کراچی؛ ایک عجیب ناسٹلجیا - ثناء اللہ خان احسن

ایسے گھر اور فلیٹس اولڈ کراچی کھارادر، برنس روڈ، آرام باغ، فیریئر روڈ اور دوسرے پرانے علاقوں میں موجود ہیں۔ عام طور پر چار منزلہ عمارات ہیں جو زرد پتھر سے تعمیر شدہ ہیں۔ یہ انگریز دور میں ہندوؤں یا پارسیوں کی بنائی ہوئی عمارات ہیں جن پر تقسیم کے بعد انڈیا سے آئے خاندانوں نے قبضہ کیا یا پھر یہ مہاجرین کو کلیم میں دیے گئے۔ اس زمانے کی کافی عمارات اب بہت خستہ ہوچکی ہیں اور ان میں رہائش خطرناک قرار دے کر خالی بھی کرا لیے گئے ہیں۔ لیکن کچھ خستہ حال عمارتوں میں اب بھی لوگ رہائش پذیر ہیں کہ ان کے پاس اور کوئی رہائش نہیں۔ بہت سی عمارات اب بھی بہترین حالت میں ہیں جن کے گراؤنڈ فلور پر بہت سے جانے مانے اور پرانے کاروباری ادارے ہیں۔ آرام باغ کا ہمدرد دواخانہ، فیروز سنز، کئی پرانے بینک اور دیگر کاروباری ادارے آج بھی موجود ہیں۔

ان گھروں کی سب سے خاص بات ان کے رنگین منقش ٹائلز والے فرش، عمدہ لکڑی کے بنے دوپٹ والے دروازے اور فولادی سلاخوں والی کھڑکیاں ہیں۔ ان علاقوں اور گھروں کا اپنا ایک الگ ہی ماحول ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آپ کسی ٹائم مشین سے اس ڈیڑھ دو سو سال پرانے دور میں آگئے ہیں۔ ہر وقت باہر سے آتا ٹریفک کا شور اور بازار کی چہل پہل، سورج کی روشنی پوری طرح نہ آنے کی وجہ سے عجیب خنکی اور نمی سی جو گرمی کے موسم میں بہت بھلی معلوم دیتی ہے۔ البتہ جو فلیٹس دھوپ اور ہوا کے رخ پر ہیں اور سامنے کوئی دوسری بلڈنگ نہیں، ان میں خوب دھوپ اور ہوا آتی ہے۔ پوری عمارت میں مختلف گھروں کے کچن میں پکائے کھانوں کی خوشبو پھیلی ہوتی ہے۔ گھروں سے آتی خواتین اور بچوں کی آوازیں جس میں کبھی کبھی پالتو طوطے کی ٹائیں ٹائیں ایک عجیب سی اپنائیت اور سکون کا احساس پیدا کردیتی ہے۔ کسی زمانے میں یہاں ریڈیو پر چلتے مہدی حسن، نورجہاں اور لتا رفیع کے گانوں کی گونج بھی سنائی دیتی تھی۔ لیکن اب اکثر گھروں سے ٹی وی کے مختلف چینلز کی دھیمی آواز سنائی دے جاتی ہے۔ آج بھی اگر کبھی فولادی سلاخوں والے جنگلے اور دوپٹ والے موٹی لکڑی کے دروازے کے سامنے آپ سن پچاس یا سن ساٹھ کی دھائ کا کوئ فلمی گیت نور جہاں یا لتا رفیع کی آواز میں سن لیں تو گویا ایک جھٹکے میں آپ کو ایسا محسوس ہوگا کہ شاید آ پ ماضی میں پہنچ گئے ہیں۔

ایک مرتبہ ایسی ہی یک بلڈنگ میں ایک فلیٹ کے سامنے یہ گیت گونج رہا تھا۔
اے دل مجھے بتا دے تو کس پہ آگیا ہے
وہ کون ہے جو آ کر خوابوں پہ چھا گیا ہے
یقین جانیے مجھے ایسا محسوس ہوا کہ میں سن پچاس کے دور میں پہنچ گیا ہوں۔ کیونکہ اردگرد کا ماحول بالکل ویسا ہی تھا جیسے کہ کسی فلم کے لیے اس زمانے کا سیٹ لگایا گیا ہو۔ نہ جانے کیوں ان معاملوں میں میری حسیات بہت تیز ہیں۔

بالکونیوں میں کپڑے پھیلاتی خواتین یا شام کے وقت لڑکیاں بالیاں گرل پر کہنیاں ٹکائے نیچے بازار کی چہل پہل کا نظارہ کرتیں۔ لمبی رسی اور ٹوکری کی مدد سے اپنی گیلری یا کھڑکی سے سودا یا کھانے پینے کا سامان اوپر کھینچتی خواتین ۔ ان کھڑکیوں دریچوں اور بالکونیوں میں جھانک تانک سے نہ جانے کتنی محبتیں اور عشق کے فسانے بنتے بگڑتے رہتے ہیں۔ کچھ کامیاب اور کچھ ناکام، معاشقے اور دل لگیاں دل میں زندگی بھر کی کسک چھوڑ جاتے ہیں۔ ان عمارات کی چھتوں اور کھڑکیوں پر بے شمار کبوتروں کا بسیرا ہے جو اکثر دن بھر غٹر غوں کرتے مختلف گروں کی بالکونیوں یا کھڑکی کی کارنس پر چونچیں ملاتے نظر آتے ہیں۔ کچھ عمارات کے اونچے ٹاور نما میناروں پر چیلوں نے بھی اپنے آشیاں بنائے ہوئے ہیں۔ یہ عمارتیں ہمیں نہ صرف ماضی سے جوڑتی ہیں بلکہ ایک عجیب ناسٹلجیا سے بھی دوچار کرتی رہتی ہیں۔

کراچی گارڈن کے علاقے میں میں ہندو اور پارسیوں کے بنائے وسیع و کشادہ بنگلے، میں اکثر تصور میں اُس دور میں اُن جگہوں پر پہنچ جاتا ہوں۔ اُونچی چھتوں والے کمرے۔ دیوار گیر الماریاں، لمبے پائپ سے لٹکا ہوا پنکھا۔ روشندانوں میں چڑیا کے گھونسلے۔ لمبے برآمدوں کے چوڑے ستون۔ سامنے بڑا سا لان۔ جس کے درمیان میں بند فوارہ۔ جس کے اندر کائی جمی ہوتی ہے۔ نیم، برگد، پیپل، جامن اور آم کے درخت جن سے گرمیوں کی تپتی دوپہروں میں کیریاں توڑنا۔ پرانے طرز کے باتھ روم جن میں تام چینی کا باتھ ٹب اور فلش کے ساتھ اُونچی سی پانی کی ٹینکی جس کو چلانے کے لیے لمبی سی چین کو کھینچنا ہوتا تھا۔ دیواروں پر اُترتی دھوپ کے لمبے سائے۔ اینٹوں کے بنے صحن میں گرمیوں کی شاموں میں پانی کا چھڑکاؤ اور سوندھی سوندھی مہک۔ ان گھروں میں بہترین برما ٹیک استعمال کی جاتی تھی جس میں دیمک نہیں لگتی تھی۔

صدر اور دیگر مصروف ترین کاروباری علاقوں میں ایسی عمارات کے نیچے قائم ایرانی بیکریاں اور چلو کباب فراہم کرنے والے ایرانی کیفے جہاں آج بھی چائے چھوٹی چھوٹی چائے دانیوں میں الگ دودھ اور چینی کے ساتھ پیش کی جاتی ہے۔ اگر ایک چائے کا آرڈر دیجیے تو پہلے تو ویٹر فرج سے نکالی ہوئی پانی کی یخ بوتل جو عموما" وہسکی یا وڈکا وغیرہ کی خالی بوتل ہوتی ہے۔ جن کو خالی ہونے کے بعد دھو دھلا کر اور لیبل اتار کر منی پلانٹ لگانے یا پھر پانی رکھنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ کچھ دیر بعد وہ ایک المونیم کے گول تھال میں سفید پیالی اور طشتری، چھوٹی سی اسٹیل کی چائے دانی، ننھی سی چھننی اور چمچ، سلور کی کٹوری میں دو چمچ برابر شکر اور انگوٹھے برابر دودھ دان لا کر آپ کی میز پر سجا دےگا۔ ان کیفوں میں اکثر انعامی معمے حل کرتے بوڑھے افراد یا صحافی حضرات کی محفلیں جمتی ہیں۔ ان کا کھانا بھی صاف ستھرا اور مناسب دام ہوتا ہے۔ مجھے ان کا مغز مصالحہ بے انتہا پسند ہے جو چھوٹی چھوٹی گول تل لگی گرما گرم تندوری روٹی اور کھیرے پیاز مولی کے سلاد کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے۔ ساتھ میں آدھا کٹا لیموں اور نمک دانی۔

جیسے جیسے وقت گزر رہا ہے ان عمارات کو ڈھا کر ان کی جگہ کثیرالمنزلہ پلازے اور شاپنگ مالز بنائے جا رہے ہیں۔ جہاں میکڈونلڈ، کے ایف سی، پیزا ہٹ جیسے ریسٹورنٹ کھل جاتے ہیں۔ کشادہ وسیع گلاس ڈور سے جھانکتی دکانیں جن میں گوچی، ورساچی، کیلون کلائن، لیوائس، زارا، اور دیگر انٹر نیشنل برانڈز کی مصنوعات کے علاوہ موبائل فونز اور الیکٹرونکس کے شورومز قائم ہیں۔ جہاں خوشبو ہے، چکاچوند ایل ای ڈی لائٹس اور انگریزی میوزک ہے، شوخ رنگین چہرے اور گلیمر ہے لیکن وہ زرد پتھروں سے بنی پرسکون عمارت، فولادی سلاخوں والی کھڑکیاں، دو پٹ والے لکڑی کے دروازے اور مٹھو کی ٹائیں ٹائیں جو ماضی سے ہمارا رشتہ جوڑتی ہیں جب ڈھائی جاتی ہیں تو ہمارا ماضی بھی ان کے ساتھ ڈھے جاتا ہے۔ نہ یاد رکھنے کو کچھ رہتا ہے اور نہ بھول جانے کو۔

Comments

ثناء اللہ خان احسن

ثناء اللہ خان احسن

ثناء اللہ خان احسن فنانس کے شعبے سے وابستہ ہیں۔ کراچی سے تعلق ہے۔ ریسرچ ورک اور تاریخ کے ایسے چھپے گوشوں سے دلچسپی ہے جو عام عوام سے پوشیدہ ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */