کیا ہماری اُمت شرک سے محفوظ ہے، مُسلمان اور شرک - عادل سہیل ظفر

سچی اور خالص تعریف کا حق دار اللہ ہی ہے، جس کے عِلاوہ کوئی بھی اور سچا اور حقیقی معبود نہیں اور جس سے بڑھ کر سچ کہنے والا کوئی نہیں اور جس نے اپنے رسول کو ہدایت کے ساتھ بھیجا اور وہ سب کچھ واضح فرما دیا، جسے واضح کرنے کا اللہ نے ارادہ کیا اور سلامتی ہو اللہ کے بندے اور اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم پر جو کہ اپنی خواہش کے مُطابق بات نہیں فرماتے تھے، اور جنہوں نے اپنے رب کی امانت مکمل طو رپر دی۔

السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ!

ہمارے ہاں جِس کا جو جی چاہتا ہے، سوچ لیتا ہے اور اپنی سوچوں کو اِسلامی عقائد ثابت کرنے کے لیے قران کریم اور احادیث شریفہ کے اپنے ہی مفاہیم بنا لیتا ہے۔ ایسے معاملات میں سے ایک معاملہ لوگوں کو اُن میں پھیلائے اور پائے جانے والے شرکیہ امور کے بارے میں مطمئن رکھنا بھی ہے کہ "اجی نہیں، آپ تو کلمہ گو مُسلمان ہیں، اُمت محمد ہیں، لہٰذا آپ تو شرک سے محفوظ و مامون ہیں ۔ " اور کچھ عِلمی اور اِسلامی انداز اِس غلط فہمی کو تقویت دینے کے لیے درج ذیل حدیث شریف کو اِستعمال کیا جاتا ہے

وَإِنِّى لَسْتُ أَخْشَى عَلَيْكُمْ أَنْ تُشْرِكُوا، وَلَكِنِّى أَخْشَى عَلَيْكُمُ الدُّنْيَا أَنْ تَنَافَسُوهَا اور میں تُم لوگوں کے بارے میں اِس بات کا اندیشہ نہیں رکھتا کہ تم لوگ شِرک کرو گے، لیکن مجھے یہ اندیشہ ہے کہ تم لوگ دُنیا داری میں ایک دُوسرے سے مقابلہ کرو گے۔

سب سے پہلے تو یہ سمجھ لیجیے کہ اِس میں کِسی خاص قِسم کے شِرک کی بات نہیں، بلکہ عمومی طور پر شِرک کا ذِکر ہے، جِس میں ہر قِسم کا شِرک شامل ہے، ظاہری بھی اور باطنی بھی، اعمال کا بھی اور عقائد کا بھی، چھوٹا بھی اور بڑا بھی۔

حیرت، بلکہ دُکھ کی حیرت کی بات ہے کہ کچھ لوگ اپنے کلمہ گو مُسلمان بھائی بہنوں میں اپنے شرکیہ عقائد و افعال کی ترویج کے لیے کِسی معاملے، کِسی مسئلے کے بارے میں صِرف ایک آدھ خبر ہی کیوں سامنے لاتے ہیں؟ کیا یہ اُن کی لاعلمی ہے؟ جہالت ہے؟ یا وہ لوگ حق کو جانتے بوجھتے ہوئے، اُسے چُھپانے کی کوشش کرتے ہیں؟ اِس حدیث شریف میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے فرمان کا مفہوم بہت واضح ہے کہ "مجھے میری اُمت کے بارے میں یہ اندیشہ نہیں ہے کہ میری ساری ہی اُمت شِرک کو شِرک جاننے اور سمجھنے کے بعد بھی شِرک کرے گی ۔"

میری مذکورہ بالا بات میں سے "شِرک جاننے اور سمجھنے کے بعد بھی " پر خصوصی توجہ فرمائیے گا۔ یہ بات میں اپنی کِسی ذاتی رائے یا سوچ کی وجہ سے نہیں کہہ رہا۔

جی ہاں! یہ مذکورہ بالا مفہوم ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے دیگر فرامین کے مُطابق مُیسر ہوتا ہے۔ آئیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے کچھ اور فرامین مُبارکہ کا مُطالعہ کرتے ہیں:

لاَ تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَضْطَرِبَ أَلَيَاتُ نِسَاءِ دَوْسٍ عَلَى ذِى الْخَلَصَةِ اُس وقت قیامت قائم نہیں ہو گی جب تک (قبیلہ) دوس کی عورتیں ذی الخلصہ (نامی بت) کا (زور اور تیزی کے ساتھ) طواف نہ کرنے لگیں گی۔

یہ بھی پڑھیں:   کس مذہب میں برداشت زیادہ ہے؟ ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

کوئی بھی مُسلمان اِس سے اِنکار نہیں کر سکتا کہ کِسی بُت کا طواف کرنا شِرک ہی ہے، تو معاملہ صاف ہوا کہ امت محمدیہ ساری کی ساری شِرک سے محفوظ نہیں، بلکہ قیامت سے پہلے اُمت کے کئی افراد، کئی گروہ شِرک کریں گے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کا یہ اِرشاد مُبارک بھی پڑھیے کہ لاَ يَذْهَبُ اللَّيْلُ وَالنَّهَارُ حَتَّى تُعْبَدَ اللاَّتُ وَالْعُزَّى رات اور دِن اُس وقت تک ختم نہ ہوں گے جب تک کہ لات اور عُزیٰ کی عِبادت نہ کر لی جائے۔

کِسی مُسلمان کو اِس میں شک نہیں ہو سکتا کہ لات اور عُزیٰ قبل از اِسلام کے عرب کفار و مُشرکین کے باطل معبُود یعنی خُدا تھے اور اِن کی عِبادت شِرک تھی، شِرک ہی رہے گی۔

اِس شِرک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی اُمت میں سے وہ لوگ مبتلا ہوں گے، جِن کے دِلوں میں درحقیقت اِیمان داخل ہی نہیں ہوا ہوگا، وہ فقط مُسلمان ہوں گے، صاحبء ایمان نہیں۔

یہ بات بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے ہی بتائی، جب اُن کا یہ مذکورہ بالا فرمان سُن کر اُم المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی کہ "اے اللہ کے رسول! جب اللہ تعالیٰ نے یہ فرمان نازل کیا کہ هُوَ الَّذِى أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ وہ اللہ ہی تو ہے جِس نے اپنے رسول کو ہدایت اور حق دِین کے ساتھ بھیجا تا کہ اُس حق دِین کو ہر دِین پر غالب کر دے خواہ ایسا ہونا مشرکوں کو کتنا ہی بُرا لگے تو میں یہ سمجھی کہ یہ ہمیشہ کے لیے ہے ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے اِرشاد فرمایا إِنَّهُ سَيَكُونُ مِنْ ذَلِكَ مَا شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ يَبْعَثُ اللَّهُ رِيحًا طَيِّبَةً فَتَوَفَّى كُلَّ مَنْ فِى قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةِ خَرْدَلٍ مِنْ إِيمَانٍ فَيَبْقَى مَنْ لاَ خَيْرَ فِيهِ فَيَرْجِعُونَ إِلَى دِينِ آبَائِهِمْ جب تک اللہ چاہے گا ایسا ہی ہوگا (جیسا کہ اُس نے اِس آیت شریفہ میں بیان فرمایا ہے) پھر اللہ تعالیٰ ایک پاکیزہ خُوشبو دار ہوا بھیجے گا اور ہر اُس شخص کو موت دے گا جِس کے دِل میں سرسوں کے دانے برابر بھی اِیمان ہو گا، پس صِرف وہ لوگ باقی بچیں گے جِن میں کوئی خیر نہ ہوگی اور وہ اپنے بڑوں کے دِین کی طرف پلٹ جائیں گے۔

پس، واضح ہو گیا کہ اُمت محمد علی صاحبھا افضل الصلاۃ و التسلیم، ساری کی ساری اور ہمیشہ کے لیے شِرک میں مبتلا ہونے سے محفوظ نہیں، بلکہ قیامت کے نزدیک تو اِس اُمت میں صِرف وہ لوگ ہی رہ جائیں گے جو باطل معبُودوں کی عِبادت کریں گے، جِس کی ابتداء صدیوں سے ہو چکی ہے، جیسا کہ اللہ کے بندوں میں سے واقعتا کچھ نیک، یا کچھ نیک نام بندوں کی عِبادت، خاص طور پر ایسے بندوں کی جو مر چکے ہیں، دُنیا اور دُنیا کے تمام تر معاملات سے اُن کا ہر تعلق منقطع ہو چکا ہے، سوائے اُن کے اپنے اُن اعمال کا اجر پانے کے جو وہ اپنی موت سے پہلے دُنیا میں کر گئے، اُن شخصیات کو اللہ تعالٰی کے کاموں میں تصرف کرنے کاحق دار سمجھتے ہوئے اُن سے اپنی دُنیا اور آخرت کی مُشکلات دُور کرنے کے لیے پُکارنا۔

یہ بھی پڑھیں:   کس مذہب میں برداشت زیادہ ہے؟ ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

اِس مذکورہ بالا حدیث میں سے فَتَوَفَّى كُلَّ مَنْ فِى قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةِ خَرْدَلٍ مِنْ إِيمَانٍ ہر اُس شخص کو موت دے گا جِس کے دِل میں سرسوں کے دانے برابر بھی اِیمان ہو گا، کے بارے میں کچھ کو یہ غلط فہمی بھی ہوتی ہے کہ اِس کے بعد جو لوگ بچیں گے وہ تو بے ایمان کافر ہوں گے، اُمت محمد نہ ہوں گے۔

تو اِس کا جواب یہ ہے کہ اُن بچے ہوئے لوگوں میں امت محمد کے لوگ بھی ہوں گے ایسے لوگ جو بظاہر مسلمان ہی ہوں گے، لیکن اُن کے دِلوں میں سرسوں کے دانے کے برابر بھی اِیمان نہ ہو گا، اِس بات کو سمجھنے کے لیے، تحمل و تدبر کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کا یہ درج ذیل فرمان پڑھیے اور سمجھیے

وَلاَ تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَلْحَقَ قَبَائِلُ مِنْ أُمَّتِى بِالْمُشْرِكِينَ وَحَتَّى تَعْبُدَ قَبَائِلُ مِنْ أُمَّتِى الأَوْثَانَ اور اُس قت تک قیامت قائم نہیں ہو گی جب تک کہ میری اُمت کے کچھ قبیلے مُشرکین کے ساتھ نہ مل جائیں گے، اور جب تک میری اُمت میں سے (وہ)قبیلے غیر اللہ کی عِبادت نہ کرنے لگیں گے۔

قارئین کرام! اِس مذکورہ بالا حدیث شریف میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے بڑی وضاحت سے بتا دِیا ہے کہ اُن کی اُمت میں کوئی چند لوگ نہیں، بلکہ قبیلے شِرک کریں گے، اللہ کے عِلاوہ دُوسروں کی عِبادت کریں گے، کیا اب دیکھتے نہیں کہ واقعتاً قبیلوں کے قبیلے غیر اللہ کی عِبادت کرتے ہیں، کِسی کو اللہ تعالیٰ کے عِلاوہ مشکل کُشا مان کر، کِسی کو حاجت رَوا، کِسی کو داتا، کِسی کو اولاد دینے والا، کِسی کو مال و دولت دینے والا مان کر اُن لوگوں سے اپنی مشکلیں حل کروانے کے لیے، اپنی حاجت رَوائی کے لیے اُن کی قبروں کے طواف کرتے ہیں، قبروں کو سجدے کرتے ہیں، اُن فوت شُدہ لوگوں کے نام کی نمازیں پڑھتے ہیں، اُن کی قبروں پر چڑھاوے چڑھاتے ہیں، اور کچھ زندوں کو بھی سجدے کرتے ہیں، اور شِرک کیسا ہوتا ہے؟

پس واضح ہوا کہ سب سے پہلے ذِکر کی گئی حدیث شریف سے یہ ہر گِز مُراد نہیں کہ امت محمد علی صاحبھا افضل الصلاۃ و التسلیم، ساری کی ساری اور ہمیشہ کے لیے شِرک میں مبتلا ہونے سے محفوظ ہے بلکہ اُمت میں وقتاً فوقتاً کئی گروہ شرک کا شِکار ہوتے رہیں گے اور ایک وقت ایک بھی آئے گا جب اُمت میں سوائے شرک کرنے والوں کے اور کوئی باقی نہ رہے گا۔

اللہ تعالیٰ ہمیں حق پہچاننے، ماننے، اپنانے اور اُسی پر عمل پیرا رہتے ہوئے اُس کے سامنے حاضر ہو کر اُس کی رضا پانے والوں میں سے بنائے۔

ٹیگز

Comments

عادل سہیل ظفر

عادل سہیل ظفر

عادِل سُہیل ظفر جیاد ، معاشی ذمہ داریاں نبھانے کے لیے ملٹی فنگشن پراڈکٹس ٹیکنیشن کے طور پر ملازمت کرتے ہیں۔ اللہ عزّ و جلّ کا دِین ، اللہ ہی کے مُقرر کردہ منہج کے مُطابق سیکھنے اور جو کچھ سیکھا اُسے نشر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔