پارلیمنٹ بھی اپنی اداؤں پر غور کرے - یاسر محمود آرائیں

ہمارے ہاں اداروں کے درمیان محاذ آرائی اور ایک دوسرے کی حدود میں مداخلت اسی وقت سے جاری ہے جب سے یہ ملک وجود میں آیا ہے۔ گزشتہ ستّر سالوں میں اختیارات سے تجاوز کا رونا ہر دور میں کسی نہ کسی ادارے کی جانب سے، کسی نہ کسی حد تک، لازماً موجود رہا ہے۔ کہنے کو تو ہمارے پاس ایک متفقہ آئین موجود ہے جس میں ریاستی ڈھانچے کے خدوخال اور تمام ریاستی ستونوں کے افعال ودائرہ کار کی بابت ہر ممکن حد بندی کی گئی ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ اگر کسی ایک ریاستی ستون کو دوسرے ریاستی ستون سے، یا کسی ریاستی ادارے کے سربراہ کے متعلق اختیارات کے ناجائز استعمال یا پھر ریاست کے مفاد کے منافی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے ٹھوس شواہد موجود ہوں تو اس شخصیت کے مواخذے اور ان شکایات کے باوقار انداز میں ازالے کے لیے بھی آئین میں طریقہ کار درج ہے۔ لیکن جیسے کہ پہلے عرض کیا اس سب کے باوجود ہمارے ہاں اکثر آئینی اداروں کے درمیان کھینچا تانی چلتی رہتی ہے۔ اس کھینچا تانی کی دیگر بہت سی وجوہات سے قطع نظر ایک بڑی وجہ مختلف ادوار میں جمہوری حکومتوں پر مارے گئے شب خون کو بھی قرار دیا جاسکتا ہے۔ کیونکہ ان غیر جمہوری ادوار میں منتخب حکومتوں کو زیر وزبر کرنے والے رہزنوں نے اپنے اقتدار کو طول دینے اور مخالفین کا سر کچلنے کی خاطر آئین کی چاک قبا میں ایسی رفو گری کی جس کی وجہ سے نہ صرف کسی بھی شخصیت کا "ٹیٹوا" دبانا سہل ہوگیا بلکہ اداروں کے لیے بھی ایک دوسرے کی حدود میں مداخلت ممکن ہوگئی اور ایسے چور دروازے کھل گئے جس کے نتیجے میں آئے روز ریاستی ستونوں کے درمیان اختلافات سر ابھارتے رہتے ہیں۔

بلا شبہ تمام ریاستی اداروں کی اپنی جگہ پر اہمیت مسلمہ ہے۔ کوئی بھی ادارہ اپنی افادیت کے لحاظ سے دوسرے ادارے سے کمتر ہرگز نہیں۔ اسی طرح ریاستی امور کو درست طور انجام دینے کے لیے تمام اداروں کا مکمل فعال ہونا لازمی امر ہے۔ کسی ایک ادارے کو اگر غیر فعال کردیا جائے تو اس کا اثر مکمل ریاستی مشنری پر پڑتا ہے اور تمام کاروبار مملکت مفلوج ہونے کا خدشہ پیدا ہوجاتا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں ادارے اکثر ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے ساتھ دیگر اداروں کو مداخلت کے ذریعے غیر فعال کرنے کی کوشش میں بھی رہتے ہیں۔ اسی وجہ سے شاید پچھلے ستّر سالوں سے مسلسل سفر کرنے باوجود بطور ریاست ہم ابھی تک وہیں کھڑے ہیں جہاں سے ہم نے اپنا سفر شروع کیا تھا۔ ہمارے ساتھ وجود میں آنے والی خطے کی دیگر ریاستیں ترقی میں ہم سے بلا مبالغہ سو سال آگے پہنچ چکی ہیں کیونکہ وہاں کوئی ادارہ اپنے تفویض کیے گئے دائرے سے باہر قدم کبھی نہیں نکالتا۔ اسی وجہ سے وہاں نظام مملکت کامیابی سے چل رہا ہے اور وہ ریاستیں دن بہ دن ترقی کررہی ہیں۔

ہمارے آئین کے مطابق پارلیمنٹ ریاست کا سب سے بالادست ادارہ ہے اور دیگر تمام ادارے اس کے ماتحت ہیں۔ مگر حقیقت میں پارلیمنٹ ہی اس ملک میں سب سے کمزور اور بے توقیر ادارہ سمجھا جاتا ہے۔ دیگر اداروں یعنی عدلیہ اور فوج کے بارے میں اس ملک میں بات کرنے کا کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا۔ لیکن یہاں پر جس کا بس چلتا ہے وہ اٹھتا ہے اور آئینی لحاظ سے اس سپریم ادارے کو جی بھر کے گالیاں سنادیتا ہے۔ مگر یہ بھی سچ ہے کہ پارلیمنٹ کی اس بے توقیری کی وجہ خود اس کے نمائندے رہے ہیں۔ ماضی میں جب بھی اس ادارے کی آزادی کو سلب کیا گیا ہر مرتبہ اسی پارلیمنٹ میں بیٹھنے والوں میں سے ایک بڑا طبقہ رہزنوں کے شانہ بشانہ کھڑا تھا۔ جب بھی کسی ڈکٹیٹر نے پارلیمنٹ پر شب خون مارا اس ڈکٹیٹر کو خط لکھ کر بلانے اور اس مذموم مقصد پر راضی کرنے کے لیے رات کی تاریکی میں ملاقاتیں کرنے والے اسی پارلیمنٹ کی نمائندگی کے دعویدار ہی تھے۔ اراکین پارلیمنٹ کے بلاوے پر جب کوئی ڈکٹیٹر آجاتا تو پھر اسے دس دس سال تک خلعت جواز بھی اسی ادارے کی جانب سے پہنایا جاتا رہا ہے۔ اپنے زیر نگین ادارے کے ملازم سے حلف اٹھانے اور اسے ریاست کے سب سے بڑے منصب پر بٹھانے کا کارنامہ بھی تا قیامت اسی ادارے کے ماتھے پر جھومر بن کر جگمگاتا رہے گا۔

یہ سب گناہ کرنے اور پھر اپنے ہاتھوں اپنے پر کترنے کے لیے ڈکٹیٹروں اور دیگر قوتوں کو "ٹول" فراہم کرنے کے بعد بے توقیری اور بے اختیاری کا سب سے زیادہ رونا بھی اسی پارلیمنٹ کے نمائندے ہی روتے ہیں۔ آج ایک جلسے میں میاں نواز شریف فرما رہے تھے کہ اگلے الیکشن میں ہمیں اتنے ووٹ دو کہ ہم قانون میں ایسی ترمیم کرنے کے قابل ہوجائیں کہ کوئی دوبارہ عوامی مینڈیٹ کی توہین نا کرسکے۔ یاد رہے کہ ماضی میں اکثر پارلیمنٹ کو تحلیل کرنے کے لیے 58۔ 2b کا سہارا لیا جاتا تھا۔ لیکن اٹھارویں ترمیم میں اس تلوار کو پارلیمنٹ کے سر سے اتارنے کے ساتھ 62، 63 کے خاتمے کی کوشش بھی ہوئی لیکن اس وقت اس متنازعہ شق کے آئین سے اخراج کی سب سے زیادہ مخالفت ن لیگ کی جانب سے ہی کی گئی تھی۔ اس وقت شاید میاں صاحب کے ذہن میں اس کے کچھ "دور رس" فوائد تھے مگر آج جب وہ خود اسی جال کا شکار ہوئے ہیں تو ڈھنڈور مچائے بیٹھے ہیں۔

اس کے علاوہ اسی جلسے میں میاں صاحب نے توہین عدالت کے نوٹسز کا سامنا کرنے والے طلال چوہدری اور دانیال عزیز کے حق میں "عوامی عدالت" کا فیصلہ بھی لیا۔ ان کی یہ بات بھی محض سیاسی پوائنٹ اسکورنگ اور اپنے دل کی بھڑاس نکالنے سے زیادہ درجہ نہیں رکھتی۔ کیونکہ اگر وہ عوامی نمائندوں کی توقیر کے بارے میں اتنے فکرمند ہوتے تو کبھی بھی اپنے دو انتہائی قریبی ساتھیوں مشاہداللہ خان اور پرویز رشید کی محض اپنی حکومت بچانے کے لیے قربانی نا دیتے۔ آج میاں صاحب ہر دوسرے دن یہ کہتے ہیں کہ ان کی حکومت کے خلاف پچھلے ساڑھے چار سال مسلسل سازش ہوتی رہی ہے۔ مگر جب مشاہداللہ خان نے اس سازش کا بھانڈا پھوڑا تھا تو بجائے ان کا ساتھ دینے کے، میاں صاحب نے اپنی روایتی کم ہمتی سے انہیں وزارت سے ہی برطرف کردیا تھا۔ اسی وجہ سے اب ان کی جانب سے تمام راز کھول دینے کی دھمکی کو بھی کوئی سنجیدگی سے نہیں لے رہا۔ اگر اس وقت وہ سچ بیان کرنے پر اپنے دیرینہ ساتھی اور جمہوریت کی خاطر قربانیاں دینے والے مشاہداللہ خان کے ساتھ کھڑے ہوتے تو آج انہیں یہ دن نہ دیکھنا پڑتا۔

اس کے علاوہ آرٹیکل 184 (3) کے تحت عدلیہ کی جانب سے لیے جانے والے ازخود نوٹسز پر بھی واویلا سننے میں آرہا ہے۔ مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ عدالتی اختیار کسی کے اختیارات میں مداخلت ہے تو اسے آئین سے نکالنے سے روکنے کے لیے پارلیمنٹ کے ہاتھ کس نے باندھ رکھے ہیں؟یہاں پر میں یہ وضاحت کرتا چلوں کہ میں پارلیمنٹ کی سپر میسی کا قائل ہوں اور حالیہ دنوں میں نظر آنے والے "جوڈیشل ایکٹو ازم" پر مجھے بھی تحفظات ہیں.لیکن نہایت افسوس سے یہ کہنا پڑتا ہے کہ اگر عوامی نمائندے عوامی مسائل کے بجائے ایک سزا یافتہ شخص کو بچانے، یا پھر ایک آئی جی کو ہٹانے اور منی لانڈرنگ میں ملوث ماڈل گرل کو ریلیف دلانے میں اپنی توانائیاں صرف کریں گے تو پھر عوامی مفاد میں لازما کسی دوسرے کو آگے آنا پڑے گا۔ جب کسی ایک اسٹیک ہولڈر کی کمزوری سے ویکیوم پیدا ہوتا ہے تو فطری بات ہے کہ اس ویکیوم کو کوئی دوسرا پورا کرے گا۔ اگر پارلیمنٹ یہ سمجھتی ہے کہ اس کے اختیارات میں مداخلت ہورہی ہے تو وہ قانون سازی کے ذریعے ایسے تمام چور رستے جہاں سے اس کے دائرہ کار میں نقب لگانا ممکن ہوتا ہے بند کردے۔ اور جہاں تک ازخود نوٹسز کی بات ہے یہ بھی اسی وجہ سے ممکن ہورہے ہیں کہ پارلیمنٹ اور انتظامیہ عوام کو سہولیات زندگی کی فراہمی میں مکمل ناکام ہوچکے ہیں۔ اگر پارلیمنٹ صرف اشرافیہ کے مفادات کی نگہبانی کے بجائے عوام کی فلاح میں سوچ بچار پر بھی کچھ وقت صرف کرلیا کرے تو اسے ان حالات کا کبھی سامنا نہ ہو۔