جہالت اور قانون - نزہت وسیم

اب کیا ہوگا ؟وہ ایک ان پڑھ عورت تھی۔ شادی کے بعد شوہر اسے شہر لے آیا۔ مزدور آدمی تھا دیہاڑی لگاتا جو کما کر لاتا مل کرکھا لیتے۔ کرائے کا چھوٹا سا مکان تھا۔ اس کے ہاں پہلا بیٹا پیدا ہوا تو اخراجات میں اضافہ ہوگیا۔ بچے کے لیے بہت سی چیزوں کی ضرورت تھی۔ سردی کا موسم آیا اور بچہ نمونیے کا شکار ہو کر چل بسا۔ دونوں میاں بیوی بہت دکھی ہوئے۔ اگلے سال وہ پھر امید سے تھی۔ الله تعالی نے اسے پھر بیٹے سے نوازا۔ محلے کی جس ڈاکٹر کے پاس وہ گئی اس نے اسے کہا میرے پاس کام کرنے آجایا کرو۔ چنانچہ بچہ دو ماہ کا ہوا اس نے ڈاکٹر صاحبہ کے کلینک پر کام کرنا شروع کر دیا۔ اس کی ساس بھی شوہر کے انتقال کے بعد گاؤں سے ان کے پاس آگئی اس لیے بچے کی دیکھ بھال کا بھی مسئلہ نہ رہا۔

کلینک سے اس کا گھر زیادہ فاصلے پر نہ تھا۔ جونہی فارغ ہوتی گھر کا چکر لگالیتی۔ اور جب کلینک پر ضرورت ہوتی ڈاکٹر صاحبہ اسے وقت بے وقت گھر سے بلا لیتیں۔ زندگی یوں ہی کبھی سہولت کبھی تنگی سے رواں دواں تھی۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ الله تعالی نے اسے مزید دوبیٹیوں اور ایک بیٹے سے نوازا۔ تعلیم سے نا آشنائی اور کچھ فطری بے وقوفی کی وجہ سے شب وروز کا حساب نہ تھا۔ کلینک پر گھڑی لگی ہونے کی وجہ سے اگرچہ وقت دیکھنا آگیا تھا لیکن دن، مہینہ اور سال کی تاریخوں کا شعور نہ تھا۔ بچوں کو سکول پڑھنے کے لیے بھیج دیتی اور کلینک پر شب و روز مصروف رہتی۔

الیکشن کا زمانہ آیا تو سیاسی کارکنوں کی مہربانی سے شناختی کارڈ بنوا لیا۔ پیدائشی پرچی تو تھی نہیں انہوں نے نکاح نامے سے دیکھ کر اندازا عمر لکھ دی۔ بچہ جب آٹھویں جماعت میں پہنچا تو سرکاری سکول والوں نے "ب فارم" مانگا چنانچہ نادرا کے دفتر جا کر "ب فارم" بنوالیا۔ اس کے سارے بچے گھر میں ہی پیدا ہوئے تھے۔ اندازا سب کی عمر بتاتی رہی نتیجہ یہ نکلا کہ بڑے لڑکے اسد کی عمر تین سال کم لکھی گئی۔ دوسرے نمبر پر بیٹی سارا پیدا ہوئی تھی اس کے بجائے چھوٹی بیٹی ندا کا نام لکھا گیا۔جس کی عمر لکھنے والے نے ڈیڑھ سال چھوٹی لکھی۔ پھر بڑی بیٹی اس کی عمر ندا سے بھی ڈیڑھ سال کم لکھی گئی اور آخر میں سب سے چھوٹا بیٹا بلال جسے دو سال چھوٹا لکھ دیا گیا۔ سب بچے اپنی اصل عمر سے چھوٹے اور ترتیب میں بھی غلط شمار ہوگئے۔ لیکن ان پڑھ ہونے کی وجہ سے اس کو اس مسئلہ کی اصل سے واقفیت نہ تھی۔

بڑے بچے کو کیونکہ کافی بڑا ہوجانے کے بعد سکول داخل کروایا تھا اس لیے تعلیم کے دوران کوئی مسئلہ نہ ہوا۔ اسی طرح باقی بچوں کا معاملہ تھا۔ وقت کا کام چلتے رہنا ہے سو وقت گزرتا گیا۔ بڑی بیٹی سترہ سال کی ہوچکی تھی اپنی بہن کے بیٹے کے ساتھ اس کی شادی کردی۔ نکاح کے وقت نکاح رجسٹر کرنے والے مولوی صاحب نے کہا "ب فارم" کے مطابق لڑکی کم عمر ہے۔ قانونی طور پر ایسے نکاح رجسٹرڈ کرنے پر سزا کا امکان ہے۔"ب فارم" کے حساب سے بچی کی عمر گیارہ سال تھی۔ حالانکہ اس کی اصل عمر سترہ سال تھی۔ اس وقت تو سب نے نکاح رجسٹرار سے کہا نہیں بھائی بچی کی عمر زیادہ ہے چنانچہ لوگوں کے اصرار پر انہوں نے نکاح پڑھا دیا لیکن رجسٹرڈ کرنے کے لیے شرط لگا دی کہ "ب فارم" کی تصحیح کروائے ورنہ مشکل پیش آئے گی۔

تمام کاغذات لے کر ڈاکٹر صاحبہ کے پاس حاضر ہوئی۔ جب "ب فارم" کا تفصیلی جائزہ لیا گیا تو پتہ چلا کہ ساری تاریخیں غلط ہیں۔ اس سے اس کی عمر پوچھی گئی تو وہ بتا نہ سکی نہ ہی اسے اپنے کسی بچے کی صحیح تاریخ پیدائش کا علم تھا۔ ڈاکٹر صاحبہ پریشانی سے سر پکڑ کر رہ گئیں اور اس سے کہا اب یہ ساری تاریخیں درست کرواؤ۔ خواہ اس کے لیے تمہیں نادرا کے دفتر کے کتنے چکر لگانے پڑیں۔ اور اپنی بیٹی کو اپنے گھر بلالو۔ اسے اپنے شوہر سے ملنے نہ دو۔ کیونکہ حاملہ ہونے کی صورت میں نہ تو اسے کوئی ڈاکٹر چیک کرے گا نہ ایمرجنسی میں کوئی ہسپتال اسے اپنے ہاں علاج کی سہولت دے گا۔ اگر کسی نے ایسا کیا تو کم عمری میں شادی کرنے کے جرم میں شریک سمجھا جائے گا کیونکہ ڈاکٹرز کو ایسی صورتحال کی رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اب اسے صحیح معنی میں احساس ہوا کہ وہ کیسی سنگین غلطی کر بیٹھی ہے اس کا دماغ سوچ سوچ کر تھک گیا اب کیا ہوگا ؟

کیونکہ نادرا سے چار چار بچوں کے کاغذات کی تصحیح کروانا خالہ جی کا گھر نہیں اب کیا ہوگا؟

ٹیگز