شاخِ نازک اور ناپائدار آشیانہ - طلحہ ادریس

ابتدائے آفرینش سے انسان ایسا نہ تھا جیسا آج دکھائی دیتا ہے۔ ایک طویل عرصہ گزرا اور ایک ایسی زندگی وجود میں آئی جو دستیاب وسائل کے موزوں استعمال کا ہنر جانتی اور اپنی بہبود کے عنوانات تراشتی آگے سے آگے بڑھتی چلی گئی۔ کرہ ارضی کے پہلے انسان حضرتِ آدمؑ کی آباد کاری اور پھر ان سے نسل ِ انسانی کا قیام واجرا تاریخ میں رقم ہے۔ فطری طور پر اختلاطِ مرد و زن سے جو بچے پیدا ہوئے وہ جڑواں ہوتے۔یوں ان جڑواں بچوں(ایک لڑکا اور ایک لڑکی) کی شادیاں دوسرے جڑواں بچوں سے ادل بدل کر کی جاتیں۔ قدیم تاریخی روایات بتاتی ہیں کہ حضرت آدمؑ کو زمین کی آبادی کاری اور نسلِ انسانی ہی سے متعلق الٰہی احکامات وتعلیمات دیے گئے۔ ان کی زندگی میں انسان ہزاروں کی تعداد میں روئے زمین پر پھیل گئے۔

انسان سہولت چاہتا ہے۔ اس کی زندگی مختلف ضروریات کی فراہمی سے عبارت ہے۔ یہ اثر قبول بھی کرتا ہے اور اثر انداز بھی ہوتا ہے۔ ماحول اور معاشرے میں بعض اوقات اسے راندہ درگاہ سمجھا جاتا ہے تو کبھی یہ ناگزیر حقیقت وضرورت بن جاتا ہے۔ القصہ انسان نے اپنے مسکن اور اس کے حالات وواقعات پر اپنا اثر ڈالا بھی ہے اور ان سب چیزوں سے خود کو وابستہ کرنے کی کوشش بھی کی ہے۔ کوئی شے نفع بخش ملی تو اس سے استفادہ کرنا شروع کردیا۔ کوئی شے خوفناک محسوس ہوئی تو اس کا ڈر اپنے اندر پیدا کرلیا۔خوراک ضرورت تھی تو (ربّانی انتظام سے) کاشت کاری کرنے لگا۔ جسم ڈھانپنا تھا تو لباس بنالیا۔ یوں کبھی جاں اور کبھی تسلیمِ جاں زندگی رواں دواں رہی۔ ایسا بھی ہوا کہ افراط وتفریط نے نظامِ حیات میں ایک ہنگامہ بپا کردیا۔پھر جو تھا خوب بتدریج خوب قرار پایا۔ اختیارات پر قبضے نے جنگ وجدل کی راہ دکھائی۔ معاشرے میں اعتدال سے رہنا مشکل ہوگیا اور بات یہاں تک جانکلی کہ ایک طرف "من اشدُّ منّا قوۃ"کی صدائیں بلند ہوئیں تو دوسری طرف عالم یہ کہ کاٹو تو بدن میں لہو نہیں۔

اس بالا ختصار اظہار ِ احوال کے بعد ایک ایسا موڑ زندگی کو ضرور مڑتا دکھانا چاہیے جب غلط نظریات کی بیخ کنی اور فساد کی بجائے اصلاحِ احوال کا ذکر ہو۔ اسی لیے عقل وشعور رکھنے والے انسان نے سوچا اور اپنی تار تار حالتِ زار کو بدلنے کے لیے نقطہ آغاز پر قدم رکھا۔ یوں ثقافت اور پھر تہذیب نے ان کاوشوں کو نام دیا جو کسی نہ کسی دائرے میں انسانی معاشروں میں موجود تھیں۔یہ دونوں اصطلاحات آسانی سے سمجھ میں نہیں آتیں۔ لغوی اعتبار سے انہیں سمجھنے کی کوشش کی جائے تو ثقافت (Culture) کا مادہ ث ق ف ہے، اور اس کا مطلب خوشنما بنانا، اصلاح کرنا، نکھارنا وغیرہ ہے۔ تہذیب 'ہ ذ ب' سے مشتق ہے اور باب تفعیل (ثلاثی مزید فیہ) سے وزن پر اس میں شدت پائی جاتی ہے۔ معنی اس کا بھی کانٹ چھانٹ اور آرائش وزیبائش ہے۔

دنیا بھر کے مختلف مفکرین نے ثقافت اور تہذیب کی تعریفات کرنے کی اپنی سی کوشش کی ہے۔ ڈاکٹر خالد علویؒ اپنی مختصر تحریر "ثقافت کا اسلامی تصور" میں ذکر کرتے ہیں کہ یہ اصطلاحات اس قدر مشکل ہیں کہ کوئی جامع تعریف ان کی پیش کرنا مشکل کاموں میں سے ایک ہے۔ ٹائن بائی کہتا ہے کہ کسی شہری آبادی میں مخصوص طرزِ فکر رکھنے والے انسانوں کی آباد کاری اس سے مراد ہے۔ اوسوالڈ شپنگلر کے نزدیک ثقافت ایک جاری عمل ہے جو پیدا ہوتا، نمو پاتا، عروج حاصل کرتا اور بالآخر منجمد ہو کر تہذیب کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔ وہ مختلف موسموں کی مناسبت سے تاریخِ عالم کا مطالعہ اور تجزیہ کرتا ہے۔ پٹرم سا روکن ثقافت کو تین حصوں میں تقسیم کرتا، مادی اور روحانی نام دیتا اور کچھ کے بارے میں یہ رائے پیش کرتا ہے کہ وہ بیک وقت مادہ وروح کا مجموعہ ہیں۔ ایک (نسبتاً) جامع تعریف سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ اپنی تصنیف "اسلامی تہذیب اور اس کے اصول ومبادی" کے مقدمے میں کرتے ہیں۔ ان کے مطابق طرزِ فکر، بودوباش، فنونِ لطیفہ اور طور اطوار شجرِ تہذیب کا برگ وبار ہیں۔ وہ اس بحث کو مثال کے ذریعے یوں سمجھاتے ہیں کہ جیسے ایک عمارت اور اس کا پورا نقشہ اور تعمیرات اور پھر اس پر رنگ روغن کردیا جائے، یہی تہذیب ہے۔ تو اس ساری بحث کا حاصل یہ ہے کہ ثقافت کو روحانی اصلاح سے تعبیر کیاجاسکتا ہے اور تہذیب مختلف ثقافتوں پر مشتمل مادی اصلاح کانام ہے۔ میری ذاتی رائے یہ ہے کہ ثقافت وتہذیب ایک دوسرے سے لازم وملزوم ہیں۔ انہیں جدا نہیں کیاجاسکتا ہے۔ انفرادی حیثیت میں مختلف محاسن ِ اخلاق مل کر کسی انسان کو مہذب بناتے ہیں۔ ثقافت انفرادی حیثیت میں کسی معاشرے کے طرزِ رہن وسہن کو متعین کرتی ہے۔

اقوامِ عالم میں بہت سی تہذیبیں اپنا نام پیدا کرنے میں کامیاب ہوئیں۔ ایک قدیم یونانی تہذیب ان میں سے ایک ہے۔ اس نے یورپ کے جنوب مشرقی حصے میں نمو پائی۔ چھٹی سے پانچویں صدی قبل مسیح ان کازمانہ بتایا جاتا ہے۔ اس تہذیب نے اپنی جڑیں مذہب، علم، تفریح، فنونِ لطیفہ، سیاست وحکومت اور دیگر اقوام پر اثر انگیزی کی صورت جمائیں۔ یہ سلسلہ کوہ اور بحیرہ روم کے کنارے آباد یونانی قوم اپنا نام اور مقام رکھتی ہے۔ سہولت کی خاطر اسے تین ادوار میں تقسیم کیا گیا ہے۔

قبل از سقراط ابتدائی دورہے۔ اس میں کائنات کا مطالعہِ اوّل وآخر تھا۔ تھیلز نے پانی کو سب کچھ قرار دیا۔ اینکسی مینڈر مبہم نظریات اور بے شکل اشیا کا نام لیتا دکھائی دیا۔ اینکسمینیز ہوا کو اہمیت کاماحال قرار دیتا ہے۔ پھر کچھ عرصہ بعد فیثا غورث سامنے آیا جس نے کائنات کو ہندسوں میں تلاش کرنا شروع کیا۔ ہر کولیس کو ہر شے میں سقم دکھائی دیا اور وہ رونے والا مفکر مشہور ہوگیا۔ زینوس نے اکائی حیثیات پر بحث کی۔ ڈیموکریٹس نے بھی اپنا نظریہ وجود پیش کیا۔ سوفسطائی اُٹھے تو انہوں نے اپنے دریچہ ِاذہان میں اُٹھنے والے سوالوں کو عامۃ الناس کے سامنے پیش کرنا اور ان کے جواب تلاش کرنے کی سعی شروع کردی۔

مذہبی اعتبار سے اہل یونان بت تراش کر انہیں پوجنے پر خود کو آمادہ کرلیتے ہیں۔ زیوس ان کا سب سے بڑا خدا ہے جو بارش برساتا ہے۔ اس کے دو بھائی اور ایک بیوی ہے جن کے ذمے مختلف امور ہیں۔ زیوس کے تین بیٹے اور چار بیٹیاں بھی اس کے معاون ہیں۔ لیکن تقدیر کی ایک دیوی بھی وہاں پائی جاتی ہے جس پر کسی کا زور نہیں چلتا۔ کھیلوں میں اولمپکس ان کی تفریح کا سامان ہے۔ چار سال بعد اس کااہتمام ہوتا اور چڑھاوے چڑھائے جاتے ہیں۔ سنگ تراشی اور رنگ روغن ان کے طرزِ تعمیر اور فن کاری کا اظہار ہے۔

سقراط یونانی دور میں ایک بڑا فلسفی رونما ہوا۔ وہ ایتھنز میں پیدا ہوا۔ ایتھنز اور سپارٹا دو اہم مقامات تھے جہاں شہری زندگی اپنے پورے کمالات کے ساتھ آباد تھی۔ سقراط علم کی اہمیت کا قائل ہے۔ اس کا نظریہ اخلاق لوگوں کو متاثر کرتا ہے۔ اپنی بدھی شکل کے باوجود وہ لوگوں کو اپنا گرویدہ بنا لیتا ہے۔ اس نے کوئی کتاب تو نہ لکھی لیکن اپنے شاگرد وں کی ایک ایسی کھیپ تیار کردی جو اس کے نظریات کا پرچار کرتی تھی۔ اسے مذہبی حوالوں سے دیوتاؤں پر اعتراض تھا۔ اسی لیے ایک ایسے مفکر کو زہر کا پیالہ پینا جو خود کہتا تھا کہ لوگ کچھ نہیں جانتے…۔ اس کے مقلدین نے اسے جیل سے فرار ہونے کی پیشکش کی لیکن اس نے موت کو گلے لگانا عزیز جانا۔

افلاطون سقراط کا شاگرد تھا۔ اس نے اپنے استاد کے نظریات کو قلمی شکل دی۔ اس کاخیال تھا کہ اشیا انسان کے ذہن میں نقشہ کر ہوتی اور پھر ہنر کے استعمال سے عملی شکل اختیار کرلیتی ہیں۔ اس نے علمی درسگاہیں (Academics)قائم کیں اور شاگردوں کو پڑھایا۔ وہ ایک ایسے عالمِ خیال کا قائل تھا جو عملی وجود نہیں رکھتا۔ یعنی سامنے نظر آنے والے عالم کی طرح ایک ایسا عالم بھی ہے جو آنکھوں کے سامنے نہیں۔

ارسطو فلاطون کا شاگرد تھا۔ اس نے استاد سے استفادہ کیا۔ وہ استاد کی فکر سے ہم آہنگ نہ ہوا۔ اس نے تجربیت کی بنیاد رکھی۔اپنی فکر کی ترویج کے لیے لائیسم (چلتے پھرتے تعلیمی نظام) قائم کیے۔ فلپ دوئم نے اسے اپنے فرزند سکندرِ (اعظم) کا اتالیق مقرر کیا تو وہ جمہوری طرزِ حکومت کی بجائے بادشاہت کا قائل ہوگیا۔ اس کے نزدیک عوام پر حکمرانوں کا تسلط اور ہر ایک کو حکومتی نظر میں ہونا چاہیے۔ وہ تین درجوں کا قائل تھا۔ ایک افرادِ کار جو ریاست کے امور کی انجام دہی میں معاون ہوں۔ فوج جو زورِ بازو سے متصف ہوں اور عقل وشعور رکھنے والے حکمران۔

مغربی تہذیب اپنی جڑیں یونانی تہذیب سے پاتی ہے۔ مغربی تہذیب میں درج ذیل اثرات یونانی تہذیب کا شاخسانہ ہیں:

i۔ مذہب انسان کا انفرادی معاملہ ہے۔

ii۔ اخلاق(زندگی کے اصول) اور مذہب دو الگ الگ چیزیں ہیں۔

iii۔ انسان کو مرکزیت حاصل ہے۔ وہی پسند ناپسند کامعیار کل ہے۔

iv۔ انسان اپنی عقل وخرد کا استعمال خود کرسکتا اور اپنے لیے زندگی کے اصول متعین کرسکتا ہے۔

v۔ انسانوں کی اکثریت مل کر قانون سازی کرے تو وہی قابلِ قبول ہوگی۔

اسی طرح نظامِ معاشیات میں سود اور استحصال بھی یونان ہی سے مغرب میں آیا۔ ہم جنس پرستی کے تانے بانے بھی وہیں جاملتے ہیں۔ القصہ آج کی مغربی تہذیب وحی کی عدم موجودگی میں حیات ِ انسانی اور اس کی ترویج کا جو نقشہ پیش کرتی ہے اس میں کئی سقم ہیں جو بہت جلد اسے زوال کا شکار بنانے کو کافی ہیں۔ بقول اقبالؒ

تمھاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خودکشی کرے گی

جو شاخِ نازک پہ آشیانہ بنے گا ناپائدار ہوگا

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */