شہراقتدار میں قبائلی جرگہ - فضل ہادی حسن

فاٹا کے لوگ اسلام آباد میں جمع ہوگئے ہیں۔ یوں سمجھ لیں کہ جرگہ لیکر ارباب اختیار کے پاس آگئے ہیں تاکہ انہیں انسان سمجھ کر انسانوں جیسا سلوک کیا جائے، پاکستانی سمجھ کر پاکستانی شہری کا درجہ دیا جائے، پختون سمجھ کر ’پاکستانی پختون‘ کی شناخت دی جائے۔

میرا نہیں خیال ہے کہ کوئی بھی پاکستانی شہری اس سے اختلاف کرے گا۔ گزشتہ کئی دہائیوں سے قبائلی پٹی کو کس نے، کس لیے اور کیوں کر استعمال کیا ہے؟ یہ ایک الگ قضیہ ہے۔ لیکن ان تین وجوہات نے اس سرحدی پٹی کو بری طرح متاثر اور بقیہ پاکستان سے ایک الگ تلگ ایسا حصہ بنایا جہاں ایف سی آر جیسے کالے قانون کو بھی وفاقی حکومتوں اور اداروں نے ہی تحفظ فراہم کردیا ہے اس پر مستزاد اسے ’’غیرقانونی اور جنگل‘‘ جیسے خطے کے طور پر نمایاں کرنے میں کردار ادا کررہے ہیں۔

فاٹا کی موجودہ حالات میں جلتی پر تیل چھڑکنے کا موقع نقیب محسود کے ظالمانہ قتل نے فراہم کردیا، جس نے اس پورے خطے میں بے چینی کی کیفیت پیدا کردی۔ اوپر سے سرحد پار پختون قوم پرستوں نے بھڑکاوے نے اسے دانستہ طور پر پختون، پنجابی یا ریاست کی پختون دشمنی سے تعبیرکرتے ہوئے خوب پروپیگنڈا شروع کردیا جس سے یہاں کے چند قوم پرست بھی متاثر ہوگئے اور یوں ریاست مخالف تقریروں تک سلسلہ جاپہنچا۔

میرا خیال ہے کہ پاکستانی پختون قوم پرست پارٹیاں (اے این پی اور پختون خواہ ملی پارٹی سمیت دیگر) اس وقت پاکستانی ریاست کی تابع اور سسٹم کا باقاعدہ حصہ ہیں لیکن اس سوچ کو بھڑکانے اور نفرت آمیز رویہ اختیار کرنے میں ریاست اور ریاستی اداروں کابھی قصور ہے جو قبائلی علاقوں کو ابھی تک باقی پاکستان جیسا حصہ تسلیم کرنے میں شدید ہچکچاہٹ کے شکار ہیں۔ میرا نہیں خیال کہ پختون لیڈر افراسیاب خٹک صاحب، بشریٰ گوہر صاحبہ کی موجودگی میں پاکستان مخالف تقریروں سے مذکورہ لیڈران سمیت دیگر نے اتفاق کیا ہوگا لیکن انہیں فوری طور پر اس تقریر (ایک طالبعلم) کی مذمت اور اعلان لاتعلقی کرنا چاہیے تھا۔

شہرِ اقتدار میں قبائلی احتجاج (جرگہ) نے چار مطالبات پیش کیے ہیں:

1۔ نقیب اللہ محسود کے قاتلوں کو پھانسی دی جائے۔

2۔ تمام لاپتہ قبائلی افراد کو عدالتوں میں پیش کیا جائے۔

3۔ فاٹا میں بچھائی گئی باردوی سرنگوں کا خاتمہ کیا جائے۔

4۔ کسی بھی ناخوشگوار واقعے کے بعد فاٹا میں طویل عرصہ کرفیو نہ لگایا جائے۔

ان چار مطالبات میں کون سا مطالبہ آئین پاکستان سے متصادم، غیر جمہوری، غیر سنجیدہ یا غیر اخلاقی اور ناقابل فہم ہے؟ ارباب اختیار اگر اسے نظر انداز بھی کر رہا ہے تو عام پاکستانی شہری اور ہم کیوں نظر انداز کریں؟ کیوں خاموش رہ کر شہرِ ناپرساں کا لقب اختیار کریں؟ اگر نقیب محسود کی ظالمانہ موت نے قبائلی پٹی کے باسیوں میں بے چینی پیدا کرکے بیدار کردیا ہے تو ہمیں بلا تفریق پارٹی و قوم ان کے مطالبات کی حمایت کرنی چاہیے۔ ان کی آواز کے ساتھ اپنی آواز کو بلند کرنا چاہیے، انہیں سینے سے لگا کر اپنا ہونے کا تاثر دینا چاہیے اور ان کے مرہم کا مداوا اور دکھوں کا مسیحا بننا چاہیے۔

پاکستانی معاشرہ میں جرگے کی اہمیت سے کوئی بھی قوم انکار نہیں کرسکتی اور انہیں خالی ہاتھ واپس جانے کو بھی معیوب سمجھتی ہے۔ یہاں تو مطالبات بھی قانون اور پاکستانی رسم ورواج کے مطابق ہیں بلکہ اس سے قبائلی لوگوں کا پاکستانی قانون اور روایات پر بھرپور اعتماد اور مضبوط یقین کی جھلک بھی نظر آرہی ہے۔

شہر اقتدار کے باسیو اور ارباب اختیار! قبائلی جرگے اور بزرگوں کے اعتماد اور یقین کو ٹھیس مت پہنچائیے۔ بداعتمادی اور نظر اندازی سے بچنے احساس محرومی کا تاثر زائل کرنے ہاتھ بڑھانے کا وقت آیا ہے۔ پاکستان مخالف قوتوں کی سازشوں کو ناکام بنانے کے لیے آج کے ان چار مطالبات میں مزید اضافہ یا کسی خطرناک مطالبات میں تبدیل ہونے کو ناکام بنانے آگے بڑھیے، قانون کی پاسداری، مساوات اور برابری کی بنیاد پر ایک مضبوط اور پرامن پاکستان کا آغاز کرنے ان لوگوں کے خلاف کارروائی کی ہمت کیجیے جنہوں نے قانون کے نام پر اور سرکاری عہدہ کا استعمال کرکے انسانیت اور پاکستانی آئین کی توہین کا ارتکاب کیا ہے۔

Comments

فضل ہادی حسن

فضل ہادی حسن

فضل ہادی حسن اسلامک سنٹر ناروے سے وابستہ ہیں۔ جامعہ اشرفیہ لاہور اور بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد سے فارغ التحصیل ہیں۔ ائی آر میں ماسٹر اور اسلامک اسٹڈیز میں ایم فل کیا ہے۔ مذہب، سیاست اور سماجی موضوعات پر لکھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */