کہانی ایک انصاف کی - منیب الحسن رضا

راویوں کا بیان ہے کہ اجلی دنیا میں کہیں جب دن ڈھل جاتا تو ایک ایسے شہر میں طلوع ہوتا کہ جس کا نام انصافستان تھا اور جہاں معنی و مفاہیم بالکل الگ تھے۔ اس شہر کے باسی بھی عام انسانوں کی طرح سانس لیتے اور ذریعہ معاش کے لیے دوسری دنیاؤں کا رخ کرتے تھے۔ اس شہر میں شیر اور بکری کو کبھی ایک گھاٹ پر پانی پینے کی ضرورت پیش نہیں آتی تھی کیونکہ وہاں کوئی کسی کا حق نہیں مارتا تھا۔

اس شہر کے بارے میں بیرونی دنیا میں ہر طر ح کی حکایتیں مشہور تھیں۔ کوئی کہتا تھا کہ وہاں دیوتاؤں کا سایہ ہے، کسی کے مطابق اس شہر کے لوگ بددما غ ہیں اور اجنبیوں سے کلام کرنا پسند نہیں کرتے۔ حد تو یہ ہے کہ صنف نازک بھی اس شہر کو مو ضوع سخن بناتی نظر آ تی تھیں۔ عجیب ہیں وہاں کی خواتین بھی، نہ آرائش و زیبائش گیسو، نہ ہی بہتر مستقبل کی تلاش۔ بس امور خا نہ داری ہی ان کی زندگی ہے۔ اے بہن! میں نے تو یہاں تک سنا ہے کہ اگر اس شہر میں کوئی کسی کے گھر علی الصبح بھی جا دھمکے تو اسے نا شتہ کیے بغیر واپس نہیں جانے دیا جاتا۔ بھلا بتاؤ اس طر ح ہم کر سکتے ہیں کیا؟ دفتر کون جا ئے گا؟ میں تو اپنا ناشتہ بھی دفتر جا کر کرتی ہوں۔ میرے ادارے کے مالک مجھ پر بہت اعتماد کرتے ہیں۔ بچوں کے لیے آیا رکھ چھوڑی ہے، میاں کو بھی وہی سنبھالتی ہے۔ ایک خدائی فوجدار نما خاتون کو ان کی مدد کا شوق تھا سو گو یا ہوئیں اے بہن! میں تو کہتی ہوں ہمیں ان کی مدد کر نی چاہیے مگر پورے معاشرے کا اس با ت پر اجماع تھا کہ مبادا وہاں سے آ نے والی ہوائیں ہما رے بود و باش کو خراب نہ کر دیں لہٰذا کوئی بھی وہاں جا کر ان لو گوں کو تہذیب یافتہ بنا نے کے لیے تیار نہیں تھا۔ یوں اس شہر پر دو حرف بھیج کر اپنا فر ض پورا کیا جاتا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:   لمبے خطبے، بڑے رتبے اور انصاف کی اصل کہانی - سید طلعت حسین

ایک بار کا ذکر ہے کہ بیرونی دنیا کے تین مصروف ترین لوگ انصا فستان کے پاس سے گزر رہے تھے جن میں ایک فلسفی، دوسرا منصف اور تیسرا موسیقار تھا۔ ان لوگوں کو وہاں سے گزرنے کی جلدی تھی کہ کہیں یہ بد تہذیب لو گ ان کا وقت نہ مانگ لیں لیکن اچانک ان کی نظر چند بچوں پر پڑی جن کی حرکات و سکنات سے لگ رہا تھا کہ وہ آ پس میں دست و گریباں ہو نے کے لیے پر تول رہے ہیں۔ متفقہ فیصلہ ہوا کہ ان بچوں کو تہذیب کے اصول سکھا کر احسان عظیم کیا جائے چنانچہ پوچھا گیا کہ کیوں جھگڑ رہے ہو؟ ایک بچہ گویا ہوا کہ ہمارے درمیان جھگڑا اس با نسری کا ہے۔ فلسفی نے کہا کہ بتاؤ یہ بانسری کہاں سے آئی؟ اسی بچے نے جواب دیا، بانسری میں نے بنائی ہے تو منصف نے کہا کہ عالمی قانون کے نظریے کی رو سے پیداوار آجر کو عنایت کرتا ہے، بات ختم، بانسری جس نے بنائی ہے اسی کو ملنی چاہیے۔ اس پر دوسرا بچہ بولا کہ جناب! پوری بات تو سن لیجیے کہ با نسری الف نے بنائی ہے مگر اس کی لکڑی کس کی زمین پر لگی تھی؟ فلسفی نے بولا اگر لکڑی تمہاری زمین پر تھی تو تم مالک ہو اس بانسری کے کیونکہ میں نے جبر و قدر کے مسئلے کے تحت اس قضیے پر غور کیا ہے۔ اب ہوا نہ انصاف! جا کر بتانا اپنے بڑوں کو کہ اس طرح ہوتا ہے انصاف! اچانک ایک معصوم کی مدھر دھن بھری آواز آئی کہ جناب ان میں سے کسی کو بانسری بجانی نہیں آ تی، صرف میں جانتا ہوں کہ بانسری کیسے بجائی جاتی ہے؟ موسیقار نے اپنا حصہ ڈالا کہ

جو بڑھ کر خود اٹھالے ہاتھ میں مینا اس کا ہے

کہ جس کو با نسری بجانا آ تی ہے وہی با نسری کا حقدار ہے انصاف تو اب ہوا۔ یہ کہہ کر تینوں تہذیب یافتہ نمائندے وہاں سے جا نے لگے کہ پیچھے سے سب سے نحیف بچے نے ایک بات کہی اور اس بات نے پو ری تہذیب کو ہلا کر رکھ دیا، تینوں نمائندہ افراد اپنے ہوش کھو بیٹھے۔ بات پڑھ کر فیصلہ خود کر لیجیے کہ جناب! مانا کہ بانسری بنائی الف نے ہے، لکڑی ب کی زمین کی تھی اور بجانا ج اچھا جانتا ہے مگر میں ان میں سب سے کمزور اور غریب ہوں لہٰذا ان تینوں نے با نسری مجھے دینے کا فیصلہ کیا ہے اور یہی ہمارا انصاف ہے۔

ٹیگز