قاتل کی سزائے موت، ایک تنازع - ربیعہ فاطمہ بخاری

نئے سال کی ابتداء ایک انتہائی دردناک، افسوس ناک اورتکلیف دہ واقعہ سے ہوئی۔ زینب نامی بچی جو کہ محض سات سال کی تھی، اسے ایک درندے نے اغواء کیا، اس کو زیادتی کا نشانہ بنایا اور انتہائی بہیمانہ انداز میں اسے قتل کر دیا۔ اس واقعہ کا بوجوہ مین سٹریم میڈیا اور سوشل میڈیا پر بہت چرچا ہو گیا، پورا ملک شدید اضطراب اور بےچینی کی لپیٹ میں آگیا۔ پھر جب یہ انکشاف ہوا کہ زینب اس درندگی کی بھینٹ چڑھنے والی، صرف قصور کے علاقے میں، یہ بارہویں بچی ہے تو یہ اضطراب حد سے سوا ہو گیا۔ ہر آنکھ اشکبار تھی اور ہر دل رو رہا تھا۔ اسی دوران زینب کی پوسٹ مارٹم رپورٹ منظرِ عام پر آئی تو یہ غم و غصہ اپنی انتہاؤں کو چھونے لگاکہ اس رپورٹ کے مطابق اس بچی کو نہ صرف متعدد بار زیادتی کا نشانہ بنایا گیا بلکہ اسے قتل کرنے کے عمل میں بھی حد سے زیادہ درندگی کا مظاہرہ کیا گیا تھا، اس کا گلا گھونٹا گیا، اس کی کلائیاں تیز دھار آلے سے کاٹ دی گیئں، اس کی زبان کو نوچا گیا، غرضیکہ اس شخص نے انسانیت کی ارزل ترین درجے پرتذلیل کی اور بہیمیت کی انتہا کر دی۔

ہر ایک دل کی گہرائیوں سے اس شخص کی گرفتاری کے لیے دعا گو تھا کہ اس واقعہ کے تقریباً دو ہفتے بعد پولیس بالآخر اس درندے کوپکڑنے میں کامیاب ہو ہی گئی، جو کہ اس بچی کا محلے دار ہی تھا۔ اب ہوا یہ کہ اس واقعہ سے عوام الناس جس قدر دلبرداشتہ تھے اور غم و غصہ کی انتہا پر تھے، ہر ایک کے دل کی پکار تھی کہ اس شخص کو، اگر وہ واقعی مجرم ثابت ہوتا ہے، اتنی دردناک اور عبرتناک سزا دی جائے جو رہتی دنیا تک عبرت کی علامت ہو اور دوبارہ کوئی بھی اس طرح کی درندگی دکھانے سے پہلے سو دفعہ سوچے۔ ہر ایک کا مطالبہ تھا کہ اس درندے کو سرِ عام پھانسی دی جائے۔

گزشتہ دنوں ہماری پارلیمنٹ نے عوامی مطالبات اور جذبات کے پیشِ نظر سینٹ میں ایک بل پیش کیا، جس کے مطابق بچوں کو اغواء، قتل یا زیادتی کا نشانہ بنانے والے کو سرِ عام پھانسی دی جائےگی۔ یہ بل بلاشبہ عوام کے دل کی آواز تھا لیکن حیرت انگیز طور پرکچھ لوگ " انسانی حقوق" کے نام پر اس بل کی مخالفت کرنے لگے ہیں۔ ان لوگوں میں انسانی حقوق کی علمبردار، معروف وکیل عاصمہ جہانگیر سرِ فہرست ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ دنیا سزائے موت کو ہی سرے سے ختم کر رہی ہے اور ہم سرِ عام پھانسی کا بل لا رہے ہیں۔

میں تو یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ بزعمِ خویش "انسانی حقوق کی سب سے بڑی علمبردار" کو صرف مجرم ہی کیوں انسان لگتے ہیں؟ کیا وہ معصوم جوان کے گھناؤنے جرائم اور درندگی کی بھینٹ چڑھتے ہیں کیا وہ انسان نہیں ہوتے، کیا ان کے حقوق نہیں ہوتے؟ جبکہ اللہ پاک کا فیصلہ بالکل واضح ہے"ہم نے ان پر لکھا ہے (فرض کیا ہے) جان کے بدلے جان، آنکھ کے بدلے آنکھ، کان کے بدلے کان اور دانت کے بدلے دانت اور زخموں کا بھی قصاص ہے۔"

چلیں اس کو چھوڑیں کہ قرآنِ پاک تو ان کے لیے حجت ہے جو قرآنِ پاک پر ایمان رکھتے ہیں، آپ مجھے صرف یہ بتا دیں کہ اس شخص کی بدترین اور عبرتناک سزا کے علاوہ ان مظلوم والدین کے لیے اور کیا مداوا ہو سکتا ہے؟ کیا دنیا کی کوئی اور چیز ان کے زخموں پرمرہم لگا سکتی ہے، سوائے اس کے کہ ان کی بیٹی کے مجرم کو اس کے انجام تک پہنچا دیا جائے؟ بقول ان کے اس عمل سے جرائم کو روکا نہیں جا سکتا، تو آپ ہی وہ عمل بتا دیں جس سے اس طرح کے جرائم کو روکا جا سکتا ہے؟

انسانی فطرت میں خیر اور شر دونوں طرح کے عناصر ہوتے ہیں، اگر تو فطرت پر خیر غالب ہو تو یہ بلا شبہ اس انسان کے لیے ربِ رحمان کا عظیم الشان تحفہ ہے، لیکن اگر فطرت پر شر کا غلبہ ہو تو اس شر پر قابو پانے کے بہت سے مراحل ہیں۔ سب سے پہلا مرحلہ ماں کی گود یعنی تربیت کا ہے۔ اگر انسان کی تربیت فطرتِ سلیم رکھنے والے ماں باپ کریں، جن کے دل میں خوفِ خدا بھی ہوتو ان کی تربیت میں خیر کے پہلو میں اللہ کی طرف سے برکت کا قوی امکان ہوتا ہے، اگر نیک ماں باپ کی تربیت اس کی فطرت کے شر کے پہلو کی اصلاح نہ کر پائے تو اسے درسگاہ میں درست کیا جا سکتا ہے، جہاں انسان کو خیر اور شر کا بہت واضح تصور دیا جا سکتا ہے۔ اگر فرض کریں کہ نہ تو اس کی فطرت والدین کی تربیت سے بدلی نہ ہی اساتذہ کی شفقت سےاور کوئی شخص ایک گناہ کر گزرتا ہے، وہ زینب جیسی 8 معصوم بچیوں کو اغواء کر کے زیادتی کر کے انتہائی بہیمانہ انداز میں انہیں قتل کر دیتا ہے تواگر اسے سزا بھی نہ دی جائے تو اسکا کیا سدِ باب کیا جا سکتا ہے؟

کسی بھی مہذب معاشرے میں جزا اور سزا کا بہت واضح تصور ہوتا ہے، کچھ اعمال و افعال کو مستحسن قرار دے کر انہیں انجام دینے کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے اور کچھ افعال کو قبیح قرار دے کر ان کی نہ صرف حوصلہ شکنی کی جاتی ہے بلکہ ان کے سر انجام دینے پر کڑی سزائیں بھی دی جاتی ہیں، پھر چاہے مجرم پیغمبر نوحؑ کا بیٹا ہی کیوں نہ ہو اسے اپنے کیے کی سزا بھگتنی پڑتی ہے۔

اسی حوالے سے ایک اور نقطہ نظر گزشتہ دنوں پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ ہمارے محترم اور سینئر صحافی اور کالم نگار جناب وسعت اللہ خان صاحب نے ہمارے معاشرے میں موجود کئی ایک قبیح ترین جرائم گنوائے اور ان کا مؤقف یہ تھا کہ ان گھناؤنے جرائم کی سزا موت نہیں تو پھرمحض قتل، ریپ، غدار اور دہشت گردی کی سزا موت کیوں ہے؟ ہم ان کے موقف کو با الفاظِ دیگر یوں بھی بیان کر سکتے ہیں کہ "بے چارے قاتل، زانی، غدار یا دہشت گرد کا قصور ہی کیا ہےکہ ان بے چاروں کو موت کے گھاٹ اتارا جائے۔"

محترم! عرض یہ ہے کہ اسلامی شریعت کی بنیاد چار چیزوں پر ہے۔ قرآن، حدیث، اجماع اور قیاس۔ جن جرائم کا آپ نے ذکر کیا ہے ان میں سے شایدہی کوئی دورِ نبویؐ میں سرزد ہوتا ہوگا، اس لیے اس کے بارے میں کوئی واضح احکامات نہیں ہیں، لیکن ہمارے لیے بطورِ مسلمان اللہ پاک نے وقت اور حالات کے مطابق جرائم کی سزائیں متعین کرنے کے لیے اجماع اور قیاس کا رستہ کھلا چھوڑا ہے، یہ ہماری مقننہ کا کام ہے کہ ان سب اوران جیسے اور بے شمار دیگر جرائم جو ہمارے معاشرے کی جڑوں کو کھوکھلا کر رہے ہیں، ان کے بارے میں موزوں قانون سازی کریں اور قوانین کو سختی سے نافذ کریں تاکہ معاشرے کو اس طرح کے ناسوروں سے پاک کیا جا سکے۔ اب اگر ہمارے قانون ساز ادارے ان جرائم کی سنگینی کو محسوس نہیں کرتے اور قانون سازی اور قانون کے نفاذ کو یقینی نہیں بناتے تو یہ کہاں لکھا ہے کہ اس بنیاد پر ہم قرآنِ مجید میں واضح اور بین طور پر دیے گئےحکم " اے ایمان والو! تم پر فرض ہے کہ جو ناحق مارے جائیں ان کے خون کا بدلہ لو، آزاد کےبدلے آزاد، غلام کے بدلے غلام اور عورت کے بدلے عورت" سے انحراف کیا جائے یا اسے بھی خارج از امکان قرار دیا جائے۔ ہمیں کس نے یہ اختیار دیا ہے کہ ہم مسلمان ہونے کے دعویدار ہونے کے باوجود واضح قرآنی احکامات کا تمسخربھی اڑائیں اور ان میں اپنی ذہنی استعداد کے مطابق ترامیم بھی کرتے پھریں؟ میں خود تین ننھی پریوں اور ایک چھوٹے سے معصوم بیٹے کی ماں ہوں اور میرے جیسی کروڑوں ماؤں کی دلی تمنا ہے کہ جو بھی خبیث اور رزیل انسان اس طرح کے گھناؤنے فعل کا مرتکب ہو اسے سرِ عام پھانسی دی جائے اور اسے صحیح معنوں میں نشانِ عبرت بنایا جائے۔

Comments

ربیعہ فاطمہ بخاری

ربیعہ فاطمہ بخاری

لاہور کی رہائشی ربیعہ فاطمہ بخاری پنجاب یونیورسٹی سے کمیونی کیشن سٹڈیز میں ماسٹرز ہیں۔ تدریس کے شعبے سے وابستہ رہی ہیں لیکن اب ایک خاتونِ خانہ کے طور پر زندگی گزار رہی ہوں۔ لکھنے کی صلاحیت پرانی ہے لیکن قلم آزمانے کا وقت اب آیا ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */