ہنگامہ ہے کیوں برپا؟ - ربیعہ فاطمہ بخاری

تقریباً تین سال پہلے قصور میں ایک بہت بڑا سکینڈل منظرِ عام پر آیا۔ بہت سے بچوں کا جنسی طور پراستحصال کیا گیا، ان کی ویڈیوز بنائی گئیں اور پھر بین الاقوامی مارکیٹ میں فروخت کی خبریں سامنے آئیں۔ بعدازاں میڈیا رپورٹس کے مطابق اس سب کے پیچھے ایک رکن صوبائی اسمبلی کا نام نظر آنے کے بعد اس معاملے کو دبا دیا گیا۔ اس واقعے کے بعد جنوری 2018ء تک 11 بچیوں کو درندگی کی بھینٹ چڑھا کر بہیمانہ انداز میں قتل کر دیا گیا۔

اسے اتفاق کہیے یا ہماری بے حسی کہ بارہویں بچی زینب ہمارے مردہ ضمیروں پر تازیانے برسانے اور ہمارے سوئے ہوئے ضمیروں کو جھنجھوڑنے میں کامیاب ہوئی اور اس بچی کے قتل سے پورے ملک میں بے چینی، اور اضطراب پھیل گیا۔ اسی اضطراب اور بے چینی کے دنوں میں ہی وزیرِ اعلیٰ جناب شہباز شریف ایک پریس کانفرنس کرتے ہیں اور اس پریس کانفرنس سے پہلے رانا ثناء اللہ اس بے بس، مجبور اور مظلوم باپ کو بریف کرتے ہیں کہ انہوں نے کیا کہنا ہے اورکیا نہیں اور اس پریس کانفرنس میں جو ہوا وہ ساری دنیا نے دیکھا۔ اس غمزدہ باپ کے زخموں پر مرہم رکھنے کے بجائے نمک چھڑکا جاتا ہے اور تالیاں پیٹ کر یہ اعلان کیا جاتا ہے کہ زینب کا قاتل گرفتار ہوگیا ہے۔

اس سارے عمل میں ڈھونڈنے سے بھی اربابِ اقتدار کے چہروں پر کوئی ملال، کوئی کرب، کوئی پریشانی دکھائی نہیں دیتی، بلکہ ابتدا میں یہ لوگ زینب کے والدین کو ہی موردِ الزام ٹھہرا رہے تھے کہ انہیں بچی کو چھوڑ کر عمرے کے لیے جانا ہی نہیں چاہیے تھا۔ اب اچانک عمران کی گرفتاری کے بعد ڈاکٹر شاہد مسعود ایک انکشاف کرتے ہیں کہ یہ شخص اکیلا اس جرم میں ملوث نہیں بلکہ یہ کسی بہت بڑے گروہ کا ایک ادنٰی سا رکن ہے جو پاکستان میں چائلڈ پورنوگرافی کا کاروبار کررہا ہے اور اس شخص کے 37 بینک اکاؤنٹس ہیں۔

یہ انکشاف کرنے کی دیر تھی کہ یوں لگا جیسے ڈاکٹر صاحب نے انجانے میں بھڑوں کے چھتے کو چھیڑ دیا ہو۔ چاہے اسمبلیوں میں موجود ارکان ہوں یا میڈیا کے "صاحبانِ اقتدار" یوں لگا کہ سب کے ایوان زلزلے کی زد میں آگئے ہوں۔ ڈاکٹر صاحب پر ہر طرف سے لعن طعن، گالیوں، مغلظات بلکہ کردار کشی کی بوچھاڑ ہوگئی۔ اقتدار کے ایوانوں میں کھلبلی مچ گئی اور میڈیا ہاؤسز میں جیسے صفِ ماتم بچھ گئی۔ اگر چہ بہت سے لوگ ڈاکٹر صاحب کے اس دعویٰ کے بارے میں کچھ زیادہ مثبت رائے نہیں رکھتے تھے لیکن اس دعوے کا جو ردِ عمل سامنے آیا اس کے بعد تو مجھ جیسے انتہا درجے کے پرامید اور خوش گمان لوگ بھی سوچ میں پڑ گئے کہ صحافت کے میدان میں غلط خبر بریک کرنا یا کسی بھی زید بکر پر جھوٹے الزام لگانا کون سی نئی بات ہے، یا ڈاکٹر صاحب سے پہلے کبھی کسی صحافی نے غلط بیانی کر کے کسی شریف انسان کی پگڑی نہیں اچھالی یا کسی کا دامن داغدار کرنے کی کوشش نہیں کی؟پھرآخر اس قدر ہنگامہ اور شور وغوغا بھلا کیوں ہے؟

ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اس دعویٰ کے بعد ہماری ایجنسیاں تفتیش کو ایک نیا رخ دیتیں کہ اس واقعے کا ایک پہلو یہ بھی ہو سکتا ہےاور کیا یہ عناصر خدانخواستہ واقعتاً ہمارے معاشرے میں جڑیں تو نہیں پکڑ رہے؟ کیا ان دعووں میں خدانخواستہ صداقت تو نہیں؟ کہیں حقیقتاً کوئی بااثر شخصیت اس طرح کے گندے دھندے میں ملوث تو نہیں؟ لیکن ہوا بالکل اس کے برعکس، اقتدار کے ایوانوں سے یوں چیخ وپکار سنائی دینے لگی کہ جیسے مقتدر شخصیات جانے تقدس کی کس مسند پر براجمان ہیں کہ جن کی شان اقدس میں وہ بیچارہ گستاخی کر بیٹھا ہے۔ اور میڈیا والے تو یوں ہاتھ دھو کے ان کے پیچھے پڑ گئے ہیں کہ جیسے ان صحافیوں جیسا سچا، کھرا، با اصول اور دیانتدار اور کوئی ہے ہی نہیں اور ڈاکٹر شاہد مسعود پاکستانی میڈیا کی واحد اور اکلوتی کالی بھیڑ ہیں۔

چلیں مان لیتے ہیں کہ ڈاکٹر صاحب جھوٹے ہیں، انہوں نے افسانہ گھڑا ہے، لیکن کیا سرگودھا سے گرفتار ہونے والا شخص جو ناروے میں کسی شخص کو پورن ویڈیوز بھیجتا تھا، یا جھنگ سے گرفتار نوجوان، یا قصور میں گزشتہ کچھ سال پہلے منظرِ عام پر آنے والا کیا یہ سب بھی افسانے ہیں؟ یہ سب بھی جھوٹ ہے؟ چلیں یہ بھی مان لیتے ہیں کہ اس میں کوئی بین الاقوامی گروہ ملوث نہیں لیکن کیا اس حقیقت سے بھی آنکھیں چرائی جا سکتی ہیں کہ کہ پورنوگرافی کا دھندہ وطنِ عزیز میں اندرونِ خانہ انتہائی فعال یے اور نسلِ نو کی بربادی کا سامان ہر جگہ موجود ہے اور اس میں کوئی شبہ ہے کہ اس طرح کے دھندوں کی سر پرستی صاحبِ حیثیت لوگ ہی کر سکتےہیں۔ اس کام میں بھی منشیات کی طرح کروڑوں کا خفیہ بزنس منسلک ہوتا ہے۔ جس کی ایک معمولی سی جھلک ہمیں سہیل احمد کے انکشافات میں نظر آئی کہ تھیٹرز میں "برہنہ عورتوں کے رقص" کے ایک شو کی ٹکٹ 5000 روپے ہے اور یہ شو ہاؤس فل ہوتا ہے۔ 5 سے 6 سو لوگ اس شو کے تماشائی ہوتے ہیں۔

آپ خود ہی فیصلہ کریں کہ اس غلیظ شو کے لیے جو شخص 5000 روپے خرچ کرتا ہے کیا وہ کوئی غریب مزدور ہو گا یا کوئی ریڑھی بان؟ یہ دراصل انہی صاحبِ حیثیت لوگوں کی عیاشیاں ہیں جو معاشرے کی جڑوں کو کھوکھلا کر رہی ہیں۔ اگر ڈاکٹر صاحب نے کسی ایم این اے یا وزیر کا نام لیا تھا تو پوری دیانتداری اور جانفشانی کے ساتھ اس کی تفتیش کرنی چاہیے تھی کیونکہ ہمارے ایوانِ کے ہی پارلیمنٹ لاجز سے کئی مرتبہ شراب اور شباب کی بازگشت سنی جاتی رہی ہے جسے طاقت اور اختیار کی قوت سے دبا دیا جاتا ہے۔

میں نہیں کہتی کہ ڈاکٹر صاحب 100 فیصد درست ہوں گے لیکن انہیں 100 فیصد غلط قرار دینا بھی شتر مرغ کی طرح ریت میں گردن دبانے کے مترادف ہوگا۔ میری اربابِ اقتدار سے گزارش ہے کہ اس معاملے کی سنگینی کو سمجھیں اور اس پر باقاعدہ سنجیدگی اور نیک نیتی سے تفتیش کریں۔اس کے علاوہ اپنے سائبر کرائم کے شعبے کو اتنا فعال بنائیں کہ انٹرنیٹ پر کوئی بھی فحش مواد کو ڈھونڈنے کی کوشش کرے تو اسے فوراً ٹریس کر لیا جائے۔ انٹرنیٹ کو فلٹر کریں تاکہ ہماری نوجوان نسل تک غلیظ اور پلید مواد کسی بھی صورت نہ پہنچے۔ اس خباثت کو معاشرے سے اکھاڑنے کے لیے جو بھی ممکن ہیں اقدامات اٹھائے جائیں تاکہ معاشرے سے اس زہر کا خاتمہ کیا جا سکے۔

Comments

ربیعہ فاطمہ بخاری

ربیعہ فاطمہ بخاری

لاہور کی رہائشی ربیعہ فاطمہ بخاری پنجاب یونیورسٹی سے کمیونی کیشن سٹڈیز میں ماسٹرز ہیں۔ تدریس کے شعبے سے وابستہ رہی ہیں لیکن اب ایک خاتونِ خانہ کے طور پر زندگی گزار رہی ہوں۔ لکھنے کی صلاحیت پرانی ہے لیکن قلم آزمانے کا وقت اب آیا ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */