منو بھائی کا عام آدمی اور مفلوج حکومت - اسامہ الطاف

ہفتے گزرجانے کے باوجود منو بھائی کے انتقال پر ادبی دنیا سوگوار ہے، یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ادب کا ایک ستون گر گیا۔ صحافت و ادب سے منسلک شخصیات ادبی فرض سمجھ کر مرحوم کو خراج تحسین پیش کررہی ہیں۔ منو بھائی کے لیے اس ادبی احترام کو دیکھ کر ہمیں اس بات کا افسوس ہوا کہ ہم نے ادراک کی سیڑھیاں منو بھائی کا شباب گزرنے کے بعد طے کرنا شروع کی، اور ہم ان سے براہ راست استفادہ حاصل کرنے سے محروم رہے۔ ان کے انتقال کے بعد ان کی"محفوظ" نصیحتوں سے ہی مستفید ہوسکتے ہیں۔ پاکستان کے ایک معروف و مشہور صحافی( جو کہ منو بھائی کے مداح اور شاگرد ہے )نے منو بھائی کی انمول نصیحت نقل کی، موصوف لکھتے ہیں کہ جب انہوں نے کالم نگاری کے سفر کا آغاز کیا تو منو بھائی نے ان کو ہمدردانہ مشورہ دیتے ہوئے کہا "عام آدمی کو اپنا استاد بنالو، اس سے بات کرو، اس سے سیکھو اور اسی کے لیے لکھو"۔

منو بھائی کی اس نصیحت کو ہم نے پلو سے باندھ لیا اور اس پر فوری عمل کرتے ہوئے عام آدمی کی طرف قصد کرنے کا فیصلہ کیا۔ یوں بھی ملک میں آج کل جمہوریت کا دور دورہ ہے اورظاہر ہے کہ جمہوریت پر جمہور سے بہتر تبصرہ کون کرسکتا ہے، لہٰذا جمہور کی حقیقی آواز سننے کے لیے ہم نے کچی آبادی کا رخ کیا۔ تنگ راہداریوں اور سڑک نما ٹوٹے پھوٹے راستوں سے گزرتے ہوئے ہم کچی آبادی پہنچے۔ آبادی پستی اور خستہ حالی کا نمونہ تھی، یہاں اگر کوئی شے جدید تھی تو وہ "عوامی رہنما ـ "کی مع جملہ اہل خانہ بڑی بڑی تصاویر تھیں، جو قریباً ہر دیوار پر چسپاں تھی۔

ایک بڑے اور قدیم مکان میں آبادی کے شرفا ہمارے انتظار میں تھے، یہ عام آدمیوں کا مجموعہ تھا جن کو منو بھائی نے اپنا استاد بنانے کا مشورہ دیا تھا، محنت کش اور سخت جان مرد و خواتین، ان کی زندگی پر مشقت، لیکن طبائع و عادات تمدن کے تکدرات سے پاک تھے۔ اپنی طبیعت سے مجبور ہوکر ہم نے موضوع گفتگو حالات حاضرہ کو بنایا، سادہ لوح مکین ہمارے فلسفوں کو سنتے رہے۔ ان کے مسائل کے متعلق استفسار کیا تو ایک صاحب جو بظاہر شریف الطبع لگتے تھے گویا ہوئے، "صاحب ہم غریب لوگ ہے، قلیل آمدنی کا بھی کچھ حصہ محفوظ رکھتے ہیں کہ مستقبل میں بچوں کو پڑھائیں گے اور بچے ہم سے بہتر زندگی گزارنے کے قابل ہوں گے، ہماری خواہش تھی ہمارا بیٹا ڈاکٹر بنے، سالہا سال کی جمع پونجی دے کر اس کو شہر روانہ کیا اور میڈیکل کالج میں داخل کرایا، لیکن صرف چھ ماہ بعد اس کی تعلیم رک گئی، میڈیکل کالجز کی فیس آسمانوں کو چھورہی ہے۔ ہم جس جمع پونجی کو خاطر خواہ رقم سمجھ رہے تھے وہ صرف ایک ششماہی کے لیے کافی تھی۔ ہم نے افسوس سے اس بزرگ کی جانب دیکھا جو اب زیر لب مسکر رہا تھا، ہمیں اس کی مسکراہٹ پر حیرانگی ہوئی، اس نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا، ہمارا بیٹا تو واپس آرہا تھا لیکن اللہ بھلا کرے سپریم کورٹ کا جس نے ازخود نوٹس لیا اور میڈیکل کالجز کو محدود فیس کا پابند بنایا۔

بزرگ کی بات ختم ہوئی تھی تو ایک دوسرا شخص اپنی خوشخبری سنانے کے لیے آگے بڑھا۔ اس نے اپنے آبائی زمین کا ذکر کیا جو برسوں سے اس کے خاندان کے تصرف میں تھی۔ ایک دن اچانک اس زمین پر تعمیراتی کام شروع ہوگیا۔ معلوم کرنے پر پتا چلا کہ "با اثر "شخصیت نے زمین پر قبضہ کرلیا ہے، اور اب یہاں شادی ہال تعمیر ہورہا ہے، زمین کے مالکان نے خوب بھاگ دوڑ کی، ہر جگہ آواز اٹھائی لیکن شنوائی نہیں ہوئی، شادی ہال تعمیر ہوگیا اور زمین گویا ان کے ہاتھ سے نکل گئی، مالکان اپنی زمین سے مایوس ہوگئے۔ پھر ایک دن خبر آئی کہ سپریم کورٹ نے شہر کی انتظامیہ کو حکم دیا ہے کہ تمام غیر قانونی تعمیرات کو گرادیا جائے، خوش قسمتی سے اس کار خیر کی ابتدا ان کی زمین سے ہوئی اور شادی ہال گراکر زمین مالکان کو واپس کردی گئی۔

مجمع میں لوگوں نے طبی سہولیات کی عدم فراہمی، صفائی کاناقص انتظام، غربت اور مہنگائی سمیت کئی مسائل کا ذکر کیا جس میں نصف سے زائد پر عدالت عالیہ نے نوٹس لیا ہوا ہے۔ ہم عام آدمی کے مسائل سن رہے تھے اور ہمارے ذہن میں وہ تقاریر آرہی تھی جس میں عدالتی احکامات کے باعث حکومت 'مفلوج 'ہونے کی باتیں کی جاتی ہے، اگر مسائل حل نہ ہونے کا سبب عدالتی احکامات ہیں تو گزشتہ ساڑھے چار سالوں میں عدالتی خاموشی کے باجود مسائل حل کیوں نہیں ہوئے؟اس مدت میں عوام کے اعصاب کیوں' مفلوج' رہے؟انہی ساڑھے چار سالوں میں آخر درجنوں غیر ملکی دورے بھی تو کیے گئے جس میں قوم کے کئی ارب خرچ ہوئے، اگر عیاشی کرنے میں اختیارات استعمال ہوسکتے تھے تو خدمت خلق میں کیوں نہیں؟ہم انہی سوچوں میں محو تھے کہ ایک جوشیلے نوجوان نے دیوار پر لگی عوامی رہنما کی تصویر کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا 'یہ عام آدمی کے ووٹ سے حکمران تو بن جاتے ہیں لیکن حکومت ملنے کے بعد عام آدمی اور اس کے مسائل کو بھول جاتے ہیں، سالوں بعداب ہم جیسے لاچاروں کی عدالت میں شنوائی ہورہی ہے تو ان کو وہ بھی منظور نہیں!

ہمیں ان جملوں سے بخوبی اندازہ ہوگیا کہ کچی آبادی میں مکانات ضرور کچے ہیں لیکن یہاں کے مکین دماغ کے کچے ہرگز نہیں۔

Comments

اسامہ الطاف

اسامہ الطاف

کراچی سے تعلق رکھنے والے اسامہ الطاف جدہ میں مقیم ہیں اور کنگ عبد العزیز یونیورسٹی کے طالب علم ہیں۔ سعودی عرب اور پاکستان کے اخبارات و جرائد میں لکھتے رہتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.