عدلیہ کے فعال ہونے سے خوف کیوں؟ محمد عامر خاکوانی

آخرکار عدلیہ نے ایکشن لے لیا۔ کئی ماہ تک صبر وتحمل اور غیرمعمولی برداشت کا مظاہرہ کرنے کے بعد عدالت عظمیٰ نے عدلیہ پر مسلسل تیر برسانے والے سیاسی رہنماؤں کی جارحیت کانوٹس لیتے ہوئے یہ ثابت کر دیا کہ ہمیں دبانا آسان نہیں۔ نہال ہاشمی کو نااہلی اور قید کی سزا سنائی گئی ہے۔سچ تو یہ ہے کہ نہال ہاشمی صاحب اس کے مستحق تھے بلکہ انہیں اگر اس سے کچھ زیادہ سزا سنائی جاتی تو بےجا نہ ہوتی۔ انہوں نے سپریم کورٹ کے ججوں کوایک انتہائی اہم اور ہائی پروفائل کیس کی سماعت کے دوران دھمکانے کی کوشش کی۔ انتہائی جارحانہ اور قابل اعتراض انداز میں وہ باتیں کہہ ڈالیں جن پر انہیں جیل کی سلاخوں کے پیچھے بھیجا جانا بنتا تھا۔ ان کی معافی قبول کرنے کا کوئی سوال ہی نہیں بنتا تھا۔ اس طرح تو ہر کوئی کھڑا ہو کر جی بھر کر پہلے گالیاں دے لے، پھر معافی مانگنے کی ڈرامہ بازی کر لے۔ نہال ہاشمی کی حمایت کرنے والوں پر دکھ ہوا۔ ممکن ہے اپنے پسندیدہ لیڈروں کے ساتھ وفاداری نبھانے اور حمایت جتانے کی خواہش شدید ہو، لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ عدالتوں پر حملہ آور ہونے والے کو گلوریفائی کرنے کا ڈرٹی بزنس کیا جائے۔ قلم فروختند وچہ ارزاں فروختند۔

اس سزا کے حوالے سے دو تین طرح کے ردعمل سامنے آئے ہیں۔ کچھ لوگوں نے ایک معروف اور آزمودہ طریقہ یہ آزمایا ہے کہ اگر اس کو سزا دینی ہے تو پھر پہلے فلاں کو دو، ڈھمکاں کو دو، اس کے بعد اے بی سی ڈی کو سزا دی جائے، پھر جا کر کہیں اس ملزم کو بھی سزا سنائیں۔ یہ عجیب وغریب منطق ہے۔ آپ گلی میں کھڑے ہوں، کوئی کم بخت آکر جھگڑنا شروع کر دے اور تلخی میں پتھر اٹھا کرآپ کا سر پھوڑ ڈالے۔ معاملہ پولیس میں جائے، انصاف مانگیں توایک ہمسایہ آ کر کہے کہ واقعی آپ کے ساتھ زیادتی ہوئی، اس شخص کو جھگڑنا اور تشدد نہیں کرنا چاہیے تھا، لیکن اسے سزاد ینی ہے تو پہلے بیس سال پہلے ساتھ والی گلی میں لڑائی ہوئی تھی، اس کے ملزم کو بھی سزا سنائیں، چار سال پہلے فلاں محلے میں کسی بدمعاش نے محلے دار پر گولی چلا دی تھی، وہ ابھی تک آزاد پھر رہا ہے، اسے پہلے پکڑیں، فلاں فلاں واردات ہوئی، ان کا سراغ لگائیں، تب جا کر اس سر پھوڑنے والے کے خلاف کارروائی کریں۔ تصور کریں کہ ایسی تقریر سن کر کیا گزرے گی اور دل یہی چاہے گا کہ اس منحوس کی کھوپڑی پلپلی کر دینی چاہیے۔ آپ یہی کہیں گے کہ بھائی ان سب کو ضرور سزا دو، کس نے روکا ہے، مگر اس وقت تو میرے کیس کی بات ہو رہی ہے۔ گڑھے مردے بعد میں اکھاڑنا، جو واقعہ آج ہواہے، اسے تو نمٹاؤ۔

نہال ہاشمی والا معاملہ بھی اوپر بیان کردہ مفروضہ واقعہ جیسا ہے۔ ہمیں ایشو ٹو ایشو رائے دینی چاہیے۔ نہال ہاشمی نے جو کیا غلط اور قابل تعزیر جرم تھا، اسے اس کی سزا بھگتنا پڑے گی۔ اس کی طرح اور بھی جو لوگ توہین عدالت کر رہے ہوں، عدلیہ کو بطور ادارہ اس لیے نشانہ بنا رہے ہوں کہ دباؤ ڈال کر اپنے خلاف ہونے والے ممکنہ فیصلے روکے جائیں، ان سب کو کٹہرے میں کھڑا کرنا چاہیے، خواہ تعلق کسی بھی جماعت سے ہو۔ جنرل پرویز مشرف کے خلاف بھی ضرورکارروائی کی جائے۔ کس نے روکا ہے؟ عدالت نے تو اسے اشتہاری ملزم بھی قرار دے دیا ہے۔ حکومت اس عدالتی فیصلے کا سہارا لے کر اس کے ریڈ ورانٹ جاری کر ے اور چند ہی ہفتوں میں سابق ڈکٹیٹر کو پکڑوا کر ملک لے آئے۔ جہاں تک عدالت عظمیٰ اور ججوں کا تعلق ہے، انہوں نے پرویز مشرف کے پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھا کر، اس کی ایمرجنسی کے خلاف فیصلہ دے کر اپنا حق ادا کر دیا بلکہ ماضی کی غلطیوں کا ازالہ بھی کر دیا۔ درجنوں جج صاحبان نہایت جرات اور استقامت سے پہلے مشرف حکومت اور پھر زرداری صاحب کی ڈوگر کورٹس کے آگے ڈٹے رہے، نوکریاں ختم ہوگئیں، ڈیڑھ دو سال تک گھر بیٹھے رہے، مگر ہتھیار نہیں ڈالے۔ عدلیہ کے بجائے سویلین حکومت نے پست ہمتی کا مظاہرہ کیا۔ پرویز مشرف کے خلاف مقدمہ شروع ہی نہ کرتی، اگر کیا تو پھر دباؤ برداشت کرتی اور ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں نام ڈال کر اسے باہر نہ جانے دیتی۔

یہ بھی پڑھیں:   جج ارشد ملک مبینہ ویڈیو کیس کا فیصلہ سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر جاری

ایک حلقہ ایسا ہے جو جوڈیشل ایکٹو ازم یعنی عدلیہ کے زیادہ متحرک ہونے کے فلسفہ کا حامی نہیں۔ ممکن ہے بعض قانون دان اور ریٹائر ججز کسی اصولی نکتہ کی بنا پر جوڈیشل ایکٹوازم کی مخالفت کر رہے ہوں، مگر اس کے زیادہ تر مخالفین اصل میں ہمارے استحصالی نظام کے پروردہ اور مفاد یافتہ ہیں۔ انہیں یہی خوف ہے کہ عدالت کا ہاتھ ان کی گردن تک نہ پہنچ جائے۔ مجھے یاد ہے کہ سابق چیف جسٹس افتخار چودھری صاحب کے زمانے میں ایک صاحب کے عشائیہ میں شریک تھا۔ شرکا میں سے بیشتر کو نہیں جانتا تھا۔ وہ سب چودھری صاحب کے شدید ناقد تھے اور ان کے خلاف کٹیلے تبصرے کر رہے تھے۔ بڑی دیر تک سنتا رہا، پھر رہا نہیں گیا، جوڈیشل ایکٹو ازم کا دفاع کیا تو بحث چھڑ گئی۔ تب معلوم ہوا کہ شرکا محفل میں سے کچھ مختلف اضلاع کے ڈی سی اوز اور ڈی پی اوز صاحبان ہیں۔ انہیں شدید شکوہ تھا کہ جج صاحب بیوروکریسی کے”اعلیٰ افسروں“ کو عدالت میں بلا لیتے اور بےعزت کرتے ہیں۔ اخلاقیات اجازت نہیں دیتی تھی، ورنہ دل چاہا کہہ دوں کہ آپ کے اضلاع کے عوام کی اکثریت یہی چاہتی ہے کہ کوئی تو ایسا فورم ہو، جہاں آپ لوگ جواب دہ ہوں، گردنوں کا سریا سیدھا ہوسکے۔

آج بھی جوڈیشل ایکٹوازم کے مخالفین کی اکثریت ایسے ہی لوگوں پر مبنی ہے۔ انہیں شکوہ ہے کہ چیف جسٹس صاحب کیمیکل ملے دودھ، زہر ملے پینے کے پانی ، زہریلے مادے سے تیار سبزیوں کے کیسز کیوں سنتے ہیں؟ ہم جیسوں کو یہی خوشی ہے کہ کوئی تو ہے جس نے اس ظلم کا نوٹس لیا۔ غضب خدا کا اس ملک میں کتنے ادارے کام کر رہے ہیں۔ عوام کے ٹیکسوں پر پلنے والی بیوروکریسی، اراکین پارلیمنٹ، کابینہ، وزرااعلیٰ، وزیراعظم وغیرہ اور کسی کو یہ جرات نہیں ہوئی کہ ناقص دودھ والی کمپنیوں پر پابندی لگا سکے۔ جو کمپنیاں پینے کے پانی میں خوفناک حد تک آرسینک زہر ملا کر بیچ رہی تھیں، انہیں کیوں نہیں پکڑا گیا؟ یہ سپریم کورٹ کا کام تو نہیں، اسے تو مجبوراً ایسا کرنا پڑ رہا ہے۔ چیف جسٹس صاحب کو کیا پڑی ہے کہ اپنی اتوار کی چھٹی غارت کر کے ایسے عوامی مفاد والے کیس سنیں؟ اگر انتظامیہ اپنا کام ٹھیک طریقے سے کر رہی ہو تو عدالت کو کیا پڑی ہے اس بوجھ کو بھی اپنے سر پر اٹھائے۔ اگر پی ٹی وی کے چیئرمین کو دو سال میں ستائیس کروڑ ادا کیے جائیں اور کوئی حکومتی ادارہ ایسا نہ ہو جو یہ صریحاً ہوتا ظلم نہ روک سکے تو پھر لوگ ملک کی سب سے بڑی عدالت کی طرف ہی دیکھیں گے۔ یہ بھی ظلم عظیم ہے کہ اپنے ایک حامی اخبارنویس کو تمام تر قواعد و ضوابط تہس نہس کر کے چیئرمین پیمرا بنا دیا جائے۔ پارلیمنٹ سمیت تمام ادارے منہ میں گھنگنیاں ڈالے بیٹھے رہیں۔ ایک سیاسی کارکن، جسے انتظامی تجربہ نہیں، اسے اپنے سابق دور میں ایک بنک کا سربراہ بنا دیا جائے، اگلی بار اسے وفاداری کا انعام دینے کے لیے متروکہ وقف املاک جیسا محکمہ پکڑا دیا جائے۔ ملک میں بادشاہت ہے یا جمہوریت؟ میاں نواز شریف ملک کے وزیراعظم تھے، شہنشاہ نہیں کہ دل چاہنے پر جسے چاہیں، اہم حکومتی اداروں کی باگ ڈور پکڑا دیں۔اگر کوئی وفادار اتنا ہی اہل ہے تو اپنی بے شمار ملوں، فیکٹریوں میں اسے کوئی ذمہ داری دے دیں۔ وہاں تو مارکیٹ سے بہترین پروفیشنل لیے جاتے ہیں، قومی ادارے اور محکمے ہی بند ربانٹ کے لیے رہ گئے ہیں؟

یہ بھی پڑھیں:   ’جج کا فیصلہ تاریخ اور عوام کرتے ہیں‘ - جسٹس جواد ایس خواجہ

ہمارے سیاستدان یہ سمجھ نہیں پا رہے کہ جمہوریت اگر ہوگی تو فعال عدلیہ بھی اس کے پیکیج کے طور پر قبول کرنا ہوگی۔ عدلیہ نہ رہی تو جمہوریت بھی رخصت سمجھیے۔ سادہ اصول ہے کہ اگر ایگزیکٹو ایکٹو ازم چل رہا ہو، انتظامیہ اچھے طریقے سے اپنے فرائض انجام دے تو پھرجوڈیشل ایکٹو ازم کی ضرورت ہی نہیں رہتی۔ عدلیہ کو نشانہ بنانے، جج صاحبان کی توہین کرنے والے دراصل عدالتوں کو ڈرا دھمکا کرکام کرنے سے روکنا چاہتے ہیں۔ ان کی خواہش ہے کہ جج دبک کر بیٹھ جائیں اور ان کے ہاتھ پکڑنے والا کوئی نہ رہے۔ یہ وقت عدالتوں کے ساتھ کھڑے ہونے اور سپورٹ کرنے کا ہے۔ اخبارنویس کا عام آدمی سے گہرا رشتہ ہے، عام آدمی ہمیشہ آزاد اور فعال عدلیہ کی حمایت کرتا ہے۔ اسے ریلیف چاہیے، چاہے جو بھی دے۔ ہم میڈیا والوں کو عام آدمی کی آواز بننا چاہیے، اس کے کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا ہونا چاہیے۔ ہماری عزت اور بقا اسی میں پوشیدہ ہے۔

Comments

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر ہاشم خاکوانی کالم نگار اور سینئر صحافی ہیں۔ روزنامہ 92 نیوز میں میگزین ایڈیٹر ہیں۔ دلیل کے بانی مدیر ہیں۔ پولیٹیکلی رائٹ آف سنٹر، سوشلی کنزرویٹو، داخلی طور پر صوفی ازم سے متاثر ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.