کچھ "گنج ہائے گراں مایہ" کے متعلق - عمران زاہد

جب سے مشہور اداکار ساجد حسن کی ہئیر ٹرانسپلانٹ کا کیس خراب ہونے کی ویڈیو دیکھی ہے، یہ احساس ہو رہا ہے کہ قدرتی طریقے سے آیا ہوا گنج کتنا خوبصورت ہوتا ہے۔

ہمارے ایک سابق کولیگ نے تو اپنے دفتر کی دیوار پر ایک کتبہ لگا رکھا تھا جس پر لکھا ہوا تھا Bald is beautiful یعنی گنج حسین ہوتا ہے۔

میں نے ان سے اس کی وجہ پوچھی تو فرمانے لگے کہ قدرت نے ہر چیز میں تدریج رکھی ہے۔ حسن بھی انسان کو بتدریج ملتا ہے اور"گنج" اس حسن کی انتہا ہوتاہے۔ اللہ نے گنج کے لیے بھی مخصوص لوگ چنے ہوتے ہیں۔ ہر بندے کی قسمت میں گنج نہیں ہوتا۔ اس کے حسن کی واضح دلیل یہ ہے کہ مکمل گنجے افراد بال لگوانے کے بعد اپنا حُسن کھو بیٹھتے ہیں۔

گنج انسان کو ایک وقار، تمکنت اور متانت عطا کرتا ہے۔ دیکھا گیا ہے کہ گنجے شخص پر لوگ جلدی یقین کرتے ہیں۔ گنجے دکاندار کی بِکری بھی دوسروں کی نسبت زیادہ ہوتا ہے۔

اب تو بعض تُھڑ دِلے قدرتی گنج پن کا انتظار کرنے کے بجائے مصنوعی طریقوں سے کوجیک بننے کو ترجیح دینے لگے ہیں۔ ہمارے ایک محترم پروفیسر دوست جن کے ماشاءاللہ گھنے بال ہیں، کچھ عرصے سے اپنے سر کو صفا چَٹ کرنے لگے ہیں، اس سے ان کی شخصیت میں زیادہ پروفیسر پن آ گیا ہے۔ ان کی عام عام سے باتوں میں دانش جھلکنے لگی ہے۔ طلبہ ان کی بات کو سنجیدگی سے سننے لگے ہیں۔

فیس بک کی دنیا میں ہی دیکھ لیجیے، جو احباب مستند گنجے ہیں، ان کی دانش مندی کے ڈنکے چار سو بج رہے ہیں جبکہ بالوں والے دانشوروں کی دانشوری کچی کچی سی لگتی ہے۔ بالوں والے احباب میں تحمل کی شدید کمی بھی پائی جاتی ہے۔

یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ بیشک شادی کے لیے بالوں والے بَر کی تلاش کی جاتی ہے لیکن عام زندگی میں خواتین گنجے مردوں پر جلدی اعتبار کر لیتی ہیں۔ گنجے مرد کی معیت میں خواتین خود کو محفوظ تر تصور کرتی ہیں۔ کمپنیاں بھی گنجے افراد کو ملازمت کا اچھا امیدوار سمجھتی ہیں۔ اگر کسی نوکری کے دو امیدواروں میں ٹائی پڑ جائے تو عموماً قرعہ فال گنجے امیدوار کے حق میں ہی نکلتا ہے۔

گنجے افراد عموماً خوش مزاج اور ہنسنے ہنسانے والے ہوتے ہیں۔ ان کی معیت میں کسی قسم کی بوریت کا احساس نہیں ہوتا۔ جس عورت کا خاوند گنجا ہو اس کی زندگی تو دنیا میں ہی جنت بن جاتی ہے۔ خواتین کے مطابق گنجے شوہر زیادہ رومانٹک اور سخی ہوتے ہیں۔ ایسی خوش نصیبی پر دوسری خواتین صرف رشک ہی کر سکتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   مردوں میں گنج پن کی ایک بڑی اور عام وجہ سامنے آگئی

گنج پن کے مالی فوائد بھی بیش بہا ہیں۔ ایک سامنے کا فائدہ تو حجامت اور شیمپو کے خرچ کی بچت ہی ہے۔ اس کے علاوہ بالوں کو سنوارنے میں وقت کے ضیاع بھی ختم ہو جاتا ہے۔

جس طرح سے دیہات سے تعلق رکھنے والے احباب کو کیپاچینو کو پسند کرنے اس کا ٹیسٹ ڈیویلپ کرنا پڑتا ہے، اسی طرح نئے نئے گنجے ہونے والے احباب کو اس کے حسن سے آہستہ آہستہ مانوس ہونا پڑتا ہے۔ جب وہ مانوس ہو جاتے ہیں تو دنیا بھی ان کے حُسن کی قائل ہو جاتی ہے۔ اس درمیان کی مدت میں بالوں کی ایک لٹ کو بڑھا کر سر ڈھانپا جا سکتا ہے، یا خوبصورت سی ٹوپی اوڑھی جا سکتی ہے۔ آپ محلے میں ہر وقت نماز کی ٹوپی یا عمامہ اوڑھ رکھنے والوں کا جائزہ لیں تو ان میں سے اکثریت ان حضرات کی ہو جو بالوں کی قلت کا شکار ہوتے ہیں۔ عموماً ایسے احباب جب ٹوپی یا عمامہ اتارتے ہیں تو ملنے جلنے والوں کا ایک شاک پہنچتا ہے۔

ویسے گنج پن کا ایک عجیب پہلو یہ بھی ہے کہ گنجے احباب بہت جلد دنیا کے کھیل تماشے کی حقیقت سے آشنا ہو کر روحانیت کی سیڑھیاں چڑھ جاتے ہیں۔ ایک طرح سے روحانی منازل گنج پن کی بائی پراڈکٹ ہوتی ہے۔ گنجا ہونے کے بعد ہی انسان کے اندر وہ روحانی حس بیدار ہوتی ہے جس کی وجہ سے وہ ظاہری خوبصورتی سے متاثر ہونے کی بجائے اصل حسن کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔ انہیں چیزوں کو گہرائی سے سمجھنے کا ملکہ حاصل ہو جاتا ہے۔ سیاست، سفارت، وکالت، حساب کتاب، اسٹریٹیجی، سراغ رسانی اور تفتیش کے شعبوں میں بھی وہ افراد زیادہ کامیاب رہتے ہیں جو گنج پن کا شکار ہوتے ہیں۔ سمجھ بوجھ رکھنے والے لوگ ان روحانی قوتوں کو قدرت کا تحفہ سمجھ کر اپنی دنیا و آخرت سنوار لیتے ہیں۔

گنجے پن سے ماؤں کی وہ محنت اور محبت بھی آشکار ہوتی ہے جو انہوں نے بچپن میں اپنے بچوں کا سر بنانے کے لیے کی ہوتی ہے۔ کبھی چالوں بھری تھیلیوں پر سروں کو ٹکایا جاتا ہے کبھی سر کو گوندھ گوندھ کر ایک مخصوص شکل دی جاتی ہے۔ بالوں کی وجہ سے سروں کی وہ سڈول شکل چھپ جاتی ہے۔ گنج کی وجہ سے بچپن میں سر پر آنے والے زخم بھی نمایاں ہو جاتے ہیں جیسے گورباچوف کے سر پر بھی ایک زخم کا نشان بہت نمایاں تھا۔ اس کا کم از کم یہ فائدہ تو ضرور ہے کہ اس نشان کو نادرا کارڈ پر بطور نشانی درج کرایا جا سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   مردوں میں گنج پن کی ایک بڑی اور عام وجہ سامنے آگئی

گنجاپن ایک ایسا حسن ہے کہ جس کے اظہار کے لیے شاعرانہ الفاظ مثلاً چاند، چندیا وغیرہ وضع کیے گئے ہیں۔ آپ ایسے تمام اشعار جن میں یہ الفاظ استعمال کیے گئے ہیں ذہن میں ایک گنجے شخص کا خاکہ رکھ کر پڑھیں تو آپ ان کی درست تفہیم حاصل کر پائیں گے۔ مثلاً

تو اسے اپنی تمناؤں کا مرکز نہ بنا

چاند ہرجائی ہے ہر گھر میں اتر جاتا ہے

بچھڑ کے مجھ سے کبھی تو نے یہ بھی سوچا ہے

ادھورا چاند بھی کتنا اداس لگتا ہے

چاند دیکھا ہے تو یاد آئی ہے تیری صورت

ہاتھ اٹھتے ہیں مگر حرفِ دعا یاد نہیں

چاند کو کل دیکھ کر میں سخت بے کل ہوگیا

کیوں کہ کچھ کچھ تھا نشاں اُس میں جمال یار کا

ان اشعار کی تشریح میں آپ کی قوتِ متخیلہ پر چھوڑتا ہوں۔ چاند کی بات ہو اور ہم انشاء جی بھول جائیں۔ آپ خود ہی دیکھئے کہ انہوں نے گنج پن کے حسن کو کس طرح سے اپنی شاعری میںکس احسن انداز سے قید کیا ہے۔ پوری نظم طویل ہو جائے گی، صرف تین اشعار سے ہی اندازہ کر لیجیے۔

شام سمے ایک اُونچی سیڑھوں والے گھر کے آنگن میں

چاند کو اُترے دیکھا ہم نے، چاند بھی کیسا؟ پورا چاند

انشاء جی ان چاہنے والی، دیکھنے والی آنکھوں نے

ملکوں ملکوں، شہروں شہروں، کیسا کیسا دیکھا چاند

ہر اک چاند کی اپنی دھج تھی، ہر اک چاند کا اپنا روپ

لیکن ایسا روشن روشن، ہنستا باتیں کرتا چاند؟

اب شاعری کے مزید حوالے دینے کی ہمت نہیں۔ اس مضمون کے بعد بھی آپ کو اگر ان اشعار میں چاند کا درست مفہوم سمجھ نہیں آیا تو چاند کو "گنجا" میں تبدیل کر کے پڑھ لیجیے۔ اس سےآپ کو اشعار کی سمجھ تو آ جائے گی، لیکن یہ ہے غیر شائستہ اور غیر شاعرانہ حرکت۔

ٹیگز