خوابوں کی ڈسی - نگہت فرمان

وہ اکیلی نہیں اپنی ملازمہ کے ساتھ شاپنگ کرنے آئی ہوئی تھی، جس نے بہت سے شاپنگ بیگز تھامے ہوئے تھے اور اس سے ذرا سے فاصلے پر تھی۔ میری اس سے برسوں بعد اس شاپنگ مال میں ملاقات ہوئی۔ اسے پہچاننے کے لیے مجھے اپنی یادداشت پر بہت زور دینا پڑا، وہ اس لیے کہ یہ وہ سنعیہ نہیں لگ رہی تھی جسے میں جانتی تھی۔ شوخ، زندہ دل، چنچل، خوب صورت خدوخال، چہرے پر چمک اور زبان تو کبھی اس کی رکتی ہی نہیں تھی، ہر وقت قینچی کی طرح چلنے والی زبان جس سے وہ ہر ایک کو زِچ کیے رکھتی۔ اس کے اور میرے مزاج میں کوئی ہم آہنگی نہیں تھی، لیکن نجانے ایسا کیا تھا کہ ہماری دوستی کی سب مثالیں دیتے تھے۔

اگر ہم میں کوئی قدر مشترک تھی بھی تو وہ تھے ہمارے معاشی حالات۔ فرق صرف اتنا تھا کہ اس نے اپنے حالات سے سمجھوتا نہیں کیا تھا اور میں نے ان حالات کو اپنا مقدر اور نصیب سمجھ کر خاموشی میں پناہ لے لی تھی۔ وہ کسی بھی طرح، کسی بھی قیمت پر سماج میں اپنا مقام اور وہ سب کچھ حاصل کرنا چاہتی تھی جس سے وہ اب تک محروم چلی آئی تھی۔ قیمتی، اسٹائلش اور برانڈڈ ملبوسات، برق رفتار گاڑیاں، پرتعیش بنگلے کا حصول اسے بے چین رکھتا تھا۔ میں نے اسے سمجھانے کی کئی مرتبہ اپنی سی کوشش کی تھی اور اکثر ہی ہماری اس پر بحث ہوا کرتی تھی لیکن اسے قائل کرنا دیوار سے سر ٹکرانے جیسا تھا۔ اس نے جو طے کرلیا تھا بس اسے وہ حرفِ آخر سمجھ کر اپنی منزل کے حصول میں جُت گئی تھی۔ میں نے بھی ایک طرح سے ہار مان لی تھی اور اس سے اس مسئلے میں بات کرنا ترک کرچکی تھی۔

پھر وہ دن بھی آگیا کہ ہماری تعلیم مکمل ہوگئی تھی۔ کچھ دن تو ہم رابطے میں رہے لیکن پھر جو ہوتا ہے وہی ہوا کہ سب اپنے اپنے کاموں میں الجھ کر رہ گئے۔ پڑھائی کے دوران ہی سنعیہ کے بہت سے رشتے آنے لگے تھے لیکن وہ اپنے مطلوبہ رشتے کے انتظار میں سب کو مسترد کرتی رہی تھی۔ میں اکثر اسے قائل کرنے کی کوشش کرتی کہ مناسب رشتہ ہو تو شادی کرلے اور اپنے شوہر کے ساتھ مل کر وہ سب کچھ حاصل کرنے کی جدوجہد کرے جو اسے درکار ہے۔ وہ میری باتوں کو ہوا میں اُڑا کر کہتی "پھر کیا فائدہ؟ مجھے تو سب کچھ اِسی وقت چاہیے" اور اس کا کوئی فوری حل میرے پاس نہیں تھا۔ بلا کی ضدی سنعیہ کسی کو خاطر میں نہ لائی، وقت پر لگا کر اڑ گیا اور ہم میں کوئی رابطہ نہیں رہا۔

میری شادی متوسط گھرانے میں ہوگئی تھی۔ میں اپنے گھر کی بڑی بہو تھی تو میری ذمے داریاں بھی دُگنی تھیں۔ اپنی گھریلو زندگی میں اتنا مصروف ہوگئی کہ مجھے کسی سے بات کرنے کو بھی فرصت نہیں ملتی۔ شادی کے کچھ عرصے بعد عاشر کی پیدائش سے پہلے مجھے سنعیہ کی شادی کی اطلاع کسی دوست کی زبانی ملی تو میں نے شکر ادا کیا اور اس کی خوشیوں کی دعاؤں کے لیے ہاتھ اٹھا دیے۔

دن ماہ و سال میں تبدیل ہوتے چلے گئے۔ سب ہی اپنی زندگی میں مصروف اور ذمے داریوں میں گھرے ہوئے تھے کہ اس سے اس شاپنگ مال میں اچانک ملاقات نے پرانی یادوں کے دریچے کھول دیے۔ مجھے اسے دیکھ کر بہت خوشی ہوئی۔ مال میں تفصیلی ملاقات ممکن نہیں تھی ہم نے ایک دوسرے سے نمبروں کا تبادلہ کیا اور اپنے رستے پر ہولیے۔ اس دن سے میں سنعیہ سے بات کرنے، ملنے اور اس کے حالات جاننے کے لیے بے چین تھی۔ میں نے بمشکل اس کے گھر جانے کا پروگرام بنایا اور اسے فون کرکے اپنے آنے کی اطلاع دی۔ اس نے مجھے اپنے گھر کا پتا سمجھایا۔ میں جب اس کے گھر پہنچی تو دم بہ خود رہ گئی۔ اتنا بڑا بنگلہ؟ بنگلہ کیا، وہ تو ایک وسیع حویلی تھی، خوب صورت اور کشادہ۔ مجھے اپنا آپ کم تر لگ رہا تھا لیکن میں خوش بھی تھی کہ آخر اسے اپنے خوابوں کا شہزادہ مل ہی گیا۔

گارڈ کو وہ شاید میرے آنے کا بتا چکی تھی اسی لیے اس نے مستعدی سے گیٹ کھولا اور انٹرکام پر اسے میرے آنے کی اطلاع دی۔ سنعیہ نے انتہائی گرم جوشی سے مجھے گلے لگایا۔ میں نے کہا سنیعہ! آخر تم اپنی منزل پر پہنچ ہی گئی، چلو بہت اچھا ہوا۔ میں نے اسے بجھا ہوا دیکھ کر پوچھا، کیا تمہیں میرے آنے خوشی نہیں ہوئی؟ اس نے پھر سے مجھے گلے لگایا اور اپنے شان دار ڈرائنگ روم میں بٹھا کر کچن چلی گئی۔ واپسی میں وہ انواع اقسام کی اشیاء سے سجی ہوئی ٹرالی دھکیلتے ہوئی داخل ہوئی۔ اس نے میرے بچوں اور گھر والوں کی خیریت دریافت کی۔ میں نے اس سے اس کے شوہر اور بچوں کا پوچھا، ایک حسرت کے ساتھ اس نے کہا بچے نہیں ہیں اور شوہر باہر ہوتے ہیں۔

کیا مطلب ؟ کیا تم اتنی بڑی حویلی میں اکیلی ہو ؟

ہاں میں یہاں اکیلی ہوں، اچھا ہے تم سے ملاقات ہوگئی، ورنہ تو تنہائی ہے میری ساتھی، بس وہی میرے ساتھ رہتی ہے۔

کیوں ؟ آخر ایسا کیا ہوا سنیعہ؟ میں تقریباً چیخ پڑی۔ تم تو لوگوں کے ساتھ ملنے جُلنے کی شوقین تھیں، تنہائی سے تو تمہارا دم گھٹتا تھا۔

یہ راستہ میں نے خود چنا تھا، مجھے نہیں معلوم تھا کہ آگے جاکر سفر اتنا دشوار اور تکلیف دہ ہوجائے گا؟

پہیلیاں نہ بجھواؤ صاف صاف بتاؤ کیا کہنا چاہ رہی ہو؟

اس نے مجھے ٹالنے کی بہت کوشش کی لیکن میں نے ہار نہ مانی۔ میرے بہت اصرار پر وہ شروع ہوئی۔

تم جانتی ہو کہ میں نے کبھی اپنے حالات سے سمجھوتا نہیں کیا۔ ہمیشہ ایک پرتعیش زندگی کے حصول کے لیے سرگرداں رہی۔ رشتوں سے مسلسل انکار کی وجہ سے یہ مشہور ہوگیا اور یہ درست بھی تھا کہ اس لڑکی کے خواب کوئی شہزادہ بھی تعبیر نہیں کرسکتا تو بس رشتے آنا بند ہوگئے۔ میری بڑھتی عمر اور مسلسل انکار نے امی ابو کی صحت برباد کرکے رکھ دی۔ پھر ایک بھولا بھٹکا رشتہ آیا اور امی ابو نے مجھے آخر عامر سے شادی پر راضی کرلیا۔ اب اس کے علاوہ کوئی چارہ بھی تو نہیں تھا، میرے رشتے آنا تو ویسے ہی بند ہوگئے تھے، میں خود بھی مایوس ہوگئی تھی تو میں ہاں کردی۔ عامر کا تعلق متوسط گھرانے سے تھا اور جاب بھی مناسب تھی لیکن اس کی قابلیت کے لحاظ سے تن خواہ کم تھی۔ میں نے شادی کے بعد بھی حالات کو اپنا نصیب سمجھ کر قبول نہیں کیا اور ہر وقت شکوہ زبان پر رہتا۔ عامر سے فرمائشیں کرکر کے انہیں پریشان رکھتی اور آگے بڑھنے کے لیے اُکساتی رہتی، خود نوکری کرنے کی دھمکی دیتی، ان سب باتوں سے وہ بہت پریشان رہنے لگے۔ عامر کو بچے بہت پسند تھے اور میں اپنے خوابوں کی تعبیر میں مگن رہتی اور اخراجات میں اضافے کا رونا رو رو کر اس کی اس خواہش کو رد کرتی رہتی۔ پھر اچانک انہوں نے بتایا کہ انہیں لندن میں ان کے دوست کے توسط سے ملازمت مل رہی ہے۔ میں نے آؤ دیکھا نہ تاؤ ان کے پیچھے پڑگئی کہ جائیں مستقبل بنائیں۔ ان کی ماں نے انہیں روکنا چاہا کیونکہ عامر اکلوتے تھے، لیکن میرے انتہائی اصرار نے انہیں لندن جانے پر مجبور کردیا، اس طرح وہ لندن چلے گئے۔

پھر؟ پھر

وہ بمشکل بولنے لگی، اس کی آواز کسی اندھے کنویں سے آتی ہوئی بازگشت لگ رہی تھی، وہ اپنی آنکھوں میں آئے ہوئے سمندر کی لہروں کو ساحل تک پہنچنے سے روکنے کی ناکام کوشش کر رہی تھی۔

بس وہ دن ہے اور آج کا دن، میرے پاس ایک خطیر رقم کا چیک آجاتا ہے مگر اب عامر نہیں آتے۔

کیا مطلب ؟ جب سے گئے ہیں جب سے اب تک نہیں آئے؟ اور تمہاری ساس؟

میں یہاں اپنی زندگی پرتعیش بنانے اور اپنی خواہشات کے حصول میں لگی رہی اور انہوں نے وہاں اپنی نئی دنیا بسالی۔

مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا سنیعہ، تم کیا بے ربط سی باتیں کررہی ہو؟

انہوں نے وہاں شادی کرلی اور اب تو ان کے دو بچے بھی ہیں، جب مجھے معلوم ہوا تو میں نے بہت شور مچایا لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا، البتہ ان کے ایک خط نے میری حقیقت سے مجھے آشنا کرادیا۔

کیا لکھا تھا خط میں؟ میں نے ڈوبتی آواز میں پوچھا۔

وہ اٹھ کر اندر گئی، واپسی میں اس کے ہاتھ میں ایک لفافہ تھا، اس نے میرے سامنے رکھ دیا اور کہا، لو خود پڑھ لو۔ میں نے جلدی جلدی پڑھنا شروع کیا۔

سنعیہ! تمہیں بغیر اطلاع دیے میں نے یہاں شادی کرلی، کیا یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ کیوں؟ جب سے ہماری شادی ہوئی ایک دن بھی مجھے نہیں یاد پڑتا ایسا آیا ہو کہ تم نے مجھے تنگ دستی اور میری نااہلی کا طعنہ نہ دیا ہو۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں ہزاروں نہیں، لاکھوں سے اچھے حالات میں رکھا لیکن تمہیں بنگلہ، گاڑیاں اور دیگر آسائشوں کی نہ ختم ہونے والی طلب تھی۔ تمہارے لیے مادّی چیزیں سب کچھ جب کہ میرے لیے جذبات و احساسات اہم تھے۔ میں نے تنہائی کا عذاب جھیلا، تمہاری خاطر اپنا ملک چھوڑ پردیس آیا، محنت کی، میرے کان ہمیشہ یہ سننے کے لیے ترستے رہے کہ تم کہو کہ آپ آجائیں، لیکن․․․․․ تم نے ہمیشہ کوئی فرمائش ہی کی، گھر کو سجانے کی، خود کو سنوارنے کی اور میں اندر ہی اندر مرتا رہا۔ تم جانتی تھی کہ میں اکلوتا ہوں، میری ماں میرے فراق میں بیمار پڑگئی اور میرے لندن آنے کی کچھ ماہ بعد ہی انتقال کر گئیں۔ میری ماں کے انتقال پر مجھے آنے سے تم نے صرف اس لیے روک دیا کہ میری نوکری خطرے میں پڑجاتی اور میں صرف اس لیے نہیں آیا کہ کہیں بیوی سے بھی محروم نہ ہوجاؤں اور تمہاری خوشیوں اور خوابوں کو تعبیر دینے کے لیے مشین بنا رہا۔ ایک ایسی مشین جس کا دل نہیں ہوتا، جو احساس سے عاری ہوتی ہے۔ لیکن تم پھر بھی خوش نہیں ہوئیں اور بس گھر، گاڑیاں اور عیش و عشرت ہی کو زندگی سمجھتی رہی۔ کیا خود غرضی کسی اور بلا کا نام ہے۔ آخر تمہارے اسی رویے نے مجھے یہ سوچنے مجبور کردیا کہ تمہیں میری ضرورت نہیں ہے۔ میں مجبور ہوگیا کہ کہ جب تمہیں میری ضرورت ہی نہیں ہے تو میں کیوں اپنی خوشیوں کی بھیک تم سے مانگوں؟ بس اسی لیے میں نے یہاں ایک ایسی لڑکی سے شادی کا فیصلہ کیا کہ جسے صرف میری ضرورت ہے۔ میری زندگی میں وہ بہار بن کر آئی ہے۔ میری چھوٹی چھوٹی خوشیوں کا خیال رکھنے والی۔ تمہیں حیرت ہوگی اتنے برسوں میں اس نے کوئی ضرورت سے زیادہ چیز طلب نہیں کی، کوئی خواہش نہیں کی۔ تمہیں بچوں کا سوچ کر بوجھ لگتا جب کہ مجھے اولاد نے مکمل کیا۔ تم چاہو تو میرے نام کے ساتھ بقیہ زندگی گزار سکتی ہو، اب تمہارے پاس گھر، گاڑیاں اور ہر آسائش ہے، میں تمہیں ہر ماہ رقم بھیجتا رہوں گا، تم اپنی زندگی جیسی تم چاہتی تھی گزارو اور چاہو تو مجھ سے علیحدگی اختیار کرلو۔

سنیعہ ساون کی جھڑی کی طرح برس رہی تھی اور مجھے اس کے محل نما بنگلے سے اپنا سو گز کا مکان، جہاں ہم سات لوگ رہتے ہیں، جنّت لگ رہا تھا۔

ٹیگز