ہنس کی چال – محمد فیصل

گزشتہ کچھ عرصہ سے ایک عجیب وبا ہمارے گردو پیش میں تیزی سے پھیلتی چلی جا رہی ہے۔ مغرب کی نقالی کے زعم میں ہماری خواتین کے ملبوسات میں جو حیرت انگیز تبدیلی رونما ہو رہی ہے وہ انتہائی پریشان کن ہے۔ کوا چلا ہنس کی چال مگر اپنی بھی بھول گیا کہ مصداق زنانہ ملبوسات میں مردانہ انداز اس قدر خلط ملط گیا ہے کہ بسا اوقات اس بات کی پہچان مشکل ہوجاتی ہے کہ سامنے سے سلطان چلا آرہا ہے یا سلطانہ؟ اس دوڑ میں مرد حضرات بھی خواتین سے پیچھے کیوں رہتے؟ وہ بھی زلفیں بڑھائے رنگین ریشمی لباس پہنے میدان میں خم ٹھونک کے اتر آئے کہ ہم بھی کسی سے کم نہیں۔ نتیجہ اس الٹ پھیر کا یہ نکلا کہ تذکیر و تانیث کی پہچان ایک مشکل امر بنتی جا رہی ہے۔

اسلام کی پاکیزہ تعلیمات کا جائزہ لیا جائے تو شریعتِ مطہرہ نے مردو خواتین کے جملہ احکامات میں واضح امتیاز رکھا ہے۔ نماز روزے کے مسائل ہوں یا حج و عمرہ کے طریقے، وراثت کے احکامات ہوں یا تجہیز و تکفین کے معاملات الغرض تمام امور میں موقع بہ موقع دونوں فریقین کے صنفی فرق کا خیال رکھا گیا ہے۔ اسی طرح بودوباش اور لباس کے حوالے سے بھی مردو خواتین کے احکامات جدا ہیں اور دونوں کو ایک دوسرے کی مشابہت و نقالی سے سختی سے منع کیا گیا ہے۔ چنانچہ حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم حضرت محمد ﷺ نے لعنت فرمائی ان مردوں پر جو عورتوں کی مشابہت اختیار کریں اور ان عورتوں پر بھی جو مردوں کی مشابہت اختیار کریں۔ (بخاری)

حدیثِ بالا میں مردوعورت دونوں فریقوں کو ایک دوسرے کی شکل و ہیئت اور طرز وانداز اپنانے کی ممانعت کی گئی ہے اور ممانعت کی شدت کا اندازہ اس بات سے بخوبی کیا جاسکتا ہے کہ رحمۃ اللعالمین حضرت محمد ﷺکی زبانِ مبارک سے ان امور کی انجام دہی کرنے والوں پر لعنت فرمائی گئی ہے۔ لعنت سے مراد اللہ رب العزت کی رحمت سے دوری ہے۔ نبی رحمت حضرت محمد ﷺ جس بات پر بددعا دیں اور اس بد دعا کا منطقی نتیجہ خالقِ کائنات کی رحمت سے محرومی کی شکل میں برآمد ہو تو پھر انسان کی بدبختی میں کیا شبہ رہ جاتا ہے؟

ایک دوسری حدیث میں رسولِ اکرم ﷺ نے ان مردوں پر لعنت فرمائی جو زنانہ لباس پہنیں اور ان عورتوں پر لعنت فرمائی جو مردانہ لباس پہنیں۔ (ابوداؤد)نیز، ایک روایت میں مذکور ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے عرض کیا گیا کہ ایک عورت مردانہ جوتا پہنتی ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم ﷺ نے مردانہ شکل بنانے والی عورت پر لعنت فرمائی ہے۔ (ابو داؤد) بعض حلقوں کا خیال ہے کہ خواتین کو گھر کے باہر تو لباس اور پردہ کے معاملات میں احتیاط رکھنی چاہیے لیکن گھر کے اندر لباس کے معاملے میں سہولت اختیار کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

اس ضمن میں قابلِ غور بات یہ ہے کہ پہلی حدیث میں تو مطلق مشابہت اختیار کرنے پر لعنت فرمائی گئی جبکہ آخری دو روایات میں نام لے کر خصوصیت کے ساتھ لباس اور جوتوں میں مشابہت پر لعنت کا مستحق قرار دیا گیا اس لیے گھر کے اندر اور باہر کی مذکورہ بالا تفریق از روئے نصِ حدیث کسی طرح بھی مناسب نہیں ہے۔ اب اہلِ نظر خود غور و فکر کریں کہ ہمارے معاشرہ میں زنانہ ملبوسات کا جو رواج جڑ پکڑتا جا رہا ہے اس کی نشاندہی مخبرِ صادق نبی اکرم ﷺ نے چودہ صدیوں پہلے ہی فرمادی تھی۔

اسکن ٹائٹ پاجامے زیبِ تن کیے ہوئے لڑکیاں ہوں یا پینٹ اور ٹی شرٹ میں ملبوس دوشیزائیں سب کی سب دھڑلے اور بے شرمی سے شرم و حیا کا جنازہ سرِ عام نکال رہی ہیں۔ اس بے غیرتی کی مذمت کے لیے الفاظ ناکافی ہیں۔ گھر ہو یا دفتر، ہسپتال ہوں یا درسگاہیں، تقریبات ہوں یا تفریحی مقامات ہر جگہ بے محابا نامناسب ملبوسات پہنے خواتین اللہ رب العزت کے قہر و غضب کو دعوت دیتی پھر رہی ہیں۔ یہ بات بھی ملحوظِ خاطر رہے کہ اس جرمِ عظیم میں ان کے ساتھ وہ مرد بھی شریک ہیں جن کی ایما ء و ضامندی سے اس بے حیائی کو فروغ مل رہا ہے۔ باپ ہوں یا بھائی، خاوند ہوں یا بیٹے سب کی نگاہوں کے سامنے جب گھر کی مستورات مکشوفات بن جائیں اور شرم و حیا کے دامن کو تارتار کردیں تو پھر ملک و قوم پر جو عذاب اور تباہی نازل ہو کم ہے۔

اسی طرح اسلام میں مردوں کو بھی اس بات کی تاکید کی گئی ہے کہ وہ خواتین سے لباس اور رہن سہن میں اپنا امتیازی فرق روا رکھیں۔ چنانچہ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سونا اور ریشمی کپڑے کا استعمال میری امت کی عورتوں کے لیے حلال ہے اور مردوں کے لیے حرام ہے۔ (ترمذی) نیز مردوں کے ریشمی لباس پہننے کو ایک حدیث میں تباہی نازل ہونے کا سبب قرار دیا گیا ہے۔ (کنزالعمال)

ایک حدیث میں حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی االلہ عنہ سے مروی ہے کہ (رسول اللہ ﷺ تشریف فرما تھے) ایک آدمی گزرا اور وہ دونوں کپڑے سرخ رنگ کے پہنے ہوئے تھا۔ اس نے حضور ﷺ کو سلام کیا تو آپ نے اس کے سلام کا جواب نہیں دیا۔ (ترمذی)محدثِ عظیم مولانا محمد منظور نعمانی صاحب رحمۃ اللہ علیہ رقم طراز ہیں کہ ان صاحب کے کپڑے شوخ سرخ رنگ کے تھے جو کہ مردوں کے لیے زیبا نہیں اور سلام کا جواب نہ دینا اس پر آنحضرت ﷺ کا عتاب تھا۔ اس حدیث کی بنا پر مردوں کے لیے شوخ سرخ رنگ کے لباس کو بعض علماء نے حرام کہا ہے اور بعض نے مکروہ۔ بہرحال نبی کریم ﷺ کی طرف سے سلام کا جواب نہ دیا جانا آپ کی سخت ناراضگی و ناگواری کی دلیل ہے۔ مذکورہ بالا تفصیل سے یہ بات بخوبی واضح ہو جاتی ہے کہ اللہ رب العزت کے دینِ متین میں لباس اور طرزوانداز کے اعتبار سے مرد و خواتین کے لیے احکامات جداگانہ ہیں جن کے مطابق زندگی گذارنا اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ کی رضا مندی و خوشنودی کا ذریعہ ہے۔ اللہ پاک ہم سب مسلمانوں کواسلام کی تمام تعلیمات پر کھلے دل کے ساتھ عمل پیرا ہونے کی توفیق نصیب فرمائے۔ آمین!