پنج پیر راکس -- محمد مبین امجد

جیسا کہ نام سے ظاہر ہے کہ یہ جگہ اپنے اندر ایک روحانیت بھرا بھید لیے ہوئے ہے۔ بہت سوچا کہ اس کا مطلب کیا ہو سکتا ہے مگر اس نام کی کوئی وجہ تسمیہ نہیں معلوم ہو سکی۔ خیر آپ کہہ سکتے ہیں کہ میرے لیے یہ ایک اجنبی راستہ تھا۔ کبھی کبھار اجنبی راستوں پہ چلنا بھی بہت لطف انگیز اور خوبصورت تجربہ ہو سکتا ہےیہ میں نے اس دن جانا ۔ اور جب اس قدر پیارے ہمرا ہی اور راہرو ساتھ ہوں تو ان منزلوں کی اجنبیت چہ معنی دارد؟
کہوٹہ سے ہم نے ایک گائیڈ کو ساتھ لیا ۔۔ تب ہاں تب ہی میں نے جانا کہ اس نام پنج پیر کی وجہ تسمیہ کیا ہے۔ اس گائیڈ نے بتایا کہ اس جگہ کسی زمانے میں پانچ بزرگ آکر رہے تھے۔ یہاں انہوں نے چلہ کاٹا اور بہت عبادت کی اور اسی وجہ سے ان پہاڑوں کو پنج پیر راکس کہا جاتا ہے۔ جہاں انہوں نے قیام کیا اسے چلہ گاہ کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے اور وہاں ایک مسجد بھی ہے۔ اوربہت ممکن ہے کہ یہ پانچ بزرگ صرف یہیں نہ آئے ہوں بلکہ دریافت کے یہ پرندے اپنی کھوج میں پیر پنجال تک بھی گئے ہوں۔ ہاں کبھی نام پنج پیر راکس ہوگیا اور کبھی پیر پنجال ہو گیا۔
پنج پیر راکس اسلام آباد سے 80 کلومیٹر دور ہیں ۔لاہور سے جاتے ہوئے دریائے سواں کے پل (کاک پل) سے کہوٹہ روڈ پر آجائیں کہوٹہ پہنچ کر بازار سے بائیں آزاد پتن روڈ پہ مڑ جائیں ۔ آزاد پتن روڈ پہ بیس کلو میٹر سفر کے بعد پنجاڑ گاؤں آئے گا ۔ وہاں چوکی کے بالکل پاس سے ایک سڑک اوپر کو جاتی ہے جو نڑھ گاؤں سے ہوتے ہوئے 6 ہزار فُٹ کی بلندی پر موجود پنج پیر راکس تک جاتی ہے۔ راکس لہتراڑ کی جانب ہزاروں فٹ شدید خطرناک گہرائی پر معلق ہیں۔ اس لیے اِن راک فیسز کو دنوئی رِج کہا جاتا ہے۔ چونکہ سامنے ہی دریائے جہلم بہتا نظر آتا ہے اس لیے یہ سارا وادئ جہلم کا علاقہ ہے۔
انہی راکس سے کشمیر کی برفپوش پیر پنجل رینج کے علاوہ کاغان کی مکڑا پیک اور موسیٰ کا مصلہ بھی نظر آتی ہیں۔ گلیات میں مکشپوری اور ایوبیہ نظر آتی ہیں۔ بلکہ مری اور مارگلہ ہلز بھی سامنے نظر آتی ہیں۔ مری تو اس قدر صاف نظر آتا ہے کہ گلوریا جینز میں بیٹھی حسین لڑکیاں تک دکھتی ہیں ۔۔ لڑکے البتہ نظر نہیں آتے ۔ اور اتنی دور سے نظر آ بھی کیسے سکتے ہیں۔
تو 30 جنوری 2018 کی علی الصبح ہم پنج پیر جاتے تھے ۔ کیوں جاتے تھے یہ نہیں پتہ ہاں باجماعت جاتے تھے۔ کیونکہ جہاں سے بلاوہ آجائے وہاں جانا ہی ہوتا ہے۔ اور چونکہ یہ پہاڑیاں ہمیں بلاتی تھیں اس لیے ہم کشاں کشاں جاتے تھے۔ یہ ہمارے انگریزی ڈیپارٹمنٹ کا ٹور تھا۔ جس میں ہمارے ساتھ ہمارے تین راہرو (اساتذہ) اور باقی ہم سب لٹریچر کے سٹوڈنٹس تھے۔ ایکسائٹمنٹ اس قدر تھی کہ مجھے تو پوری رات نیند نہیں آئی۔ اور صبح صبح ہی مجھے دوست پک کرنے آگیا۔ ابھی نماز بھی پوری نہیں پڑھی تھی وقت رخصت آن پہنچا تھا (یعنی روانگی کا وقت) اور لینے والا بھی۔ سنتے تھے کہ اس وقت نیک لوگوں کو فرشتے لینے آتے ہیں ۔ سو ہمارا فرشتہ باہر کھڑا کال پہ کال کیے جا رہا تھا۔ جدید دور کا جدید فرشتہ تھا نا۔۔۔
خیر ایک کوسٹر میں ہمارا سفر شروع ہوا۔ ابتدا تو سفر کی دعاؤں سے ہوا مگر پھر جلد ہی گاڑی میں گانے گونجنے لگے۔ ہمارا پہلا سٹاپ لالہ موسیٰ میاں جی کے ہوٹل پہ ہوا۔ وہاں سے ناشتہ کر کے تازہ دم ہو کر ہم ایک بار پھر سفر میں تھے کیونکہ سفر شرط ہے مسافر نواز بہتیرے۔ ہمارا یہ کم و بیش 5 گھنٹوں کا سفر تھا جس میں محض انجوائے منٹ تھی، رونق شونق اور رولا رپا تھا۔ کاک پل سے ہم کہوٹہ روڈ پہ ہو گئے۔ کہوٹہ میں چونکہ پاکستان کا ایٹمی پراجیکٹ ہے اس لیے یہاں چیکنگ اور سختی تھی۔ کہوٹہ سے کچھ پہلے ہمیں بھی آرمی نے روکا اور ان کا روکنا بنتا بھی تھا۔ ایک ایسی گاڑی جس میں زیادہ تر فارنرز دکھنے والیاں تھیں اسے وہ کیوں نہ روکتے؟ خیر ہم میں سے اکثر کے پاس شناختی کارڈ بھی نہیں تھا۔ اس لیے کافی سخت پوچھ گچھ کے بعد ہی انہوں نے ہمیں جانے دیا۔
یہاں سے ہمارا اصل سفر شروع ہوا۔ جو بلند و بالا پہاڑوں اور درختوں کے درمیان تھا۔ یہاں ایک طرف پہاڑ تھے تو دوسری طرف ہزار ہا سال پرانے درخت۔۔۔ اور ان میں سڑکے بل کھاتی لہراتی ہوئی جاتی تھی۔ کئی مقامات تو ایسے آئے بے ساختہ زبان پہ کلمہ کا ورد جاری ہو گیا۔ یہیں سے ہم نے اپنے گائیڈ کو ساتھ لیا جس نے مجھے پنج پیر کی وجہ تسمیہ بتائی تھی۔ پنج پیر جاتے ہوئے رستے میں ایک چھوٹی سی واٹر فال بھی آتی ہے جو کہ ویسے تو خشک تھی مگر جھیل میں سبز کائی زدہ پانی کافی تھا۔ وہاں مارکیٹ سے ہم نے چونکہ بار بی کیو کیلیے چکن لینا تھا اس لیے رکنا پڑا اور اسی بہانے چند تصویر بتاں کی رسم بھی ہو گئی۔
یہاں سے ہم پھر عازم سفر ہوئے اور چیڑ کے خاموش اور اندھیرے جنگلوں میں بل کھاتی مدہوش سڑک پر سفر کرنے لگے۔ یہ جنگل خاموش تھے جیسے اوشو کے ہوں مگر نہیں یہ تو کلام بھی کرتے تھے اور کسی کسی سے ہی کرتے تھے۔ مجھ سےبھی ان نخریلے جنگلوں نے کلام کیا اور یہ ہمارے درمیان راز ہی رہے، کہ ہم میں کیا راز ونیاز ہوئے ، تو بہتر ہے۔ ہزاروں سالوں سے یہاں ایستادہ جانے کتنے ہی لوگوں سے مل کے اور باتیں کر کے یہ بہت سیانے ہوگئے تھے۔ اور ایک ہی جگہ چلے کاٹنے کی وجہ سے یہ درخت بھی شاید درویش ہوگئے تھے۔ اور روحانیت بھری باتیں کرتے تھے۔ انہوں نے مجھے بھی خدائے بزرگ و برتر کی وحدانیت اور قدرت کاملہ کا سبق دیا۔ جسے میں نے اپنے پلے سے باندھ لیا۔
جلد ہی ہم ایک ایسی جگہ پہنچ گئے جہاں سے آگے ہماری گاڑی نہیں جا سکتی تھی اور اب ہمیں پیدل ہی آگے بڑھنا تھا۔ سو گاڑی کو ایک جگہ پارک کرکے ہم آگے بڑھے۔ یہاں چڑھائی کی وجہ سے کافی لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ۔ خود میرا اپنا سانس پھول گیا۔ خیر کرتے کراتے گرتے پڑتے ہم پہاڑوں کے قریب پہنچ ہی گئے۔ یہاں ٹوٹے پھوٹے رستوں سے ہوتے ہوئے ہم بلندی کی طرف جانے لگے۔ اور سینکڑوں میٹر بلند چٹانوں پہ چڑھ کر دیکھا تو جو اکا دکا گھر تھے وہ کہیں نیچے بہت نیچے رہ گئے تھے۔ یہاں تک بالکل اوجھل ہوگئے۔ جب سب کچھ اوجھل ہو گیا تو پھر وہ آشکار ہوا۔
وہ۔۔ جسے پانے کیلیے، جس سے ملنے کیلیے موسیٰؑ کوہ طور پہ جاتے تھے، جسے پانے کیلیے حضورﷺ ایک پہاڑی کا رخ کرتے تھے اور ایک غار میں فروکش ہو جاتے تھے۔ اور جسے پانے کیلیے اصحاب کہف نے پہاڑوں کا رخ کیا اور شاید اسے پانے کیلیے ہی پنج پیر یہاں آئے تھے۔ تو میں کہہ رہا تھا کہ جب سب کچھ اوجھل ہو گیا تو پھر وہ آشکار ہوا۔ گوکہ میں موسیٰؑ تھا اور نہ ہو سکتا تھا مگر وہ تو وہی تھا ۔۔ وہاں ہزاروں فٹ کی بلندی پہ وہ مجھ سے ملنے آگیا۔ اور جب وہ آگیا تو ارد گرد کی گلیاں سنجیاں ہوگئیں اور میں اور میرا یاران گلیوں میں پھرتے تھے۔ میرے دل میں ہیبت بیٹھ بیٹھ جاتی تھی۔ مجھے ڈر بھی لگتا تھا اور مجھے اس پہ پیار بھی آتا تھا۔ جانے کون سی کیفیت تھی جو مجھ پہ طاری تھی۔
یہاں مجھے وہ چٹان تو نظر نہ آئی جس پہ لکھا تھا "آیا کرو"۔۔ ہاں البتہ وہ ٹرک مجھے بھی دکھائی دے گیا جس کے پیچھے لکھا تھا کہ" پھر کب آؤ گے؟" اب اس کا جواب میں کیا دیتا کہ کب آؤں گا؟؟ کاش یہ آنا میرے اپنے بس میں ہوتا تو میں ان بھید بھرے خاموش جنگلوں میں روز آنا چاہتا تھا جن کی خاموشی مجھ سے یوں ہم کلام ہوتی تھی کہ مانو ہزاروں گھنٹیوں کی مترنم آواز میرے کانوں میں بڑی ہی آہستگی سے پھیلتی جاتی تھی جیسے کہر زدہ دھند میں پراٹھے کی خوشبو بڑی آہستگی اور نرمی سے پھیلتی جاتی ہے۔ میرا قلم ساتھ نہیں دیتا کہ اس کیفیت کو بیان کر سکوں کیونکہ یہ کیفیت بیان کرنے کی نہیں بلکہ صرف محسوس کرنے کی ہے۔
اس علاقے کی اہم اور خصوصی بات یہ ہے کہ ایک ایک چٹان پہ پورا پورا گاؤں آباد ہے۔ اور انہیں دیکھ کر حیرانی ہوتی ہے کہ کیسے لوگ یہاں زیست کرتے ہیں ۔ کیونکہ اتنی بلندی پہ ضروریات زندگی پہنچانا ہی کار ندارد ہے۔ یہاں تو موبائل کے سگنل تک نہیں آتے۔ میں نے اپنی ایک کلاس میٹ سے پوچھا یار یہ لوگ یہاں کیسے رہ لیتے ہیں؟ تو وہ کہنے لگی یہ ہم سے اچھی ہی زندگی گزارتے ہونگے۔ واقعی پھر میں نے غور کیا تو جانا کہ وہ لوگ تو ہم سے کئی درجے افضل زندگی گزارتے ہیں۔ خالص غذا اور خالص آب و ہوا میں رہنے والے خالص لوگ۔۔ ناخالص تو ہم تھے جنہوں نے وہاں جا کر گندگی پھیلائی اور آب و ہوا کو آلودہ کر دیا۔
پنج پیر کا حسن واپسی کے راستے میں سخت مزاحم ہوتا ہے۔ مگر واپسی تو لازم تھی۔ کیونکہ یہ خوف لاحق تھا کہ کہیں واپسی کے راستے میں گھاس نہ اگ آئے۔ کیونکہ راستوں میں گھاس اگ آئے تو مسافر راستہ بھول بھی سکتے ہیں۔ سو ہم اب واپس مڑتے تھے کہ سورج بھی اب واپس مڑتا تھا تاکہ اگلے دن زور و شور سے نکلنے کیلیے تازہ دم ہو سکے۔ بلندیوں سے واپس آتے ہوئے ایک خاموشی اور تنہائی کا احساس ہوتا ہے۔ وہ خاموشی اور تنہائی جو اب شہروں میں نا پید ہو چکی ہے۔ گوکہ واپسی کا سفر زیادہ خوبصورت اور ہیجان خیز تھا۔ اور ہم چلتے چلتے وہیں پہنچ گئے جہاں سے چلے تھے۔ واپسی پہ اسی واٹر فال والے مقام پہ ہم نے کھانا کھایا۔۔
اور پھر گھنے جنگلوں میں سفر شروع ہوا۔ گاڑی کی فرنٹ سیٹ پہ اپنی میم کے ساتھ بیٹھے میں نے تنہائی اور خاموشی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ونڈ سکرین سے باہر جھانکا تو آسمان پر چاند اس قدر دلفریب منظر پیش کر رہا تھا کہ بیان نہیں کیا جا سکتا۔ کاش میں شاعر ہوتا تو اس چاند کو اپنے محبوب سے تشبیہ دیتا، اس کی عام معمول سے قدرے زیادہ روشنی کو بھی کوئی نام دے لیتا۔ مگر میں چونکہ شاعر نہیں تھا تو ایک شاعر کے الفاظ نقل کر لیتا ہوں۔ گلزار ، وہ جو شاعر ہے ، نے شاید کسی ایسے ہی منظر کو دیکھ کر کہا تھا
چاند پکھراج کا
رات پشمینے کی
تو پشمینے کی رات تھی اور پکھراج کا چاند تھا ۔ لمبا سفر تھا ۔ خاموشی تھی۔ تنہائی تھی۔ مگر یہ خاموشی اور تنہائی زیادہ دیر نہ رہ سکی کہ میری میم مجھ سے بات کر نے لگیں۔ ہم نے باتیں کیں، پہاڑوں کی باتیں، پام اور چیڑ کے درختوں کی باتیں ، چاند کی باتیں اور چاندنی کی بھی اور ۔۔۔
اور خاموشی اور تنہائی کی باتیں ۔۔ وہ تنہائی جو شور مچاتی تھی۔ اور جو اس قدر خاموش تھی کہ کانوں کا پردہ پھاڑتی تھی۔
جانے ہم کتنے ہی گھنٹے بے نام اور اجنبی راستوں پہ چلے اور آخر کار شہر سے مین داخل ہو گئے۔ جہاں شور تھا ، لوگ تھے، ٹریفک تھا اور جانے کیا کیا الا بلا تھا ہاں مگر "اس" کی موجودگی نہیں تھی۔ وہ جو پہاڑوں میں میرے سامنے بے نقاب ہوا تھا۔ جس نے وہاں اپنے اور میرے درمیان سارے حجاب ہٹا دیے تھے۔ اب پھر حجابوں میں آگیا تھا۔ خیر ہم نے وہاں میکڈونلڈ سے برگر بوتل اور سنیکس وغیرہ لیےاور آخر کار واپسی کے سفر پہ ہولیے۔
اس سفر پہ کہ جہاں سے بھٹکنے کا کوئی چانس نہیں تھا۔ اور اب ہم نے گھر پہنچ ہی جانا تھا۔ سو پہنچ گئے۔ سو اس طرح ہمارا یہ ٹور بہت سی یادیں چھوڑ کر اپنے اختتام کو پہنچا۔

Comments

محمد مبین امجد

محمد مبین امجد

محمد مبین امجد انگریزی ادب کے طالب علم ہیں۔ مختلف اخبارات میں ہفتہ وار کالم اور فیچر لکھتے ہیں۔اسلامی و معاشرتی موضوعات میں خاص دلچسپی ہے۔ کہانی و افسانہ نگاری کا شوق رکھتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.