بجلی اور ظالمانہ ٹیکس - مظہر صدیقی

میری اپنے پڑھنے والوں سے گزارش ہے کہ برائے کرم آپ مجھے سلام پیش کیجیے یا کوئی اعزاز بخشیے۔ مجھے کوئی تمغہ عطا کیجیے یا پھر سیلوٹ ماریے اور ساتھ میں کوئی انعام بھی دیجیے۔ مجھے اکیس نہیں تو کم از کم سات آٹھ توپوں کی سلامی بھی ضرور بالضرور دیجیے۔ ازراہ کرم کچھ نہ کچھ تو عطا کیجیے، کیوں کہ میں ایک قومی خدمت سر انجام دے رہا ہوں۔ بجلی کے بل ادا کر کے میں ایک نئی تاریخ مرتب کرنے میں معاون کردار ادا کر رہا ہوں۔ آپ جب تفصیل سے آگاہ ہوں گے تو ضرور کہہ اٹھیں گے کہ تم واقعی بہت بڑے اعزاز و انعام اور اکرام کے حق دار بنتے ہو۔ اس حوالے سے میرے ساتھ وہ تمام تجارت پیشہ افراد اور کمپنیاں بھی اسی اعزاز کے مستحق بنتی ہیں۔ جس کا میں آپ سے مطالبہ کر رہا ہوں۔

میں نے یہ تمہید اس لیے باندھی ہے کہ میں نے اپنے کمرشل بجلی کے بل کو پہلی بار توجہ سے دیکھا ہے۔ مجھے حیرت کے جھٹکے لگنے لگے اور اوسان خطا ہونے لگے۔ ہاتھوں کے طوطے اڑنا اور سٹی گم ہو جانے کی پہلی بار سمجھ آئی۔ میں گم صُم بہت دیر تک مجسمہ بنے اپنی پھٹی پھٹی آنکھوں کو ساکت کر کے بجلی کے بل پر نظریں گاڑے بیٹھا رہا۔ شاید سانس لینا بھی بھول گیا اور سانس روک کر بت بنا رہا۔ مجھے سمجھ آئی کہ بجلی کا محکمہ اپنے صارفین کے لیے قصاب بنا ہوا ہے۔ عوام سکھ کا سانس لیں بھی تو کیسے؟ مجھے اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی کا علم پہلے کیوں نہ ہوا تھا؟

تجارتی صارفین کے ساتھ تو زیادتی شاید چھوٹا لفظ ہے بلکہ ظلم ہو رہا ہے۔ مجھ ایسے باخبر شخص کو بھی اس کا علم نہیں تھا۔ معلومات تک رسائی میرا حق ہے، مگر بطور صارف مجھے کبھی بجلی کے محکمے نے اعتماد میں لیا اور نہ مجھ سے میری رائے لی اور نہ مجھے کوئی اضافے کی کوئی خبر دی۔ جب جی چاہا فیصلہ سازوں نے مجھ پر اپنا فیصلہ صادر کر دیا اور میں نے کبھی بجلی کے کمرشل بل کو غور سے نہیں دیکھا۔ عجب نہیں کہ میں لٹ رہا ہوں اور جانے کب سے مجھے لوٹا جا رہا ہے۔ مجھے لوٹنے والے کوئی اور نہیں، مجھے میپکو نے چاروں شانے چت کر کے لوٹنے کا منصوبہ بنا رکھا ہے۔ میں اس سے بے خبر رہا ہوں۔

وزارت پانی و بجلی، نیپرا اور بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں صارفین کی مشکلات میں اضافہ کر رہی ہیں۔ آئے روز بجلی کے نرخ بڑھانے کے ساتھ ساتھ مختلف ظالمانہ ٹیکسوں کی صورت میں عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں۔ یہ درست کہ حکومتی کوششوں سے رواں سال میں لوڈ شیڈنگ کے دورانیے میں واضح کمی ہوئی ہے۔ حکومت نے مختلف توانائی منصوبوں کو ہنگامی طور پر شروع کر کے بجلی کی پیداوار میں خاصا اضافہ ممکن بنایا ہے۔ شنید ہے کہ انقلابی اقدامات کے ذریعے گیس اور کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبے بھی زیر تکمیل ہیں۔ مگر یہ کہاں کا انصاف ہے کہ صارفین کو ٹیکسوں کی مد میں کنگال کیا جاتا رہے۔ سوال یہ بھی ہے کہ ہم کب تک آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے چنگل میں پھنسے رہیں گے؟ حکومتوں نے ان عالمی اداروں سے نجات پانے کا کوئی منصوبہ بھی بنایا ہے یا نہیں؟

یہ بھی پڑھیں:   بارشیں، ہلاکتیں اور بجلی کا نظام - احمد علی کیف

اب ذرا گورنمنٹ محصولات کی تفصیل ملاحظہ کیجیے اور پھر خود فیصلہ کریں کہ کس عقل مندی اور ہوشیاری سے ہم پر ٹیکسوں کا جال چڑھا دیا گیا ہے۔ ٹیکسوں کی تفصیل درج ذیل ہے۔

  • الیکٹریسٹی ڈیوٹی
  • جنرل سیلز ٹیکس
  • انکم ٹیکس
  • فاضل ٹیکس
  • مزید ٹیکس
  • نیلم جہلم سرچارج
  • سیلز ٹیکس
  • فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ پر فاضل ٹیکس
  • فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ پر مزید ٹیکس
  • فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ پر انکم ٹیکس
  • سیلز ٹیکس آن ایف پی اے
  • ایف سی سرچارج
  • ٹی آر سرچارج

اس کے علاوہ بھی شاید اور قسم کے سرچارج ہوں گے۔ مگر میری نظروں سے اوجھل ہیں۔جس کا مجھے فی الحال علم نہیں ہے۔ میرے کمرشل بل پر اتنا سرچارج ہوتا ہے کہ میں اس رقم سے ہر ماہ آسانی سے آدھا تولہ سونا خرید سکتا ہوں۔ یا کسی دیہی علاقے میں ہر ماہ پانچ مرلے کے پلاٹ کا مالک بن سکتا ہوں۔ حد ہے کہ مجھ پر ظلم ہو رہا ہے، نا انصافی ہو رہی ہے اور میں اپنے ساتھ ہونے والے ان ناجائز اور غلط اقدامات پر خاموش ہوں۔ آنکھیں موندے، چپ سادھے اور دل کی دھڑکنیں تھامے اپنی کمائی کا بیشتر حصہ ہر مہینے بجلی کمپنی کی نذر کر رہا ہوں۔ بجلی کی کمپنیاں میرا خون نچوڑ رہی ہیں۔ مجھے دیمک کی طرح کھا رہی ہیں۔ میری بے حسی دیکھیے کہ میں ان اضافوں پر خاموش ہوں۔ مجھے یہ بھی معلوم نہیں کہ میں کب سے یہ اتنے سارے اضافی سرچارج ادا کر رہا ہوں۔

لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کا خواب میں نے بھی دیکھا تھا۔ مگر وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ اس کی بھاری قیمت بھی مجھ کو ہی چکانا پڑے گی۔ میرے خون پسینے کی کمائی یوں بجلی کی کمپنی کو سر چارج ادا کرتے گزر جائے گی۔ بالا بالا ہونے والے فیصلوں میں صارفین سے کبھی رائے طلب نہیں کی جاتی۔ اس تحریر کے آغاز میں آپ سے اس لیے تو کہا ہے کہ مجھے شاباش دیجیے کہ میں بجلی کمپنی کو پہاڑ جیسے سر چارج ادا کرنے پر خاموش ہوں اور خوش بھی۔ اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ کاٹ کر بجلی کمپنی کو پال رہا ہوں۔ بڑے ادارے اور بڑے لوگ چوری کی بجلی سے عیش کر رہے ہیں، جب کہ میں ان کے اللوں، تللوں کو پورا کرنے کی کوشش میں اپنا حق ادا کر رہا ہوں۔ کیوں کہ مجھے پتہ ہے کہ اگر ایک ماہ میں نے یہ سر چارج ادا نہ کیے تو میرا میٹر اتار لیا جائے گا اور میں بجلی کے کنکشن سے محروم ہو جاؤں گا۔

یہ بھی پڑھیں:   کینیڈا میں ٹیکس چوری کیوں نہیں؟ زبیر منصوری

اس لیے میں بخوشی بجلی کمپنی کے واجبات ادا کر رہا ہوں۔ مجھے سلام پیش کیجیے اور مجھے کوئی اعزاز بخشیے یا پھر مجھے کوئی تمغہ دیجیے۔ غور طلب بات یہ بھی ہے کہ بائیس کروڑ عوام ایک ہجوم ہیں اور عالمی معاشی دہشت گردوں کا ایک گروہ ہمیں نوچ رہا ہے۔ ہم فرنس آئل سے بننے والی مہنگی بجلی ہی نہیں خرید رہے بلکہ ہرسال اربوں روپے فرنس آئل یونٹس سے پیدا ہونے والی آلودگی کا شکار ہوکر دوائیوں پر بھی خرچ کررہے ہیں۔ ایک تازہ ترین سروے رپورٹ کے مطابق پاکستان میں آلودگی سے اموات کی شرح میں اضافہ ہورہا ہے اور ہر سال تقریباً نو ہزار پاکستانی فضائی آلودگی سے موت کے منہ میں جارہے ہیں، مگر ہم خاموشی سے ہر ظلم برداشت کررہے ہیں۔

ہمیں یہ بھی تسلیم کرنا پڑے گا، چوں کہ لائن لاسز اور کنڈے ڈال کر مفت بجلی حاصل کرنے والوں کی وجہ سے اربوں روپے کا نقصان وزارت پانی و بجلی کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ڈیفالٹرز کے واجب الادا رقم دو سو پینتیس ارب روپے ہے۔ اس لیے وہ مختلف ٹیکسوں کی مد میں باقاعدگی سے بجلی کے بل ادا کرنے والوں سے وصول کیے جا رہے ہیں۔ حرفِ آخر کے طور پر گزارش ہے کہ بجلی کے بلوں میں شامل ان ظالمانہ ٹیکسوں سے صارفین کو نجات دلائی جائے۔ حکومت کو انقلابی اقدامات کے ذریعے اس ایشو پر خصوصی توجہ کی ضرورت ہے۔ ورنہ بجلی کے بلوں میں شامل ٹیکسوں کو بنیاد بنا کر عوام سڑکوں پر نہ نکل آئیں۔ تب حکومت مشکل میں گھری نظر آئے گی۔ ابھی تو عوام سو رہے ہیں۔

ٹیگز