شادی کا فنکشن اور باپردہ خواتین کی مشکلات - بشارت حمید

جب سے شادی کے فنکشن گلی محلوں سے نکل کر شادی ہال اور مارکی میں ہونے کا رواج چل نکلا ہے تب سے شادی میں شریک ہونے والی باپردہ خواتین کی مشکلات میں اضافہ ہوتا چلاجارہا ہے۔ جہاں اکثر اوقات اگرچہ مرد اور خواتین کی سٹنگ کا انتظام برائے نام سا علیحدہ کیا گیا ہوتا ہے وہیں اب ایک ہی ہال کے اندر مکس سٹنگ کا رواج چل نکلا ہے۔

پہلے جب گلی محلوں میں شادیوں‌کا انتظام ہوا کرتا تھا تو خواتین کی کھانے کی باری عموماًمردوں کے بعد آتی تھی اور اس میں بھی اپنے ہی خاندان کے چھوٹے بچے بطور ویٹر انتظام سنبھال لیا کرتے تھے۔ اب ان شادی ہالز کے اندر اس طرح کا کوئی بندوبست نہیں ہوتا اور خواتین کی طرف بھی مرد حضرات اسی طرح گھستے رہتے ہیں جیسے مردانہ ہال میں آ جا رہے ہوں‌ نتیجتاً پردے اور حجاب والی خواتین کافی ڈسٹرب ہوجاتی ہیں۔ اور پھر جہاں ایک ہی ہال میں سب کو بٹھایا گیا ہو وہاں تو ان خواتین کا سانس لینا بھی دوبھر ہو جاتا ہے کہ مردانہ نگاہیں ہر چہرے کو گھور رہی‌ہوتی ہیں۔

جدیدیت کے چکر میں ہم اپنی اخلاقی اور دینی اقدار سے دن بدن دور ہوتے جا رہے ہیں۔ اسلام نے شرم و حیاء اور ستر و حجاب کی حدود متعین کر کے مرد و زن کے باہمی اختلاط کے راستے بند کئے ہیں لیکن ہم نام کے مسلمان ان احکام کو پاؤں تلے روندتے ہوئے ان سے بے پروائی برت رہے ہیں اور مخلوط محافل کو اب کوئی عار نہیں سمجھا جاتا۔ بے پردگی اور فیشن کے نام پر بے حیائی ہر شادی کے فنکشن کا جزو لازم بن چکی ہے۔ شادیوں میں شریک ہونے والی خواتین پارلرز سے تیار ہو کر اور ایسے ایسے لباس جو پتہ نہیں کیسے جسم پر پھنسائے ہوتے ہیں جن سے سارا جسم سب کو نظر آ رہا ہوتا ہے پہن کر شریک ہونا باعث فخر سمجھتی ہیں حالانکہ ایک عورت کو اتنی تیاری اپنے شوہر کے لئے کرنی چاہئیے جبکہ ہمارے ہاں اس کے بالکل الٹ کام ہوتا ہے۔ خاتون گھر میں شوہر کے سامنے ایسے کام والی ماسی بنی ہوتی ہے جیسے شوہر کا اس پر کوئی حق ہی نہیں اور اس کے لئے میک اپ اور پرفیوم کیا ضائع کرنا جبکہ کہیں باہر بازار یا کسی فنکشن میں جانے کے لئے پورا میک اپ اور نئے کپڑے پہن کر پرفیوم لگا کر نکلتی ہے یہ صریحاً دین کے احکام کے خلاف ہے۔ کئی بار ایسا منظر بھی دیکھنے کو ملتا ہے کہ بہت زیادہ فیشن ایبل خاتون کے ساتھ لمبی داڑھی والے حضرت بچہ اٹھائے فنکشن میں شریک ہوتے ہیں اور محسوس یہ ہوتا ہے کہ ایک دوسرے کی صحبت نے بھی دونوں پر کوئی اثر نہیں ڈالا۔

یہ بھی پڑھیں:   نکاح والی رات بات، نکاح والی رات ملاقات - صدام حسین

شادی کے فنکشن کا انتظام کرتے وقت اس بات کا خاص خیال رکھا جائے کہ مرد اور عورتوں کے بیٹھنے کا انتظام الگ الگ ہو اور مردوں‌ پر خواتین والے ہال میں گھسنے پر پابندی ہو۔ آج کل کیٹرنگ والے فی میل ویٹرز کا انتظام بھی کر دیتے ہیں اس سہولت کا فائدہ اٹھا کر باپردہ خواتین کی مشکل کو کافی آسان بنایا جاسکتا ہے۔ ہمیں شادی بیاہ میں دین کے احکام کو ترجیح اول پر رکھنے کی ضرورت ہے نہ یہ کہ ہم فیشن زدہ ہو کر بے حیائی کو فروغ دینے والوں میں شامل ہوں۔

Comments

بشارت حمید

بشارت حمید

بشارت حمید کا تعلق فیصل آباد سے ہے. بزنس ایڈمنسٹریشن میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی . 11 سال سے زائد عرصہ ٹیلی کام شعبے سے منسلک رہے. روزمرہ زندگی کے موضوعات پر دینی فکر کے تحت تحریر کے ذریعے مثبت سوچ پیدا کرنے کی جدوجہد میں مصروف ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.