کتابیں جھانکتی ہیں - یاسر اسعد

کتاب کا مقام اہل علم کی نظروں سے مخفی نہیں، یہ علم کا وہ دریا ہے جس سے کبھی سیرابی نہیں ہوتی۔ آدمی مطالعہ کتاب میں پوری عمر بھی کھپا دے تو آخری حصہ میں اسے بھی لگتا ہے کہ ابھی تو بہت کم پڑھا ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ کتاب دنیا کی سب سے خوبصورت شئے ہے تو غلط نہ ہوگا۔ اہل مذہب کے یہاں بھی ان کی کتاب مقدس کو وہ تقدس حاصل ہے جو کسی دوسری شئے کو نہیں۔ اہل اسلام کے نزدیک بھی قرآن ساری کتابوں میں سب سے اعلیٰ مقام رکھتا ہے، غرضیکہ علمی، مذہبی، سماجی ...تمام ناحیوں سے کتاب کو جو اہمیت حاصل ہے اس میں وہ وحدہ لا شریک ہے۔

کتاب کا مطالعہ آدمی کوایک جہان سے دوسرے جہان میں پہنچا دیتا ہے، ایسا جہان جہاں تک اس کی رسائی ناممکن ہوتی ہے، اور یہ سب کچھ صرف کتاب کی بدولت ممکن ہے۔ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ خصوصیت مرئیات کو بھی نہیں حاصل ہے جو کتاب کی ہے۔ دو ڈھائی گھنٹے کی فلم سے آپ دنیا جہان کے احوال سے واقفیت حاصل کرسکتے ہیں، مگر وہ ایک کتاب کا بدل نہیں ہوسکتی، کتاب میں جو لذت ہے وہ دیگر چیزوں میں کہاں؟ کتاب چاہے درسی ہو یا غیر درسی، فائدے سے خالی نہیں، یہ الگ بات ہے کہ غیر درسی کتابیں زیادہ فائدے مند ہیں۔ ممکن ہو آپ اس سے اختلاف کریں، لیکن مجھے یہ کہنے کا حق حاصل ہے جس شخص کا انحصار فقط درسی کتابوں پر رہے وہ کامیاب نہیں ہوسکتا، بلکہ ’’کتاب پرست‘‘ حضرات کا اصل محور غیر درسی کتابیں ہوا کرتی ہیں، آپ اپنے گرد وپیش سے اس کا اندازہ بخوبی کرسکتے ہیں۔

درسیات آپ کو قواعد وضوابط سے متعارف کراتی ہیں، ان کا ایک محدود دائرہ ہوتا ہے، طالب علم کو نہ چاہ کر بھی بعض کتابوں میں سر کھپانا پڑتا ہے، لیکن خارج از نصاب کتب کے لیے اس کے سامنے کھلا میدان موجود ہوتا ہے جس میں سے وہ بقدر وسعت سیراب ہوتاہے، یہ الگ بات ہے کہ حیات کے آخری لمحے تک وہ تشنگی باقی رہتی ہے۔ اہل علم حضرات اپنی موٹی موٹی کتابوں میں مطالعہ کے اصول وضوابط بیان کرتے ہیں، اور کتابوں کی دنیا کو ایک طریقے سے قاری کے لیے محدود کرنے کی کوشش کرتے ہیں، ان کی نصیحت ہوتی ہے کہ مطالعہ موضوعاتی ہونا چاہیے، فلاں ترتیب سے ہونا چاہیے، اس کے یہ یہ اصول وضوابط ہیں، اگر چہ اس کے ایجابی پہلو بھی ہیں، مگر در حقیقت یہ چیز اکثر طالب علم کو علم کے ایک بڑے حصے سے محروم کردیتی ہے، دیگر چیزوں میں تو اصول وضوابط کی اہمیت ملحوظ رکھنا بہترین بلکہ لازمی امر ہے، مگر کتابوں کے معاملہ میں اسے برتنا بسا اوقات خسارے کا سبب بنتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   کتب بینی کی اہمیت -گہرام اسلم بلوچ

یہ بھی حقیقت ہے کہ عمر کے ابتدائی ادوار میں مطالعہ کا جو وقت، موقع، لذت اور فائدہ ملتا ہے وہ عمر کے بقیہ حصوں میں ممکن نہیں، جوں جوں زندگی آگے بڑھتی جاتی ہے مطالعہ کی لذت ختم ہوتی جاتی ہے، پھر آدمی چاہ کر بھی وہ خوشی نہیں حاصل کرپاتا جو اسے بچپن کے مطالعہ میں ملتی ہے۔ اس کی متعدد وجوہات ہیں، بچپن کا مطالعہ صرف ترویح نفس کے لیے ہوتا ہے، اس وقت انسان کا ذہن کندن کے مانند صاف ہوتا ہے، مذہبی ومسلکی ’’آلائشوں‘‘ سے پاک ہوتا ہے، دھیرے دھیرے جب دنیا سے سابقہ بڑھتا ہے اور گرد وپیش کے ماحول سے متاثر ہوتا ہے تو بعض کتابیں اس کے لیے ’حرام‘ قرار پاتی ہیں، بعض کتابوں سے ’گمراہی کی بو‘ آنے لگتی ہے، اسے کتاب سے پہلے کاتب کا ’مذہب‘ اور ’مسلک‘ دیکھنا پڑتا ہے، ہمہ وقت اس کے صراط مستقیم سے بھٹک جانے کا خطرہ ہوتا ہے۔ یا پھر وہ ’مذہبی‘ میدان سے دور رہتا ہے، پھر اس کی خواہش ہوتی ہے کہ ایسی کتابوں سے سابقہ رکھے جو ’مذہب‘ پر لعن طعن کرنے میں اس کے کام آسکیں، دینی کتب وجرائد سے حد درجہ بیزاری ہوجاتی ہے، اور بالآخر دونوں کی راہیں دن بدن محدود سے محدود تر ہوتی جاتی ہیں۔

موجودہ زمانے کی گہما گہمی نے عالم انسان کو بھی بہت حد تک جاہل بنا دیا ہے، یہاں ہر شخص موبائل اور کمپیوٹر وانٹرنیٹ کے نشے میں چور ہے، کتابیں صرف لائبریری کی زینت ہیں، گرد وغبار سے اٹی پٹی، بے رخی کی شکوہ کناں، عقل انسانی پر ماتم کناں، اپنے انتخاب وتقسیم پر سخت احتجاج کرنے والی۔ یہ صحیح ہے کہ انٹرنیٹ کی دنیا نے عالم کو ایک گاؤں بنا دیا ہے، سب کچھ سمیٹ کر انسان کے ہاتھوں میں دے دیا ہے، مگر میرا یقین مانیے کہ جدید آلات پر نظریں جمانا وہ مزہ نہیں دیتا جو مزہ کتابوں کے ہاتھ میں ہوتے ہوئے لیٹ کر پڑھنے میں ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   خاکوانی صاحب کے آج کے کالم " کتابوں کی صحبت میں " پر تبصرہ - ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

کتابیں جھانکتی ہیں، بند الماری کے شیشوں سے بڑی حسرت سے تکتی ہیں

مہینوں اب ملاقاتیں نہیں ہوتیں

جو شامیں ان کی صحبت میں کٹا کرتی تھیں، اب اکثر

گزر جاتی ہیں کمپیوٹر کے پردوں پر

بڑی بے چین رہتی ہیں

انہیں اب نیند میں چلنے کی عادت ہو گئی ہے

بڑی حسرت سے تکتی ہیں

جو قدریں وہ سناتی تھیں

کہ جن کے سیل کبھی مرتے نہیں تھے

وہ قدریں اب نظر آتی نہیں گھر میں

جو رشتے وہ سناتی تھیں

وہ سارے ادھڑے ادھڑے ہیں

کوئی صفحہ پلٹتا ہوں تو اک سسکی نکلتی ہے

کئی لفظوں کے معنی گر پڑے ہیں

بنا پتوں کے سوکھے ٹنڈ لگتے ہیں وہ سب الفاظ

جن پر اب کوئی معنی نہیں اگتے

بہت سی اصطلاحیں ہیں

جو مٹی کے سکوروں کی طرح بکھری پڑی ہیں

گلاسوں نے انہیں متروک کر ڈالا

زباں پہ ذائقہ آتا تھا جو صفحے پلٹنے کا

اب انگلی کلک کرنے سے بس اک

جھپکی گزرتی ہے

بہت کچھ تہ بہ تہ کھلتا چلا جاتا ہے پردے پر

کتابوں سے جو ذاتی رابطہ تھا، کٹ گیا ہے

کبھی سینے پہ رکھ کے لیٹ جاتے تھے

کبھی گودی میں لیتے تھے

کبھی گھٹنوں کو اپنے رحل کی صورت بنا کر

نیم سجدے میں پڑھا کرتے تھے، چھوتے تھے جبیں سے

خدا نے چاہا تو وہ سارا علم تو ملتا رہے گا بعد میں بھی

مگر وہ جو کتابوں میں ملا کرتے تھے سوکھے پھول

کتابیں مانگنے، گرنے، اٹھانے کے بہانے رشتے بنتے تھے

ان کا کیا ہو گا

وہ شاید اب نہیں ہوں گے

(گلزار)