علاؤ الدین خلجی سکندر ثانی یا لیلا کا تخیل - قادر خان یوسف زئی

بھارت میں انتہا پسندی کی مہم اس قدر شدت کے ساتھ رواں ہے کہ ہمیں اس کے مضمرات کو سمجھنے میں کافی وقت درکار ہوگا۔ گزشتہ دنوں ایک متنازع بھارتی فلم کی نمائش روکنے کے لیے ہندو شدت پسندوں نے بڑے مظاہرے کیے۔ فلم کے مرکزی کردار‌ کو حقیقت سے زیادہ رتبہ پانے والی میواڑ کی رانی پدمنی اور مسلم حکمران علاؤ الدین خلیجی کے کردار پر بنائے جانے والی فلم کو کسی چوں چرا کیے پاکستانی سنسر بورڈ نے نمائش کے لیے اجازت دے چکا ہے۔ زیادہ تر فلم شائقین اس بات سے قطع نظر کہ علاو الدین خلجی کی تاریخی حیثیت کا کتنا ناس کیا گیا ہے یہ دیکھنے کے لیے زیادہ مضطرب تھے کہ ’پدماوتی‘ کے ساتھ کیا ہوا ہوگا جو بھارت میں اتنا ہنگامہ برپا ہے۔ لیکن اب فلم بینوں کو سمجھ میں آرہی ہے کہ دراصل بھارتی فلم میں پدماوتی سے زیادہ مسلم حکمران کی طرز حکمرانی و انداز زندگی کو مسخ کیا گیا ہے، اصل احتجاج کا حق دراصل بھارتی مسلمانوں کا بنتا تھا کہ وہ اس فلم میں مسلم حکمرانوں کی شخصیت کو جاہل گنوار، ناپسندیدہ اور شیطانی دکھانے پر احتجاج رقم کراتے۔ لیکن حیرت انگیز طور پر ہندو شدت پسندوں نے احتجاج و مظاہرے سمیت دھمکیاں دے کر اس جانب کسی کی توجہ ہی مبذول نہیں کرانے دی کہ اصل میں زیادتی تو علاؤ الدین خلجی کے ساتھ ہوئی۔ 200 کروڑ روپے کی لاگت سے تیار ہونے والی فلم میں تمام مصالحے بدرجہ اتم موجود تھے۔ سب سے بڑھ کر فلم کو اتنا متنازع بنادیا گیا تھا کہ اسکرپٹ، کلائمکس معلوم ہونے کے باوجود ایک بار فلم دیکھنے کی اشتہا تو خوب ابھرتی آتی ہے۔

مملکت دہلی پر غِلزئیوں کی حکمرانی جیسے غیر افغان خلجی بھی کہا جاتا ہے۔ شہاب الدین غوری کے بعد خلجی مملکت کے بانی جلال الدین خلجی اور اس کے بعد آنے والے سلاطین ِ ہند کی بہادری و فتوحات کا ذکر تاریخ میں بڑی تفصیل کے ساتھ موجود ہے۔ خلجی حکومت کے بانی جلال الدین خلجی کے کئی معرکوں کے ذکر کے بجائے ایک تاریخی معرکہ کا ذکر کرنا ضروری ہے۔ 1293ء میں ہلاکو خان کے نواسے کو ڈیڑھ لاکھ منگولوں کے ساتھ شکست دی تھی۔ چنگیز خان کا نواسہ الغو خان جو اُسی جنگ میں شامل تھا ایک لاکھ منگولوں کے ساتھ مشرف بہ اسلام ہوگیا تھا۔ جسے جلال الدین خلجی نے اپنا داماد بنا لیا۔ بڑے نامور حکمرانوں میں علاؤ الدین خلجی نہ صرف افغانستان اور ہندوستان بلکہ دنیا کے چند عظیم حکمرانوں میں شمار ہوتا تھا۔ بیشتر غیر جانب دار مورخین اُسے ہندوستان کا عظیم ترین حکمران مانتے ہیں۔ عہد اکبری اور جہانگیر کے ابتدائی پانچ برسوں کے دُور کے مورخ محمد قاسم فرشتہ اپنی تاریخ جلد اوّل، صفحہ 392میں لکھتے ہیں کہ"علاؤ الدین خلجی کے عہد میں 84 فتوحات ہوئیں، بغاوتوں اور سرکشیوں کا قلع قمع ہوا، کثرت سے مساجد، خانقاہیں، قلعے، تالاب بنوائے گئے، اہل فن، بزرگان ِ دین اور اولیا ء کی بڑی تعداد تھی۔ جاسوسی، مُخابرت، نرخ بندی، مالیہ اور اشیا ء خوردنی کی فراوانی تھی۔ شراب نوشی پر جیسی سخت پابندی تھی ہندوستان کے کسی حکمران کے عہد میں ایسا نہ تھا۔ " کیرو دی پٹھان کے صفحہ 129 پر لکھتا ہے کہ "ہندوستان کی تمام تاریخ میں علاؤ الدین خلجی سے پہلے مسلمان، ہندو، راجپوت، مُوریہ، بدھ حکمرانوں اور اُس کے بعد ترک، سَیّد، افغان، مغل یہاں تک کہ انگریز دور حکومت میں بھی علاؤ الدین خلجی سے عظیم اور کامیاب حکمران نہیں گزرا۔ اُس نے جس شاندار اور بہترین انتظامیہ اور مالیہ کے نظام کی بنیاد رکھی انہی خطوط پر اُس کے بعد شیرشاہ سُوری اور اکبر گامزن ہوئے۔ " لیونیل من مختصر تاریخ عالم کے صفحہ94میں لکھتا ہے کہ " علاؤ الدین خلجی نے سلطنت کو عین عروج تک پہنچایا تھا۔ "

یہاں پر علاؤ الدین خلجی کی ریاستی امور پر گرفت اور طرز حکمرانی کو سموتے ہیں کہ دریائے شور سے بنگال، تلنگانہ، مالابار، سندھ، سیوستان یا بلوچستان، کابل، کشمیر اور گجرات کے علاوہ مملکت کے جس گوشے میں جو، جس وقت، جس قدر قیمتی سامان لے جاتا، ڈاکوؤں اور چوروں کا خطرہ ہی نہ تھا۔ جنگلوں میں بھی مسافر سونے اور اشرفیوں سے بھری تھیلیوں کے ساتھ چین کی نیند سوجاتے۔ یہ طرز حکمرانی کی اپنی مثال آپ ہے جس کی نظیر ہمیں تاریخ میں بہت کم دیکھنے کو ملتی ہیں۔ شراب نوشی سے پہلے خود تائب ہوا اعلانیہ توبہ کی اور تمام سلطنت میں موجود بے شمار شراب حُکما زمنیوں میں لنڈھا دی، شراب کے تمام برتن توڑ ڈالے، شراب کے سونے چاندی کے برتن پگھلا کر شاہی ٹکسال میں سکّے بنا لیے، عیش و نشاط، شراب نوشی کی محفلیں اس طرح اُجڑیں کہ مملکت میں مکمل طور پر شراب نوشی ختم ہوگئی۔ جاسوسی کے بہترین نظام جیسے ایجنسیوں کی اصطلاح میں سی 3 اور بسا اوقات اے 1 کہا جاتا ہے، نافذ العمل تھا۔ اب یہ سب تو اس وجہ سے نہیں ہوا ہوگا کہ علاؤ الدین خلجی نے پدماوتی کو پانے میں ناکامی کے بعدنا مُراد عاشقی کے غم میں ڈوب کر خو د کو تبدیل کرلیا تھا۔ علاؤ الدین خلجی سے جڑی گجرات کی ہی نہایت خوب صورت رانی کنولا دیوی کو فراموش کیونکر کیا جاسکتا ہے جیسے علاؤ الدین خلجی نے 1297ء میں گجرات کی فتح کے بعد اپنے حرم میں داخل کرلیا۔ 1302ء دیو گری کی فتح کے دوران کنولا دیوی کی بیٹی دیول دیوی سے علاؤ الدین خلجی کے بڑے بیٹے اور ولی عہد خضر خان نے شادی کرلی تھی۔ ان دونوں کی محبت کا شہرہ پوری سلطنت میں اس قدر پھیل گیا تھا کہ امیر خسروـؔ نے متاثر ہوکر اچھی خاصی مثنوی لکھ ڈالی تھی۔ علاؤ الدین خلجی برصغیر کا واحد حکمران ہے جیسے آج تک کسی بھی (84) جنگ میں شکست نہ ہوئی۔

علاؤ الدین خلجی کی چند بڑی فتوحات کا اجمالی جائزہ لیں تو ہمیں اس بہادر حکمران کی قوت و سطوت کا اندازہ لگانے میں چنداں دشواری نہیں ہوگی۔

  • تخت نشین ہوتے ہی علاؤ الدین خلجی نے جلال الدین خلجی کے بیٹے ارکلی خان اور داماد الغُو خان کو شکست دی۔ جلال الدین خلجی کے حامی ترک سرداروں کو شکست فاش دی۔
  • 1296میں جالندھر کے قریب دوّا خان کی قیادت میں ایک لاکھ منگولوں کو شکست دی۔
  • 1207ء میں گجرات کو فتح کیا۔ 1298ء میں نومسلم منگولوں نے بغاوت کرکے نگراں حاکم اعزاز الدین کو قتل کردیا تھا۔ علاؤ الدین خلجی نے انہیں عبرت ناک شکست سے دوچار کرکے سزائیں دیں۔
  • 1299ء میں خواجہ قتلق منگول کے دو لاکھ جنگجوؤں کو شکست سے دوچار کیا۔ علاؤ الدین خلجی کے لشکر کی تعداد تین لاکھ تھی، ہندوستان کی تاریخ میں اس لڑائی کو سب سے خوفناک اور سخت ترین لڑائیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ 5لاکھ فوجوں کی باہمی جنگ کی مثال برصغیر کی تاریخ اور افغانستان میں بھی نہیں ملتی جب دونوں فریقین لاکھوں کی تعدا د میں خوفناک جنگ کررہے ہوں۔
  • علاؤ الدین خلجی نے1300ء میں سیوستان (بلوچستان) اور سندھ میں فتح کے جھنڈے گاڑے۔ 1301ء میں رنتھنبور کے راجہ ہمیر دیو کو دولاکھ جنگجوؤں کے ساتھ شکست دی۔
  • 1301ء میں علاؤ الدین خلجی کے بھتیجوں امیر عمر اور منکو خان نے جواودھ اور بدایُوں نے دہلی میں علاؤ الدین خلجی کو جنگ میں مصروف پا کر بغاوت کردی۔ یہاں بھی علاؤ الدین خلجی نے بغاوت فرد کی۔
  • 1305ء میں مالوہ پر قبضہ کرلیا۔ مالوہ ہی کی فتح کے دوران مشہور عالم ہیرا ’ کوہ نور ‘ علاؤ الدین خلجی کے ہاتھوں لگا۔ یہ ہیرا 1526 ء تک افغانوں اور 1739ء تک مغلوں کے پاس رہا۔ 1739ء نادر شاہ افشار نے محمد شاہ رنگیلا سے چھین لیا۔ 1747میں احمد شاہ ابدالی کے قبضے میں آیا۔ 1803ء میں احمد شاہ ابدالی کا پوتا شاہ شجاع شکست کے بعد ہیرا چُرا کر ہندوستان میں رنجیت سنگھ کے پاس چلا گیا۔ 1812ء میں رنجیت سنگھنے اس سے کوہ نور ہیرا کو ہتھیا لیا۔ 1849ء میں انگریزوں نے پنجاب فتح کیا اور لارڈ لہوزی کے ہاتھ کوہ نور ہیرا لگا، جو اب تک برطانوی حکومت کے پاس ہے۔
  • 1305ء تک تمام دکن شمالی ہندوستان اور اجین پر علاؤ الدین خلجی فتح کرچکا تھا۔
  • 1306ء میں چنگیز خان کے نواسے اور خواجہ ترپال کے مشترکہ افواج کو علاؤ الدین خلجی نے شکست دی۔
  • 1307ء میں خواجہ ترپال اور منگولوں کی تباہی کا بدلہ لینے والی امیر گنگ کی فوج کو شکست دی۔
  • 1307ء دیو گری کے راجہ چندر دیو کو شکست دی۔
  • 1307ء اقبال مند کو منگولوں کے ساتھ شکست دی۔
  • 1308ء کوہستان کے راجہ کرن کو کثیر التعداد فوج کے ساتھ شکست دی۔
  • 1308ء میں ہی دیو گڑھ کے راجہ رام دیو کو شکست دی۔ دیو گڑھ کا نام بعد میں محمد تغلق نے دولت آباد رکھ اپنا دارالخلافہ منتقل کردیا۔
  • 1309ء میں سیوا کے راجہ ستیل دیو کو شکست دی۔
  • 1309ء میں ایک تقریب کے دوران علاؤ الدین خلجی نے دربار میں موجو د مہاراجوں سے کہا کہ"میرا خیال ہے اب ہندوستان کا کوئی راجہ مجھ سے نہیں الجھے گا۔ "
  • 1309ء ہی میں تلنگانہ اور رنگل فتح کیے۔
  • 1310ء میں وار سمندر اور مبصرہ وغیرہ فتح کیے۔

اس طرح کی متعدد فتوحات و بغاوتوں کا سر کچلنے والے کا نام علاؤ الدین خلجی ہے۔ علاؤ الدین خلجی، بہلول لودھی، سکندر لودھی، شیر شاہ سوری، مالوہ کے سلطان محمود خان خلجی اور دیگر بڑے افغان اور مغل حکمرانوں میں نمایاں فرق یہ کہ افغان حکمرانوں کے ہاں وزیر، مشیر، امیر، حاشیہ بردار اور نو رتن جیسے غیر ضروری سلطنت اور خزانے پر بار و وقت ضاؤ کرنے والے بے کار لوگ نظر نہیں آتے، جوکہ اپنے عہدوں کی آڑ میں پس پردی حکمرانی کرتے نظر آتے تھے۔ اب سینما میں بیٹھ کر علاؤ الدین خلجی جیسے بہادر حکمران کو دیکھنے کے بجائے ایسا حکمران کا نقشہ دیکھنا کیوں کر ممکن ہے کہ لیلا کا تخیل نے ایسا حکمران پیش کیا ہے جیسے کھانے پینے کی کوئی تمیز نہیں، لمبے بالوں والا جنگلی، مکار شیطانی قہقے مارتا ہواجیسے کوئی منگول خونخوار حکمراں ہو۔ یہ دیکھ کر دھچکا لگے کہ کیا یہ وہی علاؤ الدین خلجی ہے جسے مورخ سکندر ثانی کا درجہ دیتے ہیں جس نے اپنی سلطنت میں جس قدر بہترین انداز میں انتظام و انصرام کیا وہ ’ لیلا ‘ کا کینہ پرور اور بے رحم دکھایا جانے والا ولن ہے جو اپنے مقابل ہیرو کی خوبصورتی کو بڑھانے کے لیے بدصورتی کے لیے بد نما نقوش کے ساتھ جلوہ گرہے۔ ’ لیلا ‘ کیا بتانے کی کوشش کررہے ہیں کہ مسلم حکمران کیسے ہوا کرتے تھے اور غیر مسلم حکمران کس قدر نفیس، خوش اخلاق اور معاشرتی اقدار و روایات کے پابند پختہ روایات کے حامل ہوا کرتے تھے۔ کیا ’ لیلا ‘ نے ہندوستان میں تو وہ تاریخی عمارتیں و قلعے نہیں دیکھے جو مسلم حکمرانوں کے ذوق و شوق و نفاست او ر آداب معاشرت کی گواہی آج بھی دیتی ہیں۔ پھر اس قدر شدت پسندی کا نظریہ کسی تفریحی فلم میں کیوں دیا گیا جس سے ہندوستان میں موجود مسلمانوں کی مشکلات میں اضافہ ہو۔ بلا شبہ فلم، ٹی وی و اسٹیج کے ڈرامے، خالصتاََتفریح اور ذہنی سکون کے ساتھ کاروبار میں ملنے والے متوقع منافع کو دیکھ کر بنائے جاتے ہیں لیکن مخصوص مائنڈ سیٹ کے ساتھ اس طرح کی کردار کشی دلوں میں ٹھیس بھی پہنچاتی ہے۔ خلیج میں اضافہ کرتی ہے اور مسلم دشمنی کو ہوا دیتی ہے۔ کسی قوم کی شخصیت کو مسخ کرتی ہے اور منفی پروپیگنڈوں کا ایک حصہ کہلاتی ہے جو یقیناََ اس قابل نہیں ہے کہ کسی کی حوصلہ افزائی ہو اور نوجوان نسل جو تاریخ سے کماحقہ واقف نہیں غلط منظر کشی کے پروپیگنڈوں کا شکار ہوکر اسلاف کی خوبیوں سے زیادہ گھڑی جانے والی خرابیوں کو جانیں۔ تاریخ پر بنائی جانے والی فلم، ڈرامہ یا دستاویزی فلم ہو، کہانی کار و پروڈکشن کمپنی کو اس بات کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے کہ اس کی کاوش صرف مخصوص نکتہ نظر والوں کے لیے ہے تو پہلے سے یہ بھی بتادیا جائے کہ فلم بالغوں کے علاوہ کون کون دیکھ سکتا ہے۔

جب یہ بتایا جاسکتا ہے کہ فلم میں کیا کیا نہیں ہے تو ایسے بھی بتانے میں کوئی حرج نہیں تھا کہ یہ مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو مجروح بھی کرسکتی ہے لہٰذا مسلمان دیکھنا چاہیں تو انہیں فلم کے بعد کہانی کے کرداروں پر تنقید کا کوئی حق نہیں کیونکہ فلمساز، ہدایت کار یہ دعویٰ کرتا ہے کہ اُس نے گہرے مطالعے کے بعد اسکرین پلے، مکالمے والی کہانی لکھی تھی۔ چونکہ پاکستانی سنسر بورڈ نے بغیر کسی قطع برید کیے فلم کو پاکستان میں نمائش کی اجازت دی اس لیے یہ سوال کرنے کا حق تو بنتا ہے کہ کیا اس فلم میں علاؤ الدین خلجی سکندر ثانی تھا یا ’لیلا‘ کا تخیل۔

اس تخیل کا پس منظر بھارت میں جاری شدت پسندی کی وہ سوچ ہے جس سے بھارت کے ہدایت کار و فلمساز بھی نہیں بچ سکے ہیں۔ اس بھارتی فلم کے ہدایت کار اس سے پہلے بھی ایک متنازع فلم میں ایک ہندو حکمران کی محبت میں گرفتار ایک مسلم ریاست کی رانی کا ازخود جانے اور محبت کی کہانی فلمانے پر تنازعات کا شکار ہوچکے ہیں۔ باجی راؤ مستانی کے کردار کو لیکر لیلا سنجے بھنسانی نے اسی نظریے کو مد نظر رکھا تھا جس میں کسی ہندو راجہ کو کسی مسلم پر فوقیت دیکھائی جائے۔ دکھایا گیا تھا کہ باجی راؤ اور مستانی کا معاشقہ ایک تاریخی حقیقت ہے اور وہ دور پیشوائی تاریخ کا ایک ہنگامہ خیز دور رہا ہے مگر یہ کس قدر تعجب کی بات ہے کہ پیشوائی عہد کے ریکارڈز اور تاریخ کے اوراق اس واقعے کے باب میں خاموش نظر آتے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ اس پر تاریکی کے پردے ڈال دیے گئے یا اسے قصداً چھپانے کی کوشش کی گئی۔ واقعہ آج سے 260سال پہلے کا ہے، زیادہ پرانا بھی نہیں۔ پیشوائی عہد کے جو سرکاری کاغذات دستیاب ہوئے ہیں ان میں پیشواؤں کی روزمرہ زندگی اور مختلف تقریبات و تہواروں کا تفصیلی ذکر تو ملتا ہے، یہاں تک کہ ان کے شکار، شادی بیاہ کی رسموں اور گھریلو تقریبات کا ذکر تو موجود ہے لیکن کاغذوں کے اس ڈھیر میں ’’مستانی‘‘ کا ذکر تو کیا اس کی طرف ہلکا سا اشارہ بھی نہیں ملتا۔ ایک عرصے تک یہ معلوم نہ ہوسکا کہ مستانی کون تھی؟ کہاں کی رہنے والی تھی؟ ہندو تھی یا مسلمان؟ لیکن جوں جوں وقت گزرتا گیا پیشوائی دور کی تواریخ، ڈائریاں، روزنامچے اور نثر و نظم کی بیاضیں منظر عام پر آنے لگیں۔ باجی راؤ اور مستانی کے بارے میں مختلف النوع معلومات حاصل ہوتی گئیں۔ محققوں کی رائے ہے کہ اس معلومات کا زیادہ تر حصہ تخیلاتی (Imaginary) ہے۔ اب بھارتی ہدایت کار کی یہ دوسری متنازعہ فلم کے ماخذ بھی زیادہ تر معلومات کا زیادہ تر حصہ تخئیلی ہے۔ ضرورت اس امر کی تھی کہ فلموں میں مسلم نام کے کرداروں کو مسخ کرکے اپنے تخیل اور ہندوشدت پسندی کے نظریئے سے بالاتر ہو کر صرف تفریح کی حد تک ہی محدود رکھا جائے تو بہتر ہے۔ ویسے بھی فلمی دنیا کے لیے موضوعات کی کوئی کمی نہیں ہے۔ خاص کر بھارت میں تو کہیں سے بھی ایک پتھر اٹھائیں تو اس کے نیچے سچی کہانیوں کا پورا اسکرین پلے مل جاتا ہے۔ یہ بھارتی فلم انڈسٹری کا وتیرہ بن گیا ہے کہ فلم میں کسی غیر مسلم کو پُر کشش، بہادر اور نمایاں دکھانا ہو تو چاہے وہ پاکستان کی زیرہ ہو یا بھارت کا ویر، جیتنے کی خواہش شدت پسندی کو لیکر ہی ایسی فلموں کو جنم دیتی ہے جس میں سوائے مسلمانوں کی تضحیک کے علاوہ کچھ نہیں ملتا۔ صاف عیاں ہوتا ہے کہ جہاں فلمساز بھارت میں ہندو شدت پسندی کے رخ سے اپنی تجوریوں کے منہ بھرنا چاہتے ہیں انہیں اس سے کوئی سروکار نہیں ہوتا کہ ان کی مخالفت کرنے والا کون ہے۔ یہی رویہ کسی ایک اچھی فلم کو بھی متنازعہ بنا دیتا ہے۔ چاہے اُس کا تعلق کسی سے بھی ہو لیکن غیر جانب داری برتنا ناگزیر ہوجاتا ہے کیونکہ یہ خود بھارت کے لیے نقصان دہ ہے۔