اب کشمیر آزاد ہوجائے گا کیا؟ - خرم علی راؤ

5 فروری یوم کشمیر، ریلیاں، نغمے، جلسے، جلوس، مگر سب کے سب نمائشی اور بنا خلوص، الا ماشااللہ، کشمیر میں جہاد ہورہا ہے، فلسطین میں جہاد ہورہا ہے، افغانستان میں جہاد ہورہا ہے، مگر برسوں بیت گئے کیا حاصل؟ کتنا پانی پلوں کے نیچے سے گزر گیا، کتنی نسلیں برباد ہو گئیں مگر کفر و باطل ہے کہ ٹس سے مس نہیں ہورہا ہے۔ آپ کی قربانیاں اور ان قربانیوں کی داستانیں سوائے لہو گرمانے اور پر جوش نعرے دینے کے سوا کوئی نتیجہ نہیں دے پا رہی ہیں۔ کبھی سوچا ایسا کیوں ہے؟

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور بعد کے ادوار میں بھی کفر و باطل اور حق کے درمیان فیصلہ سالوں اور مہینوں میں نہیں بلکہ دنوں میں ہوجایا کرتا تھا، اب کیا ہوگیا؟فتح و نصرت کی دعائیں مانگتے مانگتے اس امت کے برگزیدہ لوگوں کی فی زمانہ آوازیں پھٹ گئی ہیں، رو رو کر انہوں نے دریا بہا دیے ہیں مگر آسمان سے فتح ونصرت کفار کو مل رہی ہے۔ اہل نظر کو خواجہ خضر کفار کی صف میں نظر آرہے ہیں۔ ایسا کیوں ہے، کیا اسلام کے سرمدی اور ابدی اصول برائے فتح و نصرت پھیکے پڑ گئے ہیں؟کیا اللہ پاک نے اپنا وعدہ" تم ہی غالب رہو گے اگر تم مومن ہو نعوذ باللہ فراموش کر دیا ہے؟" نہیں ایسا نہیں ہے نہ ہو سکتا ہے، کبھی نہیں ہو سکتا ہے، پھر ؟

پھر یہ کہ کچھ نہیں بدلا بس ہم بدل گئے۔ اللہ کا وعدہ کچھ شرائط کے ساتھ مخصوص ہے وہ ہم فراموش کر گئے۔ زمانے نے ایسی قیامت کی چال چلی کہ ہم سب کچھ گنوا کر احساس زیاں سے بھی محروم ہو گئے۔

وہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہوکر

اور تم خوار ہوئے تارک قرآن ہوکر

آئیے اسلامی تعلیمات کی روشنی میں اپنی ناکامی کی وجوہات کا جائزہ لینے کی ایک عاجزانہ سی کوشش کرتے ہیں۔ ویسے تو اس اسباب زوال امت پر بڑے بڑے اکابرین اور صاحبان علم قلم اٹھاچکے اور اس امت کی رہنمائی کا فرض کفایہ ادا کرچکے ہیں۔ ان کے سامنے میری کیا اوقات، میرے کیا الفاظ؟ان حضرات کے پیروں کی خاک میرے سر پر، مگر ان ہی کی تحاریر سے اخذ کردہ ایک حقیر سا خلاصہ میری جانب سے بھی کہ شاید اس فرض کفایہ میں میرا بھی کچھ حصہ پڑ جائے اور قبول ہوجائے۔

ہمارے یعنی اس امت مرحومہ کے اس عبرتناک زوال کے کئی اسباب ہیں مگر سب سے اہم سبب جو میں بڑوں کی باتوں اور تحریروں سے اخذ کر سکا ہوں وہ یہ ہے کہ اب ہم "ہم" نہیں رہے، میں اور تو بن گئے۔ یعنی وہ امت جس کا اتحاد سب سے ضروری بتایا گیا تھا، اور تفرقہ کو زہر ہلاہل، ہم وہ زہر غٹاغٹ پی گئے۔ آج ہم مسلمان تو ہیں مگر اپنی ذات کی حد تک، اپنی قوم کی حد تک، اپنے مسلک کی حد تک کے مسلمان رہ گئے ہیں۔ الا ماشااللہ، ہم ٹوٹے تو پھر ٹوٹتے ہی چلے گئے، بکھرے تو بکھرتے ہی چلے گئے، اور آخر کار ریوڑ سے بچھڑی بکری کی طرح بھیڑیوں کے نرغے میں آگئے۔ ہم اپنے، نسلی افتخار، اپنے مسلکی تعصبات، اپنے لسانی اور قومی اختلافات میں اتنے ڈوب گئے کہ اجتماعیت کو توڑ بیٹھے۔

جن سے ہمارا مقابلہ ہے وہ جدید سر وسامان، جدید ترین علوم، شیطانی ذہانتوں اور حربوں سے تو لیس ہیں ہی، مگر ایک بات ان کی ان سب چیزوں پر حاوی ہے۔ اور وہی ان کی کامیابی کا سبب ہے اور وہ ہے اسلام و مسلمان دشمنی میں ان کا مثالی اتحاد، ان میں بھی آپس میں سینکڑوں باتیں متنازعہ ہیں، بہت سے جھگڑے، قضیئے، مناقشے اور مسئلے ہیں جن پر وہ آپس میں الجھتے بھی رہتے ہیں مگر جب بات اسلام اور مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کے ہو تو وہ ایک بن جاتے ہیں۔ اور مل کر ہر جانب سے، ہر سطح پر، ہر اعتبار سے، ہر ترتیب پر ایسے چاروں طرف سے وار کرتے ہیں کہ ہم بکھرے ہوئے، منتشر، الجھے مسلمان چاروں طرف سے مارے جاتے ہیں۔ یعنی وہ مثالی اتحاد جو ہماری سب سے بڑی شان اور عزت کی علامت تھا اسے غیروں نے جتنے اہتمام و انتظام سے اپنایا ہم نے اسی اہتمام و انتظام سے اسے ترک کردیا۔ اب بس بھگتو، تا وقتیکہ وہ رب العزت تم پر رحم کھا کر کوئی نیا نقشہ ترتیب دے اور وہ ضرور بالضرور ایسا ہی کرے گا، کہ وہ بہت رحم و کرم والا ہے اور پھر جیسے بھی ہو آخر تم اس کے محبوبﷺ کے امتی بھی تو ہو۔

رنگ گردوں کا ذرا دیکھ تو عنابی ہے

یہ نکلتے ہوئے سورج کی افق تابی ہے