دنیا کا آزاد ترین ملک - خرم علی راؤ

یہ ملک خداداد جہاں اور بے شمار نعمتوں اور فضیلتوں کا حامل ہے وہاں ایک بڑی نعمت و فضیلت اس وطن عزیز کو ایسی حاصل ہے کہ جس میں اس کا مقابلہ شاید ہی کوئی اور ملک کر سکتا ہو اور وہ ہے آزادی!

اب آپ کہیں گے کہ صاحب! یہ کیا بات ہوئی؟ آزاد تو بہت سے ملک ہوئے ہیں اور باقی ہمیشہ سے آزاد ہیں، اسی طرح ہم بھی ہوئے ہیں۔ تو جناب میری مراد وہ آزادی نہیں ہے بلکہ وہ آزادی ہے جس میں جو چاہے جو کرے کوئی پوچھنے والا نہ ہو اور ہم اس عطا، اس نعمت،اس دولت سے کیا خوب مالا مال ہیں!

کیا عوام کیا خواص، کیا عالم، کیا جاہل، کیاامیر کیا غریب، کیاعدلیہ، کیا انتظامیہ، کیا مقنّنہ، کیا اشرافیہ، کیا صحافت، کیا میڈیا،کیا پیر، کیا مرید،علیٰ ہذالقیاس،سب ہی اس آزادی کو اتنا زیادہ انجوائے کرنے لگے ہیں کہ اب آزادی بھی اہل نظر کو کچھ پریشان پریشان سی نظر آنے لگی ہے اور بقول شاعر

ایک نازک سی پری جھیلے گی کتنوں کے عذاب

والا معاملہ سا ہوتا نظر آرہا ہے۔ہماری کوئی بھی سرکار ہو کسی بھی پارٹی کی حکومت ہو چند چیزوں میں وہ بھی آزادی کی انتہا پر نظر آتی ہے۔ مثلاً قرضے زیادہ سے زیادہ لینے کی آزادی، قیمتیں جلد از جلد بڑھانے کی آزادی، سرکاری فنڈز کے بے دریغ استعمال کی آزادی وغیرہ وغیرہ۔

جس کا جو دل کرے اسے کرنے کی آزادی، کوئی پوچھنے والا،کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں۔ عوام سے شروع کریں تو وہ اس جامِ آزادی کی مئے مست میں سر تا پاڈوبے نظر آتے ہیں۔ جہاں چاہتے ہیں جس در و دیوار،شجر و حجر پر دل کرتا ہے انگریزی محاورے کے مطابق پانی بنانا شروع کر دیتے ہیں۔ جو پان گٹکا نسوارکھانے والے شوقین پاکستانی ہیں وہ، جگہ جگہ رنگ بکھیرتے نظر آتے ہیں، ذرا یہ آزادی کسی اور ملک میں تو دکھائیے صاحب!

یہ بھی پڑھیں:   زندہ قومیں - سعدیہ رضوی

پھر جس کا جہاں دل چاہتا ہے سرکاری اداروں کے اہلکاروں کے زیر شفقت اپنا ٹھیہ، ٹھیلا، کیبن، کاؤنٹر لگا لیتا ہے اور وہ بھی بالکل معمولی سی غیر سرکاری فیس پر جسے حاسدین خوامخواہ جلن کے مارے رشوت یا بھتہ کا نام دیتے ہیں۔ جس کا جہاں دل چاہتا ہے سرکاری اور نجی اراضی پر ذاتی تعمیر کرلیتا ہے کوئی نہیں پوچھتا۔ اس قبضے کے معاملے میں تو ہم اتنے آزاد اور ماہر ہوگئے ہیں کہ حضرت علامہؒ سے معذرت کے ساتھ

گراؤنڈ تو گراؤنڈ نالے بھی نہ چھوڑے ہم نے

کی عملی تفسیر ہر بڑے شہر بالخصوص کراچی میں پیش کرتے نظر آتے ہیں۔ دیکھتے ہی دیکھتے جیسے ویرانے میں بہار سی آجاتی ہے اور اس پھرتی سے بیابان آباد ہوجاتے ہیں کہ جس کو الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہی نہیں بلکہ قریب بہ محال ہے۔

اب ذرا طبقہ بالا دست جو زیر دستوں کے حق میں بلا سے کم نہیں، کی بات ہوجائے۔ اس طبقے میں عام طور پر تعلیم و تربیت یافتہ کا تو پکا نہیں مگر ڈگری بلکہ ڈگریوں یافتہ لوگ زیادہ ملتے ہیں الّا ماشااللہ،تو وہ اپنے اسٹیٹس کے اعتبار سے اس بہت ساری آزادی کو بہت زیادہ انجوائے کرتے ہیں، اگر میرے شعبے یعنی صحافت کی بات کی جائے تو ماشا اللہ ہمارا میڈیا اللہ نظر بد سے بچائے (پرنٹ و الیکٹرانک دونوں) جتنا اس آزادی کو انجوائے کرتا رہا اور کررہا ہے اس کے لیے مسز ہلیری کلنٹن کی یہ گواہی جو انہوں نے بطور سیکریٹری آف اسٹیٹ پنے دورہۂ پاکستان سے واپسی میں یہ کہہ کر بڑے گھبرائے ہوئے لہجے میں دی تھی کہ پاکستانی میڈیا تودنیا کا آزاد ترین میڈیا ہے، کافی ہے۔ اس بے مہار آزادی کا ایک یہ نتیجہ بھی سامنے آرہا ہے کہ لوگ اب جرنلزم کو گٹر جرنلزم بڑی آسانی اور آزادی سے کہنے لگے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   فطرت طاقت کا سر چشمہ - عالیہ زاہد بھٹی

دو اداروں کے بارے میں زیادہ حد ادب والی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے مجھے یہ کہنے میں کوئی باک نہیں کہ اگر میں نے کچھ لکھ دیا تو کہیں جبین ناز پر پسینہ نہ آجائے اور یہ جبین ناز ایڈیٹر صاحب کی بھی ہو سکتی ہے اور مقدس گائے نما اداروں کی بھی۔ سو اس گلی سے بچ کر نکلتے ہوئے یہ کہنے میں کوئی حرج نہیں کہ ہمارے تجار نما سیاستدان اور سیاستدان نما تاجران، جاگیر داران، دانشوران و دیگران، وکلاء، علماء، خطباء،قوال اور ہمنوا سب سے سب جو چاہتے ہیں کہتے ہیں اور جو چاہتے ہیں کرتے ہیں اور کیوں نہ کریں بھئی؟ لاکھوں جانوں، اموال،عزتوں اور آبروؤں کی قربانی دے کر یہ آزادی اسی لیے تو لی بلکہ چھینی تھی کہ ہم اسے انجوائے کریں اور دوسرے تمام ممالک کو خوب جلائیں۔ویسے ایک بات میری ناقص عقل میں نہیں آتی کہ ہمارے یہی آزاد طبع وآزاد صفت عوام و خواص جب کسی دوسرے ملک جاتے ہیں تو وہاں کے قوانین اور طور طریقوں کی بڑی تمیز سے پابندی کرتے نظر آتے ہیں اور وہاں کے مقامیوں سے زیادہ ادب و تمیز اور قواعد و ضوابط کی پابندی کرتے نظر آتے ہیں،ایں چہ بوالعجبی است؟

ٹیگز