کشمیر ہم شرمندہ ہیں - ربیعہ فاطمہ بخاری

خطہ کشمیر سے محبت ہر پاکستانی کی رگوں میں خون کی طرح دوڑتی ہے اور میں تو ویسے بھی ایک کشمیری گھرانے سے تعلق رکھتی ہوں تو اس جنتِ ارضی کے لیے میرے دلی جذبات، میری محبت اور میری دردمندی فطری ہے۔ کشمیر سے محبت کا ہی ایک پہلو کشمیریوں کے مصائب وآلام کا احساس اور ان کے درد کو پوری شدت سے اپنے دل میں محسوس کرنا ہے۔ ان کے مصائب وآلام کے لیے دل ہمہ وقت خون کے آنسو روتا ہے۔ بالکل اسی طرح پاکستان کی محبت کشمیریوں کے دلوں میں موجزن ہے۔ آزاد وادئ کشمیر کے باسیوں کی بلاشبہ 95 فیصد عوام دلی طور پر پاکستان سے نہ صرف شدید محبت کرتے ہیں بلکہ الحاقِ پاکستان کو ہی اپنی آخری منزل سمجھتے ہیں۔ اسی طرح مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کے پاکستان کے لیے جذبات بھی کسی سے ڈھکے چھپے نہیں۔

میر واعظ عمر فاروق ہوں یا سید علی گیلانی، آسیہ اندرابی ہوں یا برہان وانی شہید، ہر ایک پاکستان کی محبت سے سرشار اور پاکستان کو ہی اپنی آخری امید سمجھتے ہیں۔ جو بھی نوجوان تحریکِ آزادی کے دوران اپنی جان جاں آفریں کے سپرد کرتے ہیں ان کے اجسادِ خاکی سبز ہلالی پرچم میں ملفوف ہوتے ہیں، کوئی ان کی پاکستان سے محبت کا اور کیا ثبوت چاہے گا؟ مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ پاکستانی اور کشمیری ہر دو اطراف کی عوام کی محبت اور دلی جذبات کی شدت مسئلہ کشمیر کے حل میں عملی طور کسی بھی قسم کا کوئی کردار ادا نہیں کر سکتی۔

عملی میدان میں اگر دیکھا جائے تو مسئلہ کشمیر کے تین فریق ہیں، حکومتِ پاکستان، حکومتِ ہند اور کشمیری عوام۔ اس میں تو کوئی شک وشبہ کی گنجائش نہیں کہ پاکستان اور کشمیر کے عوام کی اکثریت کے دل ایک ساتھ دھڑکتے ہیں۔ حکومتِ ہندوستان جو اس قضیے کی پیدائش کا بنیادی محرک اور فساد کی اصل جڑ ہے، ان کا رویہ مسلسل ضد، ہٹ دھرمی اور وعدہ خلافیوں پر مشتمل ہے۔ نہ تو وہ خود اس مسئلے کا کوئی قابلِ عمل حل پیش کرتے ہیں اور نہ ہی کسی قابلِ عمل حل کی طرف کی گئی پیش قدمی پر کوئی مثبت ردِ عمل ظاہر کرتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ ان کا پلڑا بھاری ہے کہ ان کی سات لاکھ سے زیادہ فوج کشمیریوں پرظلم وستم کا بازار گرم رکھے ہوئے ہے اور ہٹ دھرم اور وعدہ خلاف کا پلہ ویسے بھی ہمیشہ بھاری ہی ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   مولانا فضل الرحمن کی خدمت میں - آصف محمود

اب آتے ہیں حکومتِ پاکستان کی طرف، ہماری حکومت نے آج کل مسئلہ کشمیر کے "حل" کے لیے ایک سفید ہاتھی پال رکھا ہے۔ جس کا نام "سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کشمیر" ہے۔ 38 منتخب ارکانِ پارلیمنٹ پر مشتمل اس کمیٹی کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن ہیں۔ مولانا صاحب 2008 سے اس کمیٹی کے چیئرمین کے عہدے کے ثمرات سے مستفید ہو رہے ہیں۔ جب میں نے اس کمیٹی کی گزشتہ تقریباً دس سال کی کارکردگی جاننے کی کوشش کی تو مجھے یہ جان کر شدید حیرت کے ساتھ انتہائی دکھ بھی ہوا کہ اس کمیٹی کے کریڈٹ پر ہر سال یومِ یکجہتی کشمیر پر ایک بیان کے سوا کوئی قابلِ ذکر اچیومنٹ نہیں بلکہ جب سے مولانا صاحب اس کمیٹی کے کرتا دھرتا بنے ہیں مجھے تو عالمی منظر نامہ پر کشمیر کے لیے اپنا موقف کہیں دور عمیق گہرائیوں میں جاتا نظر آتا ہے۔

دوسری طرف اگر ہم اس کمیٹی کے ممبران کا سالانہ بجٹ دیکھیں تو آنکھیں حیرت سے پھٹی کی پھٹی رہ جاتی ہیں۔ گزشتہ تین سالوں میں اس کمیٹی کے صرف تیں اجلاس ہوئے جن میں سے ہر ایک اجلاس پر 6 کروڑ روپے کی خطیر رقم خرچ ہوئی۔ یعنی تین سالوں میں تین اجلاسوں پر 18 کروڑ روپے کی خطیر رقم صرف کی گئی اور حاصل کیا ہوا؟ فقط تین پریس ریلیز۔ اس سال کے بجٹ میں بھی اس کمیٹی کو پچاس ملین کی خطیر رقم دی جائے گی جس کا ایک بڑا حصہ اس کے اراکان کی تنخواہوں اور مراعات پر صرف ہوگا۔

مولانا فضل الرحمٰن اس عہدے پر رہتے ہوئے گزشتہ دس سال سے کن کن سہولیات اور مراعات سے مستفید ہو رہے ہیں؟ ذرا سنئے، ان کے عہدے کے پیشِ نظر انہیں 1300 سی سی کار ذاتی استعمال کے لیے دی گئی ہے، اس کار کے لیے 360 لٹر پٹرول دیا جاتا ہے، جی نہیں آپ غلط سمجھے سالانہ نہیں ماہانہ۔ اسی عہدے کی وجہ سے انہیں منسٹرز کالونی میں گھر بھی دیا گیا۔ اب اس تفصیل کو پڑھ کر دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں کہ کیا یہ کمیٹی ان کروڑوں روپوں میں سے ایک دھیلے کا بھی حق ادا کر رہی ہے؟ مجھے تو یہ کمیٹی صرف اور صرف حکومتِ وقت کے ہر جائز نا جائز کام میں ووٹ حاصل کرنے کے لیے ایک سیاسی رشوت کے علاوہ کچھ بھی نہیں لگتی۔

یہ بھی پڑھیں:   مولانا اور ’عمرانی‘ معاہدہ - عاصمہ شیرازی

کل یومِ یکجہتی کشمیر پر پنجاب اسمبلی کا خصوصی اجلاس بلایا گیا جہاں کشمیر کاز کی طرف ہماری حکومت کی بے حسی کی ایک اور افسوس ناک مثال سامنے آئی، جب اس اجلاس میں صرف ایک ممبر نے شرکت کی۔حکومتِ پاکستان کی طرف سے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے ہماری حکومت کے اسی غیر سنجیدہ رویّے کی بدولت آزاد کشمیر کے بہت سے لوگ جو پہلے دل و جان سے الحاقِ پاکستان کے حامی تھے، اب کشمیر کی خود مختاری کا نعرہ لگاتے نظر آتے ہیں۔ ابھی شکر ہے کہ ملیحہ لودھی کا دم ہمارے اس مشن کے لیے غنیمت ہے کہ انہی کی ذاتی کاوش کی بدولت مسئلہ کشمیر کی بازگشت اقوامِ متحدہ کے ایوانوں میں سنائی دیتی ہے۔

حکومتِ وقت سے التماس ہے کہ اس سے پہلے کہ خدانخواستہ آزاد کشمیر کے باسی حکومتِ پاکستان سے بالکل ہی مایوس ہو جائیں اور خاکم بدہن پاکستان کے خلاف محاذ آرائی اختیار کر لیں، اس کمیٹی کی تشکیلِ نو کی جائے اور کوئی صحیح معنوں میں کشمیریوں کا درد رکھنے والے فعال رکنِ پارلیمنٹ کو اس کمیٹی کا چئیر مین بنایا جائے۔ جو اس مردہ گھوڑے میں جان ڈالے اور مسئلہ کشمیر کا کوئی حقیقی اور قابلِ عمل حل نہ صرف پیش کرے بلکہ اس حل پر عمل کروانے کے لیے سفارتی سطح پر کوشش بھی کرے۔ اس وقت مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جارحیت کے خلاف مزاحمت اپنے عروج پر ہے، اگر اس مشن کو سفارتی محاذ پر اسی سطح کی سپورٹ پاکستان کی طرف سے مل جائے تو وہ وقت دور نہیں جب ان شاء اللہ کشمیر پاکستان کا حصہ ہوگا۔

Comments

ربیعہ فاطمہ بخاری

ربیعہ فاطمہ بخاری

لاہور کی رہائشی ربیعہ فاطمہ بخاری پنجاب یونیورسٹی سے کمیونی کیشن سٹڈیز میں ماسٹرز ہیں۔ تدریس کے شعبے سے وابستہ رہی ہیں لیکن اب ایک خاتونِ خانہ کے طور پر زندگی گزار رہی ہوں۔ لکھنے کی صلاحیت پرانی ہے لیکن قلم آزمانے کا وقت اب آیا ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.