علم اور اخلاق - محمد اسماعیل ولی

کہتے ہیں عصر حاضر میں علم کے بغیر معیشت افسانہ ہے اور یہ حقیقت بھی ہے۔ غالباً اس سیاق میں علم کا اشارہ رسمی علم کی طرف ہے، جو سکولوں، کالجوں، اور یونیورسٹیوں میں دیا جاتا ہے۔ اس علم کاانحصار امتحانات پر ہوتا ہے جن کے ذریعے طلبا و طالبات کی صلاحیتوں کو ماپا جاتا ہے اور "اخلاقیات" بھی نصاب میں شامل ہوتا ہے اور "اخلاقیات" کو پاس بھی کیا جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا "اخلاقیات" کے امتحان کو پاس کرنے والا یا والی با اخلاق بھی ہے یا نہیں؟ ممکن ہےایک انسان "اخلاقیات" میں پی ایچ ڈی بھی کرنے اور اخلاقیات کے امتحان میں چار "جی پی اے" لینے کے بعد بھی بد اخلاق ہی رہے؟ اس کا مطلب یہ ہے اخلاق کا تعلق کتابوں اور امتحانات سے نہیں۔ اخلاق ایک اندرونی کیفیت کا نام ہے جس کو رویّہ کہا جاتا ہے۔

کسی انسان کے اخلاقی رویے کا انحصار کئی عوامل پر ہوتا ہے اور ان عوامل کو دو بڑے حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ ایک حصے کا تعلق کسی انسان کے "فطری" رجحانات اور میلانات سے ہوتا ہے۔ ایک ہی گھر میں بارہ بچے پیدا ہوتے ہیں۔ باپ پیغمبر ہیں، ایک بیٹا پیغمبری کے لیے چنا جاتا ہے۔ دوسرے اخلاقی طور پر اتنے گرے ہوئے کہ اپنے بھائی کو حسد کی بنا پر کنویں میں پھینکتے ہیں۔ قران پاک میں یوسف ؑ کے قصے کو "احسن القصص " کہا گیا ہے اور اس قصےمیں کئی بنیادی معاشرتی اور معاشی مسائل کو سمجھنے اور ان کو حل کرنے کی طرف لطیف اشارے موجود ہیں۔ حسد ایک ایسی اگ ہے جو جب بھڑکتی ہے تو عقل و حواس کو جلا ڈالتی ہے۔ پھر جو بھی نشانے پر ہو، خواہ وہ معصوم بھائی ہو، بوڑھا باپ ہو، پیغمبر کا گھرانہ ہو، اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے اور اس کا اثر اتنا زیادہ کہ حسد کی کوکھ میں جنم لینے والی یہ کہانی تا قیامت انسانیت کی ہدایت کے لیے منتخب کی جاتی ہے۔ یوسف ؑ کی جوانی مصر کے پر تعیش محل میں گزرتی ہے۔ لیکن وہ اعلیٰ اخلاق کا حامل رہتا ہے۔ خواہ اس کا تعلق عزیز مصر کی بیوی کی جنسی پیش قدمی ہو یا اپنے بھائیوں کے گھناؤنے جرم کی معافی سے ہو۔ حضرت یوسف ؑ کی کہانی ایک ایسےعظیم انسان کی سرگزشت ہے جو فطری طور پر نیک ہے، بااخلاق ہے اور با کردار ہے اور ایک پر تعیش ماحول میں رہنے کے باوجود بہترین اخلاق کا مظاہرہ کرتا ہے اور ایک "گندے" معاشرتی ماحول کا اس پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔

عوامل کے دوسرے حصے کا تعلق بیرون سے ہوتا ہے یعنی ارد گرد کا ماحول، عصر حاضر میں میڈیا کا ماحول ۔ اس ماحول کا اثر یہ ہے کہ بچے ناچ گانوں کو دیکھتے ہیں اور لا شعوری طور پر ان کا نقل اتارتے ہیں۔ یہاں یہ بات سمجھنے کی ہے کہ اخلاق ایک انتہائی حساس حس کا نام ہے اور جب ایک دفعہ یہ حس "بے حس" کردیا جائے تو اس کے مضمرات انتہائی دور رس ہوتے ہیں۔ دور حاضر میں اس "حس" کو بیکار کرنے کی کوشش زوروں پر ہے۔ یورپ اور امریکہ میں یہ "حس" بیکار کر دی گئی ہے اور جنس کو ایک منظم مہم کے ذریعے "تفریح" کے طور پر پیش کرنے میں کامیابی حاصل کی گئی ہے کیونکہ اس کے بغیر نہ کاروبار میں ترقی ممکن ہے، نہ آرٹ کی دنیا میں نام پیدا کیا جا سکتا ہے اور نہ کسی پیداوار یا خدمت کی موثر مارکیٹنگ کی جاسکتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جنس انسانی زندگی کی طاقت ور ترین خواہش ہے۔ بالفاظ دیگر انسان کی کمزوری ہے اور اس کمزوری کا تعلق حواس خمسہ کے علاوہ دماغ کے شعوری اور لاشعوری حصوں سے بھی ہے اور نفسیات کے ماہرین کو معلوم ہے کہ یہ کمزوریاں کہاں کہاں واقع ہیں اور انسانی کمزوریوں سے کیسے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے؟ اس لیے جنس کو ایک "تفریح" کی صورت میں پیش کرنے کے لیے سارا زور لگایا جاتا ہے، خاص کرکے "ستاروں "کا کا م یہی ہے کہ جسمانی "اعضا "کی خوب نمائش کریں اور ان لباسوں کی خوب نمائش کریں جن کا تعلق جنسی جذبات کو بر انگیختہ کرنے سے ہو۔

درحقیقت دقیانوسی خیالات و اعمال والے وہ لوگ ہیں جو انسانوں کو "مادر پدر آزاد" دیکھنا چاہتے ہیں تاکہ ان کی کاروباری دنیا "چمکتی" رہے۔ جب بھی موقع ملتا ہے۔ کاروبار والے یا ان کے پجاری یا حواری "جنسی" تعلیم کی ضرورت کو محسوس کرتے ہیں کیونکہ یہی وہ دروازہ ہے جو "جنسی آزادی" کی راہ کو ہموار کرتا ہے۔ جب ایک دفعہ یہ دیو آزاد ہوجائے، پھر اس کو بوتل میں بند کرنا ناممکن ہو جاتا ہے۔ یہاں جو بات قابل غور ہے وہ یہ ہے کہ حیوانوں کو کوئی جنسی تعلیم نہیں دیتا لیکن ان کو معلوم ہے کہ کب کیا کرنا ہے؟ جب ایک بڑا نر جانور کسی "بچی" کے قریب آکر اس کو سونگھنے کی کوشش کرتا ہے تو بچی بھاگ جاتی ہے۔ یعنی جانوروں کی بچیوں کا "سوفٹ ویئر" کام کرتا ہے۔ اسی طرح اچھے اور برے کی تمیز انسانی فطرت کا بھی حصہ ہے لیکن مغرب والوں نے اپنا یہ "سوفٹ ویئر" خراب کر دیا ہے۔ اس لیے ان کے لیے جنس ایک تفریح ہے اور یہ "تفریح" ان کے بچے اور بچیاں دن رات پر دیکھتے ہیں تو آہستہ آہستہ اس" سوفٹ ویئر" کی حساسیت ختم ہو جاتی ہے یعنی اور اچھے برے میں تمیز ختم ہوجاتی ہے اور معاشرہ بگاڑ کا شکار ہوتا ہے۔ یورپ اور امریکہ کا معاشرہ اس اندرونی بگاڑ کا شکار ہے اور ہمارے معاشرے میں بھی جن جرائم کا ارتکاب ہو رہا ہے۔ ان کا اگر نفسیاتی مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ ان کی بنیاد فلمیں اور ڈرامے ہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   دین سراسر اخلاق ہے - لطیف النساء

برسٹل یونیورسٹی میں 18 مہینوں میں آٹھ خود کشیاں ہوئی ہیں۔ دوسری یونیورسٹیوں کا کیا حال ہے؟ ان کے اعداو شمار سر دست دستیاب نہیں۔ یہ حقیقت کس بات کی عکاس ہے اور اس کی وجوہات کیا ہیں؟ یہ اس معاشرے میں ڈھونڈی جا سکتی ہیں۔ جہاں زنا با لرضا کی آزادی ہے، یہ آزادی اس لیے دی گئی ہے تاکہ لوگ "ذہنی" بیماریوں میں مبتلا نہ ہوں۔ جو ممالک "ترقی یافتہ" کی فہرست میں شامل ہیں، ان میں خود کشی کی شرح زیادہ ہے۔ حالانکہ وہاں دولت کی فراوانی ہے، معاشی استحکام ہے، خوش رہنے کے وسائل دستیاب ہیں۔ پھر بھی خود کشی؟ اور عمرانی علوم کے ماہرین اس بات کو ماننے کے لیے تیار نہیں کہ ان ممالک میں خود کشی کی زیادہ شرح کی وجہ اخلاقی گراوٹ ہے، روحانی پریشانی ہے اور ایمانی توانائی کی کمی ہے۔

خود کشی کے بعد اگر گلی کوچوں میں ہونے والے جرائم پر نظر دوڑائیں تو بھی "ترقی یافتہ" ممالک سر فہرست نظر آتے ہیں، ڈنمارک، فرانس، برطانیہ اور جرمنی۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ "تہذیب" کے ان مراکز میں جرائم کم سے کم ہوں لیکن حقیقت اس مفروضے کے الٹ ہے اور اس حقیقت کی جڑیں بھی اس معاشرے میں ڈھونڈی جا سکتی ہیں۔ جہاں اخلاقیات تو پڑھایا جاتا ہے لیکن اخلاق کی حالت نا گفتہ بہ ہے۔ جہاں انسانی حقوق کے افسانوں کا چرچا ہے لیکن انسانی فرائض کی کوئی بات مذاق میں ٹال دیا جاتا ہے۔ مذہب کے نام پر ڈگریاں دی جاتی ہیں لیکن ایمان کوئی سنجیدہ مو ضوع نہیں۔ آرٹ، فلم، ثقافت اور مقابلہ حسن کے نام پر فحاشی کا دور دورہ ہے لیکن فحاشی کو فحاشی ماننے کے لیے تیار نہیں۔ فحش کاموں کو مختلف نام دیکر "قابل دید" بنایا جاتا ہے اور انسانی آزادی کے اظہار کا نام دیا جاتا ہے۔ یہ "آزادی" رس رس کر بچوں اور بچیوں تک پہنچ جاتی ہے تو اس کا ماتم منایا جاتا ہے۔ لیکن کوئی اس ماتم کے پس منظر میں ہونے والے گھناؤنے "جرائم" جو آرٹ اور ادب کےنام پر ہوتے ہیں، بات کرنے کے لیے تیار نہیں۔ ان جرائم کو "بالغ تفریح" کے نام پر فروخت کیا جاتا ہے اور انسانی ضمیر اتنا مردہ ہو گیا ہے کہ اس "تفریح " کی مذمت دور جدید کی لغت میں "گناہ" کے زمرے میں آتی ہے۔

آج ہمار ے سیاست دان اخلاق سے عاری کیوں ہیں؟ مسلسل جھوٹ بولنے کی وجہ سے ان کا ضمیر اچھے برے میں فرق نہیں کرتا۔ یقیناً ان کی اکثریت تعلیم یافتہ لوگوں کی ہے۔ یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ علم اور اخلاق دو الگ الگ شخصیاتی پہلو ہیں، اخلاق کا علم سے کوئی تعلق نہیں۔ ضروری نہیں کہ ایک قابل ڈاکٹر، انجینیئر، منتظم یا استاد اچھے اخلاق والا/والی بھی ہو۔ ضروری نہیں کہ ایک اچھا مقرر بااخلاق بھی ہو۔ ہمارے ہاں ضابطہ اخلاق دکھانے کے لیے بنتے ہیں لیکن عمل ان باتوں پر کیا جاتا ہے جو "فائدہ مند" ہوں۔ عوام اپنا اخلاق اپنے رہبروں سے سیکھتے ہیں، وہ جب دیکھتے ہیں کہ راہبر حضرات "کہتے" اور ہیں اور "کرتے" اور ہیں تو اسی رویّے کو اپناتے ہیں۔

عصر حاضر میں تعلیمی اداروں میں بہت سے دن منائے جاتے ہیں اور یہ دن بھی کسی این جی او سے فائدہ اٹھانے یا اپنی کوئی چیز یا ہنر یا خدمت بیچنے کے لیے منائے جاتے ہیں۔ لیکن کسی ادارے میں "اخلاق" کادن مناتے ہوئے دیکھا ہے، نہ سنا ہے۔ مغربی اقدار کے زیر اثر "جھوٹ " کا دن تو منایا جاتا ہے لیکن "سچ" بولنے کا دن منانے کا خیال کسی نہیں آتا، نہ کوئی این جی او اس کی حمایت کرے گا کیونکہ سچ بولنا اخلاق کا بنیادی پہلو ہے لیکن اخلاق کسی کا "ذاتی" معاملہ کہ کر بات ٹال دی جاتی ہے اور دنیا میں کوئی ڈونر ایسا نہیں جو سچ بولنے کے لیے پیسہ دیتا ہو اور کاروبار کی دنیا میں سچ بولنا "نقصان" کے مترادف ہے۔ اور نہ ایمانداری کا دن منایا جاتا ہے، نہ وقت کی پابندی کا دن ۔ مختصر یہ کہ تعلیمی اداروں میں "اخلاق" کی مثال حر ف مکرّر کی ہے، جس کو مٹانا مدیر کی اولین ذمہ داری ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   دین سراسر اخلاق ہے - لطیف النساء

انسان ہو نے کی "خاصیت" کو انسانیت کہا جاتا ہے لیکن انسان ہونا کیا ہے؟ ابھی تک عقل پرستوں نے اس کا کوئی تسلی بخش جواب نہیں دیا ہے۔ زیادہ سے زیادہ "سماجی حیوان" کہا گیا۔ اگر "سماج" کو معیار مانا جائے تو چیونٹی یا شہد کی مکھی انسانوں سے بدرجہا بہتر حیوان ہے۔ اگر "حس" کو معیار مانا جائے تو بصارت کے لحاظ سے شاہین یا قوت شامہ کے لحاظ سے کتا بہت آگے ہے۔ اگر "تخلیق" کو معیار مانا جائے تو بعض پرندے ایسے گھونسلے بناتے ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ پھر وہ کیا خاصیت ہے جو انسانیت کا نچوڑ ہے؟

میں یہ سمجھتا ہوں کہ اخلاق کا حس ہی انسانیت کا نچوڑ ہے اور جس انسان میں اخلاقی حس نہ ہو وہ حیوان سے سے بھی بد تر ہے۔ خواہ عقلی اعتبار سے وہ ایک آئن سٹائن ہی کیوں نہ ہو۔ میڈیا پر ان دنوں جس خبر کی گردش ہے وہ اخلاقی حس سے عاری انسانوں کے بارے میں ہے۔ خواہ یہ انسان طاقت پرستی کے کسی زمرے میں ہوں یا ہوس پرستی کی زندہ مثالیں ہوں۔ عرف عام میں اس حس کو ضمیر کہا جاتا ہے۔ تا ہم مغرب کے "حس پرستوں" نے ضمیر کو اتنا دبایا ہے کہ اب اس پر بات کرنا ایک "جرم" ہے۔ اس لیے "انسانیت" پٹڑی سے اتر گئی ہے۔

ہمارے ذہنوں میں "انسانیت" کا جو تصور انتہائی سنجیدگی کے ساتھ منقش کیا گیا ہے، وہ نقلی ہے، مصنوعی ہے اور کاروبار سے منسلک افراد کی صنّاعی کا نتیجہ ہے، جس کو "آزادی" کے لفظ میں سمویا جا سکتا ہے۔ یہ "آزادی" کاروبار ی افراد کی کامیابی کے لیے ضروری ہے۔ یہ ایسی آزادی ہے، جس میں اخلاقی قیود کسی دقیانوسی نظام کا نتیجہ ہیں اور جتنی جلدی ان قیود سے نجات حاصل کی جائے، انسانوں کو فائدہ ہوگا۔

کیا مغرب اور امریکہ کے معاشروں میں اخلاق کا "سوفٹ ویئر" کام کر رہا ہے یا قانون کے "ہارڈ ویئر" میں جکڑے ہوئے ہیں؟ یاد رکھیے، قانون باہر سے کام کرتا ہے لیکن اخلاق اندر سے کام کرتا ہے۔ باہر سے کام کرنے کا مطلب یہ ہے کہ جب بھی موقع مل جائے گا، قانون شکنی ہو گی۔ جس طرح بجلی اچانک چلی جائے تو لوٹ کھسوٹ شروع ہو جاتی ہے۔ جب بھی موقع مل جاتا ہے شو ہر بیوی کو دھوکا دیتا ہے اور بیوی شوہر کو دھوکہ دیتی ہے۔ جنس ذاتی پسند و نا پسند تک محدود ہے، اس کا سماج سے کوئی تعلق نہیں۔ عمومی طور پر اخلاق بھی ذاتی پسند و نا پسند کا سوال ہے۔

اخلاق اندرونی کیفیت کا نام ہے یعنی انسان کے اندرون میں ایک نظام موجود ہے جو "اچھے" اور "برے" کی تمیز کے لیے بنا ہے۔ اس لیے ہر زبان میں اچھے اور برے کے لیے الفاظ موجود ہیں۔ اگر انسان کے اندروں میں یہ حس موجود نہ ہوتی ۔ تو الفاظ کہاں سے آئے۔ جب یہ نظام خراب ہو جائے تو گڑ بڑ شروع ہو جاتی ہے۔ لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ اخلاق ہی کو انسانیت کا معیار تسلیم کیا جائے۔ کسی کو انجینیئر یا ڈاکٹر بنانا آسان ہے لیکن کسی کو بااخلاق ڈاکٹر یا انجینیئر یا استاد بنانا بہت مشکل کام ہے۔ کیونکہ یہ چند سالوں کا کام نہیں یا کسی ایک گھر یا ادارے کا کام نہیں بلکہ انسانی معاشرے کی ذمہ داری ہے کہ اخلاقی اقدار کی اہمیت کو اجاگر کیا جائے اور اخلاقی عالمگیریت کے تصور پر جو کام ہو رہا ہے، اس کی حمایت کی جائے۔

Comments

Avatar

اسماعیل ولی

بالائی چترال سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر اسماعیل ولی کی ایم-اے سے لے کر پی ایچ ڈی تک تمام ڈگریاں انگریزی زبان و ادب میں ہے۔ ان کا تحقیقی مقالہ ولیم شیکسپیئر کے ایک طربیے پر ہے جبکہ ایم فل مقالہ میتھیو آرنلڈ کی شاعری پر تھا۔ سرکاری ملازمت سے قبل از وقت ریٹائرمنٹ لے کر انسٹیٹیوٹ آف مینجمنٹ سائنسز، پشاور میں درس و تدریس کر رہے ہیں۔ اسلام، فلسفہ، مغربی ثقافت، نفسیات اور تصوف کا مطالعہ رکھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.