پھر ہمیں کیا کرنا چاہیے؟ - سہیل بشیر کار

چند روز قبل ہماری ریاست جموں و کشمیر اور ہمسایہ ملک پاکستان میں دو ایسے دلدوز واقعات رونما ہوئے جن سے انسانیت شرمسار ہوئی، ہر ذی روح انسان تڑپ اٹھا۔ پاکستان کی زینب اور آصفہ کے یہ واقعات ہمارے معاشرے کے بدنما داغ ہیں۔ میں کئی روز سے ان معصوم کلیوں پر لکھنے کی کوشش کر رہا تھا لیکن کامیاب نہ ہوا۔ زینب اور آصفہ کو یاد کرتے کرتے میرے آنکھوں کے سامنے اپنی بچی اور بھانجی یاد آگئیں، میں سوچ رہا تھا کہ جب ان معصوم بچیوں کو درندوں نے مسلا ہوگا تو ان پر کیا بیتی ہوگی، انہوں نے اپنے آپ کو بچانے کے لیے کیسی کوشش کی ہوگی، ان کے تڑپتے ہوئے یہ مناظر آنکھوں میں آنسوؤں کا سیلاب لا رہے تھے۔ سوچ رہا تھا کہ جب درندوں نے ان پھولوں کی جان لی ہوگی اس وقت ان پر کیا بیتی ہوگی، کیا انسان اس قدر ظالم ہوسکتا ہے، کیا کوئی اس قدر سنگ دل ہوسکتا ہے؟

ہمارے ہمسایہ ملک پاکستان میں 7 سالہ زینب کے واقعہ پر ردعمل ہوا، سول سوسائٹی، میڈیا، سوشل میڈیا، ادارے اور تنظیموں نے سیاسی وابستگی کو بالائے طاق رکھا، اس پر زور مہم کے نتیجے میں معاشرہ میں گناہ کے خلاف نفرت دیکھنے میں ملی اور حکومت نے قاتل کو گرفتار بھی کیا۔ اس کے برعکس صوبہ جموں کے کٹھوعہ ضلع میں 8 سالہ آصفہ کے واقعہ پر وہ ردعمل دیکھنے کو نہ ملا جو زندہ معاشرہ کی علامت ہے۔ اپوزیشن نے ایک بار اسمبلی میں مسئلہ اٹھانے پر اکتفا کیا، اخبارات میں لگاتار مضامین شائع نہ ہوئے، حد یہ ہے کہ گیلانی صاحب کا بیان بھی بہت تاخیر سے آیا، حریت نے بیان سے آگے کوئی لائحہ عمل نہ دیا۔

حالانکہ آصفہ کا تعلق اس علاقے سے ہے جہاں مسلمان اقلیت میں ہیں، اور اس کا تعلق گوجر طبقہ سے ہے اور اخباری بیانات کے مطابق یہ طبقہ ہمیشہ اکثریت کے ظلم و جبر اور استحصال کا شکار رہا ہے۔ بعض شرپسند عناصر جن کو سیاسی پشت پناہی حاصل ہے، انہوں نے اقلیت کے ناک میں دم کر رکھا ہے۔ معاملہ کی نزاکت کو مدنظر رکھتے ہوئے اس واقعے کے خلاف زور دار مہم چلانے کی ضرورت تھی، اور مختلف سیاسی وابستگیوں کو بالائے طاق رکھ کر اس انسانی مسئلہ کے لیے مل جل کر مہم چلانے کی ضرورت تھی، اس مسئلہ کو حل کرنے کے لیے مشترکہ کوشش ہونی چاہیے تھی۔

یہ بھی پڑھیں:   عمران خان کا خطاب، وابستہ توقعات اور میری رائے - منیم اقبال

بچوں اور بچیوں کا استحصال اگر چہ کافی عرصہ سے ہو رہا ہے لیکن یہ لعنت پہلے مغربی معاشرے میں تھی، تاہم اب تیزی سے یہ مشرقی معاشرے کو بھی اپنی زد میں لے رہی ہے۔ یہ واقعات اس بات کے متقاضی ہیں کہ اس ظلم کے خلاف یک جہت ہو کر تدارک کی سبیل ڈھونڈی جائے۔ اس سلسلہ میں جہاں پوری قوم کو اپنا رول ادا کرنا ہوگا وہیں والدین کی بھی اپنی ذمہ داری کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔

والدین کے لیے اگرچہ یہ ممکن نہیں کہ وہ ہر لمحہ اپنے بچوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھ سکیں، لیکن اس کے باوجود والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے بچوں کے ساتھ زیادہ سے زیادہ وقت گزاریں اور زیادہ سے زیادہ ان کو اپنی نگرانی میں رکھنے کی کوشش کریں۔ ان کو ایسی تعلیم وتربیت دیں جس سے وہ بہترین انسان بن سکیں، کوئی انہیں پھسلا کر غلط رخ پر نہ لے جاسکے۔ بدقسمتی سے مادیت کی دوڑ اور انٹرنیٹ کی مشغولیات نے والدین کو اتنا مصروف کر رکھا ہے کہ انسان کم سے کم وقت اپنوں کے ساتھ گزار پاتا ہے۔

ہمارے معاشرے میں جہاں بچیوں کے ساتھ اس قسم کے واقعات رونما ہورہے ہیں، وہیں عورت ذات کے ساتھ بھی سماج کا رویہ ٹھیک نہیں ہے۔ ایک طرف مغرب نے جہاں آزادی کے نام پر عورت کی بے عزتی کی، وہیں ہمارے معاشرے میں بھی خواتین اپنے آپ کو محفوظ محسوس نہیں کرتی۔ دفتر، اسکول، ٹیوشن سینٹرز میں خواتین کے ساتھ آئے دن ناشائستہ سلوک کی خبریں موصول ہو رہی ہیں۔ صورتحال اب مزید تشویشناک ہوتی جارہی ہے۔ عورت کے ساتھ نہ صرف جنسی زیادتی ہو رہی ہے، بلکہ ہمارے معاشرے میں عورت کو عملاً دوسرے درجہ کا شہری سمجھا جا رہا ہے۔ عورت کو اسلام نے ایک مکمل تشخص دیا ہے لیکن عملاً ہمارے معاشرے میں وہ اس سے محروم ہے۔ جہیز کے نام پر خواتین کے ساتھ ظالمانہ رویہ، بڑی بڑی دعوت کے نام پر شادی کو مشکل بنانا، یہ سب ہمارے معاشرے میں عام سے واقعات ہوگئے ہیں۔

ہمارے معاشرے میں بہو کے ساتھ زیادتی، اپنی بیٹی اور بہو کے درمیان فرق کرنا کچھ بھی معیوب نہیں رہا۔ ہمارے معاشرہ میں کتنے افراد ہیں جواپنی لڑکیوں یا بہنوں کو وراثت میں حصہ دیتے ہیں، صورتحال یہ ہے کہ اگر کوئی لڑکی وراثت کا مطالبہ کر بیٹھے تو اس کے ساتھ تعلقات ختم کر دیے جاتے ہیں۔ طلاق غلط طریقہ سے دینے کی وجہ سے آج دوسروں کو اسلام پر حملہ کرنے کا موقع ہم خود ہی فراہم کر رہے ہیں۔ لڑکی اگر خلع کا مطالبہ کرے اور لڑکا انکار کر دے تو کوئی بھی مفتی فسخ نہیں کراتا۔ اسلام کے فروغ میں خواتین کا رول آج کتنا باقی رہ گیا ہے۔ نام نہاد دینداروں نے بھی اس آدھی انسانیت کو عضو معطل بنا کر رکھ دیا ہے۔ دور نبوی اور دور صحابہ میں خواتین کو وقار عطا کیا گیا، معاشرہ میں ان کا اپنا ایک رول اور اپنی ایک پہچان تھی۔ سماجی، سیاسی، معاشرتی کاموں میں وہ اپنے اپنے دائرہ کار میں خدمات انجام دے رہی تھیں۔

یہ بھی پڑھیں:   عمران خان کا خطاب، وابستہ توقعات اور میری رائے - منیم اقبال

بہت سی صحابیات کھیتوں اور گھروں میں کام کرتی تھیں۔ کچھ معلمی کا کام کرتی تھیں۔ حضور اکرمؐ پر جب پہلی بار وحی نازل ہوئی تو وہ گھبرائے ہوئے گھر آئے۔ ام المومنین حضرت خدیجہؓ نے آپ کا حوصلہ یہ کہہ کر بڑھایا کہ اللہ آپ کو ضائع نہیں کرے گا، آپؐ سماج کے کمزور طبقات کے کام آتے ہیں۔ جب صلح حدیبیہ کے موقع پر حضور اکرمؐ نے صحابہ کرامؓ کو حکم دیا کہ حدیبیہ کے موقع پر ہی قربانی کرو، صحابہؓ پس وپیش میں پڑگئے، ام سلمیؓ ہی تھیں جنہوں نے حضور اکرمؐ کو مشورہ دیا کہ آپ قربانی کیجئے یہ آپؐ کی اتباع میں خود ہی کرلیں گے۔

حضرت عمرؓ کو اسلام میں لانے والی ایک خاتون ہی تھیں اور مہر کے معاملے میں ٹوکنے والی بھی ایک خاتون ہی تھیں۔ ام شفاؓ مارکیٹ انسپکٹر تھیں۔ جنگوں میں آپؐ کے ساتھ خواتین بھی شامل ہوتی تھیں۔ الغرض دین اسلام نے ان کو ہر معاملے میں involve کیا، آج ہمارے معاشرے میں عورتوں کو صیح مقام نہ دینے کی وجہ سے ہی وہ feminist تحریکات کی شکار ہو رہی ہیں۔ مسلم خواتین کو سماج میں ان کا مطلوبہ اور صحیح مقام دیا جائے گا تو ان کا وقار اور ان کا مقام خود ہی بلند ہوجائے گا، اور ان کے تحفظ کا معاملہ بھی بہت حد تک خود ہی حل ہوجائے گا۔

Comments

سہیل بشیر کار

سہیل بشیر کار

سہیل بشیر کار بارہ مولہ جموں و کشمیر سے ہیں، ایگریکلچر میں پوسٹ گریجویشن کی ہے، دور طالب علمی سے علم اور سماج کی خدمت میں دلچسپی ہے۔ پبلشنگ ہاؤس چلاتے ہیں جس سے دو درجن سے زائد کتابیں شائع ہوئی ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.