خدارا صحافیوں کو بھی عزت دیں - فیض اللہ خان

گزشتہ دنوں سندھ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس نے عدالتی خبروں کی کوریج کرنے والے صحافی دوست کو یہ کہہ کر بھری عدالت سے نکال باہر کیا کہ انہیں اپنی خبریں چلوانے کا کوئی شوق نہیں۔ نجانے کون سا غصہ بیچارے رپورٹر پر نکالتے ہوئے انہیں عدالت سے چلے جانے کو کہا، اصولی طور پر تو صحافی بھائی کو تھوڑی سی جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے چیف جسٹس سے وہیں کھڑے کھڑے کہنا چاہیے تھا کہ آخر کس بنیاد پر انہیں کھلی عدالت سے نکلنے کو کہا جارہا ہے ؟ کیونکہ آئین اختیار دیتا ہے کہ آپ عدالتی سرگرمیوں کی خبریں لوگوں تک پہنچائیں بہرحال عدالت نے اپنے خصوصی اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے رپورٹر کو نکال دیا۔

سندھ ہائیکورٹ میں عدالتی صحافیوں کے ساتھ طویل عرصے سے اسی قسم کی زیادتیاں کی جارہی ہیں۔سب سے پہلے تو احاطہ عدالت کے باہر کیمروں پر اعتراض ہوا اور چیف جسٹس نے حکم دیا کہ عدالتی سرگرمیوں کی فلمبندی کرنے والے صحافی باہر مرکزی دروازے کے پاس جاکر کھڑے ہوا کریں، اندر کسی صورت کیمروں کی اجازت نہیں ہوگی۔حالانکہ ایک زمانے تک یہ کیمرے ججوں کے کمروں کے باہر لگے رہے ہیں اور وہیں خبروں کی کوریج ہوتی تھی۔ اس حکم کا ایک نقصان یہ ہوا کہ بڑے یا اہم مقدمات سے جڑے وکیل نیچے اتر کر آنے میں اپنی توہین سمجھتے ہیں اور یوں اب رپورٹر اکثر ان کے انٹرویو سے محروم رہتے ہیں۔

اس دوران ایک اور ظلم عدالتی رپورٹرز کے ساتھ یہ ہوا کہ وکلا نے ان کے بار روم میں داخلے پر بھی مکمل پابندی عائد کردی۔ یوں رپورٹرز کے پاس سکون کا سانس لینے کے واسطے گھڑی بھر کو جو جگہ ملتی تھی وہ بھی چلی گئی۔ اس حوالے سے بعض وکلا نے رپورٹرز کے ساتھ بدتمیزی بھی کی۔ بیچارے رپورٹرز مجبور ہیں کیونکہ بچوں کا پیٹ پالنے کے لیے وہ عدالت جاتے ہیں تاکہ بریکنگ خبریں چلا کر اپنے ادارے کا اعتماد حاصل کرنے کے ساتھ لوگوں تک خبریں بھی پہنچائیں۔

یہ بھی پڑھیں:   میر ، سے ایک سوال تھا جو نہ ہوسکا -گہرام اسلم بلوچ

بلاشبہ بطور انسان صحافیوں سے غلطیاں بھی ہو جاتی ہیں خود ہم سے بھی ہوتی رہی ہیں۔ جیسا کہ گزشتہ دنوں کچھ چینلز پر بریکنگ نیوز چل گئی کہ عدالت نے سندھ سے تیرہ ہزار بچوں کی گمشدگی کا نوٹس لے لیا۔ حالانکہ اصل خبر تیرہ بچوں سے متعلق تھی۔ بلاشبہ ایسی خبروں سے عدلیہ کے وقار پر حرف آتا ہے، لیکن چونکہ یہ غلطی سے نشر ہوئی لہذا متعلقہ چیلنز کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس جیسی تمام اغلاط پر معذرت کریں۔

کراچی کی مختلف عدالتوں میں رپورٹرز کے ساتھ یہ ظلم پہلی بار نہیں ہے، جب دل کرتا ہے مقامی عدالت کا مجسٹریٹ انہیں عدالت سے نکال دیتا ہے۔ کبھی احتساب عدالت کے جج داخلے پر پابندی لگادیتے ہیں اور کبھی انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالتوں کے جج رپورٹرز کو عدالت آنے سے روک دیتے ہیں۔

ججوں کو سمجھنا چاہیے کہ بریکنگ نیوز تلاش کرنے والے یہ صحافی روزی روٹی کمانے یہاں آتے ہیں ان کی بنیادی ملازمت ہی یہ خبریں دینا ہے اسی سے ہمارے گھروں کاچولہا روشن ہے ایسی پابندیاں ہر گز خوش آئند نہیں۔

عدلیہ کو اگر شکایات ہیں تو صحافتی انجمن یا سینئر عدالتی رپورٹرز کو بلا کر ضابطہ اخلاق طے کرلے تاکہ انہیں پریشانی نہ ہو اور نوکری و آزادی صحافت کی آبرو برقرار رہے۔سندھ ہائیکورٹ کے سابق چیف جسٹس صاحبان مرحوم صبیح الدین اور جسٹس مشیر عالم اس حوالے سے بہت عمدہ حضرات تھے۔ جو ان معاملات کو احسن انداز سے نمٹا لیا کرتے تھے، موجودہ ججز کو بھی ان کی پیروی کرنی چاہیے تاکہ کسی قسم کی مشکل صورتحال میں آسانی سے ایک دوسرے کی بات سمجھی جاسکے۔

Comments

فیض اللہ خان

فیض اللہ خان

فیض اللہ خان 11 برس سے رپورٹنگ کر رہے ہیں۔ طالبان سے متعلق اسٹوری کے دوران افغانستان میں قید رہے، رہائی کے بعد ڈیورنڈ لائن کا قیدی نامی کتاب لکھی جسے کافی پذیرائی ملی۔ اے آر وائی نیوز کے لیے سیاسی، سماجی، عدالتی اور دہشت گردی سے متعلق امور پر کام کرتے ہیں۔ دلیل کے ساتھ پہلے دن سے وابستہ ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.