سجو - عظمیٰ ظفر

"آئے ہائے سب خراب کردیا ، بیڑا غرق ہو تیرا، چل بھاگ ادھر سے ہش ہش…! بلی لاڈو نے پالی ہے اور نقصان میرا ہوتا ہے۔"

صحن میں بچھی چادر پر اماں نے پاپڑ سوکھنے ڈالے تھے، گھڑی بھر کے لیے باورچی خانے میں کیا گئیں؟ پیچھے سے بلی نے کیٹ واک کرکے پاپڑوں کی بلے بلے کردی تھی۔ اب پچھلے دس منٹ سے وہ سجو اور اس کی پیاری بلی کی ایسی کی تیسی کر رہی تھیں۔ سجو نے پہلے تو تکیہ اپنے کان پر رکھ کر کروٹ بدلی مگر اماں کی آواز مسجد کے لاؤڈ اسپیکر سے زیادہ اچھی تھی جو ان کی زبانی کمرے تک پہنچ رہی تھی۔

"نی…سجو! دن چڑھ آیا اٹھ جا! جائی نا سسرال تینوں لگ پتہ جاوے۔" ایسے طعنے اماں دن میں چار بار تو دیتی ہوں گی. سجو کو کچھ برا لگے نا لگے سسرال کے نام پر آگ ضرور لگ جاتی تھی۔ جھٹ اٹھ بیٹھی ۔ چپل پاؤں میں ڈالی اور گھسیٹتی باہر نکل آئی۔

"کیوں شور ڈالا ہوا ہے اماں تونے سویرے سویرے؟"

"ماں صدقے! خیر سے سورج چمک رہا ہے پتر، سب چرند تے پرند کم تے لگ گئے، بس تو ستی رہ پلنگ تے۔"

"اف اماں پتہ ہے مینوں چرند پرند دا او کم تے لگ گئے، ماسی جیراں کے گھر سب کام مک گئے ہوں گے۔ پروین چاچی کی بہو نے کھانا بھی پکا لیا ہوگا اس کے چھ سات ننھے کاکے مٹی میں کھیل رہے ہوں گے۔ بےبے تندور پے روٹیاں ڈال رئی ہوگی۔ سب ویلے چنگے تے اک میں ہی جھلی آں…" سجو نے ہاتھ ہلا ہلا کہ دن بھر کی روداد خود ہی نشر کردی، اس سے پہلے کہ اماں یہ تفصیل اسے ہر روز کی طرح بتاتیں۔

"ہا ہائے، نی سجیلہ! کنی گز بھر زبان ہوگئی تیری شہر جاکے؟"

اس نشریات کو پڑوس والی رانی بڑے مزے سے دیوار سے لگ کر دیکھ رہی تھی اس کے منہ سے ہنسی کا فوارا جاری ہوگیا۔ سجو جو پہلے ہی غصے میں بھنی بیٹھی تھی اس کی ہنسی سن کر تو اور بھڑک گئی "تجھے اور کوئی کم نئیں؟" جب سے رانی کی بات پکی ہوئی تھی سجو کو تو وہ اور بھی بری لگنے لگی تھی۔ کالی بتھنی پکوڑی ناک والی رانی جس کا منگیتر سعودی عرب میں الیکٹریشن تھا اور رانی ایسے فخر سے اس کے قصیدے پڑھتی جیسے وہ وہاں کا ولی عہد ہو۔دل ہی دل میں رانی کو القابات سے نوازتی جمائیاں لیتی وہ اندر آگئی۔

ماگھ کا مہینہ ختم پہ تھا ، سارے کسان اب مکئی کے لیے اپنی اپنی زمینیں تیار کر رہے تھے۔ مکئی ان کے لیے چاندی تھی اور کپاس اور گندم سونا، مگر ان فصلوں میں جان توڑ محنت لگتی تھی اور پیسے اس کے مقابلے میں کچھ نہیں ملتے تھے۔ سجو نے اپنی زندگی میں اماں ابا کو محنت کرتے ہی دیکھا تھا، ابھی کچھ ہی سال تو ہوئے تھے جب رانی کے منگیتر نے ابا کو بھی سعودی عرب بلا لیا تھا۔ ابا پہلے شہر میں ڈرائیوری کرتا تھا۔ ابا کے دو ہی خواب تھے پکا گھر اور سجو کی پڑھائی، وہ اسے ڈاکٹر بنانا چاہتا تھا مگر سجو نے اتنی ہی محنت کی، جتنی بمشکل پاس ہونے کے لیے چاہیے ہوتی ہے۔ لہٰذا میڈیکل کالج میں جانے کے بجائے سجو بی اے، بی ایڈ کرکے ڈاکٹر تو نہ بن سکی، ٹیچر بن گئی مگر زبان کی تلخی اور بڑھتی عمر نے مزاج میں تیزی بڑھا دی تھی۔ جب کبھی چھٹیوں میں ہاسٹل سے گھر آتی تو کچھ دن اچھے گزرتے پھر ماں بیٹی کی دوستی کم کم ہی نظر آتی۔ کمرے میں جیسے واپس آئی اس کا فون بج اٹھا "سلام ابا!" چہرے پہ خوشی دوڑ گئی۔

یہ بھی پڑھیں:   باس اور مزدور کا رشتہ - ظریف بلوچ نومبر

"جیئندی رہ پتر! کیسی ہے تو؟ او ماں نال لڑائی تو نہیں ہوئی؟ دوستی ہوگئی ہے نا پتر؟" ابا کی عادت تھی جب بھی بولتے اپنی ہی بات کرتے دوسروں کی کم سنتے تھے۔

"کدو…" سجو نے مایوسی سے کہا، "اماں صرف ڈانٹتی ہے ابا!" سجو نے منہ بنا کر کہا۔

"نا پتر کدو نئیں کیندے، اے تو وہ سبزی جو ساڈے رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دی پسندیدہ ہے پتر! مذاق نہ اڑائیں۔ چل معافی مانگ شاباش میرا بچہ!" سجو نے کانوں کو ہاتھ لگایا۔

ڈھیر ساری باتیں اماں کی شکایتیں لگا کر سجو کو تسلی ہو گئی تھی۔ "اچھا ابا! میں دو دن بعد لاہور واپس جا رہی ہوں، اپنا بہت خیال رکھنا۔" اس کی بھوک بھی چمک گئی تھی اس لیے کمرے سے باہر نکل آئی دھوپ پورے صحن میں پھیل گئی تھی۔ باورچی خانے کی طرف جاتے ہوئے اماں کے کمرے سے گزری تو کھلی کھڑکی سے اسے اماں نظر آئیں جو ٹرنک کھولے کپڑے پلنگ پر رکھ رہیں تھیں۔ زرق برق ریشمی کپڑے رضائیاں اور جانے کیا کیا نم آنکھوں سے اماں ان کپڑوں کو رکھتی جا رہی تھیں۔ شاید ان کا ارادہ ان جاتی سردیوں میں کپڑوں کو دھوپ لگانے کا تھا۔ سجو کی بھوک اچانک ختم ہوگئی یہ سارے کپڑے اماں تھوڑا تھوڑا کرکے جمع کر رہیں تھیں کہ ادھر سجو کے جوڑ کا رشتہ ملے، ادھر وہ اس کے ہاتھ پیلے کریں مگر اس کے خاندان میں کب کسی لڑکی نے شہر جاکر پڑھائی کی تھی اور اب نوکری بھی کررہی تھی؟ یہ تو ابا کاخواب تھا ورنہ اماں نے خوب شور مچایا تھا برادری والوں نے الگ باتیں بنائی تھیں۔ سجو لاکھ ماں سے بدتمیزی سے بات کرتی مگر وہ ان کا دکھ سمجھتی تھی لیکن وہ کر بھی کیا سکتی تھی؟ یہ اسکول کامسئلہ تو تھا نہیں کہ وہ ڈانٹ کر سب سیدھا کردے، جو رشتے آتے وہ کبھی اسے پسند نہ آتے تو کبھی ابا کو انکار ہوتا۔ اسی ہاں ناں میں سجو کے بالوں میں چاندی اترنے لگی تھی اور اماں کے سر میں سفیدی۔ وہ پلٹنے لگی تو اماں کی بڑبڑاہٹ نے رکنے پرمجبور کردیا۔

"اک میں ہی رہ گئی ہوں باتیں سننے کو، باقی سب اپنی اپنی دنیا وچ موجاں کرو۔ سارا پنڈ کہندا اے کہ بیٹی کی کمائی کھاندی ہے، اے دن وی ویکھنا تھا مینوں۔ ان باپ بیٹی کی تو مت ہی ماری گئی ہے۔ ڈاکٹر وکیل تو آنے سے رئے ساڈی سجو کو لے جانے، اب رانی کا بھائی بھی پسند نہیں آیا فریدے کو۔" اماں نے ابا کانام لیا "او… کیا ہوگیا جو وہ مکینک ہے گاڑیوں کا؟ سارا کام آتا ہے لاکھوں نہیں تے ہزاروں تو کماندا ہے۔ ہر رشتے میں انکار، سجو کی عمر نکل جائے گی تو کون پوچھے گا؟ اس کی عمر ساری لڑکیاں ویاہ گئیں کاکے والی ہوگئیں۔ ہائےمیرے ربا!"

یہ بھی پڑھیں:   باس اور مزدور کا رشتہ - ظریف بلوچ نومبر

اماں کا شکوہ جاری تھا۔ سجو وہاں سے آگے بڑھ گئی۔ سجو کے لیے سوچ کا ایک سمندر کھلا تھا ایک طرف اس کی نوکری تھی، دوسری طرف ایک اہم فریضہ آج تک تو وہ بھی مختلف بہانے بنا کر اس بات کو نظر انداز کر رہی تھی کہ کوئی اس کے جوڑ کا نہیں آہستہ آہستہ اس کے ساتھی کو لیگ کی بھی شادیاں ہو گئیں۔ کچھ ہنسی خوشی نوکری پر آ بھی رہی تھیں، کسی نے خیر باد کہہ دیا۔ سجو اکثر اسٹاف روم میں اپنی شادی کے حوالے سے ہونے والی باتوں کو سنتی رہتی تھی اس لیے کبھی کبھی وہ بھی چڑ جاتی۔ اصل دھچکا تو اسے جب لگا جب ایک ٹیچر نے ایک جاننے والے کا رشتہ بتایا جس کی بیوی فوت ہوچکی تھی۔ دکھ تو اسے اس دن بھی بہت ہوا جب کسی اسٹوڈنٹ نے اپنی دوست سے کہا دیکھنا تم مس سجیلہ تو ریٹائرمنٹ کے بعد ہی اس اسکول کی جان چھوڑیں گی، ان کی شادی نہیں ہونے والی ہر وقت غصے میں جو رہتی ہیں۔

سجو نے اس دن بڑی دیر تک آئینے میں خود کو دیکھا، کیا وہ اتنی عمر رسیدہ ہو گئی تھی؟ ستواں ناک، بے داغ چہرہ، کچھ بگڑا تو نہیں تھا البتہ مزاج کی کرختگی نے ماتھے پر کئی سلوٹوں کا اصافہ کردیا تھا۔ اس مرتبہ سجو جب چھٹیوں پر گھر آئی تو بار بار اماں سے لڑ پڑتی، بھڑک اٹھتی ابا نے بھی پہلی مرتبہ اس سے کہا تھا کہ اب وہ نوکری چھوڑ دے اور اپنی ماں کی بات مان لے۔ سجو کھلے صحن میں بچھی چارپائی پر بیٹھی دور لگے ککروندے کی جھاڑ کو دیکھ رہی تھی۔ ککروندے اسے پسند تھے کچھ کھٹے کچھ میٹھے سجو کو لگا کہ وہ بھی تو ایسی ہے کبھی کڑوی کبھی میٹھی۔

اماں کی آواز نے پھر اس کا احاطہ کیا… " آج میں جندہ ہوں تو بے فکری سے گھومتی رہتی ہے، کل کو مر جاؤں تو کون پوچھے گا جوان جہان کو؟ سوہنڑے ربا! میری سجو کو میری حیاتی میں اس کے گھر دا کردے۔" ماں کی دعا تھی یا پگھلتی موم جس نے سجو کو اندر سے نرم کردیا تھا۔ دو دن بعد اس نے جانا تھا سوچ کی رفتار بڑھا کر اس نے سب کچھ سوچا بچپن سے اب تک ماں سے اونچا ہی بولا تھا، نخرے دکھادکھا کہ ہر کام کروائے تھے اور ویسے بھی اس کے کون سے اونچے خواب تھے جن کے پورے نہ ہونے سے اسے تکلیف ہوتی؟ ساری زندگی ماں کو دکھ دیا تھا، اس کوخوشی دے دوں تو کیا برا ہوگا؟ یہ خوشی تو سجو کا بھی حق ہے تو کیوں وہ اس سے دور رہے؟ کہیں ایسا نہ ہو کہ کل کو دوسرے لوگ اپنی بچیوں کو یہ سوچ کر تعلیم نہ دلوائیں کہ لڑکیاں پڑھ لکھ کر ماں باپ کی بات نہیں مانتیں یا شہر جاکر آزاد خیال ہوجاتی ہیں۔

سجو کے ماتھے کی سخت لکیریں ایک ایک کرکے مٹنے لگی تھیں ابا تو ویسے بھی سجو کی رضامندی چاہتا تھا۔ یہ سب سوچ کر سجو نے فیصلہ رانی کے بھائی کے حق میں دے دیا تھا اور وہ اماں کے کمرے کی جانب چل دی تھی۔

Comments

Avatar

عظمیٰ ظفر

عظمیٰ ظفر روشنیوں کے شہر کراچی سے تعلق رکھتی ہیں۔ اپلائیڈ زولوجی میں ماسٹرز ہیں ، گھر داری سے وابستہ ہیں اور ادب سے گہری وابستگی رکھتی ہیں۔ لفظوں کی گہرائی پر تاثیر ہوتی ہے، جو زندگی بدل دیتی ہے، اسی لیے صفحۂ قرطاس پر اپنی مرضی کے رنگ بھرتی ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.