ہماری عبادت اور کردار میں تضاد کیوں؟ - بشارت حمید

اللہ کا فرمان ہے "بے شک نماز برائی اور بے حیائی سے روکتی ہے" لیکن ہم اپنے اردگرد دیکھتے ہیں کہ لوگ نماز بھی پڑھتے ہیں، پہلی صف میں کھڑے ہوتے ہیں لیکن روزمرہ زندگی میں جھوٹ بھی بولتے ہیں، دھوکا بھی دیتے ہیں، فراڈ بھی کرتے ہیں، دوسروں کے ساتھ بد اخلاقی سے پیش آتے ہیں، بے حیائی کے کاموں میں بھی ملوث ہوتے ہیں۔ عمرے اور حج پر بھی جاتے ہیں لیکن کسی کے ساتھ کیا ہوا وعدہ پورا نہیں کرتے۔ وقت پر اپنے ماتحتوں کو تنخواہ نہیں دیتے۔ اپنے کاروبار میں دھوکا دہی اور دو نمبری سے کام لیتے ہیں تو پھر معاذاللہ! کیا اللہ کا فرمان غلط ہو سکتا ہے؟ …ہرگز نہیں!

اللہ کا فرمان بر حق ہے اور بلاشبہ نماز بندہ مومن کو برائی اور بے حیائی سے عملی طور پر روک دیتی ہے لیکن ہم پانچ وقت مسجد میں جا کر نمازیں پڑھتے ہیں، چہرے پر سنت رسول بھی سجا رکھی ہے، لوگ ہمیں بہت نیک انسان سمجھ رہے ہوتے ہیں لیکن کسی سے کوئی جھگڑا ہو جائے تو ہم نمازوں کو اتار کر ایک سائیڈ پر رکھ دیتے ہیں اور گالم گلوچ اور زیادتی کرنے میں ایک بے نمازی سے بھی چار ہاتھ بڑھ جاتے ہیں تو پھر آخر فرق کیا ہے؟

کاروبار یا جاب پر ہمارے معاملات کسی بھی طور مثالی نمونہ پیش نہیں کرتے۔ اگر جاب پر ہیں تو اپنے کام سے جی چراتے ہیں، کوئی غلطی ہو جائے تو اسے تسلیم کرنے کی بجائے دوسروں کے سر پر ڈال دیتے ہیں، ناجائز فائدہ لینے کے لیے اپنے باس کی خوشامد بھی کرتے ہیں۔ اگر کاروبار پر ہوں تو لین دین میں کبھی وعدہ پورا نہیں کرتے۔ مال خریدتے اور فروخت کرتے وقت بالکل برعکس رویہ اختیار کرتے ہیں۔ کسی کی مجبوری سے ناجائز فائدہ اٹھانے کے لیے بے دریغ جھوٹ بولتے رہتے ہیں۔ یہ مقولہ مشہور کر رکھا ہے کہ جی جھوٹ نہ بولیں تو بچوں کو کہاں سے کھلائیں گے؟ کھانے پینے کی چیزوں میں زہریلی ملاوٹ بچوں کے لیے کمائی کے نام پر کرتے ہیں لیکن اس سب کے باوجود ہمارے اسلام کو کوئی گزند نہیں پہنچتا۔ ہم روز قیامت اپنے آپ کو بخشے بخشائے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت کے مستحق سمجھتے ہیں۔

پھر کیا اللہ نے قرآن میں جو پچھلی قوموں کے حالات بیان کیے ہیں وہ صرف تلاوت کرکے ثواب اکٹھا کرنے کے لیے ہیں؟ کیا اللہ تعالٰی ظالم ہے کہ وہ ان سب جرائم کی بنا پر پچھلی قوموں کو تو عذاب دے اور ہمیں چھوڑ دے؟ کون سا جرم ہے جو ہمارے اندر موجود نہیں ہے لیکن ہم خود کو اللہ کے چہیتے سمجھ کر ہر برا کام بے دھڑک ہو کر کیے جا رہے ہیں… کس امید پر؟ کس بل بوتے پر؟

ہم اگر نماز پڑھتے بھی ہیں تو شعوری طور پر نہیں بلکہ رسمی طور پر ادا کرتے ہیں۔ اسی لیے ہماری نماز ہماری ذات پر اثر انداز نہیں ہوتی۔ ہم نام کے دیندار ہیں لیکن جب بھی دنیا اور دین آمنے سامنے آتے ہیں تو ہماری ترجیح دنیا ہی ہوتی ہے۔ دین کے وہ احکام جو ہماری طبیعت کے موافق ہوں ان پر زورشور سے عمل کرتے ہیں اور جو ہماری سوچ کے خلاف ہوں ان کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ اگر ہم نماز کو شعوری طور پر ادا کرنا شروع کر دیں تو بے شک یہ ہمیں ہر برائی سے روک دے گی۔ اس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

Comments

بشارت حمید

بشارت حمید

بشارت حمید کا تعلق فیصل آباد سے ہے. بزنس ایڈمنسٹریشن میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی . 11 سال سے زائد عرصہ ٹیلی کام شعبے سے منسلک رہے. روزمرہ زندگی کے موضوعات پر دینی فکر کے تحت تحریر کے ذریعے مثبت سوچ پیدا کرنے کی جدوجہد میں مصروف ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */