مطالعہ اور کتابیں - محمد عامر خاکوانی

زندگی کی پرمسرت ساعتیں کیا ہیں؟ اس سوال پرہر ایک کا اپنا ہی جواب ہوگا۔ کسی کو بے تحاشا چلتے کاروبار کو دیکھ کر خوشی محسوس ہوتی ہے۔گاہکوں کا ہجوم اور کیش باکس میں دھڑا دھڑڈالے گئے نوٹ۔ اپنے علاقہ کے ایک بڑے کریانہ سٹور سے میںگھر کا راشن لیا کرتا ہوں، دکاندار ایک سفید ریش بزرگ ہیں، مناسب دام پر اچھا مال دیتے ہیں، فطری طور پر گاہک ختم نہیں ہوتے۔ ایک روز انتظار کی کوفت سے اکتا کر ایسے ہی بابا جی سے کہہ دیا، آپ کی دکان پر دیر بہت لگ جاتی ہے۔ تیکھی نظروں سے انہوں نے گھورا اورقدرے کڑوے لہجے میں بولے، بابو ہم اس رش کی خاطر نوافل پڑھ پڑھ کر دعائیں مانگتے ہیں اور آپ کو یہ پسند نہیں۔ان کی خفگی دیکھ کر معذرت کرتے ہی بنی۔ مختلف شعبوں کے لوگ اپنے کاروبار کو پھلتے پھولتے دیکھ کر ایسے ہی خوش ہوتے ہیں۔ ایک بار والدہ کے چیک اپ کےلئے بڑی مشکل سے ایک معروف ماہر امراض معدہ سے وقت لیا۔تمام تعلقات استعمال کرنے پڑے ،پھر بھی کئی گھنٹوں کے انتظار کے بعدبمشکل پانچ منٹ کا وقت مل سکا۔ رش کے باوجود ڈاکٹر صاحب بڑے ریلیکس اور مسکراتے ہوئے ملے، تھکن کا نشان تک نہ تھا۔بعد میں ان کے اسسٹنٹ سے اگلی نشست کا وقت لینے گیا تو ڈائری دیکھ کر حیرت ہوئی، پانچ چھ ماہ سے پہلے کسی کو وقت نہیں مل سکتا تھا۔ڈھائی ہزار چیک اپ کی فیس تھی اور معلوم ہوا کہ وہ روزانہ شام پانچ بجے آتے ہیں اور رات دو ڈھائی بجے تک بیٹھے رہتے ہیں۔ سو کے قریب مریض اس طرح دیکھ لیتے ہوں گے، اندازہ لگایا کہ دو ڈھائی لاکھ روپے روز کے تو یوں چیک اپ کے ہو جاتے ہیں، کسی کا آپریشن وغیرہ کرنا پڑا تو اس کا الگ لمبا چوڑا حساب ۔کسی بھی قسم کے ٹیکس کے بغیر ستر اسی لاکھ سے ایک کروڑ ماہانہ کی آمدنی بنتی تھی۔ اندازہ ہوا کہ ان کے پرمسرت چہرے کے پیچھے یہ برستا ہن کارفرما تھا۔

خیر رزق میں اضافہ کسے برا لگتا ہے، اس پر خوش ہونے کا جواز ہے، مگر اس کے علاوہ بھی کئی مواقع ہیں،جب زندگی میں خوشی ، طمانیت اور سکون کی ایسی لہر دوڑ جاتی ہے کہ روح تک سرشار ہوجائے۔ میں رات کو جب گھر پہنچتا ہوں، اس وقت چھوٹا بیٹا چار سالہ عبداللہ عموماً جاگ رہا ہوتا ہے۔ عبداللہ جو ایک وولبر بچہ ہے، بچوں کی ایک مشہور کہانی کی کردار ”وولبر “بلی کی طرح کی حرکتیں کرتا ہے۔وہ اکثراپنی آنکھوں کو ہاتھ سے ڈھانپ کر اپنی دانست میں میری نظروں سے پوشید ہ ہوجاتا ہے، پھر اچانک ہاتھ ہٹا کر کھلکھلا کرہنستا اور ایک دلآویز شرمیلی سی مسکراہٹ سے دیکھتا ہے۔ زندگی میں کم ہی منظر اتنے حسین ہوں گے۔واک کی نئی نئی عادت ڈال رہا ہوں، لیکن بھیگے موسموں میں اگر پارک جا نا ہو، دور تک پھیلے دمکتے سبز فرش پر گرتے بارش کے قطرے، ہواﺅں میں رچا خالص پن اوررقص کرتا منظردیکھ کر آدمی دم بخود ہوجاتا ہے۔ باہر نہیں جا سکے، کھڑکی سے جھانک کر یا ٹیریس پر کھڑے ہو کر اس سحرانگیز نظارے ہی سے کمال درجے کا لطف حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اس طرح کے اور بھی کئی مسحور کن نظارے، حسین یادیں ہوں گی۔ہر کوئی اپنے مزاج، پسند اور حساب کتاب سے انہیں ڈیل کرنا، خوشی کشید کرتا اور مستقبل کے کٹھن لمحوں کے لئے انہیں سینت کر ذہن میں محفوظ کر لیتا ہے۔ اپنی بات کروں تو صبح اٹھ کر باہر گیٹ کے نیچے سے پھینکے گئے اخبارات کا پلند ہ اٹھا کرلانا اور پھر اگلے ڈیڑھ دو گھنٹوں تک مطالعہ میں غرق ہوجانا میرے لئے لطف وانبساط کی اچھوتی گھڑیاں ہیں۔ تصور کریں کہ بھاپ اڑاتی چائے کا کنگ سائز کپ پاس دھرا ہو، آپ اخبار کی سرخیوں پر نظر دوڑاتے، میگزین کے رنگین ایڈیشنز کو تنقید ی نظر سے دیکھتے کالموں کی طرف لپکتے ہیں۔ ایک کے بعد دوسرے پھر تیسرے اردو اخبار کے کالم اور پھرانگریزی اخبار کی خبریں پڑھنا۔ اس کی لذت بیان نہیں ہوسکتی۔ سچی بات ہے کہ کم ہی ایسے دن ہوں گے، جب اخبار پڑھے بغیر دن کا آغاز ہوا۔ اگر ایسا ہو تو دن بھر شدید تشنگی کا احساس رہتا ہے اور بے پناہ مصروفیت کے باوجود دن کے کسی نہ کسی وقت میں اخبار دیکھ ہی لئے جاتے ہیں، چاہے نیٹ کا سہارا ہی لینا پڑے۔

یہ بھی پڑھیں:   نسیم حجازی کے بعد اب عمیرہ احمد - محمد عامر خاکوانی

ایک زمانہ تھا کہ ایسی ہی دل خوش کن ساعتیں کتابوں کے مطالعہ سے بھی معمور ہوتی تھیں۔ جب رات کو کتاب پڑھے بغیر نیند نہیں آتی تھی۔ افسوس کہ اب خاصا وقت سوشل میڈیا لے جاتا ہے۔ کتابوں کے پلندے جمع ہوتے جارہے ہیں، تھوڑا تھوڑا وقت نکال کر انہیں دیکھ تو لیتا ہوں، مگر وہ پہلے جیسی رفتار نہیں۔ ایک طریقہ یہ نکالا ہے کہ انگریزی کے بعض مشہور فکشن ناول پڑھنے کے بجائے ان پر بنی فلم دیکھ لیتا ہوں۔ پچھلے دنوں ہم میاں بیوی نے مشہور ناول THe Great Gatsbyپر بنی اسی نام کی فلم دیکھی، ڈی کیپیریو اس کا ہیرو ہے اور اس نے کمال کام کیا۔ بہت خوبصورت رومانی ناول ہے، جس کی اپنی ہی سحرانگیز کیفیت ہے۔ کچھ عرصہ قبل فیس بک پرہمارے دوست عرفان جاوید نے اکیسویں صد ی کے جدید اردوناولوں کے حوالے سے ایک پوسٹ کی، اس پر کمنٹس میں بہت سے لوگوں نے اپنے پسندیدہ ناول شیئر کئے تو مجھے احساس ہوا کہ ان میں سے کئی نہیں پڑھ رکھے ۔ اچانک ہی عہد کیا اور اگلے دو دنوں میںزمیندار کا نیلا جیسا شاہکار ناولٹ لکھنے والے سید محمد اشرف کا ناول آخری سواریاں پڑھ ڈالا۔شمس الرحمن فاروقی کاقبض زماں بھی پڑھا، اگرچہ ”کئی چاند تھے سرآسماں“جیسے شاہکار ناول کے مصنف کی اس کتاب کو پڑھنے میں وہ لطف نہیں آیا۔ ایک مختلف انداز کا ناول گینڈا پہلوان بھی پڑھا ، سید کاشف رضاکے ناول چار درویش اور ایک کچھوا نے البتہ لطف دیا۔

میرے لیے ایک اور دل خوش کن ساعت اپنے بچوں کو مطالعہ کرتے دیکھنا ہے۔ اگرچہ بچے اس خوشی کا زیادہ موقع نہیں دیتے اور اپنا فارغ وقت ٹی وی کارٹون اور ٹیب پر گیمز کھیلنے میں صرف کر دیتے ہیں۔ میری شدید خواہش ہے کہ جس طرح والد مرحوم نے بچپن میں کہانیوں کی کتابیں لا کر دی تھیں اور پھر عمر بھر رسائل ، اخبار گھر میں لگا ئے رکھے، جن سے مطالعہ کی چاٹ پڑی، اسی طرح ہم بھی اپنی اگلی نسل تک کتابوں کی محبت منتقل کر سکیں۔ اس کے لئے مختلف طریقے آزمائے، مسلسل غور کرتا رہتا ہوں۔ دو تین سال پہلے اخبار والے کو کہا کہ جتنے بچوں کے رسائل ہیں، وہ ڈال دیا کرو۔ نونہال، تعلیم وتربیت، پھول وغیرہ آتے رہے۔ بچے ہاتھ نہ لگاتے۔ کبھی پڑھنے کی کوشش کی تو جلدچھوڑ دیا۔ ایک دن تنقیدی نظر سے جائزہ لیا تو اندازہ ہوا کہ بچوں کے لئے کچھ زیادہ نہیں لکھا جا رہا، ہمارے رسائل اتنے دلکش اور رنگین نہیں کہ توجہ کھینچ سکیں۔ انگریزی کتابوں کے معاملے میں ایسا نہیں۔ ایک سے بڑھ کر ایک دلکش کتاب مل جائے۔ ایسی ایسی شاندار اسکیچز سے مزین کہانیاں کہ بچے تو بچے بڑے بھی دیکھتے رہ جائیں۔ کوشش اب بھی جاری ہے، ہر ہفتہ کو بیشتر اخبارات بچوں کے ایڈیشن چھاپتے ہیں، وہ ان کو پڑھانے کی ترغیب دیتا رہتا ہوں، ہمارے دوست فیصل شہزاد بچوں کا اسلام کے رسالے بھیج دیتے ہیں، ان میں اچھا مواد ہے۔ اخبارات میں دلچسپ وعجیب خبروں پر نصف صفحہ دیا جاتا ہے، اس میں ہمارے بچے دلچسپی لے رہے ہیں۔ ہم خوش ہیں کہ چلو کچھ تو پڑھ رہے ہیں۔ بیٹی کو ہارر کہانیوں سے دلچسپی ہے، کہیں سے اسے ڈر ڈائجسٹ مل گیا، اب ہر ماہ اس کے لئے منگواتا ہوں تاکہ پڑھنے کی عادت پڑے۔ ایک فائدہ ہوا کہ کچھ عرصہ قبل وہ بانو قدسیہ آپا کا ناول راجہ گدھ پڑھتی نظر آئی۔ دل باغ باغ ہوگیا کہ چلیں ادب کی طرف چل پڑی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   اختر رضا سلیمی کے ناول "جندر" کا مطالعہ - وقاص چغتائی

اکثر لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ بچوں کو پڑھنے کی عادت کیسے ڈالیں؟ انہیں یہ کہتا ہوں کہ بچوں کو اپنی مرضی کا پڑھنے دیں، چاہے کچھ بھی پڑھیں۔ ہارر کہانیاں، جنگل بکس وغیرہ، ڈائجسٹ کچھ بھی پڑھیں، روکیں ناں، بتدریج تربیت ہوتی جائے گی۔ پہلے دن سے کوئی ادب عالیہ نہیں پڑھ سکتا۔ سب سے اہم کہ اخبار پڑھنے کی عادت ڈالیں۔ اخبار بند کرا دیتے ہیں اور پھر شکوہ ہوتا ہے کہ بچے کچھ پڑھتے نہیں۔ بھائی کہیں سے ابتدا تو کرنا پڑے گی۔ ہر سال لاہور میں کتب میلہ لگتا ہے۔ یکم فروری سے ایکسپو میں یہ کتاب میلہ شروع ہوچکا ہے۔ اس بار تو کمال یہ ہے کہ ہفتہ، اتوار اور پیریعنی پانچ فروری کو بھی بچوں کی سکول سے چھٹی ہوگی۔ انہیں کتابیں دلوانے لے جائیں۔ پیپرز جلدی ہونے والے ہیں، ابھی بے شک نہ پڑھیں، مگر اس کے بعد تو وہ پڑھ سکتے ہیں۔ کتاب میلے میں جانا بھی ایک شاندار تجربہ ہوتا ہے۔ آدمی کا کتاب ،مطالعہ اور کتاب دوستوں پر یقین مستحکم ہوجاتا ہے۔ لاہور اور قریبی شہروں کے رہنے والے اس کتاب میلے کو تجربہ کے طور پر آزما کر دیکھ لیں۔ ان شااللہ مایوسی نہیں ہوگی۔

Comments

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر ہاشم خاکوانی کالم نگار اور سینئر صحافی ہیں۔ روزنامہ 92 نیوز میں میگزین ایڈیٹر ہیں۔ دلیل کے بانی مدیر ہیں۔ پولیٹیکلی رائٹ آف سنٹر، سوشلی کنزرویٹو، داخلی طور پر صوفی ازم سے متاثر ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.