خود پر یقین، صرف " 6" کاموں سے - میاں جمشید

بعض دفعہ ہم با صلاحیت ہو کر بھی آگے نہیں بڑھ پاتے جس کی بنیادی وجہ ہوتی ہے " خود پر یقین نہ ہونا"۔ ہمیں اپنی صلاحیتوں پر بھرپور اعتماد نہیں ہوتا، ہمیں پتا بھی نہیں چلتا اور حوصلہ شکن سوچیں ہمارے ذہن میں جمنا شروع ہوجاتی ہیں۔ جو فرد کامیاب ہونا چاہتا ہے اس کے لیے بہت ضروری ہے کہ وہ خود پر بے یقینی کی اس کیفیت پر قابو پائے اور اسے ختم کرے کیونکہ یہ کیفیت ہمارے خوابوں کو روند دیتی ہے جس سے پھر ہم مزید ڈپریشن میں آ کر اپنی حالت اور زیادہ خراب کر لیتے ہیں۔

تو اگر آپ بھی صلاحیتوں کے مالک ہوتے ہوئے بھی بے یقینی کی حالت میں ہیں اور کھل کر لوگوں کے سامنے اپنی صلاحیتوں کے اظہار سے جھجکتے ہیں تو میرا آج کا آرٹیکل آپ کے لیے ہی ہے۔ میں آپ کو صرف " 6 " کام ایسے بتاؤں گا جس پر عمل کرنے سے آپ کو اپنی صلاحیتوں کے بھرپور اظہار میں مدد ملے گی ان شاء اللہ۔ چلیں پھر تیار ہو جائیں میری بیان کی گئی چھ باتوں کو حرف باحرف سمجھ کر پڑھنے اور پھر اس پر عمل کرنے کے لیے۔

1۔ چھوڑ دو

" زیادہ سوچنا" چھوڑ دو۔ سوچنا اچھا ہوتا ہے مگر اپنی منفی سوچوں کا غلام بن جانا بالکل بھی اچھا نہیں۔ کیوں قیدی بنا لیتے ہو خود کو اپنی سوچوں کا؟ اس صورت سے نکلنے کے لیے سب سے ضروری یہ ہے کہ خود کو باور کروائیں کہ آپ حد سے زیادہ سوچ رہے ہیں۔ اپنے دماغ کو آرڈر دیں کہ "رک جاؤ، کیوں فضول میں اتنا سوچے جا رہے ہو؟ رک جاؤ!"۔ خود کو عالم شعور میں واپس لائیں اپنی صلاحیت کے بارے میں مثبت رائے رکھتے ہوئے توجہ مرکوز رکھیں۔

2۔ لوگوں کا کیا، سمجھانے دو

اگر آپ ہر کام کرنے سے پہلے یہ سوچیں گے کہ فلاں پتہ نہیں کیا کہے گا؟ فلاں میرا مذاق اڑائے گا، فلاں یہ کہے گا، وہ کہے گا ... تو سمجھ لیں کہ آپ خود پر قابو پانے کی صلاحیت کھوتے جا رہے ہیں۔ یاد رکھیں کہ ہمیں اپنی صلاحیت کے بہتریں استعمال کو کسی دوسرے کے کہنے پر روکنا نہیں چاہیے۔ جب ہم خود پر فلاں فلاں کے کچھ سوچنے اور کہنے کو قابو نہیں کر سکتے تو پھر فضول میں پریشان ہونے کا کیا فائدہ؟ ویسے بھی یہ صرف ہمیں لگ رہا ہوتا ہے کہ ہر کوئی ہمیں نوٹس کر رہا ہے، حقیقت میں ایسا نہیں ہوتا اور اگر کوئی کر بھی رہا ہو تو پھر ہمیں اور اچھی طرح اپنی صلاحیتوں کا اظہار کرنا چاہیے تاکہ سب کو پتہ چلے کہ ہم واقعی میں " کچھ خاص" ہیں۔

3۔ صلاحیت، کبھی دھوکہ نہیں دے گی

اگر آپ خود پر اعتماد کھو بھی رہے ہیں، تب بھی اپنی صلاحیتوں پر مکمل اعتبار رکھنا، ان پر آنکھ بند کر کے بھروسہ کرنا ہے کہ آپ ان کو جب بھی آزمائیں گے وہ آپ کو دھوکہ نہیں دیں گی۔ صرف اتنا کرنا ہے کہ منفی سوچوں کو قابو میں رکھنا ہے، اپنے خیالات پر کڑی نظر رکھنی ہے، خود کو ایسے لوگوں کے درمیان رکھنا ہے جو آپ کو حوصلہ دے سکیں، آپ کو سراہیں اور آپ کی دلجوئی کریں۔ یاد رکھنا ہے کہ پہلے خود کو منوانے کے لیے آپ کو خود سے لڑنا پڑے گا۔

4۔ لکھتے رہو، جو خوبی ہے، جو پایا ہے

یہ کام تو لازمی کرنا ہے کہ اپنے اندر جو خوبیاں ہیں، جس صلاحیت پر سراہا گیا ہے، اس حوالے سے جب جب تعریف ہوئی، کیا کچھ حاصل ہوا ہے؟ یہ سب لکھنا ہے، پھر ایسی جگہ رکھنا ہے جہاں سے اسے آسانی سے بار بار پڑھ پائیں۔ خاص کر اس وقت جب آپ بے یقینی کا شکار ہونے لگیں۔ تب یہ سب پڑھنے سے، وہ سب یاد کرنے سے نیا حوصلہ ملے گا، ذہن میں مثبت سوچیں آئیں گی۔ آپ کو لگے گا کہ آپ کافی کچھ اچھا حاصل کر چکے ہیں، بہت سارے لوگ آپ کی صلاحیتوں پر یقین رکھتے ہیں اور آپ کو اسی حوالے سے پہچانتے ہیں۔ اس طرح آپ دیکھیں گے کہ جلد ہی بے یقینی کی کیفیت سے باہر آنا شروع ہو جائیں گے۔

5۔ کچھ خاص و منفرد کرنا جاری رکھنا

بے یقینی کی کیفیت میں بھی خود کو اپنے کام سے روکنا نہیں ہے۔ بے شک آہستہ ہو جائیں، دل نہیں بھی کر رہا پھر بھی تھوڑا تھوڑا ہی سہی مگر کرنا ضرور ہے۔ رک جائیں گے تو بے یقینی اور زیادہ بڑھنے لگے گی۔ مزید منفی سوچیں دماغ میں جگہ بناتی جائیں گی۔ آپ نے اپنی بے یقینی والی کیفیت کو گزرنے دینا ہے مگر خود کو اس کے ساتھ بہنے نہیں دینا۔ ایسا تب ہوتا ہے جب آپ رک جائیں۔ اس لیے خود کو روکنا نہیں۔ اپنی تخلیقی قوت کا استعمال کرتے جانا اور چھوٹے چھوٹے قدموں کے ساتھ آگے بڑھتے جانا۔

6۔ آج اور ابھی میں رہنا، اور سوچنا

آپ کو شاید احساس نہ ہوتا ہو مگر ہمیں بے یقینی زیادہ تبھی ہوتی ہے جب ہم ماضی میں رہ جاتے ہیں۔ پہلے ہوئی کسی ناکامی سے اور لوگوں کے منفی طنز اور رویوں سے سہمے ہوئے ہوتے ہیں۔ "پھر سے ویسا نہ ہو جائے" کی بات سے ڈرتے ہیں۔ مگر ہم بھول جاتے ہیں کہ وقت ایک جیسا نہیں رہتا، گزر جاتا ہے۔ سب پہلے جیسا ہی ہو، بالکل بھی ضروی نہیں ہوتا۔ پہلے سے حاصل کیا سبق یاد کرتے، دوبارہ سے اچھی پلاننگ کرتے قدم بڑھانا ہی پڑتا ہے۔ ایسا اسی صورت ممکن جب آپ "آج اور ابھی" کے لمحے میں رہ کر سوچیں اور پلان کریں۔

تو دوستو! یہ وہ سب خاص باتیں ہیں جن پر آپ عمل کرکے اپنی صلاحیتوں پر بے یقینی والی کیفیت پر قابو پا سکتے ہیں۔ حرف آخر یہ اہم بات بھی یاد رکھیں کہ دوسروں کے ساتھ اپنا مثبت موازنہ کرنا اچھا ہوتا ہے، آپ کو بھی ویسا ہی یا اس سے بہترین بننے کی تحریک ملتی ہے مگر یاد رہے حاسدانہ موازنہ نہ ہو۔ زیادہ اچھا تو یہی ہے کہ صرف اپنے ساتھ موازنہ کریں۔ اپنے آج کو گزرے کل، پچھلے مہینہ یا سال سے اچھا بنائیں۔ اپنے رب سے دعا کیا کریں کہ وہ آپ کی کمی و کوتاہیوں کو دور کرنے میں آسانی پیدا فرمائے۔ آمین!

Comments

میاں جمشید

میاں جمشید

میاں جمشید، زندگی کے مشکل حالات کا مسکرا کر مقابلہ کرنے کے ساتھ رسک لینے اور ہمت سے آگے بڑھتے رہنے پر یقین رکھتے ہیں۔ کچھ نیا و منفرد کرنے اور سیکھنے و سکھانے کا شوق بھی ہمیشہ ساتھ ساتھ رہا ہے اسی لیے اپنی پیشہ وارانہ ذمہ داری کے ساتھ ساتھ مختلف معاشرتی موضوعات پر اصلاحی اور حوصلہ افزاء مضامین لکھتے ہیں۔ اسی حوالہ سے ایک کتاب "حوصلہ کا گھونسلا" کے مصنف بھی ہیں۔ان سے فیس بک پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.