سو لفظوں کی کہانی، جناب! پہلے اپنا علاج - حافظ یوسف سراج

اگر آپ یہ سوچتے ہیں کہ دنیا صرف آپ کی خواہش کو تسکین دینے ، آپ کی مرضی کو اصول کہنے اور آپ کے فرمان کو حرف آخر ماننے کے لیے تخلیق کی گئی ہے تو ظاہر ہے نرم ترین لفظوں میں بھی آپ کا علاج ہونے والا ہے۔ اس صورت میں آپ اپنے ساتھ ذرا سا بھی مخلص ہیں تو پہلی فرصت میں آپ کو اپنے شافی علاج پر توجہ دینی چاہیے۔ یہ بات طے ہے کہ عدل اور آزادی آپ کی مرضی اور خواہش کا نام قطعا نہیں ہو سکتا، کسی صورت نہیں ہو سکتا، اس غلط فہمی کی دھول جتنی جلدی آپ کے دماغ سے دھل جائے، اتنا ہی آپ کی دانش کے رو بہ صحت ہونے کے لیے بہتر ہے۔

بات یہ ہے کہ یہ دنیا پر امن بقائے باہمی، احترامِ باہمی اور دوسروں کی نظری و فکری آزادیوں کو حتی الامکان گوارا کر لینے کے اصول پر کارفرما ہے۔ مشہور ہے کہ آپ کو چھڑی گھمانے کی آزادی حاصل ہے، البتہ جب سوال اٹھا کہ چھڑی گھمانے کی یہ آزادی کہاں تک ہے، توطے کیا گیا کہ جہاں سے دوسرے کی ناک شروع ہو جائے وہاں چھڑی گھمانے والے کی آزادی کی سرحد تمام ہو جاتی ہے۔ جب آپ اپنی حدود کی پروا کیے بغیر دوسروں کی سرحدیں پھلانگتے پھریں اور تب آپ کی دھوتی کسی خار دار تار میں الجھ کر ادھڑ جائے تو آپ کا خار دار تار سے الجھنا اور اسے اخلاقیات کے لیکچر پلانا عبث ہے۔ اس صورت میں اخلاقیات کی اولیں ضرورت خود آپ کو ہے، کہ آپ کو دوسروں کی آزادی میں مداخلت سے باز رہنا سیکھنے کی ضرورت ہے۔

مبشر زیدی صاحب جنگ میں سو لفظوں کی کہانی لکھتے ہیں۔ ظاہر ہے، اخبار کے قاری پاکستانی ہیں۔ یہ مسلمان ہیں اور ان کا مذہب اسلام ہے، وہ اللہ ، رسول، آخرت اور جنت دوزخ پر یقین رکھتے ہیں۔ مبشر صاحب نے مگر اس سب سے بے نیاز اور بے پروا ہو کر اپنے ٹویٹ میں جنت کو ہدف بنا ڈالا، مسلمانوں کی سخت دل آزاری کی اور ایسے ننگے اور زہریلے الفاظ میں کہ جن کی کوئی دوسری توجیہہ ممکن ہی نہ تھی۔ یہی نہیں استدلال بھی دانش و فکر سے یکسر عاری اور سطحی سے زیادہ اسفل۔ جو آدمی لفظ اغلام بازی اور غلمان کو ایک سمجھ لے، اور اسی بنیاد پر اپنی دانش کا محل کھڑا کر لے، اس کی سطحیت معلوم شد۔ پھر وار ایسا اوچھا کہ کسی سلیم الفکر دشمن سے بھی جس کی توقع نہیں ہو سکتی۔ لفظ ایسے کریہہ کہ جنھیں دہرانا بھی طبیعت مکدر کر دے۔ یعنی مدرسہ کو اغلام سے جوڑا اور اس فعل شنیع کو جنت کے غلمان سے جا ملایا۔

یہ بھی پڑھیں:   مدرسہ ڈسکورسز کا فکری اور تہذیبی جائزہ - محمد دین جوہر

سوال یہ ہے کہ کیا واقعی مذہب نے یہ کہا ہے؟
یا
یہ محض آپ کی اپنی متعفن سوچ سے چھلکا اک گھٹیا اور بے بنیاد الزام ہے؟
بغیر دلیل کے یہ کیسا دعوی ہے بھائی؟
یہ کیسی دانش وری ہے؟

اچھا چھوڑیے، مسلمانوں کو، وہ تو خیر اس فعل کو جنت چھوڑ دنیا میں بھی اتنا قبیح، اتنا ناروا اور بدبو دار سمجھتے ہیں کہ لفظوں میں نقل کرتے بھی حیا محسوس کرتے ہیں۔ مذہب میں تو اس پر صریح گرفت ہے، آپ کے ممدوح غیر مذہبی یورپ میں مگر یہ فعل تو قانون بن چکا، ہومو سیکس وہاں تو آپ جیسے شرفا کا منظور نظر عمل ہے، اور اس کے آپ وکیل بھی ہیں، الزام مگر پھر بھی مذہب پر؟

مذہب تو اسے ناپسند کرتا ہے، پھر اسے آپ کس دلیل کے تحت رگیدتے ہیں؟
جی چاہتا ہے، پوچھ لیا جائے، جناب کے ہوش سلامت تو ہیں؟
طبیعت بحال تو ہے، سو لفظ پورے کرتے کرتے کچھ پرزے کم تو نہیں پڑ گئے کہیں؟
صاحب ایک تو پہلے آپ طے کر لیجیے کہ آپ کو بنیادی طور پر برا کیا لگتا ہے؟ مذہب یا وہ فعل شنیع۔
(اس ساری مذہب بےزاری کے باوجود حضرت محرم کے دس دنوں میں لفظوں کی حد تک تو پکے ٹھکے مسلمان نظر آتے ہیں۔ سیدنا امام حسین جس جنت کے سردار ہیں، اسی کا مذاق؟)

لطف دیکھیے، اس بد ترین بد زبانی پر جب جواب دیا گیا تو آپ پیر معصوم شاہ بن کے ٹویٹ فرماتے ہیں، مذہبی لوگوں کی زبان تو دیکھیے۔ کیا زبان دیکھیے بھائی، ان کے ناتراشیدہ لفظ سو سے کچھ بڑھ گئے ہوں گے، پھر بھی وہ دفاعی ہی تو ہیں، پھر بھی وہ آپ کی ذات تک ہی تو ہیں۔ یعنی آپ کئی ارب لوگوں کے مسلمہ عقیدے کو گالی دیں اور وہ آپ کے ہاتھ چومتے پھریں؟ گویا عمل کا رد عمل نہیں ہونا چاہیے؟ آپ کس دنیا میں بستے ہیں بھائی، یہ دنیا ماں کی گود ہے، نہ آپ ننھے بچے، کہ ہر عمل کا ایک رد عمل ہوتا ہے، اور عین عمل کی جنس سے ہوتا ہے، یہی آپ کو معلوم نہ ہو۔ اچھا تو گویا آپ کے نزدیک جارحیت نہیں دفاع بد اخلاقی ہے؟ اگر ایسا ہے تو جناب سو لفظوں کی فضول خرچی کی ضرورت نہیں، کہانی یک سطری ہے، بس آپ کو کسی مفید اور اکسیر علاج کی ضرورت ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   اسلام میں بیوی کے حقوق - رانا اعجاز حسین چوہان

یقین کیجیے، ایسی صورت میں آپ کی تمام تر دانش کے باوجود ہر منصف مزاج کا یہی پوچھنے کو دل چاہے گا، حضور ہسپتال کب جائیے گا؟

Comments

حافظ یوسف سراج

حافظ یوسف سراج

ادب اور دین دلچسپی کے میدان ہیں۔ کیرئیر کا آغاز ایک اشاعتی ادارے میں کتب کی ایڈیٹنگ سے کیا۔ ایک ہفت روزہ اخبار کے ایڈیٹوریل ایڈیٹر رہے۔ پیغام ٹی وی کے ریسرچ ہیڈ ہیں۔ روزنامہ ’نئی بات ‘اورروزنامہ ’پاکستان‘ میں کالم لکھا۔ ان دنوں روزنامہ 92 نیوز میں مستقل کالم لکھ رہے ہیں۔ دلیل کےاولین لکھاریوں میں سے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • سبحان اللہ. مذہبی لوگوں کی محفل میں سوائے طعن کے کچھ نہیں ملتا. محبت سے اصلاح کرنے کی بجائے سب و شتم کی برسات. واہ. اگر جنت کے وارث آپ جیسے لوگ ہیں تو اللہ رحم کرے اس میں رہنے والوں پر.