بچوں کے لیے جنسی تعلیم یا "فقہ" کی تعلیم؟ فیصلہ آپ کا - محمد عثمان خان

آج کل سانحہ قصور کا پورے پاکستان بلکہ بیرونِ پاکستان بھی خوب چرچا ہے۔ بلاشبہ مرحومہ زینب اور اس کے اہلِ خانہ پر جو کچھ بیتی اس کی جتنی مذمّت کی جائے وہ کم ہے لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ اب اس سانحہ کا غیر جذباتی انداز سے تجزیہ کیا جائے اور اس واقعہ کے پسِ پردہ حقائق پر سنجیدگی سے غور کیا جائے۔

ہمارے ملک کا تعلیمی نصاب کافی عرصے سے مذہبی اور سیکولر حضرات کے مابین متنازع رہاہے۔ کبھی "دینی تعلیمات" کے اخراج پر دینی طبقات سراپا احتجاج رہے تو کبھی "دینی تعلیمات"کے اندراج پر سیکولر طبقات موم بتیاں روشن کیے ماتم کرتے نظر آئے۔ بہرحال یہ کشمکش دونوں طبقات میں جاری رہی۔ بعض حضرات کے مطابق سیکولر اور دین بیزار حضرات نے"سانحہ قصور" کو اپنے حق میں کیش کرانا چاہا اور ذرائع ابلاغ کے ذریعے اس واقعےکو دُنیا بھر میں بھر پور انداز سے عام کردیا گیا۔ حالانکہ اس سے قبل کئی دیگر شہروں میں بلکہ خود قصور میں اس سے زیادہ گھناؤنے واقعات بھی رونما ہو چکے ہیں۔ لیکن اس واقعہ کو آڑ بنا کر نصاب میں" جنسی تعلیم" کی شمولیت کی راہ ہموار کرنے کی بھرپور کوشش کرنا مذکورہ بالا حضرات کی رائے کو صحیح ثابت کر رہا ہے۔

سیکولر حضرات کی جانب اس واقعہ پر یہ تاثر بڑی شدت کے ساتھ پھیلایا گیا کہ اس قسم کے واقعات کی اصل وجہ یہ ہے کہ ہم نے اپنے بچوں کو صحیح انداز میں جنسی معلومات نہیں فراہم کیں، جس کی وجہ سے وہ ان درندہ صفت افراد کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں۔ حالانکہ اگر ہمارے ملک کے یہ "بھولے بادشاہ" مغرب کے ان ممالک کا حال دیکھ لیں جنہوں نے اپنے تعلیمی نصاب کے ذریعے معصوم بچوں کو "وافر" مقدار میں جنسی معلومات فراہم کی ہیں تو وہ لرز جائیں۔ ان ممالک میں اس اقدام سے بچوں سے بد سلوکی کے واقعات رُکنے کے بجائے وبا کی صورت میں پھیل گئے۔ بلکہ بچے تو دور بزرگ حضرات و خواتین بھی بد سلوکیوں سے محفوظ نہ رہ سکے (اس کی لرزہ خیز تفصیل آپ انٹر نیٹ پر دیکھ سکتے ہیں)۔ بچوں کو قبل از وقت اور غیر مناسب و غیر فطری انداز سے جنسی تعلیم دینے کے بہت بھیانک اثرات سامنے آئے ہیں۔

معصوم بچوں کے ننھے ذہن اس غلاظت سے تباہ ہوگئے ان کی معصومیت ختم ہوگئی جسے مغرب کا بڑا فلسفی نیل پوسٹ مین "Death of Innocence" سے تعبیر کرتا ہے۔ مغرب میں بچے وقت سے قبل بالغ ہونے لگے اور پھر وہ نہایت چھوٹی عمر ہی سے جنسی جرائم میں ملوّث ہوگئے۔ یہ معاملہ اس حد تک بڑھا کہ ان بچوں کو قانونی شکنجے سے بچانے کے لیے مغرب میں بعض ممالک نے Age of Consent (ایسی عمر جس میں انسان کوجنسی تعلق قائم کرنے کی قانونی اجازت حاصل ہوتی ہے، یاد رہے کہ اس کے لیے شادی کا ہونا کوئی مسئلہ نہیں ہے) کی حد کو مسلسل کم کرنا شروع کردیا۔ یہاں تک کہ بعض ممالک میں یہ حد ۱۰ اور ۱۱ سال تک کر دی گئی (یاد رہےکہ ان لوگوں کے نزدیک اٹھارہ سال سے کم عمر میں نکاح کرنا تو نا قابلِ معافی جرم ہے مگر چھوٹی عمر میں زنا کرنا آزادی کا اظہار ہے)۔

یہاں ذرا رُک کر سوچیں کہ جس معاشرے میں دس سال کا معصوم بچہ آزادانہ جنسی تعلق قائم کرے گا اُس معاشرے کا کیا حال ہوگا۔ افسوس ہمارا دین بیزار طبقہ اِس جانب غور نہیں کرتا یا وہ اس قسم کی جنسی آزادی اپنے اور ہمارے بچوں کے لیے بھی چاہتے ہیں۔ جہاں تک بچوں کو جنسی تعلیم دینے کاسوال ہے تو اس میں تو کوئی شک نہیں کہ ہمارے پیارے نبیﷺ نے ہمیں زندگی کے ہر گوشۂ میں رہنمائی عطا فرمائی ہے۔ اور دین کے بنیادی علم کو فرض عین قرار دیا ہے۔ اعتراض یہ ہے کہ یہ تعلیم بچوں کو کس طرح دی جائے؟

تو اس مسئلہ کا حل "فقہ"ہے۔ فقہ ہی وہ علم ہے جس کے ذریعے پاکیزگی اور با حیاء انداز سے ہمارے اسلاف اپنی اگلی نسلوں میں دین کی یہ تعلیمات منتقل کرتے آئے ہیں۔ فقہ چونکہ قرآن و حدیث کا نچوڑ ہے لہٰذا اس کی اپنی روحانیت ہے اور جنسی تعلیمات انتہائی با وقار اور با حیاء انداز سے بچوں میں منتقل کی جاسکتی ہیں۔ جبکہ اس کے بر عکس سائنس کے ذریعے اس تعلیم کو دینے سے بچوں کے اذہان و قلوب آلودہ ہوجاتے ہیں اور کئی طرح کی خباثتیں اس کے ساتھ آتی ہیں۔ ہمارے فقہاء کرام نے اپنی زندگیاں کھپا کر قرآن و حدیث کو بنیاد بنا کر جو "علمِ فقہ" مرتّب کیا اس کی نظیر تاریخِ انسانی میں ملنا مشکل ہے۔

مگر بدقسمتی سے آج ہمارے بے دین حضرات کو تو چھوڑیں خود بظاہر دیندار حضرات بھی بعض اوقات اس کارنامہ ٔعظیم (فقہ) کے حوالے سے بدگماں نظر آتے ہیں۔ مسئلہ ان بیچاروں کا نہیں بلکہ مغرب کا ہے، جس نے دین کو اس کے متن یعنی قرآن و حدیث تک محدود کردیا ہے اور جس سلسلے سے یہ متن اپنے صحیح معنی و مفہوم سمیت ہم تک پہنچا ہے اس (سلسلۃ الذہب) کو ہی مشکوک بنا دیا ہے۔ یہ وہ ہی واردات ہے جو عیسایئیت کے ساتھ ہوئی اور اس کے بعد عیسائیت ختم ہوگئی۔ آج اسلام کو بھی یہی چیلنج درپیش ہے۔

اس وقت ضرورت ہے کہ اپنے اسلاف پر اعتماد بحال کیا جائے اور دینی متن کو اس تعبیر کے ساتھ مانا جائے، جو نبی کریمﷺ سے ہم تک ہمارے اسلاف کے ذریعے سینہ بہ سینہ پہنچی ہے۔ اور اس معاملے میں متن پرستی اور عقل کی غلامی سے بچا جائے اور اسلاف کی اتّباع کی جائے۔ اگر ایسا نہ ہوا تو پھر دین کی سر بلندی تو دور کی بات، دین کے نام کا بھی باقی رہنا مشکل ہے۔ عیسائیت کی تباہی ہمارے لیے باعثِ عبرت ہے۔ مغربی فکر کے زیرِ اثر افراد کا ہمیشہ سے یہ شیوہ رہا ہے کہ وہ ایک مسئلہ کو اس طریقے سے پیش کرتے ہیں جیسے یہ مسئلہ تاریخ میں پہلی بار پیدا ہوا ہے۔ اور اس واقعہ کا وہ استخراجی انداز میں تجزیہ کر کے من مانے نتائج برآمد کر کے شور مچانا شروع کردیتے ہیں۔

سوال یہ کہ پچھلے چودہ سو سال سے بھی تو بچے بالغ ہو رہے تھے ان تک جنسی معلومات کیسے پہنچ رہی تھیں؟ اور وہ کون سا ایسا طریقہ تھا جس سے نہایت پاکیزگی کے ساتھ یہ مسائل نئی نسل تک منتقل ہو رہے تھے۔ ظاہر ہے وہ طریقہ"علمِ فقہ" تھا اب ہم نے مغربی پروپیگنڈا (Propaganda) کے ذریعے فقہ کو غیر اسلامی قرار دے کر اپنے بچوں کی زندگیوں سے فارغ کیا تو حیاء اور پاکیزگی بھی اس کے نتیجے میں ہمارے معاشرے سے رُخصت ہوگئی۔ برِّ صغیر پاک وہند میں ہمارے ہاں بچوں کی تعلیم کی ابتداء مکاتبِ دینیہ سے ہوتی تھی، جہاں بچہ سب سے پہلے اپنے رب کا تعارف حاصل کرتا اور دین کے بنیادی احکام سیکھتا اور اس کے بعد مزید نقلی و عقلی علوم کی تحصیل کا اہتمام ہوتا۔

مکاتب میں ناظرہ قرآن کے ساتھ بچوں کو بنیادی دینی تعلیمات سکھانے کے لیے ایک کتاب "تعلیم الاسلام" ہمارے نصاب میں رائج رہی ہے۔ یہ کتاب مولانا مفتی کفایت اللہ دہلویؒ کی تصنیف ہے۔ اس کتاب کو اگر آج ہم اپنے بچوں کو پڑھانے کا اہتمام کر لیں تو انشاءاللہ ہمارے بچے اس بے راہ روی کے دور میں محفوظ رہیں گے۔ تعلیم الاسلام کے بعد بڑھتی عمر کے لڑکوں کو فقہ کا کوئی آسان متن جیسے "نورالایضاح" یا "قدوری " وغیرہ پڑھائی جاتی تھی جو بیک وقت بچوں کو فقہ سکھانے کے ساتھ ساتھ زبان پر مہارت حاصل کرنے کا ذریعہ تھی۔ اس کی مزید معلومات مولانا مناظر احسن گیلانی ؒصاحب کی کتاب "ہندوستان کا نظامِ تعلیم و تربیت " سے لی جاسکتی ہے۔ یہ اس موضوع پر بیش قیمت کتاب ہے۔

بڑھتی عمر کی بچیوں کے لیے اس ضمن میں حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی صاحبؒ کی معرکتہ الآراء تصنیف "بہشتی زیور" بہترین کتاب تھی۔ اس کتاب کا ہر گھر میں مطالعہ کا معمول ہوا کرتا تھا۔ نکاح کے موقع پر بچیوں کو بطورِ خاص اس کتاب کو بطور ِہدیہ دیا جاتا تھا۔ اس کتاب کو خواتین کے دینی مسائل کا" انسائیکلو پیڈیا"کہنا بے جا نہ ہوگا۔ اس کتاب کے ذریعے سے ہماری بچیاں دین کے عمومی اور خاص کر خواتین سے متعلق مخصوص مسائل کا حل سیکھ لیا کرتی تھیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ گھر داری کے بھی بہت سے امور میں اس کتاب سے مدد لیا کرتی تھیں۔ مگر افسوس فقہ کے ان ذخیروں کو بھی آج غیر مسنون قرار دے کر ان پر سے عوام کا اعتماد ختم کرنے کی سازش کی جارہی ہے۔ یہاں یہ بات واضح ہے کہ ہندوستان میں بریلوی حضرات جو کہ ہندوستان کا سوادِ اعظم رہے ہیں ان حضرات نے بھی فقہ حنفی کے متون ہی اس ضمن میں پڑھائے اور ان کی شروحات وغیرہ مرتّب کیں۔

آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اپنے تابناک ماضی کا احیاء کرتے ہوئے اپنے بچوں کو ابتدائی طور پر فقہ پڑھانے کا اہتمام کریں اور جو بچے اب اس عمر سے آگے بڑھ گئے ہیں ان کو فقہ کے دیگر حلقہ جات یا امامِ مسجد ہی سے کچھ وقت روزانہ فقہ کا درس دلا دینا نہایت مفید رہے گا۔ اسی طرح بالغان کے لیے بھی فقہ کا سیکھنا اور اس کے لیے روزانہ کچھ وقت نکالنا فی زمانہ دین کا اہم تقاضہ ہے۔ اگر ہم واقعتاٍ ایسا کرنے میں کامیاب ہوگئے تو یقین جانیے ہمارے معاشرے میں پھر کوئی سانحہ قصور رونما نہیں ہوگا اور ہمارے بچے پاکیزہ اور پُر سکون زندگی گزار سکیں گے۔