قانونی آزادی کب حاصل ہوگی؟ - اسامہ الطاف

علامہ ابن خلدون ؒ اسلامی تاریخ کے ایک دمکتے ستارے ہیں۔ یہ علم اجتماعیات کے مؤسس ہیں اور ان کی کتاب 'المقدمہ' مشرق و مغرب میں اجتماعیات وعمرانیات کا مرجع وماخذ سمجھی جاتی ہے۔ ابن خلدون ؒ نے المقدمہ میں آزادی کے موضوع پر خوبصورت بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں ـ"جوں جوں قومیں آگے بڑھتی ہیں اورباہمی تعاون کی ضرورت محسوس کرتی ہیں، آزادی ان کا مطمح نظر ہوتی ہے، انسان جتنا تہذیب کو سمجھتا ہے اتنا ہی آزادی سے اس کا تعلق مضبوط ہوتا ہے، اورآزادی کی بقا اور حفاظت کا انتظام کرتا ہے۔ اس کے برعکس بنی نوع انسان جتنا تمدن سے دور ہوتی ہے، علم و معرفت بیگانہ ہوتی ہے اتنی ہی آزادی سے دور ہوتی ہے "۔ ابن خلدون ؒ کے اس نظریہ کا عملی مشاہدہ تاریخ میں بارہا نظر آتا رہا ہے، قرون وسطیٰ کے اندھیریورپ جہاں سائنسدانوں کو علمی تحقیق کرنے پر سزائے موت دی جاتی تھی اورصنعتی انقلاب کے مرکز جدید دور کے یورپ میں سیاسی آزادی کا فرق تھا۔ اسی حقیقت کا ادراک کرتے ہوئے برصغیر کے مسلمانوں نے انگریز راج سے آزادی حاصل کرنے کے لیے ہر قسم کی قربانی دی۔

برصغیر اور دنیا بھر میں جہاں بھی مغربی استخراب (استعمار غلط العام ہے، کیونکہ استعمار تعمیر سے مشتق ہے، اور غیرملکی قبضے سے تعمیر نہیں، خرابی و بربادی ہوئی)رہا، وہ صرف عسکری غلبہ تک محدود نہیں تھا، بلکہ قابض ممالک نے ہر وہ تدبیر اختیار کی جس سے مقبوض ممالک قابض افواج کی رخصتی کے بعد بھی کسی نہ کسی صورت میں قابض ممالک کے تابع رہے، ان تدبیروں میں سرفہرست مقبوض ممالک کے قدیم روایتی قوانین کو تبدیل کرکے مغربی قانون لاگو کرنا تھا۔ ہندوستان میں مورخین کے مطابق 1791تک شرعی نظام نافذ العمل تھا، لیکن جب انگریز وں کی حکومت آئی تو رفتہ رفتہ سابقہ قوانین تبدیل ہوتے گئے حتی کہ انیسویں صدی عیسوی کے نصف تک نکاح و طلاق وغیرہ مسائل کے علاوہ تمام قوانین تبدیل کردیے گئے تھے۔ اسی طرح مصر میں انگریزی قبضہ کے صرف ایک بعد سال فرنگی قانون کا عربی میں ترجمہ کرکے اس کو نافذ العمل قرار دے دیا۔ ایک طرف مغربی ممالک قوانین میں تبدیلی کی کوششوں میں مصروف تھے تو دوسری طرف مقبوضہ ممالک کے رہنما بھی احساس کمتری کا شکار تھے، اور قابض ممالک سے حد درجہ مرعوب تھے، لہٰذا انہوں نے بھی مغربی قوانین کو بخوشی قبول کرلیا۔

مقبوض ممالک میں قوانین کی تبدیلی کا نتیجہ یہ ہوا کہ آزادی کے بعد قابض افواج تو روانہ ہوگئی لیکن اس کے قوانین بدستور قابض رہے۔ پاکستان کے قوانین پر نظر ڈالے تو معلوم ہوگا کہ ہمارے کئی مروجہ قوانین انگریز کے بنائے ہوئے ہیں، پاکستان میں زمین خریدنے اور اس کے تمام معاملات کی قانونی رہنمائی حصول اراضی ایکٹ کرتا ہے جو کہ 1894کا بنا ہوا ہے، جائیداد منتقلی ایکٹ 1882کابنا ہوا ہے، مختلف جرائم کی سزا ضابطہ فوجداری ایکٹ میں مقرر کرتاہے، اور یہ ایکٹ 1898کا بنا ہوا ہے۔ پاکستان کے یہ فرسودہ قوانین انگریز ی باقیات کی علامت ہونے کے ساتھ عدالتی اور انتظامی لاپرواہی کی نشاندہی بھی کرتے ہیں۔ فاٹا کے حالیہ بحران کا سبب بھی انگریز کا رائج کردہ ایف سی آر کا غیر منصفانہ نظام تھاجس میں قبائلیوں کو عدالتوں تک رسائی حاصل تھی نہ صوبائی نمائندگی، کچھ ہفتوں قبل جب پارلیمان میں یہ قانون تبدیل کیا گیا تو ارکان نے اس دن کو فاٹا کی حقیقی آزادی کا دن قرار دیا۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ چیف جسٹس نے لاء اینڈ جسٹس کمیشن کو فعال کرنے کا فیصلہ کیا ہے، اور کمیشن کے ذریعے فرسودہ قوانین کو تبدیل کرنے کا عندیہ دیا ہے۔

پاکستان کے نا مکمل قانونی آزادی کا ایک مظہر پارلیمان اور عدلیہ کی مخصوص آئینی شقوں کے نفاذ میں غفلت بھی ہے۔ آئین کے آرٹیکل 31میں واضح الفاظ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے مسلمانوں کو اپنی انفردی و اجتماعی زندگی اسلامی تصورات کے مطابق گزارنے کے قابل بنانے کے لیے ایسی سہولتیں میسر کی جائیں گی جن کے ذریعے وہ قرآن و سنت کا مفہوم سمجھ سکیں۔ اس شق پر کتنا عمل ہوا؟ سب کے سامنے ہے۔ آئین کے آرٹیکل 227میں پارلیمان کو قانون سازی کرنے میں اسلامی احکام کا پابند بنایا ہے، اور اس ضمن میں معاملات دیکھنے کے لیے اسلامی نظریاتی کونسل بنانے کا کہا گیاہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ اسلامی نظریاتی کونسل تو وجود میں آگئی، لیکن کونسل نے جن سینکڑوں قوانین کے غیر اسلامی ہونے کی نشاندہی کی ان کی اصلاح کے لیے پارلیمان نے کوئی اقدام نہیں کیا۔ اسی طرح آئین کے آرٹیکل 38میں ملک کے معاشی نظام سے سود کے خاتمے کو یقینی بنانے پر زور دیا گیا ہے، پارلیمان، انتظامیہ اور عدلیہ اس شق کو بھی نافذ العمل کرنے میں ناکام ہیں۔

مذکورہ بالا حقائق پارلیمانی اور عدالتی لاپرواہی کی نشاندہی کرتے ہیں، اس بے پروائی کے نتیجے میں ہمارا قانونی نظام آج بھی قدیم اجنبی قوانین کے زیر اثر ہے۔ ابن خلدون ؒکے فلسفہ کے مطابق اگر ہم واقعی مہذب قوم ہے تو ہمیں جلد از جلد ان فرسودہ قوانین سے آزادی حاصل کرنا ہوگی، اور آئین جو کہ ہماری آزادی کا ضامن ہے اس پر مکمل عمل کرنا ہوگا۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com