دعوت خاص - فرح رضوان

ماں جی کافی عرصے سے محسوس کر رہی تھیں کہ گزشتہ برسوں میں،رفتہ رفتہ ان کے محلے کے لوگوں کا بھی آپسی میل جول اور مشاورت کی حکمت کم سے کم ہوتی جارہی ہے. بہت ہوا تو، اب لوگ مہندی ڈھولکی پر ایک دوسرے کو بلا لیتے ہیں، اور مل بیٹھ کر کوئی مثبت تفریح کے بجائے، عجیب ہلڑ بازی میں وقت ضائع ہو جاتا ہے، تو ماں جی ایسی محافل میں جانے سے معذرت کر لیا کرتیں.

اسی دوری کو کم کرنے اور ربط قائم رکھنے کی خاطر وہ محلے پڑوس کی خواتین کی کوئی پکنک یا مل بیٹھنے کی کوئی صورت پلان کرتی رہی تھیں. تقریبا سبھی خواتین نے نہ صرف ان کا آئیڈیا اور دعوت قبول کی بلکہ اپنے ساتھ مزید دو ایک قریبی جاننے والیوں کو لے آنے کی درخواست بھی کی، ماں جی کو اور کیا چاہیے تھا، لیکن انہوں نے وقت کی پابندی پر سب سے بہت پکے وعدے لیے تھے. دراصل حال ہی میں انھیں کچھ قریبی لوگوں نے ایک اچھی رقم دی تھی کہ وہ کسی فلاحی کام میں خرچ کریں.

یوں تو خرچ کرنے کے اور بھی کئی راستے تھے، لیکن اور بہت سے لوگ وہاں خرچ کر ہی رہے ہوتے ہیں، اسی لیے انھوں نے ایک خاص فکر کے تحت، اپنی بہو اور بیٹیوں سے مشاورت اور انھی کی مدد سے ایک وسیع مگر نسبتا سستے کمیونٹی حال میں، سارا بندوبست کروایا، تین گھنٹے کی اس محفل میں مختلف گیمز کے ساتھ، جیتنے والیوں کے لیے کھلے دل سے انعامات بھی رکھے گئے تھے.

نائلہ نے ایک کونے میں ماسی سکینہ کا سنیکس کا سٹال بھی لگوا دیا تھا، سو اس دم اپنی ماں کا ساتھ دیتی کریمن کے چہرے پر موجود زبردست مسکراہٹ، غریب ماں بیٹی کی کھری کمائی کا عمدہ تاثر دے رہی تھی.

یہاں کسی رنگین میلے کا سماں تھا، بڑی عمر کی خواتین جو بس اب بمشکل بیٹھ ہی پاتی تھیں، دو تین الگ سپاٹس پر ان میں زبردست کیرم اور لڈو کا مقابلہ چل رہا تھا، بہوئیں اور بیٹیاں، ان کو خوب زور و شور سے سپورٹ کر رہی تھیں. اچانک کچھ نے جذباتی ہو کر شرطیں لگانا شروع کر دیں، جسے ماں جی نے محض اشارے سے روکا، اور اس موقع پر کوئی نصیحت نہ کی.

جیت کا اپنا ہی لطف ہوتا ہے، اسی لیے فہمیدہ آنٹی وہیل چیئر پر ہونے کے باوجود اس وقت کیرم کے آخری راؤنڈ میں پہنچ کر دس سال پہلے والے جذبے کے ساتھ موجود تھیں. ویسے تو اور بھی کئی گیمز تھے، لیکن تھری لیگڈ ریس میں خواتین کا گرنا، سنبھلنا، دوڑنا، لڑھکنا سبھی کو ہنسا ہنسا کر لوٹ پوٹ کر گیا، سائرہ اور نجمہ کے تو پاؤں کی ڈوری نہ جانے کیسے کھل گئی کہ وہ دونوں ہی کافی زور سے دور دور جا گریں، ان کی وجہ سے اوروں کو بھی دھکے لگے، تو انھیں گیم سے ہی آؤٹ ہونا پڑا. بہرحال ماسی سکینہ کے سٹال پر مرہم پٹی کا سامان بھی موجود تھا.

اتنا سب کچھ ہو اور شدید بھوک نہ لگے، یہ کیسے ممکن تھا بھلا؟ مگریہاں کھانے کا بندوبست نہ تو ون ڈش سے کیا گیا تھا، نہ ہی کسی بڑے ریسٹورانٹ سے. اس کے لیے ماں جی نے ککنگ کامپٹیشن رکھا ہوا تھا جس میں دلچسپی رکھنے والی چند خواتین تمام گیمز شروع ہونے سے پہلے ہی منتخب بھی کی جا چکی تھیں، اور ان کی انتظامیہ نے ان خواتین کو مینو تھما کر اگلے ڈیڑھ گھنٹے کا مقررہ وقت بھی دے دیا تھا، جس میں انھیں سامنے ہی موجود ماسی سکینہ کے اسٹال سے ضروری اجزا بھی خود ہی منتخب کرنے تھے اور ڈشز کو سلیقے سے سب مہمانوں کے آگے پیش بھی کرنا تھا، البتہ ایک اور قابل بھروسہ ضرورتمند خاتون جو اپنے کام میں ماہر تھیں، انھیں نائلہ آج کے لیے پہلے ہی حلیم اور سویٹ ڈش کا آرڈر دے چکی تھی.

ککنگ کے مین ٹاسک میں آٹا گوندھ کر روٹی بنانا اور بریانی کی بڑی سی تھال کے گرد ابلے ہوئے انڈے سجا کر رکھنے کے نمبر زیادہ رکھے گئے تھے. کچھ نے یہ کام بہترین طرز پر کیا، کچھ نے انتہائی بھونڈے طور پر، حالانکہ ایک ہی طرح کے اجزا کا سب نے انتخاب کیا تھا، لیکن ذرا سی لاپرواہیوں کی وجہ سے بڑی غلطیاں، اور خراب نتائج گلے پڑ گئے تھے. انعام ہاتھ سے گیا سو الگ، خفت و ندامت الگ. دوسری طرف کچھ خواتین نے ذرا سی ٹیکنیکل باتوں کو سامنے رکھتے ہوئے کام کیا، تو انعام، عزت، تکریم، ستائش اور خوشی سبھی کی مستحق ٹھہریں.

یہ بھی پڑھیں:   خبردار، ہوشیار اے بنتِ حوا - نیلم اسلم

کھیل کر کھا کر اور خوب مزے کر کے اب خواتین تھکنے بھی لگی تھیں اور گھر جانے میں بھی کچھ ہی وقت بچا تھا جس میں چائے کا دور بھی ہونا تھا، جس کی سپلائی کریمن بہت چاق و چوبند طریقے سے اپنی کچھ سہیلیوں کے ساتھ کر کے جا چکی تھی.

انھی ساعتوں کی ماں جی منتظر تھیں کہ ان کی باتیں اب سننے والیوں کے دل کی سماعتوں تک رسائی حاصل کر پائیں، لہذا خوب دعا کرتی سامنے بنے سٹیج پر چلی آئیں، ابھی سلام کر کے خواتین کو متوجہ ہی کرنا چاہا تھا کہ حاضرین نے تالیوں سے نہ صرف استقبال کیا بلکہ دوبارہ مل جل کر اس قسم کی تفریح کا بندودست کرنے کی تجاویز بھی پیش کی جانے لگیں، کہیں سے جوش میں، سیٹیوں کی بھی آوازیں شروع ہو گئیں. ماں جی نے بڑی محبت سے ان کو خاموش رہنے کا اشارہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کے بعد، کچھ خواتین کے تاثرات اس مجلس کے بارے میں پوچھے. اور انھی باتوں میں پھر اپنا مدعا بیان کرتے ہوئے بولیں؛
"آج ہمارے خاندان کیوں اتنی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں؟ کیونکہ فیملیز کا ساتھ ساتھ چلنا بھی، تھری لیگڈ ریس میں دوڑنے جیسا ہی ہے، جب تک کہ باہمی سوجھ بوجھ اور ربط و ضبط سے قدم نہ اٹھائے جائیں،گرنے کا خطرہ ہی رہتا ہے، لڑکھڑاتا ایک ہے،گرتے دونوں ہیں. ایک دوسرے سے جوڑ کر رکھنے والی ڈور، خواہ آپس کے تعلق کی ہو یا اللہ جی سے، اگر تو نجمہ اور سائرہ کی طرح کچی یا ڈھیلی ہوگی تو پھرکیا ہوگا؟''

سائرہ اپنی کہنی پر لگی چوٹ سہلاتے ہوئے زور سے بولی، ماں جی! انجام بخیر خالی دعا سے کیسے ہوگا، اگر کام بھی ساتھ ہی بخیر نہ ہو تو! آپ نے ٹھیک کہا ہم نے واقعی گرہ مضبوط نہیں تھی باندھی.
نجمہ بھی سر سہلاتے ہوئے بولی، ماں جی! جب خراش آنے پر ہمیں سکینہ کے سٹال پر لنگڑاتے ہوئے چل کر جانا پڑا نا، تبھی میرے دل میں خیال آیا تھا کہ ہم چوٹیں لگنے پر ہی کسی غریب کے قریب کیوں جاتے ہیں، پہلے سے قریب رہیں، خیال رکھیں تو چوٹیں کھائیں بھی ناں نا!
اس پر کچھ نے گردن ہلا کر تائید کی، کچھ نے دوبارہ سے ریس کی قلابازیوں پر تبصرے شروع کر دیے، اور پھر ہنسی مذاق کا ایک سلسلہ چل نکلا، تو کچھ توقف کے بعد ماں جی پھر گویا ہوئیں:
"یہاں ککنگ کامپٹیشن ارینج کرنا آسان نہیں تھا، مگر آپ بہنوں کو ایک پیغام دینا بھی بہت ضروری تھا کہ بچیوں کو اعلی تعلیم ضرور دلائیں، مگر روز مرہ کے کام کرنا اور ان کاموں سے سبق حاصل کرنا ضرور سکھائیں، تاکہ خاندانی زندگی آسان ہو اور اپنی غلطی دوسروں کے سر ڈالنے کا رجحان کم سے کم ہوسکے، اب یہاں ایک سے انڈے تھے، مگر نتائج میں فرق کیوں آیا؟ کیونکہ کسی نے ان کے مکمل ابلنے تک کا صبر نہیں دکھایا، کسی نے چھیلتے وقت کھال ہی ادھیڑ کر بدنما اور ادھ موا کر ڈالا، لیکن جس کسی نے بھی مناسب وقت پر نمک ڈال کر مناسب وقت تک انڈے ابلنے کا انتظار کیا، بس یہ صبر اور حکمت نمبر زیادہ پانے کی وجہ بن گئی. بریانی میں کچھ کی بوٹیاں اکڑی ہوئی تھیں، ساتھ ہی روٹیاں اکڑی اور بیچ سے پھٹی ہوئی تھیں، کچھ نے ان کو پھٹنے سے بچایا تو موٹی اور کچی سی رہ گئیں، جس کی وجہ کسی نے وقت کی کمی، تو کسی نے آٹے یا چکن میں خرابی بتائی، جبکہ زیادہ نمبر پانے والیوں نے صرف درست حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے، اسی آٹے میں نمک اور اسی طرح کی مرغی میں ترشی، بس شروع میں نہیں ڈالی، اور اس ذرا سے فرق سے جیت کی خوشی اپنے نام کر لی.

یہ بھی پڑھیں:   کیا خواتین کا مظاہروں میں شرکت کرنا جائز ہے - محمد رضی الاسلام ندوی

کہنے کا مقصد آپ سب سمجھ ہی رہی ہوں گی کہ مانا زندگی میں بہت سی باتیں انتہائی اہم ہوتی ہیں، جیسے پرسکون رہائش، آسودگی، آرائش لیکن ان سب کی ڈیمانڈ رشتہ ہونے سے قبل، رشتہ طے ہوتے ساتھ، یا رشتہ بندھ جاتے ساتھ ہی شروع کر دینا، ان پر زور دینا، دلوں کے پھٹ جانے اور اکڑ کر سخت ہوجانے کی وجہ بن جاتا ہے، یہی گزارش ساسوں سے ہے کہ بہوؤں سے شروع کے چند سالوں میں بہت ذمہ داری کی ڈیمانڈ نہ کریں تو ان شا اللہ بعد میں ہمیشہ کے لیے یہ سختیاں رفع دفع ہو جائیں گی.
اور دوسری بات یہ کہ اگر ہم اپنی غلطیوں کو سمجھیں گے ہی نہیں، تو جس معاملے میں بھی نتیجہ من پسند نہ ہوگا، ہم الزام کسی بھی دوسرے کے سر ڈالتے جائیں گے. یوں اپنی اور اپنوں کی زندگی بدمزہ، بدنما کر کے رکھ چھوڑیں گے، اوپر سے خود ترسی کی دلدل میں بھی جاگریں گے.
اور اصل نتیجہ تو آخرت کا ملنا ہےنا! جس میں زیادہ نمبر ہیں معاملات کے ہیں. چلو آج تو سب کو کہہ دیا، فلاں اچھا نہیں تھا، حالات اچھے نہیں تھے، اس لیے زندگی خرابی کا شکار تھی، پر جس طرح ہم ساریوں کو پتہ ہے کہ سب کو برابر سے چیزیں ملیں، غلطی کہاں، کس نے کی، تو کیا اللہ جی کو پتہ نہیں ہوگا؟ انہوں نے دیا کیا، اور ہم نے اس کا کیا کیا؟
ہر روز ہی چاول یا روٹی تیار کرتے وقت ان کا سب سے اہم جز پانی ہوتا ہے، اور اس سے بھی اہم اس پانی کا درست تناسب، بس ایسے ہی سسرال اور میکے سے تعلق، اور سپورٹ جہاں انتہائی ضروری وہیں ان کی حدود متعین کرنا بھی بےحد اہم ہے، زندگی اعتدال سے ہٹی نہیں کہ سکون اور خوشیاں گھٹی نہیں.

کچھ دیر سکوت سا طاری رہا کہ اچانک خالدہ آنٹی کو حلیم یاد آگیا، ان کے تعریفی کلمات ادا کرنے کی دیر تھی کہ سبھی طرف سے یہی ملے جلے تاثرات آنے لگے، نائلہ نے ان خاتون کا نمبر فوری سب کو بتایا کہ ان کی اچھی مدد ہو سکے گی. ماں جی گلا صاف کرتے ہوئے دوبارہ مخاطب ہوئیں؛
"حلیم کوئی مقدس شے تو نہیں، کبھی کسی ہم جیسے ہی سے بنی اور آگے چل کر نسلوں میں منتقل ہوتی آرہی ایک روایتی ڈش ہے. اگر تو ہم اس کے بارے میں اتنے حساس اور محتاط ہو سکتے ہیں کہ اس کے ذائقے اور صورت میں انیس بیس سے زیادہ کا فرق ہو تو ہم حلیم کو حلیم تسلیم بھی نہیں کرتے، تو کیا جب کبھی عبادت سمجھ کر دینی معاملات میں کمی زیادتی کریں تو وہ عبادت کے طور پر قبول ہوجانی چاہیے؟ غصہ آتا ہے نا ناقص پکوانوں پر! بے شک کوئی کتنے ہی پیار سے بنائے، جبکہ لاپرواہی، سستی سے یا پھر جان کر کوئی کھانا بگاڑ دے تب تو اور ہی نارضگی اور جھگڑے تک کی نوبت آجاتی ہے. تو عبادت کا طریقہ بدل جانے پر کیا ہو سکتا ہے، اندازہ ہے؟''

پھر اپنی بات ختم کرتے ہوئے بولیں؛
''نسیم پتر! تیرے لیے میں نے سپیشل انعام رکھا ہے، اور وجہ اس کی آپ ساریوں کو بھی بتا دوں، وہ یہ ہے کہ اس سے ککنگ کے دوران کافی غلطیاں ہوتی رہی تھیں، مگر یہ ساتھ ہی ساتھ ان پر قابو پاتی رہی ہے. یہی تو سمجھنے والی بات ہے نا کہ ایک خاص وقت تک یا حد تک کسی بھی غلطی پر قابو پانا آسان ہوتا ہے، اس کے بعد نہ تو معافی ملتی ہے نہ ہی تلافی ہوتی ہے، اور کبھی کبھی کی خطاؤں کی کڑیاں آپس میں جڑتی زنجیر بنتی جاتی ہیں. میری بس یہی خواہش تھی کہ ہم سب اپنی بچیوں اور بہنوں کو ان زنجیروں میں جکڑنے سے بچا سکیں.

Comments

فرح رضوان

فرح رضوان

فرح رضوان کینیڈا میں مقیم ہیں۔ خالق کی رضا کی خاطر اس کی مخلوق سے لگاؤ کے سبب کینیڈا سے شائع ہونے والے ماہنامے میں قریباً دس برس قبل عائلی مسائل پرلکھنا شروع کیا تھا، اللہ کے فضل و کرم سے سلسلہ جاری ہے۔ دلیل کی مستقل لکھاری ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.