر کردہ جزئیے کی قیود واضح ہوگئی ہیں۔

اگر مرتد ہوچکنے کے بعد عورت دارالحرب بھاگ جائے اور وہاں وہ کسی غیرمسلم سے شادی کرلے تو تو ہمارا قانون اس سے تعرض نہیں کرے گا کیونکہ جب اس کے دارالحرب بھاگ جانے کے متعلق ہماری عدالت نے اعلان کرلیا تو ہمارے قانون کی نظر میں وہ مردہ ہوچکی۔ اگر اس کے بعد وہ دارالاسلام آئیں ، یا انھیں اکٹھے لایا جائے، تو انھیں میاں بیوی ہی مانا جائے گا اور سابقہ شوہر کا کوئی حق اس پر تسلیم نہیں کیا جائے گا ( البتہ جنگ کے قانون کی دیگر جزئیات کا اطلاق ان پر ہوگا) ۔ پس امام طحاوی کے ذکر کردہ جزئیے میں عمومی حکم نہیں بلکہ ایک خاص صورت ذکر کی جارہی ہے اور اس صورت میں بھی "جاز" سے مراد قانونی جواز یا حق نہیں بلکہ صرف 'نافذ العمل 'ہونا ہے۔

ھذا ماعندی ، و العلم عند اللہ

Comments

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی، اسلام آباد کے شعبۂ قانون کے چیئرمین ہیں ۔ ایل ایل ایم کا مقالہ بین الاقوامی قانون میں جنگِ آزادی کے جواز پر، اور پی ایچ ڈی کا مقالہ پاکستانی فوجداری قانون کے بعض پیچیدہ مسائل اسلامی قانون کی روشنی میں حل کرنے کے موضوع پر لکھا۔ افراد کے بجائے قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتے ہیں اور جبر کے بجائے علم کے ذریعے تبدیلی کے قائل ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • محترم جناب ڈاکٹر مشتاق احمد صاحب کی ہر تحریر بہت شوق اور توجہ سے پڑھتا ہوں ، ان کی تحریرات بالخصوص "جہاد ،مزاحمت اور بغاوت " کے زیر اثر مجھے فقہ و قانون سے دلچسپی ہوئی ہے اور غوروفکر کا نیا روزن کھلا ہے ، جناب جاوید احمد غامدی صاحب کی فکر کے کمزور پہلووں کو جس مدلل و موثر انداز سے انہوں نے موضوع بحث بنایا ہے کسی اور نے نہیں ( میرے محدود مطالعے کی حد تک) ۔اللھم ارنا الحق حقا و ارزقنا اتباعہ وار نا الباطل باطلا ارزقنا اجتنابہ