"من الظلمات إلى النور " کے نئے مسافر - ابو حسن

سعادتوں کے عظیم سفر "من الظلمات إلى النور" میں شامل ہونے والے محترم شیخ جو بریڈ فورڈ (Sheikh Joe Bradford) امریکہ کے شہر ہیوسٹن کے رہنے والے ہیں۔ میں ان کو " شیخ محترم " کا لقب کیوں دے رہا ہوں؟ تحریر پڑھنے کے بعد آپ پر واضح ہوجائے گا، ان شاء اللہ!

فرماتے ہیں کہ میں بچپن میں ہنسی مزاح کرنے والا بچہ تھا اور بہت زیادہ مذاق کرتا تھا۔ ہم دو بہن بھائی اور والدین تھے۔ میری بہن مجھ سے دو برس بڑی تھیں اور جب میں دو ڈھائی سال کا بچہ تھا تو میرے والدین کی علیحدگی ہوگئی تھی۔ یہ ایک مسیحی مذہبی گھرانا تھا اور ہم اکثر چرچ جاتے تھے اور چرچ سکول میں ہی پڑھتا تھا۔ میں اتوار کو اپنے پڑوسیوں کے ساتھ بائبل سکول بھی جاتا اور اس طرح مجھے بائبل کا مزید علم حاصل ہوا اور میں نے اپنے مذہب کے بارے میں سیکھا۔

میرا اسلام میں داخل ہونے کا قصہ کچھ یوں ہے کہ ایک دن میں اپنی بہن کے کمرے میں داخل ہوا اس کو تھوڑا تنگ کرنے کے لیے اوروہ اپنا سکول کا کام کررہی تھی۔ چھوٹا ہونے کی وجہ سے میں اسے ستاتا رہتا تھا تو اس نے مجھے اپنا میگزین دیا اور یہ کوئی مذہبی رسالہ نہیں تھا یہ قوموں کی عادات و اطوار اور رہن سہن کے متعلق تھا ۔ وہ مجھے بولی اس کو پڑھو اور کچھ جانو، تو میں لیکر اس کے کمرے سے نکلنے لگا تو وہ بولی نہ نہ، تم اس کو لیکر نہیں جاسکتے یہ میرا رسالہ ہے اوریہیں پر رہنے دو ۔ تو میں اس کے پلنگ پر بیٹھ گیا اور پڑھنے لگ گیا۔ یہ رسالہ لڑکیوں کے مختلف قصوں پر مبنی تھا اور ایک قصہ جس میں مختلف لڑکیوں کے اسلام لانے کے واقعات تھے جس کا عنوان تھا "میری زندگی میں جو دلچسپ چیز مجھے ملی۔"

یہ کہانی ایک لڑکی کی تھی جو اسلام لانے کے بعد "ارکان اسلام" ایمان اور مسلمان کو کن چیزوں کا اہتمام کرنا چاہیے، پر بات کر رہی تھی اور میں اس کہانی سے بہت متاثر ہوا۔ حالانکہ جہاں میں رہتا تھا ہمارے قریب عرب لوگ بھی رہتے تھے لیکن کبھی کسی نے اسلام کے بارے میں بات نہیں کی تھی اور یہ پہلی مرتبہ تھا کہ میں اسلام کے بارے میں پڑھا اور اس میں مسیحیت کا ذکر بھی تھا۔ میری دلچسپی مزید بڑھ گئی اور اسلام کی جن باتوں نے مجھے متاثر کیا وہ یہ کہ تم کہیں پر بھی رہو، عبادت کرسکتے ہو اور اس کے لیے تم کچھ خاص نہیں کرنا پڑتا۔ اسی بات نے مجھے کھینچ لیا جو کہ سادگی کی زندگی کا درس تھا اور میں نے دیکھا کہ اس میں نہ تو " تین ایک میں " (تھری اِن ون) اور نہ ہی کوئی حسابی کلیہ تھا۔ اسلام ایک نہایت ہی آسان دین، اللہ ایک ہے اس کی عبادت کرو، رسول اللہ ﷺ کے طریقہ کو اپناؤ اور ایک اچھے انسان بنو ۔

یہ ایک بہت آسان کلیہ تھا میرے لیے، تو میں گھر سے سائیکل پرنکلا اور لائبریری پہنچا۔ اسلامی کتابیں ڈھونڈنا شروع کیں، ایک سے دوسری اور دوسری سے تیسری لائبریری لیکن کچھ خاطر خواہ کتابیں نہ ملیں سوائے ارکان اسلام کے ۔ پھر ایک جگہ مجھے ایک کتاب ملی " اسلام ہی سیدھا راستہ ہے " اور یہ بہت مفید کتاب تھی اور اس کے مؤلف کو مختلف ادیان پرعبور حاصل تھا اور وہ بھی امریکی تھے۔ بہرحال، میں مزید کتابیں ڈھونڈتا رہا۔ یہ بات 1991ء کی ہے جس دور میں انٹرنیٹ نہیں ہوتا تھا۔ ایک سال میں کتابیں ڈھونڈتا رہا اور ان کے پیچھے وقت لگاتا رہا ۔

اس دور میں " ڈائریکٹری " ہوتی تھی اور میں نے اس میں سے اپنے شہر کے مذہبی مقامات کے فون نمبر اور پتے ڈھونڈنا شروع کیے اور جگہ لکھا تھا " اسلامی چرچ " اور اس کے نیچے پتہ لکھا تھا۔ یہ مسجد میرے گھر سے دو گھنٹے کی مسافت پر تھی یعنی گاڑی پر دوگھنٹے لگتے پہنچنے میں ، تقریبا ً 200 کلومیٹر اور اس ایک سال کے عرصہ میں اسلام میرے دل میں سرایت کرگیا تھا ۔

عصر کے بعد میں نے فون کیا اور کسی نے دوسری طرف سے فون اٹھایا ، ان کا نام عبداللہ فرض کرلیں:

عبداللہ: جی بولیے؟

شیخ جوبریڈفورڈ: میں اسلام قبول کرنا چاہتا ہوں

عبداللہ: ٹھیک تم مسجد آجاؤ

شیخ جو: میں کم عمر نوجوان ہوں اور میرے پاس گاڑی بھی نہیں ہے

عبداللہ: تو پھرمیں کیا کرسکتا ہوں؟ اور پھرفون بند!

میں تقریباً ہرروز فون کرتا اور مجھے اسی سے ملتا جلتا جواب ملتا۔ ایک دن میں نے فون کیا اور غصہ میں آگیا اور کہا کہ میں ہرروز فون کرتا ہوں اور تم لوگ میری کوئی مدد نہیں کررہے؟ تم یہ بتاسکتے ہو کہ میرے گھر کے قریب کوئی مسجد ہے؟

عبداللہ: نہیں، لیکن ایک " اسلامی مرکز " فلوریڈا میں ہے۔

شیخ جو: ٹھیک ہے، آپ مجھے پتہ اور فون نمبر دے دیں، میں نے فون کیا تو " خودکار ٹیپ ریکارڈ " سے جواب ملا کہ صرف اتوار کے دن مرکز کھلتا ہے۔ اور یہ مرکز ڈیڑھ گھنٹے کی مسافت پر تھا اور میں اکیلا سائیکل پر بھی نہیں جاسکتا تھا کم عمری اور دوری کی وجہ سے۔ اب میں نے اپنی بہن کو کہا کہ کیا تم مجھے فلاں مقام پر پہنچا دو گی؟

بہن: تم جانتے ہو کہ پٹرول خرچ ہوگا اور اس کے لیے رقم درکار ہوگی؟

شیخ جو: اس کے لیے میں نے دو ہفتے کام کیا اور رقم جمع کی اور پھر بہن سے کہا تو اس نے اتوار کے دن صبح ساڑھے 7 بجے وہاں اتار دیا ۔

اب میں باہر بیٹھا انتظار کر رہا تھا اور ایک گھنٹہ، پھر دو گھنٹے گزرے کوئی بھی نہیں آیا۔ مرکز کو تالا لگا ہوا تھا، اتنے میں ایک عورت آئی اور اس نے دروازہ کھولا اس کے ساتھ اس کا بچہ بھی تھا

عورت: کیا میں تمہاری کوئی مدد کرسکتی ہوں؟

شیخ جو: السلام علیکم !

عورت: وعلیکم السلام، تم مسلمان ہو؟

شیخ جو: نہیں

عورت: تو پھر تم نے سلام کیوں کیا؟

شیخ جو: میں اسلام سیکھ رہا ہوں اسی لیے سلام کیا ہے اور اسلام قبول کرنا چاہتا ہوں۔

عورت: اچھا ٹھیک ہے، انتظار کرو ۔

شیخ جو: میں باہر بیٹھا رہا اور لوگ آتے جاتے رہے ( باہر سے مراد مرکز کے باہر سڑک پر)۔ ایک گھنٹہ سے زیادہ گزر گیا اتنے میں ایک قدآور خاتون باہر نکلیں (وہ اب وفات پاچکی ہیں، اللہ ان کی مغفرت فرمائے) اور مجھے مخاطب کیا "اے لڑکے! یہاں آؤ"

میں قریب گیا

خاتون: تم کون ہو اور یہاں کیوں بیٹھے ہو؟

شیخ جو: میں اسلام قبول کرنے کے لیے آیا ہوں اور اسلام سیکھنا چاہتا ہوں۔

خاتون: اندر جاتے ہوئے میری نظر تم پر پڑی تھی، کب سے تم یہاں بیٹھے ہو؟

شیخ جو: میں صبح ساڑھے 7 بجے سے یہاں پر انتظار کر رہا ہوں

خاتون نے عورتوں کی طرف کا دروازہ کھولا اور بولی

خاتون: اے عورتو! "حسبی اللہ" یہ بچہ اگر واپس چلا جاتا تو تم سب جہنم میں جاتیں۔

شیخ جو: پھر مجھے کہا بیٹا میرے ساتھ اندر آؤ، اندر ایئرکنڈیشنر چل رہا تھا۔ مزید گھنٹے تک انتظار کیا اور پھر امام صاحب آئے ظہر کی نماز کے بعد مجھے بلایا گیا اور مجھ سے " شہادہ " کہلوائی عربی اور انگلش میں۔

یہ ایک چھوٹی مسجد تھی اور 100 سے 150 لوگ نماز پڑھ سکتے تھے اور ایک منظر نے مجھے متوجہ کیا وہ منظر کچھ یوں تھا۔ ایک بڑھیا آوازیں نکال رہی تھی اور اس کا ہاتھ ہل رہا تھا۔ وہ ایک شخص ( ڈاکٹر ایمن) کے کندھے پر ہاتھ رکھے میری طرف آرہی تھی سہارا لیتے ہوئے اور رو بھی رہی تھی۔ تو میں نے پوچھا ان کو کیا ہوا ہے؟ میں گھبرایا ہوا تھا۔

ڈاکٹر ایمن: ڈرو نہیں! یہ میری والدہ ہیں اور انہوں نے اپنی 70 سالہ زندگی میں آج سے پہلے کسی کو اسلام قبول کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔

شیخ جو: تو یہ رو کیوں رہی ہیں؟

ڈاکٹر ایمن: یہ خوشی سے رو رہی ہیں۔

میں چونکا اور کہا کہ تمہارے ہاں خوشی الگ ہے اور ہمارے ہاں الگ ۔ پہلی مرتبہ کسی کو خوشی سے روتے ہوئے دیکھا اور یہ میرے لیے تعجب سے کم نہ تھا ۔

پھر میں اسلام کے متعلق مزید سیکھتا رہا اور کبھی دل میں خیال بھی پیدا ہوتا کہ میں صحیح راستہ پر ہوں؟ اور سوچا کہ ابھی پڑھائی طرف توجہ دیتا ہوں اور 12 پاس کرنے کے بعد مزید مطالعہ کروں گا اور ایک دن "سورۃ الانبیا" (آیات 105 تا 107) پڑھ رہا تھا تو جب ان آیات پر پہنچا

وَلَقَدْ كَتَبْنَا فِي الزَّبُورِ مِن بَعْدِ الذِّكْرِ أَنَّ الْأَرْضَ يَرِثُهَا عِبَادِيَ الصَّالِحُونَ - إِنَّ فِي هَٰذَا لَبَلَاغًا لِّقَوْمٍ عَابِدِينَ - وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ -

اور ہم نے نصیحت (کی کتاب یعنی تورات) کے بعد زبور میں لکھ دیا تھا کہ میرے نیکوکار بندے ملک کے وارث ہوں گے۔ عبادت کرنے والے لوگوں کے لیے اس میں (خدا کے حکموں کی) تبلیغ ہے- اور (اے محمدﷺ) ہم نے تم کو تمام جہان کے لیے رحمت (بنا کر) بھیجا ہے (سورۂ انبیاء، آیات 105 تا 107)

تو ان کا رعب اور دبدبہ ایسا مجھ پر چھایا کہ بیان کرنے سے قاصر ہوں اور مجھے اس وقت اتنا شعور بھی نہیں تھا حتیٰ کہ ابھی تک میں نے ان آیات سے بہت اثر لیا اور یہ آیات "أَنَّ الْأَرْضَ يَرِثُهَا عِبَادِيَ الصَّالِحُونَ" زبور میں آج بھی موجود ہیں اور مجھے تقویت ملی کہ میں غلط کی بجائے صحیح راستہ پر ہوں اور " پوز نہیں بلکہ پلے " کرنا ہے۔ اسلام لانے سے پہلے میری کوئی امید نہیں تھی لیکن اسلام لانے کے بعد بہت سے امیدیں میری زندگی سے وابستہ ہوگئیں۔

میں نے " جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ " سے تعلیم کیسے حاصل کی؟ جب میں مسلمان ہوگیا اور مسجد آتا جاتا رہتا تھا۔ دو برس کا عرصہ غالباً گزر گیا تو ایک عمر رسیدہ شخص نے مجھے کہا کہ کہ بیٹا تمہیں اب ہجرت کرنی ہوگی۔ میں نے حیرانی سے پوچھا کہ مجھے کیوں اور کس لیے ہجرت کرنی ہوگی؟

بڑے میاں: اسلامی علوم اور دینی تعلیمات حاصل کرنے اور یہ سب کرکے امریکہ میں واپس آکر لوگوں کو بتانے اور سکھانے کے لیے، اور یہ اب تمہاری سب سے اہم مہم جوئی ہے ۔

شیخ جو: یہ پہلا شخص تھا جس نے مجھے یہ بات کہی اور پھر 95ء میں مجھے حج پر لے کر گئے اور شیخ بن باز رحمہ اللہ سے ملاقات کروائی اور انہيں میرے بارے میں کہا۔ شیخ نے اسی وقت خط لکھواکر " جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ " بھیج دیا اور ہم حج سے واپس آگئے کچھ عرصہ کے بعد ایک وفد " جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ " سے امریکہ آیا جنہوں نے آکر میرا امتحان لیا اور الحمدللہ مجھے قبول کرلیا گیا اور اس طرح میرا " جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ " میں علم حاصل کرنے کا سبب بنا اور واپس آکر میں نے دعوت و تبلیغ کو جاری و ساری رکھا اور ساتھ میں یہاں جامع ہیوسٹن میں "علوم شرعیہ " پڑھاتا ہوں، الحمدللہ!

قارئین کرام! آپ کو اس میں کئی مقامات پر اپنے مسلمان بہن بھائیوں کے عجیب رویے محسوس ہوئے ہوں گے اور آپ اندازہ لگائیں کہ ایک نوعمر اتنی بڑی طلب لیے پھر رہا ہے اور ہمیں اس کی کوئی قدر ہی نہیں اور نہ ہی ہمیں کوئی پروا ہے وہ دین حق کو پانے کے لیے مارا مارا پھر رہا ہے اور اس کی حالت شدید پیاسے کی سی تھی لیکن ہمیں اس سے کیا؟ وہ اس مقام تک پہنچنے کے لیے 2 ہفتہ تک مزدوری کر رہا ہے اور پھر وہاں پہنچ کر بھی ایک طویل انتظار وہ بھی گرمی میں؟ اللہ اکبر !

پھرخاتون کا یہ کہنا اے عورتو! " حسبی اللہ " یہ بچہ اگر واپس چلا جاتا تو تم سب جہنم میں جاتیں، تو یہ اپنی طرف سے تنبیہ میں ایسے الفاظ کہہ گئیں " حالانکہ نصوص میں ایسا کچھ بھی نہیں" لیکن انہوں نے جس انداز میں اکرام کیا وہ قابل رشک ہے

کیوں ہم نے رحمت اللعالمین ﷺ کی سیرت کو پس پشت ڈال دیا؟ کیوں ہم نے آپ ﷺ کے اخلاق کو بھلا دیا؟ کیوں ہم آپ ﷺ کی تعلیمات کو اپنانے کی کوشش نہيں کرتے ، الا ماشاءاللہ!

کل ہم نے اپنے رب کے سامنے اسکا جواب دہ ہونا ہے۔ اللہ تعالى سے ہمارى دعا ہے كہ وہ مسلمانوں كى حالت درست كرے اور ہم سب كو صحيح راہ كى توفيق نصيب فرمائے، يقيناً اللہ تعالى سننے والا اور قبول كرنے والا اور قريب ہے، اللہ تعالی ہمیں اس دین پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے کہ جس دین کو لیکر سیدالاولین و الاخرین ﷺ آئے اور جس پر صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین نے عمل کرتے ہوئے اپنی زندگیوں کو گزارا اور جنت کی بشارتیں پاتے ہوئے اس دنیا سے رخصت ہوئے اللہ تعالی ہمیں بھی ان کے نقشے قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے اور اللہ تعالى ہمارے نبى محمد صلى اللہ عليہ وسلم اور ان كى آل اور ان كے صحابہ كرام پر اپنى رحمتيں نازل فرمائے۔ آمین!

Comments

ابو حسن

ابو حسن

میاں سعید، کنیت ابو حسن، 11 سال سعودی عرب میں قیام کے بعد اب 2012ء سے کینیڈا میں مقیم ہیں الیکٹرک کے شعبے سے وابستہ ہیں۔ دین کے طالب علم اور اسلامی کتب و تاریخ سے گہرا لگاؤ رکھتے ہیں۔ دعوت الی اللہ اور ختم نبوت کو اپنا مقصد سمجھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */