ترک تازیاں (3) - مولانا عبدالرحمٰن مدنی

پچھلی قسط

اوریا مقبول جان صاحب کی نشاندہی پر بیلٹ سے ان کا ہلکا پھلکا سا بریف کیس میں نے اتار لیا۔ ہینڈ کیری میں ان کے پاس صرف ایک لیپ ٹاپ تھا جو میں نے ان سے مانگا تو ہلکی سی ہچکچاہٹ اور استاد جی کی حفاظت کی ضمانت کے بعد انہوں نے مجھے دے دیا۔ اوریا صاحب موٹے عدسوں کا چشمہ لگاتے ہیں اور ہر چیز پر ان کی گہری نظر ہوتی ہے۔ بات اور سوال سن کر ایک لمحے کو ٹھہرتے ہیں اور پھر تیر کی تیزی سے ایسا جواب دیتے ہیں جو یا تو لاجواب ہوتا ہے یا پھر لاجواب کر دیتا ہے۔ انہیں لے کر ہم خاصا فاصلہ طے کرکے واپس بیلٹ نمبر 5 کے پاس آگئے جہاں ہمارا سامان آیا تھا۔نئے آنے والوں میں خرم شہزاد بھی تھے۔ لمبا قد، سرخ وسفید رنگت، مکمل بھری ہوئی داڑھی، لمبا کرتا، چہرے پر دل کش مسکراہٹ،سرگودھا سے تعلق رکھتے ہیں اور یہ بھی استاد جی کے شاگردوں میں سے ہیں۔

اب ہم کل ملا کر 25 افراد ہوچکے تھے جو پاکستان کے تین مختلف شہروں سے تقریباً ایک ہی وقت جہاز پکڑ کے آگے پیچھے یہاں پہنچے تھے۔ ہم سب کے میزبان و رہنما خبیب فاؤنڈیشن کے ساتھی تھے۔۔ لیکن یہ دورہ خبیب فاؤنڈیشن کے خرچے پر نہیں تھا۔ ہر ساتھی اپنے اخراجات پر آیا تھا۔ ایسے جیسے تبلیغی جماعت، سامان اور خرچہ اپنا، باقی رہنمائی اور جتنا ہوسکے اکرام نصرت کرنے والوں کی طرف سے۔

آگے چل کر اندازہ ہوتا رہا کہ اس فاؤنڈیشن کے لوگ وقف کے مال میں کس قدر محتاط اور جیب سے خرچ کرنے میں کس قدر فیاض ہیں۔ سب ساتھی اپنا اپنا سامان لے چکے تھے۔ اب ہمیں ایئرپورٹ کے اندر کے حصے سے باہر نکلنا تھا۔ لیکن رہنا اس کے اندر ہی تھا اور اسی ایئر پورٹ کے اک دوسرے حصے سے ختائی شہر کے لیے اک جہاز لینا تھا جو کراچی سے فیصل آباد جتنی دوری پر تھا۔ چنانچہ ہم اندر کے حصے سے باہر نکلے۔ سارا سامان تلاشی کے مرحلے سے گزرا اور ایئرپورٹ کے اندر والے حصے سے نکل کر اس حصے میں آگئے، جہاں تک ہر ایک کی رسائی تھی یعنی ایئرپورٹ کے باہر سامنے والے برآمدے میں۔

یہاں ترکی میں پڑھنے اور کام کرنے والے خبیب فاؤنڈیشن کے عاطف شاہ سے ملاقات ہوئی۔ مخصوص کشمیری انداز میں وہ ایسے ترکی بولتے ہیں جیسے کشمیری اردو بولتے ہیں۔ اخلاق اور عاجزی کی اعلیٰ مثال ہیں۔ خبیب فاؤنڈیشن سے تعلق رکھنے والے جس فرد سے ملاقات ہوئی، ان کی عاجزی و انکساری نے ہمیں بہت متاثر کیا، سب سے تپاک سے ملے۔ ہر ساتھی کی اب دو ہی ضروریات تھیں ایک ساتھ لائے گئے ڈالرز کو اپنی ضرورت کے مطابق ترکی لیرا میں تبدیلی اور دوسرا موبائل سم خریدنا۔ ایسی سم جس میں انٹرنیٹ ہو اور ان کا واٹس ایپ چل پڑے۔

دور جدید میں انسان کی نبض اور دل کی دھڑکن یہ نیٹ ہی ہے جس کے جال میں سب الجھے ہوئے ہیں۔ ہمیں لگتا ہے کہ اگر ہم جلد از جلد رابطے میں نہ آئے تو نبضِ ہستی رک جائے گی حالانکہ کسی کو کوئی نہیں فرق پڑتا۔ عاطف شاہ بھائی ساتھیوں کو بتاچکے تھے کہ انہیں کس کمپنی کی سم لینی چاہیے اور پیکیج سب نے اپنی سہولت کے مطابق دیکھ لیا تھا۔ ترکی لیرا اس وقت تقریباً 29 روپے کا ہے یعنی درہم و ریال کے آس پاس۔ سنا ہے کہ 55 روپے پاکستانی سے بھی اوپر تھا کردوں کی دھماکہ خیز کارروائیوں سے قبل؟ 100 ڈالر کا نوٹ بھنوایا تو 370 سے کچھ اوپر لیرا پایا۔ استاد جی ایئرپورٹ کے اندر کے حصے سے نکلنے سے قبل مجھے ایک جانب لے گئے اور کہا کہ سیلانی کا خیال رکھنا، اچھا اور سادہ آدمی ہے ساتھیوں کی خدمت کی وجہ سےمیں اسے خود زیادہ وقت نہ پاؤں گا، مزاج اور خدمت کا خیال رکھنا۔ استاد جی کا حکم تھا۔ میں نے خدمت کی یہ ذمہ داری سنبھال لی۔ سیلانی عرفی و قلمی نام ہے کراچی کے امت اخبار کے کالم نگار احسان کوہاٹی کا۔ وہ کراچی سے ہمارے ساتھ ہی آئے تھے، منجھلے قد کے کلین شیو، فقیر مزاج اور سادہ آدمی ہیں ۔

سرگودھا کے رہائشی خرم شہزاد استاد جی کے ساتھ چلے گئے۔ اب ذرا بے فکری ہوگئی تھی کہ خرم استاد جی کے ساتھ ہے اور میں استاد جی کی ہدایت پر سیلانی کے ساتھ لگ گیا۔ آدھی جماعت پیسے بھنوا کر سم والے کاؤنٹر پر جمع ہوگئی اور آدھی جماعت استاد جی کے ساتھ ایک کیفے ٹیریا نما ہوٹل پر ناشتہ کم لنچ کے لیے چلی گئی۔ ہمارے ساتھ کراچی سے تنظیم اسلامی کے دو ساتھی بھی آئے تھے۔ ایک تھے تنظیمی ذمے داروں میں سے خوش خلق چہرہ اویس پاشا قرنی اور دوسرے ان شاگرد طویل القامت چھریرے بدن اور مردانہ آواز کے مالک ان کے شاگرد، جو ملک کی محبت میں امریکہ کی شہریت ہونے کے باوجود پاکستان آکر بس گئے تھے۔ وہ بھی اپنے استاد کے ایسے ہی عاشق زاد تھے جیسے میں اور خرم شہزاد اپنے استاد جی کے۔

سیلانی کا سامان میں نے سنبھال لیا اور وہ بھی استاد جی کے طرف ناشتہ کم لنچ کے لیے چلے گئے اور میں سم لینے کے لیے کاؤنٹر پر کھڑا تھا۔ استاد جی گئے تو گویا میں حصار سے نکلا، آنکھیں کھولیں اور دائیں بائیں دیکھا۔ اللہ میاں کی رنگ مخلوق نظر آئی۔ انگریز تو اپنے گورے مگر حقیقت میں پھیکے اور پھٹے ہوئے رنگ میں الگ سے نظر آجاتے ہیں مگر یہاں بے پناہ حسین لوگ نظر آرہے تھے جو کہ ترکی تھے۔ سرخ وسفید رنگ، لمبے قد، مردانہ وجاہت کے شاہکار، لمبے چوڑے لیکن پاکستانی پھولے ہوئے پیٹوں سے پاک مرد۔ ساتھ ساتھ لچکتی شاخ کی مانند تھرکتی ترک خواتین، عمر کوئی بھی ہو لیکن فاضل چربی سے سب پاک تھیں۔ لمبے کھلے ہوئے بالوں والی حسینائیں اور چاک وچوبند خواتین ہر طرف نظر آرہی تھیں۔ ادھر نگاہ بچاؤ تو ادھر بھٹک جائے۔ بے ساختہ استاد جی کی بات یاد آئی، مجھ سے کہا تھا کہ مدنی! نماز اور نگاہ کی حفاظت کرنا۔ میزبان کے گھر میں بدنظری، بدکرداری کی سب سے گھٹیا قسم ہے۔

سیاح و مسافر کی نظر جواز تراش لیتی ہے لیکن اللہ کے بندے ظاہری پاکی سے بھی زیادہ روح کی صفائی پر توجہ دیتے ہیں۔ جیسے تیسے نگاہ کو قابو کیا اورسب ساتھیوں کے بعد 135 لیرا کا 16 جی بی نیٹ اور مہینے بھر کی مفت لوکل کال والا پیکیج لے کر اس کیفے ٹیریا کم ہوٹل کی جانب بڑھا جہاں سب ساتھی کھانے پینے سے فارغ ہوچکے تھے اور اک شخص کے ارد گرد کھڑے تھے اور استاد جی دور کھڑے مسکرا رہے تھے اور پھر میں نے اس شمع انجمن کو دیکھا ایک ایسے شخص کو جو اپنی ذات انجمن ہے۔ جو خود ایک تحریک ہے جو اس وقت مرکز نگاہ اور خوش خصال رہنما تھا۔وہ شخص جس نے بعد میں دل دماغ موہ لیا وہ شخص جس کی پاکستان اور امت سے محبت اسے دوسروں سے بلند اور ممتاز کردیتی ہے وہ شخص جو پھر باقی سارے سفر میں ہمیں ہر لمحہ حیران کرتا چلاگیا۔

جاری ہے